• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ‌ رَ‌بِّهِمْ فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ وَهُمْ يَنظُرُ‌ونَ ﴿٤٤﴾ لیکن انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی جس پر انہیں ان کے دیکھتے دیکھتے (تیز و تند) کڑاکے (١) نے ہلاک کر دیا۔ ٤٤۔١ یہ صَاعِقَةٌ (کڑاکا) آسمانی چیخ تھی اور اس کے ساتھ نیچے سے رَجْفَةٌ (زلزلہ) تھا جیسا کہ سورۂ...
  2. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَفِي ثَمُودَ إِذْ قِيلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوا حَتَّىٰ حِينٍ ﴿٤٣﴾ اور ثمود (کے قصے) میں بھی (عبرت) ہے جب ان سے کہا گیا کہ تم کچھ دنوں تک فائدہ اٹھا لو۔ (١) ٤٣۔١ یعنی جب انہوں نے اپنے ہی طلب کردہ معجزے اوٹنی کو قتل کر دیا، تو ان کو کہہ دیا گیا کہ اب تین دن اور تم دنیا کے مزے لوٹ لو، تین دن کے بعد تم...
  3. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    مَا تَذَرُ‌ مِن شَيْءٍ أَتَتْ عَلَيْهِ إِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّ‌مِيمِ ﴿٤٢﴾ وہ جس جس چیز پر گرتی تھی اسے بوسیدہ ہڈی کی طرح (چورا چورا) کر دیتی تھی۔ (۱) ٤۲۔۱ یہ اس ہوا کی تاثیر تھی جو قوم عاد پر بطور عذاب بھیجی گئی تھی۔ یہ تند و تیز ہوا، سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی۔ (الحاقہ)
  4. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَفِي عَادٍ إِذْ أَرْ‌سَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّ‌يحَ الْعَقِيمَ ﴿٤١﴾ اسی طرح عادیوں میں (١) بھی (ہماری طرف سے تنبیہ ہے) جب کہ ہم نے ان پر خیر و برکت سے (۲) خالی آندھی بھیجی۔ ٤١۔١ أَيْ: تَرَكْنَا فِي قِصَّةِ عَادٍ، عاد کے قصے میں بھی ہم نے نشانی چھوڑی۔ ٤١۔٢ الرِّيحَ الْعَقِيمَ (بانجھ ہوا) جس میں...
  5. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    فَأَخَذْنَاهُ وَجُنُودَهُ فَنَبَذْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ وَهُوَ مُلِيمٌ ﴿٤٠﴾ بالآخر ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو اپنے عذاب میں پکڑ کر دریا میں ڈال دیا وہ تھا ہی ملامت کے قابل۔ (١) ٤٠۔١ یعنی اس کے کام ہی ایسے تھے کہ جن پر وہ ملامت کا مستحق تھا۔
  6. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَفِي مُوسَىٰ إِذْ أَرْ‌سَلْنَاهُ إِلَىٰ فِرْ‌عَوْنَ بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ ﴿٣٨﴾ موسٰی (علیہ السلام کے قصے) میں (بھی ہماری طرف سے تنبیہ ہے) کہ ہم نے اسے فرعون کی طرف کھلی دلیل دے کر بھیجا۔ فَتَوَلَّىٰ بِرُ‌كْنِهِ وَقَالَ سَاحِرٌ‌ أَوْ مَجْنُونٌ ﴿٣٩﴾ پس اس نے اپنے بل بوتے پر منہ موڑا (١) اور کہنے...
  7. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَتَرَ‌كْنَا فِيهَا آيَةً لِّلَّذِينَ يَخَافُونَ الْعَذَابَ الْأَلِيمَ ﴿٣٧﴾ اور وہاں ہم نے ان کے لیے جو دردناک عذاب کا ڈر رکھتے ہیں ایک (کامل) علامت چھوڑی۔ (١) ٣٧۔١ یہ آیت یا کامل علامت وہ آثار عذاب ہیں جو ان ہلاک شدہ بستیوں میں ایک عرصے تک باقی رہے۔ اور یہ علامت بھی انہی کے لیے ہیں جو عذاب...
  8. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    فَمَا وَجَدْنَا فِيهَا غَيْرَ‌ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ ﴿٣٦﴾ اور ہم نے وہاں مسلمانوں کا صرف ایک ہی گھر پایا۔ (١) ٣٦۔١ اور یہ اللہ کے پیغمبر حضرت لوط عليہ السلام کا گھر تھا، جس میں ان کی دو بیٹیاں اور کچھ ان پر ایمان لانے والے تھے۔ کہتے ہیں یہ کل تیرہ آدمی تھے ان میں حضرت لوط عليہ السلام کی...
  9. محمد نعیم یونس

    دنیا کی حقیقت مچھر جتنی اور کافر کو پانی نہ ملنا

    رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ 'اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا '
  10. محمد نعیم یونس

