الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
دوسرا مغالطہ:
خدا تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا ہے کہ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْد یعنی ہم نے لوہا اتارا۔ اب غور کیجئے کہ کیا لوہا آسمان سے نازل ہوتا ہے یا کانوں سے نکلتا ہے؟ (۹۰)
جواب:
آیت مذکورہ میں انزال سے مراد انزال امر ہے جیسا کہ اُوپر مفردات راغب سے عبارت وَالْھِدَایَۃُ اِلَیْہِ...
مغالطہ نمبر۱:
قرآن مجید میں ہے کہ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰہُ اِلَیْکُمْ ذِکْرًا رَسُوْلاً یَّتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیَاتِ اللّٰہِالآیۃ۔ اس آیت میں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے انزل کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ (۷۷)
جواب:
اگر مشہور اور درسی کتاب جلالین کے اسی مقام کو دیکھ لیا جاتا تو اعتراض کی کوئی...
بحث نزول
عموماً مرزائی پارٹی یہ اعتراض کیا کرتی ہے کہ قرآن مجید میں نزول کا لفظ اور اس کے مشتقات متعدد جگہ استعمال ہوئے ہیں۔ اور وہاں آسمان سے اترنے کے کسی جگہ بھی ہمارے مخالف لوگ معنی نہیں لیتے۔ دل میں آیا کہ اتمامِ حجت کے لیے ان کا یہ کانٹا بھی نکال دیا جائے تاکہ ان کو کسی قسم کا شکوہ...
تفاسیر
تفسیر کبیر
التوفی حبنس تحتہ الواع بعضھا با الموت وبعضھا یا الاصعاد الی السماء۔(۶۵)
ترجمہ: امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ آیت انی متوفیک الآیہ کے تحت میں لکھتے ہیں۔ کہ توفی بمنزلہ جنس کے ہے اور اس کے تحت میں بہت سے انواع ہیں۔ مثلاً موت اور اصعاد الی السماء وغیرہ۔
بیضاوی:
التوفی اخذ...
کتب تفاسیر
تفسیر کبیر
(۱) التوفی اخذ الشئی وافیا۔
ترجمہ: توفی کے معنی کسی چیز کو پورا پورا لے لینا ہے، جیسا کہ عرب بولتے ہیں تَوَفَیْتُ مِنْہُ دِرَاھِمِیْ یعنی میں نے اس سے اپنے درہم پورے پورے لے لیے۔ (۵۸)
بیضاوی
(۱) اَلتَّوَفِّیْ اَخْذُ الشَّیِٔ وَافِیًا وَالْمَوْتُ مِنْہُ نَوْع۔
ترجمہ...
توفی کا حقیقی معنیٰ
کتب لغویہ
لسان العرب و محاضراتھا
(۱) تَوَفَّیْتُ الْمَالَ مِنْہُ وَاسْتَوْ فَیْتُہٗ اِذَا اَخَذْتُہٗ کُلَّہٗ۔
ترجمہ: توفیت (باب تفعل) اور استوفیتہ (باب استفعال) دونوں کے معنی ہیں کہ میں نے اس سے اپنا مال پورا پورا لے لیا۔
(۲) توفاہ منہ واستو فاہ لم یدع منہ شیئا۔
ترجمہ...
بحث توفی
مرزا صاحب قادیانی کا دعویٰ ہے کہ لفظ توفی حقیقی اور وضعی طور پر صرف موت اور قبض روح کے لیے ہی موضوع ہے ۔ آج ناظرین کے سامنے مرزا صاحب قادیانی کے لغوی اور ادبی جوہر کا ایک دھندلا سا خاکہ پیش کرنا چاہتا ہوں جس سے ناظرین کرام مرزا صاحب کی لغوی و ادبی قابلیت کا صحیح اندازہ لگا سکتے ہیں کہ...
اس مطالبہ کا جواب (باوجودیکہ اس وقت سیٹھ عبداللہ الٰہ دین نے اسے منظور کرکے اس کی تکمیل کا معاہدہ تحریری بھی کیا جیسا کہ یہ تمام کاروائی سکندر آبادی اشتہار ۱۹۳۴ء میں درج ہے تو بھی بعد کو جب خلیفہ محمود احمد قادیانی نے اسے منظور نہ کیا۔ ناقل) نفی میں ملا اب بھی میرا یہی مطالبہ ہے کیونکہ میرا...
حلف کے الفاظ یہ ہیں:
جو مولوی ثناء اللہ صاحب جلسۂ عام میں تین مرتبہ دہرائیں گے اور ہر دفعہ خود بھی اور حاضرین بھی آمین کہیں گے۔ ’’ میں ثناء اللہ ایڈیٹر اہل حدیث خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر اس بات پر حلف کرتا ہوں کہ میں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے تمام دعاوی و دلائل کو بغور دیکھا اور...
لطیفہ :
مرزائی صاحبان مولانا موصوف کو ’’ابو جہل‘‘ جانتے اور کہتے ہیں۔ (۴۲)مگر یہاں آکر عجیب پلٹا کھاتے ہیں۔ یعنی یہ کہتے ہیں کہ ابوجہل کی تجویز اور تحریر تو خدا نے مان لی۔ مگر اپنے ’’نبی‘‘ کے فیصلہ کو جس کی قبولیت کا وعدہ بھی دے چکا تھا ، رد کردیا، چہ عجب!
