• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آسمانی بجلی کیا ہے ؟؟؟

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
426
پوائنٹ
198
آسمانی بجلی کیا ہے ؟؟؟
  • مصنف : اختر علی




آسمانی بجلی (lightning)دراصل اس وقت پیدا ہوتی ہے.جب بادل اور تیز ہوا ایک دوسرے سے رگڑ کھاتے ہیں.آسمانی بجلی میں کروڑوں وولٹ اور کروڑوں ایمپئر کرنٹ ہوتا ہے.جو کہ زمین پر دو طرح سے لپکتا ہے۔ 1جو شخص یا چیز مثلا عمارت اور درخت وغیرہ جو اس جگہ کی مناسبت سے اونچے ترین ہوں.ان پر بجلی گر کر زمین میں چلی جاتی ہے. 2سائنسدانوں کے مطابق زمین میں بھی مثبت یا منفی چارج ہوتا ہے.اس لیئے آسمانی بجلی بھی اس چارج کی طرف لپکتی ہے.اور زمین میں چلی جاتی ہے.حد درجہ وولٹیج اور میگا ایمپئرز کی وجہ سے آسمانی بجلی اپنے راستے میں آنے والی ہوا کو IONIZE کر دیتی ہے.جس کی وجہ سے ہوا میں اس کا سفر ممکن ہوتا ہے. مسلسل بڑھتا درجہ حرارت زمینی ماحول کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ماہرین ماحولیات کہتے ہیں زمین کی گرمی میں اضافہ قدرتی آفات کی تعداد اور شدت میں بھی اضافے کا سبب بنتا ہے۔ حالیہ تحقیق کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث مستقبل قریب میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں اضافہ ہو جائے گا۔ امریکی ماہرین کے مطابق 2100 تک دنیا میں بجلی گرنے کے واقعات 35 فیصد تک بڑھ چکے ہوں گے۔ مزید برآں بجلی گرنے سے ماحول کے اجزائے ترکیبی میں بھی تبدیلی آئے گی۔ ماہرین نے درجہ حرارت اور بجلی کے طوفانوں کے باہمی تعلق کو سمجھنے کے لیے ایک نیا طریقہ اپنایا ہے جس میں بجلی کے بادلوں کو متحرک کرنے والی گرم توانائی کے ایندھن کی پیمائش کی جا سکتی ہے۔ عالمی درجہ حرارت میں ہر ایک ڈگری اضافے سے آسمانی بجلی گرنے کے واقعات کی شرح 12 فیصد سے بڑھ جائے گی۔ جب بھی آسمانی بجلی گرتی ہے تو ایک کیمیائی ردعمل کے ذریعے یہ نائٹروجن آکسائیڈ گیس خارج کرتی ہے۔ اس کا شمار گرین ہاؤس گیسوں میں ہوتا ہے جن سے ماحول کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ مستقبل میں بجلی گرنے کے واقعات کو سمجھنا ضروری ہے کہ اس حوالے سے چند غیریقینی چیزیں بھی موجود ہیں جن پر مزید تجربات کی ضرورت ہے آسمانی بجلی سے بچنے کے طریقے بارش کے موسم میں عمومی طورپرآسمانی بجلی گرنے کی اطلاعات ملتی رہتی ہیں اور بعض اوقات یہ حادثات جان لیوابھی ثابت ہوسکتے ہیں ، اگرچہ اس مظہر فطرت پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں لیکن ہم کچھ ایسی تدابیر ضرور اختیار کرسکتے ہیں جن سے جان بچ سکے۔ زمین پر صرف پاﺅں کے پہنچے لگائیں اور دونوں ایڑیوں کو اٹھا کر ایک دوسرے کے ساتھ ملا لیں، اگر بجلی آپ کے قریب گرتی ہے تو ایسی صورت میں یہ ایک پاﺅں سے داخل ہوکر دوسرے سے واپس زمین میں چلی جائے گی اور اوپر جسم میں نہیں جائے گی۔ یہ بات یقینی بنائیں کہ آپ کے جسم کے ساتھ کوئی بھی ایسی چیز نہ چھورہی ہو جس میں سے کرنٹ گزرسکے مثلاً لوہے، تانبے یا دیگر دھاتوں سے بنی کوئی چیز موجودنہ ہو۔ اگر آپ باروباراں کے دوران کھلے آسمان تلے موجود ہیں اور آپ کو جلد پر کانٹے سے چھبتے محسوسں ہوں یا بال کھڑے ہوجائیں تو خبردار ہوجائیں کہ آپ کے قریب آسمانی بجلی کا حملہ ہونے کو ہے۔ پاﺅں کے بل زمین پر بیٹھ جائیں اور اپنے ہاتھ کانوں پر رکھ لیں تاکہ زور دار دھماکے سے سماعت کو نقصان نہ پہنچے۔
 
