• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. محمد نعیم یونس

    علم تفسیر

    مجاہدبن جبر رحمہ اللہ: یہ مشہور تابعی سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ کے شاگرد ہیں۔قتادۃ ؒ ان کے بارے میں کہتے ہیں:"تفسیر کے جو علماء باقی ہیں ان میں مجاہد سب سے بڑے عالم ہیں"۔مجاہد کہتے ہیں: عَرَضْتُ الْمُصْحَفَ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ ثَلاَثَ عَرَضاتٍ مِنْ فَاِتحَتِہِ إِلٰی خَاتِمَتِہِ، أُوْقِفُہُ کُلَّ...
  2. محمد نعیم یونس

    علم تفسیر

    سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ: سیدنا ابی بن کعب ؓ انصاری خزرجی صحابی ہیں۔ ستر انصار کے ساتھ بیعت عقبہ ثانیہ میں حاضر ہوئے تھے۔کاتب وحی بھی تھے آپ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو انہوں نے آپ ﷺ سے پڑھنا، سننا اور اس پر عمل کرنا شروع کردیا۔ علم ، ورع اور زہد میں اپنی مثال آپ تھے۔ابن سعد کہتے ہیں: رسول اکرم...
  3. محمد نعیم یونس

    علم تفسیر

    سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما : سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کی طرح یہ بھی رسول اکرم ﷺ کے چچا زاد بھائی ہیں۔ ہجرت سے تین سال قبل پیدا ہوئے۔ رسول اکرم ﷺ کی صحبت کو بچپن سے ہی انہوں نے تھاما۔ان کی پھوپھی سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا امہات المومنین میں سے تھیں۔رسول اکرم ﷺ نے ایک بار انہیں اپنے سینے...
  4. محمد نعیم یونس

    علم تفسیر

    سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ: آپ عبد اللہ بن مسعود بن غافل، ہذیل قبیلے سے ہیں آپ ؓ کی والدہ ام عبد کے نام سے مشہور صحابیہ ہیں کبھی کبھی ان کی طرف بھی منسوب کئے جاتے ہیں۔سابقین اسلام میں چھٹے فرد تھے۔دو ہجرتیں کیں، بدر میں حاضر تھے اور بعد کی غزوات میں بھی۔ انہوں نے رسول اکرم ﷺ سے خود...
  5. محمد نعیم یونس

    علم تفسیر

    سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ: خلیفہ راشد سیدنا علی کرم اللہ وجہہ رسول اکرم ﷺ کے چچا زاد ہیں۔بعثت سے دس سال پہلے پیدا ہوئے۔ آپ ﷺ نے قرابت داری کا لحاظ رکھتے ہوئے اپنے عیالدار چچا سے سیدنا علی ؓ کو ان کے بچپن میں ہی اپنی پرورش میں لے لیا تھا۔پھر ان سے اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی...
  6. محمد نعیم یونس

    علم تفسیر

    چند مفسر صحابہ وتابعین صحابہ کرام کی ایک قابل قدر تعداد تفسیر قرآن میں مشہور تھی۔ امام سیوطی رحمہ اللہ نے ان میں خلفاء اربعہ کو بھی شامل کیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ پہلے تین خلفاء امور خلافت میں مصروف رہے جس کی وجہ سے ان کی تفسیری روایات زیادہ نہیں نیزدیگرمفسر صحابہ بھی موجود تھے۔ اہم مفسرصحابہ...
  7. محمد نعیم یونس

    علم تفسیر

    اسرائیلیات کے بارے میں علماء کا موقف کیا ایسی روایات بیان کی جائیں؟ اس بارے میں علماء مفسرین کا اختلاف ہے اور تین انداز سے ہے۔ ۱۔کچھ مفسرین نے تو ان روایات کو اسانید سمیت اپنی تفاسیر میں خوب استعمال کیا ہے یہ سوچتے ہوئے کہ جب سند روایت کردی تو اب ہماری ذمہ داری نہیں۔ امام ابن جریر طبریؒ نے...
  8. محمد نعیم یونس

