• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی کا سوال رد نہیں کرتے۔

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,171
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
صحیح بخاری
کتاب الجنائز
باب: ان کے بیان میں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنا کفن خود ہی تیار رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کسی طرح کا اعتراض نہیں فرمایا
حدیث نمبر: 1277

حدثنا عبد الله بن مسلمة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا ابن أبي حازم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبيه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن سهل ـ رضى الله عنه ـ أن امرأة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ جاءت النبي صلى الله عليه وسلم ببردة منسوجة فيها حاشيتها ـ أتدرون ما البردة قالوا الشملة‏.‏ قال نعم‏.‏ قالت نسجتها بيدي،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فجئت لأكسوكها‏.‏ فأخذها النبي صلى الله عليه وسلم محتاجا إليها،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فخرج إلينا وإنها إزاره،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فحسنها فلان فقال اكسنيها،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ما أحسنها‏.‏ قال القوم ما أحسنت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ لبسها النبي صلى الله عليه وسلم محتاجا إليها،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ثم سألته وعلمت أنه لا يرد‏.‏ قال إني والله ما سألته لألبسها إنما سألته لتكون كفني‏.‏ قال سهل فكانت كفنه‏.‏

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ نے اور ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بنی ہوئی حاشیہ دار چادر آپ کے لیے تحفہ لائی۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے (حاضرین سے) پوچھا کہ تم جانتے ہو چادر کیا؟ لوگوں نے کہا کہ جی ہاں! شملہ۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں شملہ (تم نے ٹھیک بتایا) خیر اس عورت نے کہا کہ میں نے اپنے ہاتھ سے اسے بنا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنانے کے لیے لائی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کپڑا قبول کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اس وقت ضرورت بھی تھی پھر اسے ازار کے طور پر باندھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو ایک صاحب (عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ) نے کہا کہ یہ تو بڑی اچھی چادر ہے ‘ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پہنا دیجئیے۔ لوگوں نے کہا کہ آپ نے (مانگ کر) کچھ اچھا نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی ضرورت کی وجہ سے پہنا تھا اور تم نے یہ مانگ لیا حالانکہ تم کو معلوم ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی کا سوال رد نہیں کرتے۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ خدا کی قسم! میں نے اپنے پہننے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ چادر نہیں مانگی تھی۔ بلکہ میں اسے اپنا کفن بناؤں گا۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہی چادر ان کا کفن بنی
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
تشریح : گویا حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی ہی میں اپنا کفن مہیا کرلیا۔ یہی باب کا مقصد ہے۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ کسی مخیر معتمد بزرگ سے کسی واقعی ضرورت کے موقع پر جائز سوال بھی کیا جاسکتا ہے۔ ایسی احادیث سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر قیاس کرکے جو آج کے پیروں کا تبرک حاصل کیا جاتا ہے یہ درست نہیں کیونکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات اور معجزات میں سے ہیں اور آپ ذریعہ خیروبرکت ہیں کوئی اور نہیں۔
 
Top