الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
قبروں پر پھول چڑھانے كا حكم!!!!!!!!!!
كيا مجہول فوجى كى قبر پر پھول چڑھانا بھى اولياء و صالحين كى قبر كى تعظيم اور قبر كى عبادت كے زمرہ ميں آتا ہے اور اس كا حكم بھى ايك ہے ؟
الحمد للہ:
يہ عمل بدعت اور مردوں ميں غلو اور حد سے تجاوز كرنا ہے، اور يہ عمل بالكل ان لوگوں كے عمل سے مشابہ ہے جو...
قبر آخرى ٹھكانہ نہيں ہے!!!!!!!!!!
جب كوئى شخص فوت ہو جاتا ہے تو اخبارات اور جرائد اور خبروں ميں اكثر يہ كہا جاتا ہے كہ وہ اپنے آخرى ٹھكانے كى طرف منتقل ہو گيا، تو كيا قبر آخرى ٹھكانہ ہے ؟
الحمد للہ:
شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى تيسويں پارہ كى تفسير ميں كہتےہيں:
قبريں آخرى منزل نہيں...
اے اللہ بخش دے ہمیں اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کو، مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو، اور ان کے دلوں کے درمیان الفت ڈال دے،اور ان کے آپس کے معاملات کی اصلاح فرما،اور ان کی، اپنے دشمن اور ان کے دشمن کے مقابلے میں مدد فرما ، اے اللہ اہل کتاب کے کافروں پر لعنت فرما،وہ جو تیرے راستے سے روکتے ہیں...
داڑھى منڈوانے كا حكم !!!
داڑھى منڈوانے يا كٹوانے كا حكم كيا ہے ؟
الحمد للہ:
صحيح احاديث اور صريح سنت نبويہ ميں وارد شدہ اخبار اور كفار كى عدم مشابہت كے عمومى دلائل كى بنا پر داڑھى منڈوانا حرام ہے، ان احاديث ميں درج ذيل حديث بھى شامل ہے:
ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول...
جنگل میں ایک شخص کے پیچھے شیر لگ جاتا ہے!!!!!!!!!!!!!
جنگل میں ایک شخص کے پیچھے شیر لگ جاتا ہے۔اور وہ جان بچانے کیلئے کنوئیں میں چھلانگ لگا دیتا ہے اور رسی سے لٹک جاتا ہے۔ جب نیچے دیکھتا ہے تو کنوئیں کی گہرائی میں ایک اژدھا بیٹھا ہوتا ہے۔ اتنے میں دو چوہے (سفید اور کالا) رسی کو کترنے لگتے ہیں۔...
''بخیل ہے وہ شخص جس کے سامنے میرا ذکر کیا گیا اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے ''
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
''بخیل ہے وہ شخص جس کے سامنے میرا ذکر کیا گیا اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے ''
سنن الترمذی:٣٥٤٦،اس حدیث کو امام ترمذی نے حسن صحیح کہا ،ابن حبان (٨٠٩)امام حاکم(١/٧٣٤)اور امام البانی...