یوسف: علمائے کرام دین اسلام میں اگر ”اپنی رائے“ سے کچھ بھی نہ بولتے تو ذخیرہ تفاسیر، احادیث کی شروحات، فقہ، فتاویٰ، اور ہزاروں بلکہ لاکھوں دینی کتب کبھی ”وجود“ میں نہ آتے۔
ارسلان: علماء اگر کتاب و سنت کو چھوڑ کر اپنی رائے کو ترجیح نہ دیتے تو آج دین اسلام کو نقصان نہ پہنچاتے۔