• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آیت «قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا» سے جشن عید میلاد النبی کی بدعت کے استدلال کا ابطال

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
868
ری ایکشن اسکور
229
پوائنٹ
111
آیت «قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا» سے جشن عید میلاد النبی کی بدعت کے استدلال کا ابطال

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسوله الأمين، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد!

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے، مگر محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کی جائے اور دین میں اپنی طرف سے کوئی نیا طریقہ ایجاد نہ کیا جائے۔ جشن عید میلاد النبی کے جواز کے لیے بعض بریلوی لوگ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا﴾ کو دلیل بناتے ہیں۔

ان کے پیش کردہ استدلال میں بنیادی مغالطہ یہ ہے کہ لفظ «فَرِحَ» کے معنی کو سیاق، لغت اور عربی اسلوب سے ہٹا کر «جشن منانا» قرار دے دیا گیا ہے۔ حالانکہ قرآن مجید میں اس آیت کا سیاق و سباق، عربی لغت اور سلف کی تفسیر اس معنی کی تائید نہیں کرتی کہ یہاں کسی سالانہ جشن یا تہوار کے انعقاد کا حکم دیا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ» کہہ دیجیے: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت ہی پر انہیں خوش ہونا چاہیے، یہ اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔ [یونس: 58]

اس آیت سے میلاد کے جواز پر استدلال کرنے والے بریلوی عموما ترجمہ کرتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت پر خوشی مناؤ۔‘‘ پھر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہیں، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پر خوشی منانا اور جشن میلاد منعقد کرنا اس آیت کا تقاضا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آیت میں واقعی جشن منانے، سالانہ تہوار قائم کرنے، اجتماع منعقد کرنے یا کسی خاص تاریخ کو خوشی کا دن مقرر کرنے کا حکم موجود ہے؟ قطعا نہیں۔

یہ بریلویوں کا مغالطہ ہے کہ «فَرَح» کو «جشن منانا» قرار دیتے ہیں جبکہ عربی زبان میں فَرِحَ، يَفْرَحُ، فَرَحًا کا بنیادی معنی خوش ہونا، مسرور ہونا، کسی نعمت پر دل کا شادمان ہونا ہے۔ یہ بات اور ہے کہ کوئی شخص خوش ہو اور یہ بات بالکل دوسری ہے کہ کسی خوشی کو باقاعدہ سالانہ جشن، تہوار یا عید کی شکل دے دی جائے۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلَافَ رَسُولِ اللَّهِ» پیچھے رہ جانے والے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بیٹھے رہنے پر خوش ہوئے۔ [التوبہ: 81]

اب ذرا ان لوگوں سے پوچھا جائے جو «فَلْيَفْرَحُوا» کا ترجمہ ’’جشن مناؤ‘‘ کرتے ہیں: کیا یہاں «فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ» کا معنی یہ ہوگا کہ: ’’پیچھے رہ جانے والے منافقین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہ جانے کی خوشی میں جشن منایا‘‘؟

اگر فرح بذات خود ’’جشن منانے‘‘ کے معنی میں ہے تو یہی معنی یہاں بھی لازم آنا چاہیے۔ مگر عربی زبان، قرآن کا سیاق اور اہل تفسیر اس معنی کے قائل نہیں۔ پس معلوم ہوا کہ خوش ہونا اور جشن منانا مترادف نہیں ہیں۔

اس تعلق سے صحیح بخاری کی روایت بھی نہایت اہم ہے۔ جب سورۃ البقرہ کی آیت: «أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ» نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس حکم پر بہت خوش ہوئے۔ روایت میں «فَرِحُوا بِهَا فَرَحًا شَدِيدًا» کے الفاظ آتے ہیں۔

10942.jpg

اب اگر ’’فرح‘‘ کا معنی ’’جشن منانا‘‘ ہے تو لازم آئے گا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نزول آیت کا جشن منایا تھا! لیکن کوئی صحیح روایت پیش نہیں کی جا سکتی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کسی آیت کے نزول کو سالانہ تہوار بنا لیا ہو، مخصوص دن مقرر کیا ہو، اجتماع کیا ہو، چراغاں کیا ہو، نعتیہ محفلیں منعقد کی ہوں یا اس دن کو عبادت و خوشی کا مستقل شعار بنایا ہو۔

