الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
أَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِينَ ﴿٥٨﴾
کیا (یہ صحیح ہے ) کہ ہم مرنے والے ہی نہیں؟ (١)
٥٨۔١ جہنمیوں کا حشر دیکھ کر جنتی کے دل میں رشک کا جذبہ مزید بیدار ہو جائے گا اور کہے گا کہ ہمیں جو جنت کی زندگی اور اس کی نعمتیں ملی ہیں، کیا یہ دائمی نہیں؟ اور اب ہمیں موت آنے والی نہیں ہے؟ یہ استفہام تقریری ہے یعنی...
فَاطَّلَعَ فَرَآهُ فِي سَوَاءِ الْجَحِيمِ ﴿٥٥﴾
جھانکتے ہی اسے بیچوں بیچ جہنم میں (جلتا ہوا) دیکھے گا۔
قَالَ تَاللَّـهِ إِن كِدتَّ لَتُرْدِينِ ﴿٥٦﴾
کہے گا واللہ! قریب تھا کہ تو مجھے (بھی) برباد کر دے۔
وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّي لَكُنتُ مِنَ الْمُحْضَرِينَ ﴿٥٧﴾
اگر میرے رب کا احسان نہ ہوتا تو...
قَالَ هَلْ أَنتُم مُّطَّلِعُونَ ﴿٥٤﴾
کہے گا تم چاہتے ہو کہ جھانک کر دیکھ لو؟ (١)
٥٤۔١ یعنی وہ جنتی، اپنے جنت کے ساتھیوں سے کہے گا کہ کیا تم پسند کرتے ہو کہ ذرا جہنم میں جھانک کر دیکھیں، شاید مجھے یہ باتیں کہنے والا وہاں نظر آجائے تو تمہیں بتلاؤں کہ یہ شخص تھا جو یہ باتیں کرتا تھا۔
أَإِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَدِينُونَ ﴿٥٣﴾
کیا جب کہ ہم مر کر مٹی اور ہڈی ہو جائیں گے کیا اس وقت ہم جزا دیئے جانے والے ہیں؟ (١)
٥٣۔١ یعنی ہمیں زندہ کرکے ہمارا حساب لیا جائے گا اور پھر اس کے مطابق جزا دی جائے گی؟
قَالَ قَائِلٌ مِّنْهُمْ إِنِّي كَانَ لِي قَرِينٌ ﴿٥١﴾
ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا کہ میرا ایک ساتھی تھا۔
يَقُولُ أَإِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِينَ ﴿٥٢﴾
جو (مجھ سے) کہا کرتا تھا کہ کیا تو (قیامت کے آنے کا) یقین کرنے والوں میں سے ہے؟ (١)
٥٢۔١ یعنی یہ بات وہ استہزا اور مذاق کے طور پر کہا کرتا...
فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ ﴿٥٠﴾
(جنتی) ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے پوچھیں گے۔ (١)
٥٠۔١ جنتی، جنت میں ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے ہوئے، دنیا کے واقعات یاد کریں گے اور ایک دوسرے کو سنائیں گے۔
كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُونٌ ﴿٤٩﴾
ایسی جیسے چھپائے ہوئے انڈے۔ (١)
٤٩۔١ یعنی شتر مرغ اپنے پروں کے نیچے چھپائے ہوئے ہوں، جس کی وجہ سے وہ ہوا اور گرد و غبار سے محفوظ ہوں گے۔ کہتے ہیں شتر مرغ کے انڈے بہت خوش رنگ ہوتے ہیں، جو زردی مائل سفید ہوتے ہیں اور ایسا رنگ حسن و جمال کی دنیا میں سب سے عمدہ...
لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنزَفُونَ ﴿٤٧﴾
نہ اس سے درد سر ہو اور نہ اسکے پینے سے بہکیں گے۔ (١)
٤٨۔١ یعنی دنیا کی شراب کی طرح اس میں قے، سر درد، بدمستی اور بہکنے کا اندیشہ نہیں ہو گا۔
وَعِندَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ عِينٌ ﴿٤٨﴾
اور ان کے پاس نیچی نظروں، بڑی بڑی آنکھوں والی (حوریں)...
بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ ﴿٤٦﴾
جو صاف شفاف اور پینے میں لذیذ ہو گی۔ (١)
٤٦۔١ دنیا میں شراب عام طور پر بد رنگ ہوتی ہے، جنت میں وہ جس طرح لذیذ ہو گی خوش رنگ بھی ہو گی۔
أُولَـٰئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُومٌ ﴿٤١﴾
انہی کے لیے مقررہ روزی ہے۔
فَوَاكِهُ ۖ وَهُم مُّكْرَمُونَ ﴿٤٢﴾
(ہر طرح) کے میوے، اور وہ باعزت و اکرام ہوں گے۔
فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ ﴿٤٣﴾
نعمتوں والی جنتوں میں۔
عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ ﴿٤٤﴾
تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے (بیٹھے) ہوں گے۔...
