الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
غور طلب:
اہل ایمان کے درمیان قرآن کریم کی تفسیر میں اختلاف ہوسکتا ہے یہ اپنی حدود میں جائز ہی نہیں بلکہ پسندیدہ ہے لیکن بعض اوقات یہی اختلاف ایک انسان کے انداز فکر کو دوسرے انسان کے انداز فکر سے جدا کردیتا ہے۔ اور کتاب وسنت پر ایمان کے باوجود دونوں ایک دوسرے سے بالکل مخالف سوچ اور عمل رکھتے...
تفسیر القرآن:
مولانا عبد الرحمن کیلانیؒ نے تفسیر القرآن کے نام سے یہ مسودہ لکھا جو ان کی حیات میں تو طبع نہ ہوسکا البتہ ان کی اولاد واحفاد نے اس کی تصحیح وترتیب کا بیڑہ اٹھا کر اسے بہت ہی مناسب سائز میں چھپوا دیا۔اس تفسیر میں بعض ابحاث بہت ہی قیمتی اور علمی ہیں۔روح کا مسئلہ، حلال وطیب کے اصول...
معارف القرآن:
مولانا مفتی محمد شفیع ؒ "معارف القرآن"کے مؤلف ہیں۔ ایک طویل عرصہ کا یہ عمل آٹھ ضخیم جلدوں میں مکمل ہو سکا۔ تفسیر میں بامحاورہ ترجمہ ایک خاصے کی چیز ہے۔جسے ا گر علیحدہ شائع کر دیاجائے تو عام مسلمان اس سے بخوبی مستفید ہوسکتا ہے۔ مولانا نے اہم مسائل کے لئے باقاعدہ تبویب کر کے اس...
احسن البیان:
مولانا صلاح الدین یوسف کے تفسیری حاشیے اور برصغیر کے ممتاز عالم دین مولانا محمد جونا گڑھی ؒ کے اردو ترجمے کے ساتھ یہ تفسیر "احسن البیان"کے نام سے پہلے پہل مکتبہ دار السلام ریاض سے اردو زبان میں شائع ہوئی۔ جسے بعد میں انتہائی مفید پاکر سعودی عرب کی حکومت نے عام اردو دان طبقے کے لئے...
تدبر قرآن:
مولانا امین احسن اصلاحی ؒ اس تفسیر کے مؤلف ہیں۔ آٹھ جلدوں کی یہ یک ضخیم اردو تفسیر ہے۔یہ تفسیر بہت عمدہ ہوتی اگر سلف صالح کے منہج کے مطابق لکھی جاتی۔ اس لئے کہ مؤلف کا قلم اپنے مدعا کو بیان کرنے میں جاندار ہے۔ تفسیر میں قرآن کی تفسیر قرآنی آیات سے کی گئی ہے مگر استشہاد کے طور...
تذکیر القرآن:
مولانا وحید الدین خان نے "تذکیر القرآن"کے نام سے دو جلدوں میں قرآن کی تفسیر لکھی ہے۔ یہ تفسیر نصیحت اور تذکیر کے انداز میں ہے جو ایک عقل مند کوحقائق پیش کرکے اپنا مدعا سمجھاتی ہے۔ تفسیرمیں تفصیل سے پرہیز کیا گیا ہے اور علمی بحثوں سے بھی اجتناب برتا گیا ہے۔
تفہیم القرآن:
سید ابو الاعلی مودودی ؒنے یہ تفسیر محض تفہیم قرآن کے لئے لکھی جس میں بیشتر مباحث علمی ، سائنسی اور مناقشاتی ندرت رکھتے ہیں۔ اس کی چھ جلدیں ہیں۔ یہ تفسیر اردو ادب کا شاہکارہونے کے علاوہ نہایت آسان اورجامع ہے۔موجودہ اردو تفاسیر میں یہی ایک تفسیر ہے جو اصل کام نظر آتا ہے۔ تفسیر میں...
ترجمان القرآن:
یہ مولاناابو الکلام آزاد ؒ کی تصنیف ہے۔مولانا مرحوم کی اس تفسیر میں جوش وہوش اورجولانی طبع کے علاوہ صاحب علم کے ذوق کا سامان بھی موجود ہے۔ یہ تفسیر انتہائی مشکل حالات سے گزر نے کے بعد صرف اٹھارہ پاروں پر منتہی ہوسکی۔ مولانا کے سیاست میں عمل دخل نے تفسیر کی طباعت اور اشاعت کو...
چند اردو تفاسیر و مفسرین
تفسیر عثمانی ؒ:
اس کا ترجمہ ، مولانا محمود الحسن صاحب دیوبندی کا ہے اور تفسیر مولانا شبیر احمد ؒ مرحوم کی ہے۔ اس میں ترجمہ کے ساتھ تفسیر کو حواشی میں اور قوسین میں لکھا ہے۔خاصی علمی تفسیر ہے جس کی اردو بھی خاصی ثقیل ہے۔فارسی، عربی اور قدیم اردو سے ناواقف حضرات اس سے...
تفسیر الکشاف :
اس کے مولف جار اللہ محمود بن عمر زمخشری (۴۶۷۔۵۳۸ھ) ہیں۔بہت سے مشائخ سے علم حاصل کیا اور ائمہ لغت وتفسیر میں ان کا شمار ہوا۔ تفسیر میں قرآنی اعجاز کی وجوہ کو، قرآن کے نظمی جمال اور بلاغت کو بغیر کسی زائد از ضرورت بات میں انتہائی عمدگی سے کرتے چلے جاتے ہیں ۔اسرائیلیات کا ذکر بھی...