Last edited by a moderator:

عبدالرحمن بھٹی

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 13، 2015
پیغامات
2,435
ری ایکشن اسکور
287
پوائنٹ
165
اگرچہ اس مظہر فطرت پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں لیکن ہم کچھ ایسی تدابیر ضرور اختیار کرسکتے ہیں جن سے جان بچ سکے۔ زمین پر صرف پاﺅں کے پہنچے لگائیں اور دونوں ایڑیوں کو اٹھا کر ایک دوسرے کے ساتھ ملا لیں، اگر بجلی آپ کے قریب گرتی ہے تو ایسی صورت میں یہ ایک پاﺅں سے داخل ہوکر دوسرے سے واپس زمین میں چلی جائے گی اور اوپر جسم میں نہیں جائے گی۔
پہنچوں کے بل کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں صرف یہ کریں کہ اس دوران چلیں نہیں۔ دوسرے دونوں پاؤں آپس میں جوڑ لیں اور بیٹھ جائیں۔
دراصل جب آسمانی بجلی کہیں آپ کے قریب گرے تو اس کے وولٹیج چونکہ بہت زیادہ ہوتے ہیں اور وہ وائرہ کی شکل میں پھیلتے ہیں اور کم سے کم ہوتے جاتے ہیں۔ اگر آپ کے دونوں پاؤں جڑے ہوئے ہیں یا آپ ایک پاؤں پر کھڑے ہیں تو آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ مگر اگر دونوں پاؤں میں کچھ فاصلہ ہے تو ممکن ہے کہ دونوں پاؤں کے درمیان اتنے وولٹیج موجود ہوں کہ وہ آپ کے پاؤں سے ہوتا ہؤا جسم سے گزر جائے۔
اللہ حفاظت فرمائے۔ آمین
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,420
پوائنٹ
521
السلام علیکم

پہنچوں کے بل کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں صرف یہ کریں کہ اس دوران چلیں نہیں۔ دوسرے دونوں پاؤں آپس میں جوڑ لیں اور بیٹھ جائیں۔
دراصل جب آسمانی بجلی کہیں آپ کے قریب گرے تو اس کے وولٹیج چونکہ بہت زیادہ ہوتے ہیں اور وہ وائرہ کی شکل میں پھیلتے ہیں اور کم سے کم ہوتے جاتے ہیں۔ اگر آپ کے دونوں پاؤں جڑے ہوئے ہیں یا آپ ایک پاؤں پر کھڑے ہیں تو آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ مگر اگر دونوں پاؤں میں کچھ فاصلہ ہے تو ممکن ہے کہ دونوں پاؤں کے درمیان اتنے وولٹیج موجود ہوں کہ وہ آپ کے پاؤں سے ہوتا ہؤا جسم سے گزر جائے۔
اللہ حفاظت فرمائے۔ آمین
کیا آسمانی بجلی بتائے گی کہ وہ کہاں گر رہی ہے اور آپ کو دونوں پاؤں جوڑ کر بیٹھنے کا موقع مل جائے؟

ہو سکے تو گھر سے ایک فیز وائر پکڑ کر اپنا تجربہ دہرا کر بتا سکتے ہیں کہ کیا ہوا۔ سمائل!