یہی وہ مقام ہے جہاں بدعتی استدلال کی حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو قرآن کے حکم پر خوشی ہوئی، لیکن انہوں نے اس خوشی کو ایک نئی شرعی عید میں تبدیل نہیں کیا۔ خوشی اور جشن میں زمین آسمان کا فرق ہے، کسی نعمت پر خوش ہونا ایک شرعی امر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَبِنِعْمَتِ اللَّهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا» لیکن یہ سوال اپنی جگہ باقی رہتا ہے کہ اس خوشی کی شرعی صورت کیا ہوگی؟

اگر کسی نعمت پر خوش ہونے کا حکم دیا گیا ہے تو کیا اس سے لازما ایک مخصوص تاریخ، مخصوص اجتماع، مخصوص لباس، مخصوص کھانے، مخصوص اشعار اور مخصوص سالانہ جشن ثابت ہوجاتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ ورنہ دنیا کی ہر نعمت کے لیے ایک نئی عید بنانی پڑے گی۔

قرآن نے ایمان کو نعمت قرار دیا، اسلام کو نعمت قرار دیا، ہدایت کو نعمت قرار دیا، قرآن کے نزول کو نعمت قرار دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت عظیم ترین نعمت ہے؛ تو پھر اگر محض ’’نعمت پر خوشی‘‘ سے سالانہ جشن ثابت ہوتا ہے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سب سے پہلے متعدد سالانہ جشن قائم کرنے چاہییں تھے۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

آیت میں «فَلْيَفْرَحُوا» ہے، «فَلْيَحْتَفِلُوا» نہیں یہ نکتہ بھی قابل غور ہے۔ اگر آیت کا مقصود ’’جشن منانا‘‘ ہوتا تو عربی زبان میں جشن، اجتماع اور تہوار کے لیے متعدد معروف تعبیرات موجود تھیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «فَلْيَفْرَحُوا» یعنی پس انہیں خوش ہونا چاہیے۔

یہاں کسی سالانہ جشن، تہوار، عید یا مخصوص تاریخ کی تعیین نہیں کی گئی۔ لہٰذا آیت کے لفظ کو اس کے مفہوم سے پھیر کر ایسا معنی دینا جو آیت میں سرے سے موجود ہی نہیں، تفسیر بالرائے ہے۔

یہاں عید میلاد النبی کے قائلین سے ایک نہایت سادہ سوال ہے کہ اگر «فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا» سے ہر سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا جشن منانا ثابت ہوتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ولادت کا جشن کس تاریخ کو منایا؟

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کس تاریخ کو منایا؟

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کس تاریخ کو منایا؟

عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کس تاریخ کو منایا؟

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کس تاریخ کو منایا؟

ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے کب منایا؟

صحابہ رضی اللہ عنہم کی پوری جماعت نے کب منایا؟

تابعین رحمہم اللہ نے کب منایا؟

تبع تابعین رحمہم اللہ نے کب منایا؟

اور اگر یہ سب حضرات اس آیت کو سمجھتے تھے، قرآن ان کے سامنے تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان تھے، پھر بھی انہوں نے اس آیت سے میلاد کا جشن نہیں سمجھا، تو بعد میں آنے والے لوگوں کو وہ مفہوم کہاں سے مل گیا جو خیر القرون کے کسی فرد نے نہیں سمجھا؟

یہی بدعت کی پہچان ہے کہ جس عمل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور خیر القرون نے دین نہیں سمجھا، بعد کے لوگ اسے دین کا لازمی شعار بنا دیتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے متعلق مسند احمد کی صحیح حدیث میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: «ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ» یعنی یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی۔

