ساجد کمبوہ
رکن
- شمولیت
- اگست 13، 2011
- پیغامات
- 132
- ری ایکشن اسکور
- 172
- پوائنٹ
- 82
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
«إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا»
ایک مکمل حدیثی، اصولی اور دفاعی دراسہ
حدیثِ ابی بکرہؓ کی تخریج، سندی جانچ، متن کی فقہی تشریح، اور مستشرقین، جدت پسند منکرینِ حدیث اور شیعہ متکلمین کے اعتراضات کا علمی جائزہ و جواب۔
١۔ نصِ حدیث اور اس کی تخریج
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ وَيُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: ذَهَبْتُ لِأَنْصُرَ هٰذَا الرَّجُلَ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ، فَقَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قُلْتُ: أَنْصُرُ هٰذَا الرَّجُلَ. قَالَ: ارْجِعْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: «إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ». فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هٰذَا الْقَاتِلُ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟ قَالَ: «إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ».
مقامِ روایت
یہ حدیث متفق علیہ ہے اور امتِ مسلمہ کے اجلّ مصادر میں متعدد مقامات پر مروی ہے:
امام بخاریؒ نے اس حدیث کو جس باب کے تحت رکھا ہے، وہ خود ایک مکمل فقہی جواب ہے۔ انہوں نے باب باندھا سورۃ الحجرات کی آیت ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا﴾ سے۔ یعنی امام بخاریؒ پہلے ہی دن سے یہ اشارہ فرما رہے ہیں کہ اس حدیث کا محل وہ باہمی قتال ہے جس کا ذکر قرآن نے کیا، اور یہ کہ قرآن خود ایسے لڑنے والوں کو «مؤمنین» اور «اخوة» کہہ رہا ہے۔ آگے آنے والے تقریباً تمام اعتراضات کی جڑ اسی ترجمۃ الباب سے کٹ جاتی ہے۔(جاری)
«إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا»
ایک مکمل حدیثی، اصولی اور دفاعی دراسہ
حدیثِ ابی بکرہؓ کی تخریج، سندی جانچ، متن کی فقہی تشریح، اور مستشرقین، جدت پسند منکرینِ حدیث اور شیعہ متکلمین کے اعتراضات کا علمی جائزہ و جواب۔
١۔ نصِ حدیث اور اس کی تخریج
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ وَيُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: ذَهَبْتُ لِأَنْصُرَ هٰذَا الرَّجُلَ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ، فَقَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قُلْتُ: أَنْصُرُ هٰذَا الرَّجُلَ. قَالَ: ارْجِعْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: «إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ». فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هٰذَا الْقَاتِلُ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟ قَالَ: «إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ».
مقامِ روایت
یہ حدیث متفق علیہ ہے اور امتِ مسلمہ کے اجلّ مصادر میں متعدد مقامات پر مروی ہے:
- صحیح البخاری — کتاب الایمان، «بَابُ ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا﴾» (حدیث ۳۱)۔ نیز کتاب الدیات (۶۸۷۵) اور کتاب الفتن (۷۰۸۳) میں۔
- صحیح مسلم — کتاب الفتن وأشراط الساعة، «باب إذا تواجه المسلمان بسيفيهما» (حدیث ۲۸۸۸)۔
- سنن ابی داؤد (کتاب الفتن)، سنن النسائی (کتاب تحریم الدم، جہاں امام نسائی نے متعدد طُرق جمع کیے ہیں)، سنن ابن ماجہ (کتاب الفتن)۔
- مسند احمد (مسند ابی بکرہؓ)، مسند الطیالسی، مصنف ابن ابی شیبہ، صحیح ابن حبان، مستدرک الحاکم، سنن البیہقی الکبریٰ۔
امام بخاریؒ نے اس حدیث کو جس باب کے تحت رکھا ہے، وہ خود ایک مکمل فقہی جواب ہے۔ انہوں نے باب باندھا سورۃ الحجرات کی آیت ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا﴾ سے۔ یعنی امام بخاریؒ پہلے ہی دن سے یہ اشارہ فرما رہے ہیں کہ اس حدیث کا محل وہ باہمی قتال ہے جس کا ذکر قرآن نے کیا، اور یہ کہ قرآن خود ایسے لڑنے والوں کو «مؤمنین» اور «اخوة» کہہ رہا ہے۔ آگے آنے والے تقریباً تمام اعتراضات کی جڑ اسی ترجمۃ الباب سے کٹ جاتی ہے۔(جاری)