تفسیر روح المعانی:
اس کا پورا نام "رُوْحُ الْمَعَانِی تَفْسِیْرُ الْقُرْآنِ الْعَظِیْمِ الْمَثَانِی"ہے۔ اور یہ علامہ محمد آلوسی حنفیؒ کی تصنیف ہے۔ تیس جلدوں پر مشتمل یہ ضخیم تفسیر بالکل آخری دور کی تصنیف ہے۔ سابقہ تفاسیر کے اہم مباحث کو اپنی اس تفسیر میں جمع کرنے کی انہوں نے کوشش کی ہے۔...
تفسیر ابن کثیرؒ:
اس کے مصنف حافظ عماد الدین ابو الفداء اسماعیل بن الخطیب ابو حفص عمر بن کثیرؒ ہیں۔ یہ تفسیرچار جلدوں پر مشتمل ہے۔ابن کثیرؒ مفسر بھی ہیں اور جلیل القدر محدث بھی ۔انہوں نے کوشش کی کہ آیت کو ذکر کرکے بہت ہی سہل اور مختصر عبارت میں تفسیر کریں۔ اسی مقام پر اس سے متعلق دیگر آیات کو بھی...
تفسیر قرطبیؒ:
اس کا پورا نام "الجامِعُ لأَِحْکَامِ الْقُرآنِ"ہے۔ یہ علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد ابی بکر بن فرح القرطبی ؒ کی تصنیف ہے جوبارہ جلدوں پرمشتمل ہے۔ اس کتاب کا بنیادی موضوع آیات احکام سے فقہی احکام و مسائل کا استنباط کرنا ہے۔ مصنف نے آیات کی تشریح ، مشکل الفاظ کی تحقیق، بلاغت و...
تفسیر کبیر:
اس کا اصل نام "مفاتیح الغیب"ہے۔ ۱۶بڑی جلدوں میں یہ تفسیر ۳۲اجزاء کی کتاب ہے ۔ اس کے مصنف امام رازی (م ۶۰۶ھ) ہیں۔ رازی ؒ معقول و منقول دونوں کے ماہرتھے۔ حاذق طبیب بھی تھے۔ تفسیر بالرائے میں انتہائی جامع اور بے مثال تفسیر ہے۔امام رازی ؒاپنی تفسیر صرف سورۃ الانبیاء تک لکھ سکے ۔ ان کے...
غالباً ان کی یہ تفسیر اولین کتاب ہے جو ماثور طریقے پر لکھی گئی۔مفسرین آج بھی ان کی تفسیر کے خوشہ چیں ہیں۔اس تفسیر کے چند محاسن یہ ہیں:
۱۔ اپنی تفسیر میں وہ زیادہ تر اعتماد احادیث رسول ، اقوال صحابہ اور تابعین پر کرتے ہیں۔
۲۔ جو روایت بیان کرتے ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے وہ اسے سنداً بیان کریں۔
۳۔...
تفسیر ابن جریر:
اس کا پورا نام "جَامِعُ الْبَیَانِ فِی عُلُومِ الْقُرْآنِ"ہے۔ اور مصنف ابن جریر طبری ؒ (۲۲۴۔۳۱۰ھ)ہیں۔طبرستان کے شہر آمل میں پیدا ہوئے اور بغدا دمیں ان کا انتقال ہوا۔ عالم قراء ات ، امام تفسیر، ماہر حدیث، اور مورخین کے استاذ تھے۔ فقہ میں بھی ایک مستقل مذہب ، اقوال اور اپنے...
مطبوعہ تفسیر کا انتخاب
تفسیر کا انتخاب بھی ایک اہم دوراہا ہے جس سے قرآن فہمی یا تو صحیح حاصل ہوتی ہے یا پھر آدمی قرآن کریم کے اصل موضوع سے ہٹ کر سوچنے اور عمل کرنے لگتا ہے۔کیا ہی لطف ومزہ آجائے تفسیر کو سمجھنے اور جانچنے کا اگر آدمی خود قرآن کی عربی زبان سے واقف ہو۔ سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما...
عکرمہ رحمہ اللہ:
یہ بھی مشہور تابعی اور ابن عباس ؓ کے مولی(آزاد کردہ غلام) تھے ۔ سیدنا ابن ؓعباس نے انہیں نہایت محنت وشفقت سے تعلیم دی تھی۔ آپ ؒ نے ابن عباس ؓ کے علاوہ دیگر صحابہ ؓ سے بھی استفادہ کیا ہے جن میں سیدنا علی ؓ، سیدنا ابوہریرہؓ، ابو سعید خدریؓ، امیر معاویہ رضی اللہ عنہم اور بعض دوسرے...
سعید بن جبیر رحمہ اللہ:
مشہور تابعی ہیں۔ سن ۴۵ھ میں پیدا ہوئے۔ حبشی تھے۔ فقہ وتفسیر کو انہوں نے صحابہ کرام سے حاصل کیا۔ خصیف کہتے ہیں: تابعین میں طلاق کے مسائل کو سب سے زیادہ سعید بن المسیب جانتے تھے، حج کے عطاء بن رباح، حلال وحرام کو طاؤوس، تفسیر کو مجاہد بن جبر اور ان سب کے علم کے جامع سعید...
قتادۃ رحمہ اللہ:
ان کا پورا نام قتادہ بن دعامہ سدوسی بصری ہے۔ سن اکسٹھ ہجری میں پیدا ہوئے ۔ پیدائشی نابینا تھے۔ علم کے حصول کے لئے سخت محنت کی، حافظہ بڑا قوی تھا ۔ کہا کرتے: میں نے کبھی بات کرنے والے سے یہ نہیں کہا: ذرا دوبارہ سناؤ۔میرے کانوں نے کوئی بھی بات سنی ہو تو میں اسے کبھی بھولا...