الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْأَشِرُ ﴿٢٦﴾
اب سب جان لیں گے کل کو کہ کون جھوٹا اور شیخی خور تھا؟ (١)
٢٦۔١ یہ خود، پیغمبر پر الزام تراشی کرنے والے۔ یا حضرت صالح عليہ السلام؟ جن کو اللہ نے وحی و رسالت سے نوازا۔ غدا یعنی کل سے مراد قیامت کا دن ہے یا دنیا میں ان کے لیے عذاب کا مقررہ دن۔
أَأُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِن بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ ﴿٢٥﴾
کیا ہمارے سب کے درمیان صرف اسی پر وحی اتاری گئی؟ نہیں بلکہ وہ جھوٹا شیخی خور ہے۔ (١)
٢٥۔١ أَشِرٌ، بمعنی مُتَكَبِّرٌ یا کذب میں حد سے تجاوز کرنے والا، یعنی اس نے جھوٹ بھی بولا ہے تو بہت بڑا۔ کہ مجھ پر وحی آتی ہے۔ بھلا ہم...
تَنزِعُ النَّاسَ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍ ﴿٢٠﴾
جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر دے پٹختی تھی، گویا کہ وہ جڑ سے کٹے ہوئے کھجور کے تنے ہیں۔ (١)
٢٠۔١ یہ درازی قد کے ساتھ ان کی بے بسی اور لاچارگی کا بھی اظہار ہے کہ عذاب الٰہی کے سامنے وہ کچھ نہ کر سکے دراں حالیکہ انہیں اپنی قوت و طاقت پر...
كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ ﴿١٨﴾
قوم عاد نے بھی جھٹلایا پس کیسا ہوا میرا عذاب اور میری ڈرانے والی باتیں۔
إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا صَرْصَرًا فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ ﴿١٩﴾
ہم نے ان پر تیز و تند مسلسل چلنے والی ہوا، ایک پیہم منحوس دن میں بھیج دی۔ (١)...
فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ ﴿١٦﴾
بتاؤ میرا عذاب اور میری ڈرانے والی باتیں کیسی رہیں؟
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ ﴿١٧﴾
اور بیشک ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کر دیا ہے (١) پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟
١٧۔١ یعنی اس کے مطالب و معانی کو...
وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلَىٰ أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ ﴿١٢﴾
اور زمین سے چشموں کو جاری کر دیا پس اس کام کے لیے جو مقدر کیا گیا تھا (دونوں) پانی جمع ہو گئے۔ (١)
١١۔١ یعنی آسمان اور زمین کے پانی نے مل کر وہ کام پورا کر دیا اور جو قضا و قدر میں لکھ دیا گیا تھا یعنی طوفان...
فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ ﴿١٠﴾
پس اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں بے بس ہوں تو میری مدد کر۔
فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ ﴿١١﴾
پس ہم نے آسمان کے دروازوں کو زور کے مینہ سے کھول دیا۔ (١)
١١۔١ مُنْهَمِرٌ بمعی کثیر یا زوردار هَمْرٌ، صَبٌّ (بہنے) کے معنی...
مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ ۖ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ ﴿٨﴾
پکارنے والے کی طرف دوڑتے ہوں گے (١) اور کافر کہیں گے کہ یہ دن تو بہت سخت ہے۔
٨۔١ مُهْطِعِينَ، مُسْرِعِينَ، دوڑیں گے، پیچھے نہیں رہیں گے۔
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُوا عَبْدَنَا وَقَالُوا مَجْنُونٌ...
خُشَّعًا أَبْصَارُهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ ﴿٧﴾
یہ جھکی آنکھوں قبروں سے اس طرح نکل کھڑے ہوں گے کہ گویا وہ پھیلا ہوا ٹڈی دل ہے۔ (١)
٧۔١ یعنی قبروں سے نکل کر وہ اس طرح پھیلیں گے اور موقف حساب کی طرف اس طرح نہایت تیزی سے جائیں گے، گویا ٹڈی دل ہے جو آناً...