إِلَّا عِبَادَ اللَّـهِ الْمُخْلَصِينَ ﴿٤٠﴾
مگر اللہ تعالیٰ کے خالص برگزیدہ بندے۔ (١)
٤٠۔١ یعنی یہ عذاب سے محفوظ ہوں گے، ان کی کوتاہیوں سے بھی درگزر کر دیا جائے گا، اگر کچھ ہوں گی اور ایک ایک نیکی کا اجر انہیں کئی کئی گنا دیا جائے گا۔
إِنَّكُمْ لَذَائِقُو الْعَذَابِ الْأَلِيمِ ﴿٣٨﴾
یقیناً تم دردناک عذاب (کا مزہ) چکھنے والے ہو۔
وَمَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿٣٩﴾
تمہیں اسی کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے تھے۔ (١)
٣٩۔١ یہ جہنمیوں کو اس وقت کہا جائے گا جب وہ کھڑے ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہوں گے اور ساتھ ہی وضاحت کر...
بَلْ جَاءَ بِالْحَقِّ وَصَدَّقَ الْمُرْسَلِينَ ﴿٣٧﴾
(نہیں نہیں) بلکہ (نبی) تو حق (سچا دین) لائے ہیں اور سب رسولوں کو سچا جانتے ہیں۔ (١)
٣٧۔١ یعنی تم ہمارے پیغمبر کو شاعر اور مجنون کہتے ہو، جب کہ واقعہ یہ ہے کہ وہ جو کچھ لایا اور پیش کر رہا ہے، وہ سچ ہے اور وہی چیز ہے جو اس سے قبل تمام انبیا بھی...
وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُو آلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُونٍ ﴿٣٦﴾
اور کہتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی بات پر چھوڑ دیں؟ (١)
٣٦۔١ یعنی انہوں نے نبی کریم ﷺ کو شاعر اور مجنون کہا اور آپ کی دعوت کو جنون (دیوانگی) اور قرآن کو شعر سے تعبیر کیا اور کہا کہ ایک دیوانے کی...
إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ يَسْتَكْبِرُونَ ﴿٣٥﴾
یہ وہ (لوگ) ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ سرکشی کرتے تھے۔ (١)
٣٥۔١ یعنی دنیا میں، جب ان سے کہا جاتا تھا کہ جس طرح مسلمانوں نے یہ کلمہ پڑھ کر شرک و معصیت سے توبہ کر لی ہے، تم...
إِنَّا كَذَٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِينَ ﴿٣٤﴾
ہم گناہ گاروں کے ساتھ اسی طرح کرتے ہیں۔ (١)
٣٤۔١ یعنی ہر قسم کے گناہ گاروں کے ساتھ ہمارا یہی معاملہ ہے اور اب وہ سب ہمارا عذاب بھگتیں گے۔
فَإِنَّهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ ﴿٣٣﴾
سو اب آج کے دن تو (سب کے سب) عذاب میں شریک ہیں۔ (١)
٣٣۔١ اس لیے کہ ان کا جرم بھی مشترکہ ہے، شرک، معصیت اور شر و فساد ان سب کا وطیرہ تھا۔
فَحَقَّ عَلَيْنَا قَوْلُ رَبِّنَا ۖ إِنَّا لَذَائِقُونَ ﴿٣١﴾
اب تو ہم (سب) پر ہمارے رب کی بات ثابت ہو چکی کہ ہم (عذاب) چکھنے والے ہیں۔
فَأَغْوَيْنَاكُمْ إِنَّا كُنَّا غَاوِينَ ﴿٣٢﴾
پس ہم نے تمہیں گمراہ کیا ہم تو خود بھی گمراہ ہی تھے۔ (١)
٣٢۔١ یعنی جس بات کی پہلے، انہوں نے نفی کی، کہ ہمارا تم...
وَمَا كَانَ لَنَا عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ ۖ بَلْ كُنتُمْ قَوْمًا طَاغِينَ ﴿٣٠﴾
اور کچھ ہمارا زور تو تم پر تھا (ہی) نہیں۔ بلکہ تم (خود) سرکش لوگ تھے۔ (١)
٣٠۔١ تابعین اور متبوعین کی یہ باہمی تکرار قرآن کریم میں کئی جگہ بیان کی گئی ہے۔ ان کی ایک دوسرے کو یہ ملامت عرصۂ قیامت (میدان محشر) میں بھی...
قَالُوا بَل لَّمْ تَكُونُوا مُؤْمِنِينَ ﴿٢٩﴾
وہ جواب دیں گے کہ نہیں بلکہ تم ہی ایمان دار نہ تھے۔ (١)
٢٩۔١ لیڈر کہیں گے کہ ایمان تم اپنی مرضی سے نہیں لائے اور آج ذمے دار ہمیں ٹھہرا رہے ہو؟