بنت عبد الحق
مبتدی
- شمولیت
- دسمبر 26، 2025
- پیغامات
- 13
- ری ایکشن اسکور
- 1
- پوائنٹ
- 8
**آج آئیے... ایک صحابی کی کہانی سنتے ہیں...**
**ایسی کہانی جس میں ایک باپ کا دل بھی ہے، ایک عاشقِ رسول ﷺ کا ایمان بھی، ایک لمحے کی لغزش بھی، اور رحمتِ نبوی ﷺ کا سمندر بھی...**
ذرا تصور کیجیے...
ایک شخص ہے...
جس نے اسلام قبول کیا...
اپنا وطن چھوڑ دیا...
اپنا گھر چھوڑ دیا...
اپنی زمین، اپنا کاروبار،بچے، اپنے آرام، سب کچھ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے قدموں پر قربان کر دیا۔یہ کوئی عام آدمی نہیں...
یہ **حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ** ہیں۔
وہ انہی خوش نصیب مہاجرین میں سے تھے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اپنی رضا کا اعلان فرمایا۔
مگر ہجرت صرف گھر چھوڑنے کا نام نہیں ہوتی...
کبھی کبھی ہجرت کا مطلب اپنے جگر کے ٹکڑوں کو بھی پیچھے چھوڑ آنا ہوتا ہے۔
حضرت حاطبؓ کے اہل و عیال مکہ میں تھے...
اس مکہ میں جہاں مسلمانوں پر ظلم کیا جاتا تھا...
جہاں ہر سانس خطرے میں تھی...
اور سب سے بڑھ کر...
مکہ میں حضرت حاطبؓ کا نہ کوئی قبیلہ تھا، نہ کوئی طاقتور خاندان جو ان کے بچوں کی حفاظت کر سکتا۔
سوچیے...
ایک طرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم...
دوسری طرف اپنے معصوم بچوں کی فکر...
لیکن جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے بلایا...
تو ایک سچے مؤمن نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔
وہ چلے آئے...
اپنی اولاد کو بھی اللہ کے سپرد کر کے۔
وقت گزرتا گیا...
پھر وہ گھڑی آ پہنچی.
فتحِ مکہ کا فیصلہ ہو چکا تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے اس مہم کو راز میں رکھا تاکہ دشمن بے خبر رہے۔
ایسے ہی دنوں میں حضرت حاطبؓ کے دل میں ایک خیال آیا...
یہ خیال محبتِ دنیا کا نہیں تھا...
یہ اسلام سے بغاوت کا نہیں تھا...
یہ نفاق کا نہیں تھا...
یہ ایک باپ کے دل کی دھڑکن تھی۔
انہوں نے سوچا...
**"اللہ اپنے رسول ﷺ کو ضرور فتح عطا فرمائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ اگر میں قریش کو ایک خط بھیج دوں تو شاید وہ میرے اس احسان کے بدلے میرے بچوں کے ساتھ نرمی کریں۔"**
ایک لمحے کو وہ متزلزل ہوگئے تھے...
معاذ اللہ وہ منافق تو نہ ہوئے تھے..
بس ایک آزمائش میں ڈال دیے گئے تھے ....
لیکن اس کے پیچھے ایمان نہیں بدلا تھا...
دل نہیں بدلا تھا...
رسول اللہ ﷺ کی محبت نہیں بدلی تھی...
ایمان جیسا تھا ویسے کا ویسے موجود تھا...
دل میں نقش تھا....
صرف ایک لمحے کے لیے...
اولاد کی محبت نے ایک باپ کے دل کو لرزا دیا تھا۔
ادھر اس عورت کے ہاتھوں خط روانہ ہوا...(اشارہ دیا ہے مکمل واقعہ معلوم ہوگا)
اور اِدھر ساتوں آسمانوں سے وحی اتر آئی۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین حضرات کو بھیج کر خط واپس منگالیا....
رسول اللہ ﷺ نے حضرت حاطبؓ کو بلایا۔
اپنے پیارے صحابی کو...
نبی صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے اپنے اس صحابی کو شاگرد کو...
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کون انکو جان سکتا تھا؟
نبی علیہ السلام جانتے تھے انکا اخلاص صدق و وفا عشق قربانیاں...
**"اے حاطب! یہ تم نے کیا کیا؟"**
یہ وہ لمحہ تھا جہاں کوئی اور ہوتا تو شاید بہانے تراشتا...
مگر یہ محمد ﷺ کا صحابی تھا۔
اس نے سر جھکا کر سچ صبح عرض کیا:
**"یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! میرا ایمان پختہ ہے-نہ میں نے اسلام چھوڑا ہے، نہ میں کفر سے راضی ہوا ہوں، نہ کفار کی محبت میں یہ کیا ہے۔ میرے مکہ میں کوئی ایسا نہیں جو میرے اہل و عیال کی حفاظت کرے۔ میں نے صرف یہ چاہا کہ وہ میرے بچوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔"**
کیا عجیب منظر ہوگا...
