الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
تعارض کی صورتیں:
علماء نے اس کی چار صورتیں بیان فرمائی ہیں۔
پہلی صورت:
راوی کے بارے میں جرح اور تعدیل مبہم سی ہو۔یعنی نہ جرح کا سبب بتایا گیا ہو اور نہ ہی تعدیل کا۔اگر کوئی مبہم جرح کو قبول کرنے کا سوچتا ہے تو مبہم تعدیل کو بھی اصولاً وہ رد نہیں کرسکتا۔ ایسے ابہام میں راجح کو قبول کرنا ہی...
تعارض جرح وتعدیل:
اس کامطلب ہے کہ نقاد محدثین میں سے کچھ نے راوی کی تعدیل کی اور کہا: إنہ ثقة: کہ وہ بلاشبہ ثقہ ہے۔جبکہ کچھ یہ کہہ دیں: إِنَّہُ ضَعِیفٌ: وہ بلاشبہ ضعیف ہے۔
نوٹ:یہ تعارض اس فقہی یا اجتہادی مسئلے کے تعارض سے کم تر ہے جس میں فقہاء کرام عِنْدَہُ، عِنْدَھُمَا کہتے ہیں۔مثلاً...
جرح کے بھی چھ مراتب ہیں جن کے الفاظ کی ترتیب درج ذیل ہے:
۱۔ فیہِ مَقَالٌ :
ایسے الفاظ جرح جن میں نرمی ہو یہ ضعف کی انتہائی ہلکی مگر تعدیل کے قریب کی صورت ہے۔جیسے: فِیہِ مَقَال : اس کے بارے میں کچھ اقوال ہیں۔یا فُلَانٌ لَیِّنُ الْحَدیثِ۔ فلان حدیث میں نرم ہے۔یا غَیرُہُ أَوْثَقُ مِنْہُ: دوسرا اس...
تعدیل کے چھ مراتب ہیں۔ جن کی ترتیب یہ ہے:
۱۔ أوثق الناس:
توثیق راوی کے لئے ایسے لفظ کا استعمال جو انتہائی اعلی ہو۔یا افعل التفضیل ہو یعنی أفعل کے وزن پر وہ لفظ آئے۔ جیسے: أَوْثَقُ النَّاسِ لوگوں میں سب سے زیادہ ثقہ انسان۔ أَضْبَطُ الناسِ: سب سے زیادہ ضابط، فُلَانٌ إِلَیْہِ الْمُنْتَھَی فِی...
مراتب جرح وتعدیل:
متقدم علماء نے اپنے اپنے دور میں جرح وتعدیل کے جو مراتب قائم کئے انہیں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ رجال حدیث کی تحقیق وتنقید کا سلسلہ کہیں یا کسی زمانہ میں تھما نہیں بلکہ اس میں مزید تنقیح وتہذیب ہوتی رہی ہے۔ امام ابن ابی حاتم، حافظ ذہبی ؓ امام ابن الصلاح، امام نووی، حافظ عراقی...
جرح وتعدیل کے قاعدے:
۱۔ تمام صحابہ عادل ہیں۔اس لئے ان پر جرح نہیں ہوگی۔اس لئے کہ وہ سب اللہ تعالی کی طرف سے{اُولٰىِٕكَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ}کا اعزازپانے کے بعدعادل ہیں۔
۲۔ جس راوی کی تعدیل وتوثیق پر اجماع ہوچکا ہے اس پر کسی قسم کی جرح قبول نہیں کی جائے گی۔ جیسے امام مالک، امام شافعی، امام احمد ،...
معدل کی شروط:
معدل کے لئے درج ذیل شروط لکھی گئی ہیں:
۱۔ معدل خود عادل ہو۔ فاسق نہ ہو۔ ورنہ اس کی تعدیل قبول نہ ہوگی۔
۲۔ معدل خود بیدار مغز ہو ، اگر غافل ہے تو راوی کے ظاہری حالات سے دھوکہ کھا سکتا ہے۔
۳۔ معدل اسباب تعدیل کی معرفت رکھتا ہو۔جو صفات قبول ورد کو نہ جانتا ہو اس کی تعدیل صحیح نہیں۔...
تعدیل:
عربی میں عدل معاملات میں اعتدال ومیانہ روی کو کہتے ہیں۔ اس کا متضاد جور ہے۔
اصطلاح میں تعدیل : راوی کی شخصیت کا ایک تزکیہ ہے کہ وہ ایک عادل وضابط راوی ہے۔یہ تزکیہ تحقیق حال کے بعددیا جاتا ہے۔
مثلاً : ضَابِطٌ، ثِقَةٌ، مُتْقِنٌ، یا أَوْثَقُ النَّاسِ وغیرہ۔ ان الفاظ میں راوی کے ضبط کے صحیح...
جارح کے لئے شروط:
جرح کرنے والے کے لئے پانچ شرطیں عائد کی جاتی ہیں:
۱۔ جرح ایک عادل شخص کی طرف سے ہو۔فاسق جارح کی جرح قبول نہ ہوگی۔
۲۔ جرح ایسے شخص کی طرف سے ہو جو بیدار مغز ہو نہ کہ غفلت کا شکار ۔ اس کی جرح قبول نہ ہوگی۔
۳۔جو عالم جرح کے اسباب کو جانتا ہو اس کی یہ جرح ہو۔ مگرجو خرابیوں کو نہ...