والسلام
 

عبدالرحمن بھٹی

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 13، 2015
پیغامات
2,435
ری ایکشن اسکور
287
پوائنٹ
165
کیا آسمانی بجلی بتائے گی کہ وہ کہاں گر رہی ہے اور آپ کو دونوں پاؤں جوڑ کر بیٹھنے کا موقع مل جائے؟
یہ احتیاتی تدابیر اس وقت ہیں جب اس کے امکانات بظاہر نظر آ رہے ہوں۔ دوسرے یہ کہ اگر اللہ نہ کرے کہ آسمانی بجلی کہیں آس پاس گرے۔ اگر بجلی گر چکی ہے تو پھر کوئی تدبیر کرنے کا وقت ہی کہاں ملے گا۔۔۔ ابتسامہ

ہو سکے تو گھر سے ایک فیز وائر پکڑ کر اپنا تجربہ دہرا کر بتا سکتے ہیں کہ کیا ہوا۔ سمائل!
آپ کو شائد کرنٹ کا بنیادی اصول معلوم نہیں۔ کرنٹ گزرنے کے لئے کلوز سرکٹ درکار ہوتا ہے۔ آسمانی بجلی گرنے کی صورت میں اگر آپ کے دونوں پاؤں کا فاصلہ بجلی گرنے کے مقام سے برابر ہے تو آپ کو کچھ نہیں ہوگا۔ یعنی آپ کے جسم سے کرنٹ نہیں گزر سکے گا۔ کیونکہ کرنٹ گزرنے کے لئے وولٹیج ڈفرینس ضروری ہے۔ دوسری بات یہ کہ سرکٹ بھی مکمل ہو۔ مثلاً میں اگر 220 وولٹ کے فیز کو پکڑ لیتا ہوں اور میرے پاؤں میں ربر کے جوتے ہیں تو میرے اندر سے کرنٹ نہیں گزرے گا اور شاک نہیں لگے گا۔
اوپن ٹرانسمشن لائنوں پر آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ پرندے وغیرہ تاروں پر بیٹھے ہوتے ہیں اور زندرہتے ہیں۔۔۔ ابتسامہ
آپ اگر سرکٹ مکمل نہ ہونے دیں تو وولٹیج کی کتنی ہی شدت کیوں نہ ہو آپ کو نقصان نہیں پہنچے گا آزمائش شرط ہے۔۔۔ ابتسامہ
اگر آپ مجھ پر اعتماد کرتے ہیں تو میں آپ کو بتاتا چلوں کہ یہ میں کئی دفعہ کر چکا ہوں کہ یہ میرا سٹڈی فیلڈ بھی تھا۔۔۔ ابتسامہ
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,420
پوائنٹ
521
آسمانی بجلی سے محفوظ رہنے کی احتیاطی تدابیر

موسمیات اور قدرتی آفات سے نمٹنے والے اداروں کے ماہرین بتاتے ہیں کہ اگر آپ بادلوں کی گونج سن سکتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ طوفان قریب ہی ہے اور آسمانی بجلی آپ پر گرنے کے امکانات ہیں۔ آسمانی بجلی طوفان سے 10 میل دور تک گر سکتی ہے۔ اگر بجلی کی چمک دیکھنے اور بادلوں کی گرج کی آواز میں 30 سیکنڈ سے کم کا وقفہ ہے تو یہ خطرے کی علامت ہے۔

اگر طوفان کی پیشین گوئی کی گئی ہے تو کھلے آسمان تلے جانے سے گریز کریں اگر طوفان آ رہا ہے تو کسی عمارت میں چلے جائیں یا گاڑی میں بیٹھ جائیں اور شیشے چڑھا لیں۔