ایک طرف ایک باپ کھڑا ہے...
جس کے الفاظ میں اپنی اولاد کی فکر بھی ہے...
اور رسول اللہ ﷺ سے وفاداری کا اقرار بھی۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی غیرتِ ایمانی جوش میں آئی۔
انہوں نے عرض کیا:
**"یا رسول اللہ! اجازت دیجیے، میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔"**
مگر...
رسولِ رحمت ﷺ اپنے صحابی کے دل کو جانتے تھے۔
کہ یہ منافق نہیں پکا سچا مسلمان میرا عاشق زار ہے...
یہ وہی ہے جس نے احد کے دن نبی علیہ السلام کے دشمن ابن اقمہ کو جہنم واصل کیا تھا ..
تو نبی علیہ السلام نے خوش ہو کر فرمایا تھا:
اللہ تم سے رضی ہوا اللہ تم سے راضی ہوا....
آپ ﷺ نے فرمایا:
**"عمر! یہ بدر میں شریک رہا ہے۔اور اہل بدر کے بارے میں اللہ نے فرمایا ہے تم جو چاہو عمل کرو، میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔،"**(مفھوم)
اور یہ بھی کہ اس نے سچ کہا ہے اسے کچھ نہ کہا جائے....
یہ الفاظ صرف ایک فیصلہ نہیں تھے...
یہ ایک صحابی کے ایمان کی گواہی تھی۔
گویا رسول اللہ ﷺ فرما رہے ہوں:
**"میں اپنے حاطب کو جانتا ہوں...**
**یہ میرا وہی وفادار ساتھی ہے...**
**جس نے میرے ساتھ ہجرت کی...**
**میرے ساتھ بدر میں کھڑا رہا...**
**اس کا ایمان ختم نہیں ہوا...**
**اس سے ایک لغزش ہوئی ہے، خیانت نہیں۔"**
یہ واقعہ ہے حضرت حاطب کا ..
جو لمحے بھر کو متزلزل تو ہوئے تھے...
مگر پھر اس واقعے کا اہتمام کتنے خوب انداز میں ہوا....
حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ آخر وقت تک وہی سچے مؤمن، وہی عظیم مہاجر، وہی بدری صحابی رہے...
جن سے اللہ راضی ہوا...
اور جن کی سچائی پر رسول اللہ ﷺ نے اپنی زبانِ مبارک سے مہر لگا دی۔
**رضی اللہ عنہ وارضاہ...**
**ایسی کہانی جس میں ایک باپ کا دل بھی ہے، ایک عاشقِ رسول ﷺ کا ایمان بھی، ایک لمحے کی لغزش بھی، اور رحمتِ نبوی ﷺ کا سمندر بھی...**
ذرا تصور کیجیے...
ایک شخص ہے...
جس نے اسلام قبول کیا...
اپنا وطن چھوڑ دیا...
اپنا گھر چھوڑ دیا...
اپنی زمین، اپنا کاروبار،بچے، اپنے آرام، سب کچھ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے قدموں پر قربان کر دیا۔یہ کوئی عام آدمی نہیں...
یہ **حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ** ہیں۔
وہ انہی خوش نصیب مہاجرین میں سے تھے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اپنی رضا کا اعلان فرمایا۔
مگر ہجرت صرف گھر چھوڑنے کا نام نہیں ہوتی...
کبھی کبھی ہجرت کا مطلب اپنے جگر کے ٹکڑوں کو بھی پیچھے چھوڑ آنا ہوتا ہے۔
حضرت حاطبؓ کے اہل و عیال مکہ میں تھے...
اس مکہ میں جہاں مسلمانوں پر ظلم کیا جاتا تھا...
جہاں ہر سانس خطرے میں تھی...
اور سب سے بڑھ کر...
مکہ میں حضرت حاطبؓ کا نہ کوئی قبیلہ تھا، نہ کوئی طاقتور خاندان جو ان کے بچوں کی حفاظت کر سکتا۔
سوچیے...
ایک طرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم...
دوسری طرف اپنے معصوم بچوں کی فکر...
لیکن جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے بلایا...
تو ایک سچے مؤمن نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔
وہ چلے آئے...
اپنی اولاد کو بھی اللہ کے سپرد کر کے۔
وقت گزرتا گیا...
پھر وہ گھڑی آ پہنچی.
فتحِ مکہ کا فیصلہ ہو چکا تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے اس مہم کو راز میں رکھا تاکہ دشمن بے خبر رہے۔
ایسے ہی دنوں میں حضرت حاطبؓ کے دل میں ایک خیال آیا...
یہ خیال محبتِ دنیا کا نہیں تھا...
یہ اسلام سے بغاوت کا نہیں تھا...
یہ نفاق کا نہیں تھا...