مرزائیو! جانتے نہیں کہ ’’صادق‘‘ کے...
مرزائی اعتراض:
مولانا صاحب نے خود اس دعا کو مباہلہ لکھا ہے اور تسلیم کیا ہے کہ مرزا صاحب بھی اس کو مباہلہ جانتے تھے۔
الجواب:
مولانا صاحب نے شروع شروع میں اسے دعا ہی لکھا ہے جیسا کہ اخبار اہل حدیث ۲۶؍ اپریل ۷ء میں لکھا ہے۔ اس دعا کی منظوری مجھ سے نہیںلی۔ (۳۰)
ایسا ہی مرقع قادیان اگست ۷ء میں...
چوتھی شہادت:
ایک اعتراض کیا جاتا ہے اس کا جواب دینا ضروری سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ حضرتِ اقدس کا الہام (مولوی ثناء اللہ کے متعلق )یہ تھا کہ تیری دعا سنی گئی۔ تو پھر آپ پہلے کیوں فوت ہوئے۔ سو اس کا جواب میں اوپر دے آیا ہوں کہ وعید کی پیشگوئیاں اگر ٹل جاتی ہیں تو صرف اس وجہ سے کہ اصلاح کی صورت...
تیسری شہادت:
اشتہار آخری فیصلہ ۱۵؍ اپریل ۷ء کو شائع ہوا جو یقینا اس سے پہلے کا لکھا ہوا ہے ۱۴کا سمجھو تو ۱۱،۱۲،۱۳وغیرہ کا سمجھو تو بہرحال پہلے کا ہے اور ساتھ اس کے اسی دعا کے متعلق مرزا جی نے ۱۴؍ اپریل کو یہ کہا ہوا ہے کہ:
’’یہ زمانہ کے عجائبات ہیں، رات کو ہم سوتے ہیں تو کوئی خیال نہیں ہوتا کہ...
دوسری شہادت:
اشتہار آخری فیصلہ مرزا صاحب کی طرف سے ہے جس میں صرف دعا کے ذریعہ مرزا جی نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے یہ مباہلہ اس لیے بھی نہیں کہلا سکتا کہ مرزا صاحب اس سے کئی ماہ پیشتر رسم مباہلہ کو ختم کرچکے تھے جیسا کہ وہ راقم ہیں:
’’ سلسلہ مباہلات جس کے بہت سے نمونے دنیا نے دیکھ لیے ہیں میں کافی...
بیرونی شہادتیں
پہلی شہادت:
مباہلہ کے لیے جس کی بنیاد مرزا صاحب نے آیتِ قرآن پر رکھی ہے ایک تو جمع کے صیغے ہونے ضروری ہیں۔ جیسا کہ گزر چکا۔ دوم خود مرزا صاحب کو مسلم ہے کہ ایک ایک شخص کا مباہلہ ناجائز ہے۔ مباہلہ کے لیے ایک سے زیادہ انسان ہونے چاہئیں۔ پھر خواہ وہ خود شریک مباہلہ ہوں یا بذریعہ...
عذر :
یہ اشتہار مرزا صاحب کا محض دعا نہیں چیلنج (۱) مباہلہ یا مباہلہ ہے۔ (۷)
۱۔ مرزا صاحب کو اپنی طرف سے چیلنج مباہلہ کرنے کی اجازت ہی نہ تھی۔ ’’ ہم موت کے مباہلہ میں اپنی طرف سے چیلنج نہیں کرسکتے کیونکہ حکومت کا معاہدہ ایسے چیلنج سے ہمیں مانع ہے۔‘‘ (اعجاز احمدی ص۱۴و روحانی ص۱۲۲، ج۱۹)...
بھائیو! مرزا صاحب کا اس طریق سے فیصلہ کن دعا شائع کرنا ایک بڑی گہری فریب دہی پر مبنی ہے جو ہو بہو پچھلے دجال و کذاب انسانوں کی نقالی ہے کسی صادق رسول نے کبھی بھی اس قسم کی دعا اپنے مشن کی صداقت یا کذب کے لیے فیصلہ کن قرار نہیں دی۔ دعا کو قبول کرنا یا نہ کرنا خدا کے ہاتھ میں ہے۔ ایک قائل خدا، اور...
مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ مرزا صاحب کے کاذب ہونے پر تیرہویں دلیل
مرزا صاحب نے جب اپنے جھوٹے دعاوی سے دنیا کو گمراہ کرنا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے ہر فرعونے را موسیٰ والی قدیم سنت کو کام فرما کر مرزا صاحب کا سر کچلنے کو حضرت مولانا ابو الوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری کو کھڑا کیا۔ چنانچہ...
مجدد الف ثانی رحمہ اللہ
حضرت شیخ احمد سر ہندی مکتوبات میں فرماتے ہیں ’’ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہ از آسمان نزول خواہد فرمود متابعت شریعت خاتم الرسل خواہد نمود‘‘ (۳۸۹)یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نزول فرما کر خاتم النبیین کی شریعت کی پیروی کریں گے۔
پیران پیر رحمہ اللہ
سیدنا حضرت شیخ...
حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ
ناظرین مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب البریۃ کے ص۱۸۸کے حاشئے پر لکھا ہے کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ بھی وفاتِ مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔ (۳۸۶)حالانکہ یہ افترا ہے۔ امام موصوف حیات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔ ملاحظہ ہو ’’ الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح اور زیارۃ...