گرج چمک کے دوران لوہے کی پائپوں اور فون لائنوں سے دور رہیں، یہ بجلی گرنے کا زریعہ بن سکتے ہیں۔ فون خواہ لینڈ لائن ہو یا موبائل، کا استعمال بھی نہایت ضروری ہو تو کریں۔ بہتر ہو گا کہ پانی کے کنکشن سے دور رہیں کیونکہ اگر آپ کی عمارت آسمانی بجلی کی زد میں آتی ہے تو زیادہ امکان ہے کہ بجلی لوہے کے پائپوں سے گزر کر ہی آئے گی۔

محکمہ موسمیات یہ بھی مشورہ دیتا ہے کہ گرج چمک کے موسم میں بجلی سے چلنے والے آلات خاص طور پر ٹی وی کو بند رکھیں۔ اگر بجلی چلی جائے تو موم بتی کے بجائے ٹارچ کا استعمال کریں۔ موبائل فون اور دیگر وائرلیس آلات بھی آسمانی بجلی کا موصل ہو سکتے ہیں اس لیے گرج چمک کے موسم میں ان کا استعمال بھی غیرمحفوظ ہے۔

طوفان کے دوران اگر آپ مکان سے باہر ہیں تو درخت، باڑ اور کھمبوں سے دور رہیں، مناسب ہو گا کہ کسی عمارت کا سہارا ڈھونڈیں مگر لوہے کے شیڈ غیر محفوظ ہیں ، چھتری کا استعمال بھی خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ اس میں لوہے کی تاریں لگی ہیں۔

جس شخص پر آسمانی بجلی گری ہو اس کے جسم پر دو جگہ جلنے کے نشان ہوں گے۔ ایک وہاں جہاں بجلی گری اور دوسرے وہاں جہاں سے بجلی جسم سے باہر نکلی اور یہ عام طور پر قدم ہوتے ہیں۔ طوفان کے کم از کم 30 منٹ تک باہر نکلنے سے گریز کریں۔

(نقل)
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,420
پوائنٹ
521
السلام علیکم

آپ کو شائد کرنٹ کا بنیادی اصول معلوم نہیں۔
آپ نے اس پر کیا کیا ہوا ہے یہ بھی بتا دیں، کریش پروگرام سرٹیفکیشن، ووکیشنل، اے ای ڈپلومہ یا انجینئرنگ؟ انتظار رہے گا۔

دونوں پاؤں آپس میں جوڑ لیں اور بیٹھ جائیں۔
دراصل جب آسمانی بجلی کہیں آپ کے قریب گرے تو اس کے وولٹیج چونکہ بہت زیادہ ہوتے ہیں اور وہ وائرہ کی شکل میں پھیلتے ہیں اور کم سے کم ہوتے جاتے ہیں۔ اگر آپ کے دونوں پاؤں جڑے ہوئے ہیں یا آپ ایک پاؤں پر کھڑے ہیں تو آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ مگر اگر دونوں پاؤں میں کچھ فاصلہ ہے تو ممکن ہے کہ دونوں پاؤں کے درمیان اتنے وولٹیج موجود ہوں کہ وہ آپ کے پاؤں سے ہوتا ہؤا جسم سے گزر جائے۔
ہو سکے تو گھر سے ایک فیز وائر پکڑ کر اپنا تجربہ دہرا کر بتا سکتے ہیں کہ کیا ہوا۔
مثلاً میں اگر 220 وولٹ کے فیز کو پکڑ لیتا ہوں اور میرے پاؤں میں ربر کے جوتے ہیں تو میرے اندر سے کرنٹ نہیں گزرے گا اور شاک نہیں لگے گا۔
اب آپ یہ بھی بتا دیں کہ پہلے نسخہ میں آپ نے جو لکھا "دونوں پاؤں جوڑ کر بیٹھ جائیں مزید اگر دونوں پاؤں جڑے ہوئے ہوں یا ایک پاؤں پر کھڑے ہوں" اس پر بیٹھنا ننگی زمین پر ہے یا تخت پر اور اگر ایک ٹانگ پر کھڑا ہونا ہے تو جوتی پہنی ہوئی ہونی چاہئے یا ننگے پاؤں، پھر دیکھتے ہیں آگے کیا کرنا ہے۔

