• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ائمہ تاریخ نے ضعیف راویات کیوں درج کیں ؟

شمولیت
جولائی 01، 2017
پیغامات
401
ری ایکشن اسکور
154
پوائنٹ
47
[استاد محترم کی اجازت کے ساتھ شیئر کی گئی تحاریر کا خصوصی سلسلہ ، طالب دعاء محمد المالكي]

ائمہ تاریخ نے ضعیف راویات کیوں درج کیں ؟
.ابوبکر قدوسی
...
ہمارے قدیم آئمہ نے تاریخ لکھنے اور تاریخی روایات بیان کرنے میں عموما وہی اسلوب اختیار کیا کہ جو حدیث میں تھا - یعنی کسی بھی تاریخی واقعے کو بذریعہ سند بیان کیا جاتا ہے - پھر ان اسناد کو جرح و تعدیل کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے -
دوسری طرف ایک ایک راوی کے حالات آئمہ رجال نے اپنی کتب میں درج کر دئیے ہیں - کون سچا ہے کون جھوٹا ، کون روایات گھڑنے والا ہے ، کون جھوٹ کو سچ سے ملانے والا ، کون ہر حال میں سچ بولتا ہے ، کون سچا ہے مگر کبھی کبھی بھول جاتا ہے - سب کچھ لکھ کر کے ان کی درجہ بندی کر دی - اور جب تاریخی روایات بیان کیں تو ساتھ میں اسناد بھی درج کر دیں -
اب آپ کے ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ بھلا اتنا کشٹ کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی ؟- آسان سی بات تھی کہ سیدھا سیدھا خود سے فیصلہ کرتے ، درست راویات کو نقل کرتے اور جھوٹ کو نکال باہر کرتے -
لیکن آئمہ کرام نے مشکل راستہ اختیار کیا ، کہ جو بھی روایات ملیں اور جیسے بھی ملیں ان کو کسی نہ کسی صورت درج کر دیا اور ساتھ اسناد دے دیں - اور آپ کو ساتھ میں ہی ایک ترازو دے دیا کہ
"لو خود فیصلہ کرو کیا سچ ہے ، کیا جھوٹ ؟"
اس سے ایک فائدہ یہ ہوا کہ بحث اور درست نا درست کی تلاش کا عمل رکا نہیں اور تحقیق جاری و ساری رہی -
اگر وہ اپنی دانست میں صرف صحیح روایات درج کرتے تو ممکن تھا بہت سی تاریخی روایات جو کہ درست ہوتیں معدوم ہو کے رہ جاتیں کہ امام کی نظر میں درست نہیں تھیں -
اور ایسا بھی تھا کہ بہت سی کمزور روایات کہ جن کو امام صاحب تحقیق کی غلطی سے درست جان چکے ہوتے ہمارے پلے پڑ جاتیں -
اور آج جو ہم تحقیق کر کے ان کی تنقیح کر سکتے ہیں اس سے محروم ہو جاتے - اور جھوٹ ہمارا مقدر ہو جاتا -
ایک اور فائدہ یہ ہوا کہ ہمارے اس زمانے کے بہت سے کذاب بھی کھل کے سامنے آنے کا امکان ہر وقت تازہ رہتا ہے - کیونکہ اگر کوئی اپنے خبث باطن کے سبب مرضی کی روایت کو لے کر مطلب براری کے لیے استعمال کرتا ہے تو ان علوم کے سبب اس کو پکڑا جا سکتا ہے -
امام طبری رحمہ اللہ اپنی کتاب تاریخ طبری کے مقدمے میں بیان کرتے ہیں کہ:
" ہم کو جو پہنچا ہم نے آگے بیان کر دیا ، اب یہ قاری پر ہے کہ وہ درست کو اختیار کرے "
یعنی تحقیق کے دروازے قاری پر کھول دیے کیونکہ ساتھ ساتھ اسناد بھی بیان کر دی گئیں -
اب خود سوچئے کہ اگر یہ روایات بنا اسناد کے ہوتیں اور امام کو کسی روایت میں غلطی لگ جاتی یا بھول جاتے یا محبت اور نفرت جیسی انسانی کمزوری کا شکار ہو کر کے تعصب کے تحت غلط بات لکھ جاتے تو ہمارے لیے کیا صورت تھی اس کو پرکھنے کی ؟؟
 