    علم تفسیر

    ابتداءََ چندمفسرین کے ہاں ایسی اسرائیلیات ،ان کی تفاسیر میں در آئیں۔بعض اہل کتاب حلقہ بگوش اسلام ہوئے ۔ انہوں نے قرآن مجید کو پڑھا اور سمجھا تو پچھلی قوموں کے واقعات قرآن میں پائے جو ان کی سابقہ مذہبی کتب میں موجود تھے۔ مگر جیسا کہ قرآن بھی شاہد ہے کہ اہل کتاب نے ان واقعات میں بہت سے سابقے...
  9. محمد نعیم یونس

    علم تفسیر

    تیسری قسم: وہ اسرائیلی روایات جن کے بارے میں قرآن و سنت بالکل خاموش ہیں۔ جیسے کہ تورات وغیرہ کے احکام۔ ایسی روایات کے بارے میں رسول اکرم ﷺ کی تعلیم ہے کہ ان کے بارے میں سکوت اختیار کیا جائے۔ نہ ان کی تصدیق کی جائے اور نہ ہی تکذیب۔صحیح بخاری (۴۴۸۵) میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے...
  10. محمد نعیم یونس

    علم تفسیر

    دوسری قسم: ایسی اسرائیلی روایات جن کو اسلام نے ناپسند کیا اور ان کے باطل ہونے کی شہادت دی ۔ مثلاً اہل کتاب کا یہ کہنا : سیدنا سلیمان علیہ السلام نے جادو کا علم خود سیکھا اور کفر کیا تھا۔ قرآن کہتاہے: {وَمَا کَفَرَ سُلَیْْمَانُ وَلَـکِنَّ الشَّیْْاطِیْنَ کَفَرُوْا ۔۔۔}(البقرۃ:۱۰۲) سلیمان علیہ...
  11. محمد نعیم یونس

    علم تفسیر

    تفسیر اور اسرائیلی روایات اسرائیلیات سے مراد وہ اخبار وواقعات ہیں جو اہل کتاب یعنی یہودیوں سے( زیادہ ) اور عیسائیوں سے ہم تک پہنچے ہیں۔ان واقعات کی تین قسمیں ہیں:  پہلی قسم: وہ جنہیں اسلام نے برقرار رکھا اور گواہی دی کہ یہ سچی خبر ہے۔ جیسے صحیح بخاری (۴۸۱۱) میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ...
  12. محمد نعیم یونس

    علم تفسیر

    کتب لغت بہرحال کتب لغت ہیں۔ ان سے الفاظ کا معنوی حل تو مل سکتا ہے مگر وہ قرآنی تصورات کی وضاحت سے بہر صورت قاصر ہیں۔ جن لوگوں نے محض لغت کے سہارے پر تفسیر کی ہے انہوں نے قرآن کا مفہوم متعین کرنے میں ٹھوکریں کھائی ہیں۔ زمخشری کا اعتزال، علم سے متصف تھا جب کہ آج کا اعتزال ،علم سے عاری اور تلبیس...
  13. محمد نعیم یونس

    علم تفسیر

    مزید یہ کہ رسول اکرم ﷺ اور صحابہ ؓ کبار، لغت عربی کو آج کے متجددین و محتہدین سے بہتر سمجھتے تھے۔ اس لئے بلحاظ لغت انہی کو ہی فوقیت حاصل ہو گی ۔ اسی طرح ائمہ لغت کو تقوی و خیر میں وہ مقام حاصل نہیں جو فقہاء و محدثین کو حاصل ہے۔ ان کے استشہادات جس قسم کے اشعار اور استعارات سے پر ہیں، حقیقت یہ ہے...
  14. محمد نعیم یونس

    علم تفسیر

    تفسیر ازلغت عرب بعض مفسرین میں لغت عرب سے تفاسیر کرنے کا رحجان بھی غالب نظر آتاہے۔ یہ تفسیر اس وقت تو قبول کی جا سکتی ہے جب قرآن و حدیث یا اقوال صحابہ ؓ میں اس آیت کی تفسیر موجود نہ ہو۔ اور معروف ومتداول ، رائج اور شائع معنوں کے مطابق ہو۔لیکن یہ ظلم ہو گا کہ ان تمام ذرائع کو ترک کر کے صرف...
  15. محمد نعیم یونس