اوپن ٹرانسمشن لائنوں پر آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ پرندے وغیرہ تاروں پر بیٹھے ہوتے ہیں اور زندرہتے ہیں۔۔۔
مگر آسمانی بجلی پرندہ پر گرے یا انسان پر دونوں کا نقصان پہنچائے گی۔

یہ میرا سٹڈی فیلڈ بھی تھا۔۔۔
سٹڈی فیلڈ ادھوری ہوتی ہے جب تک پریکٹیکل فیلڈ بھی ساتھ نہ ہو۔

والسلام
 

عبدالرحمن بھٹی

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 13، 2015
پیغامات
2,435
ری ایکشن اسکور
287
پوائنٹ
165
آپ نے اس پر کیا کیا ہوا ہے یہ بھی بتا دیں، کریش پروگرام سرٹیفکیشن، ووکیشنل، اے ای ڈپلومہ یا انجینئرنگ؟ انتظار رہے گا۔
میں اس موضوع پر تھیوریٹیکل اور پریکٹیکل ہائی لیول نالج رکھتا ہوں۔ سروس میں میری آخری فیلڈ سسٹم لاجک کنفرمیشن اور اس میں موجود خامیوں کو دور کرنا رہا ہے۔

اب آپ یہ بھی بتا دیں کہ پہلے نسخہ میں آپ نے جو لکھا "دونوں پاؤں جوڑ کر بیٹھ جائیں مزید اگر دونوں پاؤں جڑے ہوئے ہوں یا ایک پاؤں پر کھڑے ہوں" اس پر بیٹھنا ننگی زمین پر ہے یا تخت پر اور اگر ایک ٹانگ پر کھڑا ہونا ہے تو جوتی پہنی ہوئی ہونی چاہئے یا ننگے پاؤں، پھر دیکھتے ہیں آگے کیا کرنا ہے۔
بجلی قریب زمین پر گرنے کی صورت میں یہ احتیاتی تدابیر ہیں۔ اس میں پاؤں ننگے ہونے یا جوتا پہنے ہوئے ہونے کی قید نہیں ہے۔ احتیاط یہ کرنی ہے کہ آپ کے دونوں پاؤں کا فاصلہ وقوعہ سے برابر ہو یا آپس میں اچھی طرح جڑے ہوئے ہوں۔ یہ تمام تدابیر دراصل سرکٹ مکمل نہ ہونے دینے کے لئے ہیں۔ اگر دونوں پاؤں میں فاصلہ ہے اور وقوعہ سے بھی یہ مختلف فاصلہ پر ہوں گے تو دونوں پاؤں کے درمیان اتنا وولٹیج ڈفرنس ہو سکتا ہے کہ کرنٹ آپ کےایک پاؤں سے جسم میں داخل ہو اور آپ کے جسم سے گزر کر زمین میں داخل ہوجائے۔ یہ اس لئے کہ آپ کے جسم کی مزاحمت دونوں پاؤں کے درمیانی زمین کی مزاحمت سے بہت کم ہو تب اور بجلی گرنے کا مقام بھی زیادہ دور نہ ہو۔
اگر آسمانی بجلی آپ کے بہت ہی قریب گری ہے تو بھی یہ سب احتیاطی تدابیر کم از کم آپ کے پاؤں کو متاثر ہونے سے نہیں بچا سکیں گی۔

مگر آسمانی بجلی پرندہ پر گرے یا انسان پر دونوں کا نقصان پہنچائے گی۔
پرندہ کی بات میں نے بجلی کے ننگے فیز کو پکڑنے کے حوالہ سے کی تھی۔
اگر آسمانی بجلی اوپر ہی آن گری ہے تو بچنا تقریباً ناممکن ہے مگر جس کو اللہ رکھے۔