10944.jpg

غور کیجیے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ولادت کے دن کی نسبت بیان فرمائی، مگر میلاد کا جشن قائم نہیں کیا۔ نہ سالانہ محفل کا حکم دیا، نہ چراغاں کا، نہ جلوس کا، نہ مخصوص کھانوں کا، نہ قصائد کا، نہ اجتماعات کا۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا۔

پس اگر کوئی شخص واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پر خوشی کا اظہار کرنا چاہتا ہے تو اسے پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طریقے کو اختیار کیا، اسے چھوڑ کر بعد کے لوگوں کا ایجاد کردہ طریقہ کیوں اختیار کیا جائے؟

ہم یہ نہیں کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہ کی جائے، ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت نعمت نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔ لیکن محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی جائے، نہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے نام پر نئی بدعت ایجاد کی جائے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ» کہہ دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔ [آل عمران: 31] لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا معیار جذبات نہیں بلکہ اتباع ہے۔

پس ہماری گفتگو کا خلاصہ درج ذیل چند بنیادی نکات میں ملاحظہ فرمائیں:

اول: آیت میں ’’فرح‘‘ ہے، ’’جشن‘‘ نہیں۔

دوم: عربی میں کسی نعمت پر خوش ہونا اور اس نعمت کا سالانہ جشن قائم کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔

سوم: آیت میں نہ میلاد کا ذکر ہے، نہ ولادت کی تاریخ کا، نہ سالانہ اجتماع کا، نہ جشن کا۔

چہارم: اگر یہ آیت میلاد کی دلیل ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس سے سب سے پہلے استدلال کرتے۔

پنجم: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قرآن کی آیات کے نزول پر خوش ہوئے، لیکن انہوں نے نزول قرآن کو سالانہ جشن نہیں بنایا۔

ششم: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ولادت کے دن کی نسبت بیان کی، مگر جشن کے بجائے روزہ رکھا۔

ہفتم: عبادات میں اصل یہ ہے کہ وہ دلیل سے ثابت ہوں؛ محض عمومی فضیلت سے مخصوص عبادت کی مخصوص ہیئت، وقت اور طریقہ ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

میلادی بدعتیوں سے صرف اتنا پوچھ لیجیے کہ آپ کے پاس «فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا» کی آیت موجود ہے؛ لیکن اس آیت سے ’’سالانہ میلاد کا جشن‘‘ ثابت کرنے کی وہ صریح دلیل کہاں ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سمجھا اور خیر القرون نے اس پر عمل کیا؟

اگر جواب میں صرف یہ کہا جائے کہ ’’اللہ نے خوش ہونے کا حکم دیا ہے‘‘ تو جواب یہ ہے کہ ہم بھی کہتے ہیں کہ اللہ کی نعمت پر خوش ہونا چاہیے؛ مگر آپ نے خوشی کی ایک مخصوص شرعی صورت، مخصوص تاریخ، مخصوص اجتماع اور مخصوص تہوار خود کہاں سے ایجاد کر لیا؟ یہی اصل نزاع ہے۔

پس آیت کریمہ کو میلاد کے جشن کی دلیل بنانا ایک باطل استدلال ہے؛ کیونکہ آیت نعمت الٰہی پر عمومی فرح کا بیان کرتی ہے، جبکہ عید میلاد النبی منانے والے اس سے ایک مخصوص سالانہ مذہبی جشن ثابت کرنا چاہتے ہیں، اور یہ تخصیص کسی صحیح شرعی دلیل سے ثابت نہیں۔

دین جذبات کے نام پر ایجاد نہیں کیا جاتا؛ دین وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو پہنچایا۔ جو چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دین میں نہ تھی، اسے محبت رسول صلی اللہ علیہ کے نام پر دین بنا دینا درحقیقت محبت نہیں بلکہ سنت سے انحراف ہے۔

محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تقاضا یہ نہیں کہ دین میں نئی نئی بدعات و رسومات داخل کی جائیں، بلکہ حقیقی محبت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو مضبوطی سے تھاما جائے اور ہر بدعت سے اجتناب کیا جائے۔

والله أعلم بالصواب، وإليه المرجع والمآب۔
 
Top