    علم تفسیر

    کتب تفسیر اشاری وباطنی ان کتب میں بعض مؤلفین نے قدیم وجدیدباطنی تفاسیرکی طرح تفسیر کا تودعوی کیا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے اندر کفریہ عقائد لئے پھر تی ہیں۔بعض اشاری تفاسیر ایسی ہیں جن میں لفظ کے ظاہری معنی سے ہٹ کر دوسرے معانی لئے گئے ہیں ان میں کچھ تو صحیح ہوتے ہیں اور کچھ خطأ سے پر۔ایسی...
  16. محمد نعیم یونس

    علم تفسیر

    {۔۔۔ وَکُلَّ شَیْْء ٍ أحْصَیْْنَاہُ فِیْ إِمَامٍ مُبِیْنٍ } (یس:۱۲) امام سے مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔۔ { تَبَّتْ یَدَا أَبِیْ لَہَبٍ وَتَبّ} (المسد:۱) دونوں ہاتھوں سے مراد(نعوذ باللہ) سیدنا ابوبکر وعمررضی اللہ عنہما ہیں۔ {۔۔۔ فَقَاتِلُواْ أَئِمَّۃَالْکُفْرِ ۔۔۔}(التوبۃ: ۱۲) سے مراد...
  17. محمد نعیم یونس

    علم تفسیر

    تفسیراشاری یا باطنی اس تفسیر کا دارومدار روایت ، رائے یا علم و اجتہاد پرنہیں بلکہ الفاظ قرآنی کا جو ظاہری معنی ومفہوم مراد ہے اس سے ہٹ کر یا ترک کرکے اپنے خیال یا فکر کے مطابق جو پوشیدہ معنی مفسر لے اسے تفسیر اشاری یا باطنی کہتے ہیں۔ ایسے معانی روافض اورصوفیا کرام کے ہاں عام رائج ہیں۔ بظاہر اس...
  18. محمد نعیم یونس

    علم تفسیر

    تفسیر بالرائے تفسیر کی یہ دوسری قسم اجتہادی تفسیر کہلاتی ہے ۔یااسے تفسیر درایت یا تفسیرمعقول بھی کہتے ہیں۔ اس سے مراد قرآن کی تفسیر، احادیث اور اقوال صحابہؓ و تابعین ؒ کی بجائے زیادہ تر اپنے اجتہاد اور رائے کی بنا پر کرنا ہے۔ یہ رائے دو قسم کی ہوسکتی ہے۔ i) رائے محمود اس سے مراد وہ تفسیر...
  19. محمد نعیم یونس

    علم تفسیر

    تفسیرکلمات میں اختلاف کا اصولی حل: ایسے قرآنی کلمات جو ایک سے زائد معنی کے محتمل ہوں تو؟ ان کے صحیح معنوی انتخاب کے لئے ذیلی اصول پیش نظر رکھ کر ان شاء اللہ تفسیر ی کج روی سے محفوظ رہا جاسکتا ہے: ٭… قرآن مجید میں وارد الفاظ وکلمات اپنے سیاق وسباق کے مطابق جن شرعی یا لغوی مفاہیم کا تقاضا کرتے...
  20. محمد نعیم یونس

    علم تفسیر

    کتب تفسیر میں اختلاف کتب تفسیر میں عموماً اختلاف دو قسم کا ہے: ۱۔اختلاف تنوع: ایسا اختلاف جس میں کوئی تناقض یا تضاد نہیں بلکہ نئے انداز فکر کا ہے ۔یہ ایسا اختلاف ہے جیسے اللہ تعالی اپنی یا رسول کی یا کتاب کی مختلف صفات بیان کردے جس میں ہر اسم اپنی صفت کی خبر دے دے۔یہ بھی امکان ہے کہ اس تفسیر...
Top