سٹڈی فیلڈ ادھوری ہوتی ہے جب تک پریکٹیکل فیلڈ بھی ساتھ نہ ہو۔
دونوں نے بڑھ چڑھ کر ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے ۔۔۔ ابتسامہ
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,420
پوائنٹ
521
السلام علیکم

آدھا جواب نہیں دیا اور ادھا جواب دے دیا، سرٹیفکیشن پر بتائیں اگر بتا سکتے ہیں، کیونکہ آپ کا تجرباتی جواب بڑے عجیب ہیں۔


والسلام
 

عبدالرحمن بھٹی

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 13، 2015
پیغامات
2,435
ری ایکشن اسکور
287
پوائنٹ
165
آدھا جواب نہیں دیا اور ادھا جواب دے دیا، سرٹیفکیشن پر بتائیں اگر بتا سکتے ہیں، کیونکہ آپ کا تجرباتی جواب بڑے عجیب ہیں۔
اس وڈیو میں جو حادثہ دکھایا گیا ہے اس کی بنیاد سمجھ لیں۔
سرکٹ
بجلی میں سرکٹ کی بہت اہمیت ہے۔ جب تک سرکٹ مکمل نہیں ہوتا کسی جسم میں سے کرنٹ نہیں گذر سکتا۔ آپ جب تک سوئچ آن نہیں کرتے بلب نہیں جلتا یعنی اس میں سے کرنٹ نہیں گذرتا۔ متعلقہ وڈیو میں بھی یہی ہؤا کہ جب تک اس کا ہاتھ تار تک نہیں پہنچا اس کو کچھ نہیں ہؤا۔ جیسے ہی اس کا ہاتھ بجلی کی تار سے لگا ”سرکٹ“ مکمل ہو گیا۔ وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ انسانی جسم بھی ”کنڈکٹر“ ہے۔ جس پر وہ کھڑا تھا وہ ٹرین بھی مکمل ”میٹل“ کی بنی ہوئی تھی اور اس کے پہیئے پٹری پر تھے جو ”میٹل“ کی بنی ہوتی ہے اور اس کی طویل لمبائی زمین سے ملی ہوتی ہے۔ زمین صفر ”پوٹینشل“ پر ہوتی ہے۔ لہٰذا بجلی تار سے انسانی جسم سے ٹرین سے پٹڑی سے زمین۔ اس طرح سرکٹ چونکہ مکمل ہوگیا لہٰذا رزلٹ سامنے ہے۔
اگر کوئی شخص اچھل کر اسی تار کو پکڑ لے تو اس کے کچھ نہیں ہوگا ان شاء اللہ مگر ایسی حرکت کرنے کی کوئی کوشش نہ کرے کہ بعض اوقات دوسرے ”فیکٹرز“ بھی مد نظر رکھنے ہوتے ہیں۔۔۔ ابتسامہ
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,420
پوائنٹ
521
السلام علیکم

جو پوچھا اس کا جواب نہیں دیا اب ضرورت بھی نہیں، سمائل!

میں اس موضوع پر تھیوریٹیکل اور پریکٹیکل ہائی لیول نالج رکھتا ہوں۔

اگر کوئی شخص اچھل کر اسی تار کو پکڑ لے تو اس کے کچھ نہیں ہوگا
بھائی میرے آپ ایچ وی نالج رکھتے ہیں اور آپکو یہ بھی پتہ نہیں کہ ان اور ہیڈ کیبل میں کتنا کرنٹ دور رہا ہے اس لئے آپ ایل وی نالج کے مطابق اسے 240 وولٹ سمجھ کر اچھل کر کرنٹ نہ لگنے کا کہہ رہے ہیں۔ ایک سال کا کورس اور کتابیں پڑھ کے ایسا ہی ہوتا ہے۔

آپ لگے رہیں بھائی، یہاں اتنا ہی کافی ہے، جو مراسلہ احتیاطی تدبیر پر میں نے لگایا ہے وہی کافی ہے۔

والسلام
 
Last edited:
Top