    صلح اور باہمی تعلقات کی اصلاح کا بیان

    جزاک اللہ خیرا اخی
  11. محمد نعیم یونس

    سورۃ الانعام آیت8

    تفسیر احسن البیان
  12. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    فَأَخْرَ‌جْنَا مَن كَانَ فِيهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴿٣٥﴾ پس جتنے ایمان والے وہاں تھے ہم نے انہیں نکال لیا۔ (١) ٣٥۔١ یعنی عذاب آنے سے قبل ہم نے ان کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دے دیا تھا تاکہ وہ عذاب سے محفوظ رہیں۔
  13. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    مُّسَوَّمَةً عِندَ رَ‌بِّكَ لِلْمُسْرِ‌فِينَ ﴿٣٤﴾ جو تیرے رب کی طرف سے نشان زدہ ہیں، ان حد سے گزر جانے والوں کے لیے۔ (۱) ٣٤۔١ مُسَوَّمَةً (نامزد یا نشان زدہ) ان کی مخصوص علامت تھی جن سے انہیں پہچان لیا جاتا تھا، یا وہ عذاب کے لیے مخصوص تھیں، بعض کہتے ہیں کہ جس کنکری سے جس کی موت واقع ہونی تھی،...
  14. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    لِنُرْ‌سِلَ عَلَيْهِمْ حِجَارَ‌ةً مِّن طِينٍ ﴿٣٣﴾ تاکہ ہم ان پر مٹی کے کنکر برسائیں۔ (۱) ٣۳۔۱ برسائیں کا مطلب ہے، ان کنکریوں سے انہیں رجم کر دیں۔ یہ کنکریاں خالص پتھر کی تھیں نہ آسمانی اولے تھے، بلکہ مٹی کی بنی ہوئی تھیں۔
  15. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    قَالُوا إِنَّا أُرْ‌سِلْنَا إِلَىٰ قَوْمٍ مُّجْرِ‌مِينَ ﴿٣٢﴾ انہوں نے جواب دیا کہ ہم گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ (١) ٣٢۔١ اس سے مراد قوم لوط ہے جن کا سب سے بڑا جرم لواطت تھا۔
  16. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    پارہ 27 قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ أَيُّهَا الْمُرْ‌سَلُونَ ﴿٣١﴾ (حضرت ابراہیم علیہ السلام نے) کہا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے (فرشتو!) تمہارا کیا مقصد ہے؟ (١) ٣١۔١ خَطْبٌ شان قصہ۔ یعنی اس بشارت کے علاوہ تمہارا اور کیا کام اور مقصد ہے جس کے لیے تمہیں بھیجا گیا ہے۔
  17. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    قَالُوا كَذَٰلِكِ قَالَ رَ‌بُّكِ ۖ إِنَّهُ هُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ ﴿٣٠﴾ انہوں نے کہا ہاں تیرے پروردگار نے اسی طرح فرمایا ہے، بیشک وہ حکیم و علیم ہے۔ (١) ٣٠۔١ یعنی جس طرح ہم نے تجھے کہا ہے، یہ ہم نے اپنی طرف سے نہیں کہا ہے، بلکہ تیرے رب نے اسی طرح کہا ہے جس کی ہم تجھے اطلاع دے رہے ہیں، اس لیے...
  18. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    فَأَقْبَلَتِ امْرَ‌أَتُهُ فِي صَرَّ‌ةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَقَالَتْ عَجُوزٌ عَقِيمٌ ﴿٢٩﴾ پس ان کی بیوی آگے بڑھی اور حیرت (۱) میں آکر اپنے منہ پر ہاتھ مار کر کہا کہ میں تو بڑھیا ہوں اور ساتھ ہی بانجھ۔ ۲۹۔۱ صَرَّةٍ کے دوسرے معنی ہیں چیخ و پکار، یعنی چیختے ہوئے کہا۔
  19. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    فَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً ۖ قَالُوا لَا تَخَفْ ۖ وَبَشَّرُ‌وهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ ﴿٢٨﴾ پھر تو دل ہی دل میں ان سے خوف زدہ ہو گئے (١) انہوں نے کہا آپ خوف نہ کیجئے۔ (۲) اور انہوں نے اس (حضرت ابراہیم) کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی۔ ٢٨۔١ ڈر اس لیے محسوس کیا کہ حضرت ابراہیم عليہ السلام سمجھے، یہ...
  20. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    فَرَ‌اغَ إِلَىٰ أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِينٍ ﴿٢٦﴾ پھر (چپ چاپ جلدی جلدی) اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ایک فربہ بچھڑے (کا گوشت) لائے۔ فَقَرَّ‌بَهُ إِلَيْهِمْ قَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ ﴿٢٧﴾ اور اسے ان کے پاس رکھا اور کہا آپ کھاتے کیوں نہیں؟ (۱) ۲۷۔۱ یعنی سامنے رکھنے کے باوجود انہوں نے کھانے...
Top