یہ ایک باپ کے دل کی دھڑکن تھی۔
انہوں نے سوچا...
**"اللہ اپنے رسول ﷺ کو ضرور فتح عطا فرمائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ اگر میں قریش کو ایک خط بھیج دوں تو شاید وہ میرے اس احسان کے بدلے میرے بچوں کے ساتھ نرمی کریں۔"**
ایک لمحے کو وہ متزلزل ہوگئے تھے...
معاذ اللہ وہ منافق تو نہ ہوئے تھے..
بس ایک آزمائش میں ڈال دیے گئے تھے ....
لیکن اس کے پیچھے ایمان نہیں بدلا تھا...
دل نہیں بدلا تھا...
رسول اللہ ﷺ کی محبت نہیں بدلی تھی...
ایمان جیسا تھا ویسے کا ویسے موجود تھا...
دل میں نقش تھا....
صرف ایک لمحے کے لیے...
اولاد کی محبت نے ایک باپ کے دل کو لرزا دیا تھا۔
ادھر اس عورت کے ہاتھوں خط روانہ ہوا...(اشارہ دیا ہے مکمل واقعہ معلوم ہوگا)
اور اِدھر ساتوں آسمانوں سے وحی اتر آئی۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین حضرات کو بھیج کر خط واپس منگالیا....
رسول اللہ ﷺ نے حضرت حاطبؓ کو بلایا۔
اپنے پیارے صحابی کو...
نبی صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے اپنے اس صحابی کو شاگرد کو...
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کون انکو جان سکتا تھا؟
نبی علیہ السلام جانتے تھے انکا اخلاص صدق و وفا عشق قربانیاں...
**"اے حاطب! یہ تم نے کیا کیا؟"**
یہ وہ لمحہ تھا جہاں کوئی اور ہوتا تو شاید بہانے تراشتا...
مگر یہ محمد ﷺ کا صحابی تھا۔
اس نے سر جھکا کر سچ صبح عرض کیا:
**"یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! میرا ایمان پختہ ہے-نہ میں نے اسلام چھوڑا ہے، نہ میں کفر سے راضی ہوا ہوں، نہ کفار کی محبت میں یہ کیا ہے۔ میرے مکہ میں کوئی ایسا نہیں جو میرے اہل و عیال کی حفاظت کرے۔ میں نے صرف یہ چاہا کہ وہ میرے بچوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔"**
کیا عجیب منظر ہوگا...
ایک طرف ایک باپ کھڑا ہے...
جس کے الفاظ میں اپنی اولاد کی فکر بھی ہے...
اور رسول اللہ ﷺ سے وفاداری کا اقرار بھی۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی غیرتِ ایمانی جوش میں آئی۔
انہوں نے عرض کیا:
**"یا رسول اللہ! اجازت دیجیے، میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔"**
مگر...
رسولِ رحمت ﷺ اپنے صحابی کے دل کو جانتے تھے۔
کہ یہ منافق نہیں پکا سچا مسلمان میرا عاشق زار ہے...
یہ وہی ہے جس نے احد کے دن نبی علیہ السلام کے دشمن ابن اقمہ کو جہنم واصل کیا تھا ..
تو نبی علیہ السلام نے خوش ہو کر فرمایا تھا:
اللہ تم سے رضی ہوا اللہ تم سے راضی ہوا....
آپ ﷺ نے فرمایا:
**"عمر! یہ بدر میں شریک رہا ہے۔اور اہل بدر کے بارے میں اللہ نے فرمایا ہے تم جو چاہو عمل کرو، میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔،"**(مفھوم)
اور یہ بھی کہ اس نے سچ کہا ہے اسے کچھ نہ کہا جائے....
یہ الفاظ صرف ایک فیصلہ نہیں تھے...
یہ ایک صحابی کے ایمان کی گواہی تھی۔
گویا رسول اللہ ﷺ فرما رہے ہوں:
**"میں اپنے حاطب کو جانتا ہوں...**
**یہ میرا وہی وفادار ساتھی ہے...**
**جس نے میرے ساتھ ہجرت کی...**
**میرے ساتھ بدر میں کھڑا رہا...**
**اس کا ایمان ختم نہیں ہوا...**
**اس سے ایک لغزش ہوئی ہے، خیانت نہیں۔"**
یہ واقعہ ہے حضرت حاطب کا ..
جو لمحے بھر کو متزلزل تو ہوئے تھے...
مگر پھر اس واقعے کا اہتمام کتنے خوب انداز میں ہوا....
حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ آخر وقت تک وہی سچے مؤمن، وہی عظیم مہاجر، وہی بدری صحابی رہے...
جن سے اللہ راضی ہوا...
اور جن کی سچائی پر رسول اللہ ﷺ نے اپنی زبانِ مبارک سے مہر لگا دی۔
**رضی اللہ عنہ وارضاہ...**