فَتَوَلَّ عَنْهُمْ ۘ يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِ إِلَىٰ شَيْءٍ نُّكُرٍ ﴿٦﴾
پس (اے نبی) تم ان سے اعراض کرو جس دن ایک پکارنے والا ناگوار چیز کی طرف پکارے گا۔ (١)
٦۔١ يَوْمَ سے پہلے اذْكُرْ محذوف ہے، یعنی اس دن کو یاد کرو۔ نُكُرٌ، نہایت ہولناک اور دہشت ناک مراد میدان محشر اور موقف حساب کے احوال اور...
حِكْمَةٌ بَالِغَةٌ ۖ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ ﴿٥﴾
اور کامل عقل کی بات ہے (١) لیکن ان ڈراؤنی باتوں نے بھی کچھ فائدہ نہ دیا۔ (٢)
٥۔١ یعنی ایسی بات جو تباہی سے پھیر دینے والی ہے یا یہ قرآن حکمت بالغہ ہے جس میں کوئی نقص یا خلل نہیں ہے۔ یا اللہ تعالیٰ جس کو ہدایت دے اور اس کو گمراہ کرے، اس میں بڑی...
وَلَقَدْ جَاءَهُم مِّنَ الْأَنبَاءِ مَا فِيهِ مُزْدَجَرٌ ﴿٤﴾
یقیناً ان کے پاس وہ خبریں آچکی ہیں (١) جن میں ڈانٹ ڈپٹ (کی نصیحت) ہے۔ (٢)
٤۔١ یعنی گذشتہ امتوں کی ہلاکت کی، جب انہوں نے جھٹلایا۔
٤۔٢ یعنی ان میں عبرت و نصیحت کے پہلو ہیں، کوئی ان سے سبق حاصل کر کے شرک و معصیت سے بچنا چاہے تو بچ سکتا...
وَكَذَّبُوا وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُمْ ۚ وَكُلُّ أَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ ﴿٣﴾
انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر کام ٹھہرے ہوئے وقت پر مقرر ہے۔ (١)
٣۔١ یہ کفار مکہ کی تکذیب اور اتباع اہوا کی تردید و بطلان کے لیے فرمایا کہ ہر کام کی ایک غایت اور انتہا ہے، وہ کام اچھا ہو یا برا۔...
وَإِن يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ ﴿٢﴾
یہ اگر کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں یہ پہلے سے چلا آتا ہوا جادو ہے۔ (١)
٢۔١ یعنی قریش نے، ایمان لانے کے بجائے، اسے جادو قرار دے کر اپنے اعراض کی روش برقرار رکھی۔
سورة القمر
(سورة القمر مکی ہے اور اس میں پچپن آیتیں اور تین رکوع ہیں۔ یہ بھی ان سورتوں میں سے ہے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید میں پڑھا کرتے تھے۔ کما مر۔)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
اقْتَرَبَتِ...
وَتَضْحَكُونَ وَلَا تَبْكُونَ ﴿٦٠﴾
اور ہنس رہے ہو؟ روتے نہیں؟
وَأَنتُمْ سَامِدُونَ ﴿٦١﴾
(بلکہ) تم کھیل رہے ہو۔
فَاسْجُدُوا لِلَّـهِ وَاعْبُدُوا ۩ ﴿٦٢﴾
اب اللہ کے سامنے سجدے کرو اور (اسی کی) عبادت کرو۔ (١)
٦٢۔١ یہ مشرکین اور مکذبین کو توبیخ کے لیے حکم دیا۔ یعنی جب ان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ قرآن...
هَـٰذَا نَذِيرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْأُولَىٰ ﴿٥٦﴾
یہ (نبی) ڈرانے والے ہیں پہلے ڈرانے والوں میں سے۔
أَزِفَتِ الْآزِفَةُ ﴿٥٧﴾
آنے والی گھڑی قریب آگئی ہے۔
لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ اللَّـهِ كَاشِفَةٌ ﴿٥٨﴾
اللہ کے سوا اس کا (وقت معین پر کھول) دکھانے والا اور کوئی نہیں۔
أَفَمِنْ هَـٰذَا الْحَدِيثِ...
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَىٰ ﴿٥٥﴾
پس اے انسان تو اپنے رب کی کس کس نعمت کے بارے میں جھگڑے گا؟ (١)
٥٥۔١ یا شک کرے گا اوران کو جھٹلائے گا،جب کہ وہ اتنی عام اور واضح ہیں کہ ان کا انکار ممکن ہے نہ ان کا اخفا ہی۔