الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
شاکر بھائی گویا آپ کا یہ موقف بھی کنفرم نہیں اور یہ لفظ "کم و بیش" سے ثابت ہے۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔اگر چھینک آ جائے اور چھینکنے والا "الحمدللہ" کہے تو اس کا بھی جواب دینے کی تعلیم دی گئی ہے۔اگر اس کی دلیل دی نہیں ہے تو پھر "جزاک اللہ خیرا" کے بدلے "وایاک" کہنا کیسے صحیح ہو سکتا...
السلام علیکم
اکثر سننے میں آیا ہے کہ لوگ حدیث کو طبقات میں تقسیم کرتے ہیں یعنی یہ حدیث پہلے طبقے کی ہے یہ دوسرے اور یہ تیسرے طبقے کی اس سے کیا مراد ہے۔
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں پہلے سوچتا تھا کہ "جزاک اللہ خیرا" کے بدلے میں کیا لکھا کروں تو کسی نے بتایا کہ "وایاک" یا "وایاکم"لکھا جاتا ہے۔لیکن شیخ محترم کفایت اللہ صاحب نے اس بارے میں حیرانی کا اظہار کیا۔اب سے کچھ احتیاط ہے۔ویسے اب تک اس کی کوئی دلیل سامنے نہیں آئی۔
السلام علیکم
آپ کی ایک اور بے وفائی کی طرف علی اوڈ صاحب نے ہماری نشاندہی کی۔جناب کچھ عرصے پہلے کراچی سے سیالکوٹ کی طرف سامان سفر باندھا اور خانپور سے گزرتے وقت ہمیں بتانے کی زحمت نہ فرمائی۔اور چپ چاپ چل دیے۔