الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
2-امام دارقطنی نے بھی اس حدیث کو امام وکیع کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے الحسین بن اسماعیل اور عثمان بن جعفر سے اور انہوں نے یوسف بن موسی کے واسطے سے امام وکیع سے یہ حدیث روایت کی ہے اس روایت کے الفاظ مسند احمد کے الفاظ سے ملتے ہیں:
مسند احمد کو الشیخ شعیب الارنووط اور ان کے ساتھیوں نے تحقیق و تخریج کے ساتھ پچاس جلدوں میں شائع کیا ہے۔ اور اس حدیث کی انہوں نے مناسب تخریج بھی کر دی۔ اوراس حدیث کی تخریج میں سب سے پہلے انہوں نے مصنف ابن ابی شیبہ کا حوالہ دیا ہے اور انہوں نے بھی کسی خود ساختہ اضافہ کا ذکر نہیں کیا۔ وائل بن حجر...
تحقیق مزید
اس روایت کو امام ابن ابی شیبہ نے درج ذیل سند سے نقل کیا ہے:
حدثنا وکیع عن موسی بن عمیر عن علقمہ بن وائل بن حجر عن ابیہ
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کو بعینہٖ اسی سندسے روایت کیا ہے، اسی طرح امام دارقطنی نے بھی اس حدیث کو اسی سند سے نقل کیا ہے، مسند احمد کا عکس ملاحظہ...
ایک اہم اصول
موجودہ دور میں احادیث کی کتب میں تحریف کر کے دیوبندی حضرات ان احادیث کو مسلک حنفی کے دلائل کی حیثیت سے ذکر کر رہے ہیں جیسا کہ مسند حمیدی، مسند ابی عوانہ، مصنف ابن ابی شیبہ، سنن ابی داو'د وغیرہ کتب کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں یہ بنیادی اصول یاد رکھنا چاہیئے کہ جن...
اس واضح تحقیق سے ثابت ہو گیا کہ تحت السرہ کے اضافے کی کوئی علمی و تحقیقی بنیاد نہیں ہے بلکہ یہ تحقیق زیادہ سے زیادہ یہ ایک غلط فہمی کی بنیاد پر مبنی ہے اور جس نسخہ کے بارے میں کہا گیا تھا کہ اس میں یہ الفاظ موجود ہیں اس میں دراصل نسخہ کے ناقل سے یہ غلطی سرزد ہو گئی اور اس حدیث کو نقل کرتے ہوئے...
الاعظمی صاحب کے اس نسخہ میں بھی تحت السرہ کے اضافہ کا دور دور تک نام و نشان نہیں ہے جبکہ اعظمی صاحب نے ہر صفحہ کے نیچے اپنی تحقیقات کو بھی درج کیا ہے لیکن اس روایت سے وہ خاموشی کے ساتھ گزر گئے ہیں جبکہ مسند حمیدی میں اثبات رفع الیدین کی روایت کی تحقیق کرنے کے بجائے محرف نسخہ کی عبارت کو جوں کا...
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اس کی تاریخ پیدائش مراسلے کی پہلی پوسٹ پر درج ہے۔۔۔ابتسامہ
آپ تو بس آتے ہیں اور پوسٹ کرکے چلے جاتے ہیں۔۔۔۔۔
ماشاء اللہ، الحمد للہ، آپ کی خیریت جان کر خوشی ہوئی۔ اللہ تعالی آپ کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ آمین۔
جی الحمد للہ! اللہ کے خاص فضل وکرم سے میں خیریت سے ہوں۔
3-دارالفکر بیروت سے مصنف کا جو نسخہ طبع ہوا ہے اس میں بھی تحت السرہ کے الفاظ نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ یہ وہی نسخہ ہے کہ جس کا عکس طیب اکادمی ملتان اور مکتبہ امدادیہ ملتان والوں نے شائع کیا لیکن ان نسخوں میں ان کے ناشرین نے تحت السرہ کا اضافہ کر دیا۔ ویا للعجب
تحت السرہ کے اضافے کی حقیقت
مصنف ابن ابی شیبہ کو ہندوستان میں سب سے پہلے مولانا عبدالتواب کی تعلیق سے ملتان سے شائع کیا گیا تھا۔ اس کے بعد مولانا ابوالکلام اکادمی حیدرآباد دکن نے۱۳۸۶ھ میں اس کی پہلی جلد کو شائع کیا۔ ہندوستان میں اس کتاب کو شائع کرنے کا اعزاز حنفی حضرات ہی کو حاصل ہے اور ان شائع...
الشیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ اہل حدیث کے زبردست محقق اور شیخ الحدیث ہیں اور آپ نے مختلف موضوعات پر انتہائی قیمتی اور تحقیقی کتابیں رقم کی ہیں اس مسئلہ پر بھی سب سے پہلے شیخ موصوف ہی نے قلم اٹھایا اور ہم جیسے طالب علموں کے لئے راہنمائی فراہم فرمائی۔ اسی طرح مقلدین کی طرف سے کوئی نئی تحریف جب...
علامہ نیموی جو ماضی قریب میں حنفیت کے نامور وکیل تھے انہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگرچہ یہ زائد الفاظ کئی نسخوں میں موجود ہیں مگر انصاف کی بات یہ ہے کہ یہ اضافہ غیر محفوظ اور متن کے اعتبار سے ضعیف ہے۔ ان کے الفاظ ہیں:
الانصاف ان ھذہ الزیادۃ وان کانت صحیحۃ لوجودھا فی اکثر النسخ من المصنف...
اصل حقیقت
ادارۃ القرآن کراچی والوں نے سب سے پہلے مصنف ابن ابی شیبہ کی پہلی جلد میں تحت السرہ کا اضافہ کیا اس کے بعد طیب اکادمی ملتان اور پھر مکتبہ امدادیہ والوں نے بھی مکھی پر مکھی مارتے ہوئے مصنف میں تحت السرہ کا اضافہ کر دیا۔ لیکن اس تحریف کی اصل حقیقت کیا ہے وہ ہم الشیخ ارشاد الحق اثری فیصل...