اقسام:
جرح دو قسم کی ہوتی ہے مطلق اور مقید
مطلق:
راوی پر کسی پابندی کے بغیر آزاد جرح ہو۔جو راوی کی بہر حال ایک برائی بن جاتی ہے۔
مقید:
راوی پر جرح کسی معین شے کی ہو۔ مثلاً کسی شیخ یا گروہ کی طرف نسبت کی وجہ سے۔ ایسی جرح اس کے خلاف ایک برائی تصور ہوتی ہے۔جیسے: تقریب میں امام ابن حجر رحمہ...
جارح:
ایک ماہر ، منصف اور بے لاگ بات کرنے والا محدث جو کسی راوی کی علمی ، بدعملی، اور اس کی عدالت وضبط کی کمزوری کو بخوبی جان کر اسے ناقابل قبول قرار دے،جارح کہلاتا ہے۔یہ تین قسم کے ہیں:
۱۔ متشدد ۲۔معتدل ۳۔ متساہل
۱۔متشدد:
بہت ہی سختی کرنے والے علماء میں امام یحییٰ بن سعید القطان، شعبہ...
جرح:
عربی میں عیب یا خرابی کو یا زخم کے نشان کو کہتے ہیں۔جراح بھی اسی سے ہے۔ محدثین کی اصطلاح میں جرح: راوی کی ایسے الفاظ سے تنقید کرنا کہ اس کی شخصیت سے عدالت اور ضبط کا پہلوگم نظرآئے۔ ایسے الفاظ سے اس کی روایت رد ہوجاتی ہے مثلاً یہ کہا جائے: ھُوَ کَذَّابٌ۔ وہ جھوٹا ہے۔ أَو فَاسِقٌ: یا وہ...
علماء اور کتب:
اس علم میں جو علماء مشہور ہوئے وہ انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں اس لئے کہ یہ علم ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ اس علم کو انتہاء تک پہنچانے والے امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ( م: ۲۴۱ھ) تھے۔ الحمد للہ امت تک افراد کے بارے میں ایک نصیحت آمیز گفتگو اور پیمانہ پہنچانے کا حق قرون اولی کی ان...
تعدیل:
ماہرین حدیث کی طرف سے کسی راوی کو عادل قرار دینا ۔یعنی اسے روایت میں قابل اعتماد سمجھنا اور باور کرانا۔یہ عمل بھی خاصی تحقیق کے بعد کیا جاتا۔ظاہر ہے نہ علماء فرشتے ومعصوم تھے اور نہ ہی راوی۔ مگر اپنی بساط بھر کوشش کے بعد جو وہ کسی کے بارے میں دیانت داری سے کہہ سکے انہوں نے کہہ دیا۔ دنیا...
جرح یا غیبت:
بعض سادہ لوگ نیکی کے غلبہ کی وجہ سے راوی حدیث پر جرح کو غیبت سمجھتے ہیں۔ گو کسی کے عیوب بیان کرنا غیبت ہے مگر ایسی غیبت کی اجازت محدثین کرام نے اس حدیث کی روشنی میں اس مقصد کے تحت دی ہے کہ صرف حدیث رسول ﷺ کو ہر قسم کے غیر ثقہ راویوں سے پاک رکھا جائے۔جرح کو اس لئے جائز قرار دیا گیا...
باب۹
علم جرح و تعدیل
اس علم میں مخصوص الفاظ کے ذریعے راوی کی عدالت و ثقاہت یا اس کے معائب و ضعف زیربحث آتے ہیں کہ آیا ان کی روایات کوقبول کیا جائے یا رد۔
وجوہ واسباب:
محدثین نے جرح وتعدیل کے اصول اس لئے بنائے کہ صحیح حدیث برآمد ہو۔ جن کا مصدر قرآن مجید کی آیات اور احادیث رسول ﷺ ہیں۔
مثلاً یہ...
۸۔علم فقہ الحدیث:
یہ حدیث کا درایتی واستنباطی فہم وعلم ہے جو اس اعتبار سے زیادہ اہم ہے کہ قرآن کریم کے بعد ایک طالب علم اس سے آگاہ ہوکر فقہی اختلافات کو غیر اہم سمجھتا ہے اور اسے ہی دینی میراث سمجھتا ، رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتااور اپنی دینی بنیادکو استوارکرتا ہے۔ اسی میزان کے عطا ہوجانے کے بعد...
اس تحقیق نے دیگر فنون اسلامیہ کے ریکارڈ کو درست کرنے اور تصنیف کتاب میں ثقاہت کو رواج دینے کا ڈھنگ سکھایا اور ثابت شدہ سند کو نقل وروایت کی صحت کیلئے علامت بنادیا۔مثلاًتاریخ، فقہ، سیرت یا کتب حدیث میں وارد احادیث کے بارے میں یہ معلومات اکٹھی کرنا: حدیث کا راوی کون ہے ؟ کس پائے کا ہے ؟اور حدیث کا...
۷۔ علم تخریج حدیث:
بعض مصنف حضرات، اپنی کتب میں کتب صحاح وسنن سے حدیث بیان کرکے اور ان کا حوالہ دے کر اسے تخریج کا نام دے دیتے ہیں۔ اور بعض اسے تحقیق بھی کہہ دیتے ہیں۔محدثین نے ان دو لفظوں کا مفہوم لکھا ہے:
تحقیق:
محدثین کے نزدیک تحقیق حدیث یہ ہے کہ صرف حدیث کے بارے میں یہ معلومات جمع...
یہ آیات واحادیث علم جرح وتعدیل کی بنیاد بنیں۔ قرآن مجید نے افراد پر جرح کی اور ان کی تعدیل بھی۔ {كَانُوْا لَا يَتَنَاہَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْہُ}کی جرح ہو یا {اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِيْنَ}کی تعدیل۔ جرح سے قبل تحقیق کا بھی اسلوب دیا۔ {سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ...