ساجد
رکن ادارہ محدث
- شمولیت
- مارچ 02، 2011
- پیغامات
- 6,602
- ری ایکشن اسکور
- 9,379
- پوائنٹ
- 635
آنے والے کے لیے کھڑے ہونے کا حکم
آنے والے کے لیے کھڑا ہونا لازم تو نہیں ہے لیکن یہ مکارم اخلاق میں سے ہے ۔ جوشخص آنے والے کے لیے کھڑا ہو تاکہ اس سے مصافحہ کرے اور اس کے ہاتھ کو پکڑلے، خصوصاً اگر صاحب خانہ کھڑا ہو تو یہ مکارم اخلاق میں سے ہے۔نبیﷺ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرمﷺ کے لیے کھڑی ہوتی تھیں۔ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی اکرم ﷺکے حکم سے حضرت سعدبن معاذ رضی اللہ عنہ کے لیے کھڑے ہوئے تھے ، جب کہ وہ بنو قریظہ کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے تشریف لائے تھے۔ طلحہ بن عبیداللہ ؓ نبی اکرمﷺ کی موجودگی میں حضرت کعب ؓ کے لیے کھڑے ہوئے جب اللہ تعالی نے ان کی توبہ کو قبول فرمایا لیا تھا۔ حضرت طلحہ کھڑے ہوئے تاکہ ان سے مصافحہ کریں اور انہیں توبہ کی قبولیت پر مبارک باد پیش کریں ۔ اس کے بعد وہ مجلس میں بیٹھ گئے تھے۔ بہرحال اس بات کا تعلق مکارم اخلاق سے ہے اور اس میں توسع ہے۔
غلط بات یہ ہے کہ کوئی کسی کی تعظیم کے لیے کھڑا ہو لیکن مہمان کے استقبال ، اس کی عزت افزائی یا اس سے مصافحہ و سلام کے لیے کھڑا ہونا تو امرمشروع ہے ۔ لوگ بیٹھے ہوں اور کسی کی تعظیم کے لیے کھڑا ہونا یا داخل ہوتے وقت سلام و مصافحہ کے بغیر کھڑا ہونا درست نہیں ہے اور اس سے بھی زیادہ غلط بات یہ ہے کہ کسی کی تعظیم کے لیے کھڑا ہوا جائے جب کہ وہ خود بیٹھا ہو۔
(فتاویٰ اسلامیہ ج4)