عبدالعزيز

مبتدی
شمولیت
اکتوبر 24، 2017
پیغامات
169
ری ایکشن اسکور
78
پوائنٹ
29
[استاد محترم کی اجازت کے ساتھ شیئر کی گئی تحاریر کا خصوصی سلسلہ ، طالب دعاء محمد المالكي]

ائمہ تاریخ نے ضعیف راویات کیوں درج کیں ؟
.ابوبکر قدوسی
...
ہمارے قدیم آئمہ نے تاریخ لکھنے اور تاریخی روایات بیان کرنے میں عموما وہی اسلوب اختیار کیا کہ جو حدیث میں تھا - یعنی کسی بھی تاریخی واقعے کو بذریعہ سند بیان کیا جاتا ہے - پھر ان اسناد کو جرح و تعدیل کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے -
دوسری طرف ایک ایک راوی کے حالات آئمہ رجال نے اپنی کتب میں درج کر دئیے ہیں - کون سچا ہے کون جھوٹا ، کون روایات گھڑنے والا ہے ، کون جھوٹ کو سچ سے ملانے والا ، کون ہر حال میں سچ بولتا ہے ، کون سچا ہے مگر کبھی کبھی بھول جاتا ہے - سب کچھ لکھ کر کے ان کی درجہ بندی کر دی - اور جب تاریخی روایات بیان کیں تو ساتھ میں اسناد بھی درج کر دیں -
اب آپ کے ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ بھلا اتنا کشٹ کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی ؟- آسان سی بات تھی کہ سیدھا سیدھا خود سے فیصلہ کرتے ، درست راویات کو نقل کرتے اور جھوٹ کو نکال باہر کرتے -
لیکن آئمہ کرام نے مشکل راستہ اختیار کیا ، کہ جو بھی روایات ملیں اور جیسے بھی ملیں ان کو کسی نہ کسی صورت درج کر دیا اور ساتھ اسناد دے دیں - اور آپ کو ساتھ میں ہی ایک ترازو دے دیا کہ
"لو خود فیصلہ کرو کیا سچ ہے ، کیا جھوٹ ؟"
اس سے ایک فائدہ یہ ہوا کہ بحث اور درست نا درست کی تلاش کا عمل رکا نہیں اور تحقیق جاری و ساری رہی -
اگر وہ اپنی دانست میں صرف صحیح روایات درج کرتے تو ممکن تھا بہت سی تاریخی روایات جو کہ درست ہوتیں معدوم ہو کے رہ جاتیں کہ امام کی نظر میں درست نہیں تھیں -
اور ایسا بھی تھا کہ بہت سی کمزور روایات کہ جن کو امام صاحب تحقیق کی غلطی سے درست جان چکے ہوتے ہمارے پلے پڑ جاتیں -
اور آج جو ہم تحقیق کر کے ان کی تنقیح کر سکتے ہیں اس سے محروم ہو جاتے - اور جھوٹ ہمارا مقدر ہو جاتا -
ایک اور فائدہ یہ ہوا کہ ہمارے اس زمانے کے بہت سے کذاب بھی کھل کے سامنے آنے کا امکان ہر وقت تازہ رہتا ہے - کیونکہ اگر کوئی اپنے خبث باطن کے سبب مرضی کی روایت کو لے کر مطلب براری کے لیے استعمال کرتا ہے تو ان علوم کے سبب اس کو پکڑا جا سکتا ہے -
امام طبری رحمہ اللہ اپنی کتاب تاریخ طبری کے مقدمے میں بیان کرتے ہیں کہ:
" ہم کو جو پہنچا ہم نے آگے بیان کر دیا ، اب یہ قاری پر ہے کہ وہ درست کو اختیار کرے "
یعنی تحقیق کے دروازے قاری پر کھول دیے کیونکہ ساتھ ساتھ اسناد بھی بیان کر دی گئیں -
اب خود سوچئے کہ اگر یہ روایات بنا اسناد کے ہوتیں اور امام کو کسی روایت میں غلطی لگ جاتی یا بھول جاتے یا محبت اور نفرت جیسی انسانی کمزوری کا شکار ہو کر کے تعصب کے تحت غلط بات لکھ جاتے تو ہمارے لیے کیا صورت تھی اس کو پرکھنے کی ؟؟
یہ سلسلہ جاری رکھئے بہت عمدہ
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,403
پوائنٹ
964

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,403
پوائنٹ
964
اس موضوع پر ہمارے ایک دوست عالم دین محترم عبد اللہ فاروق نراین پوری نے مستقل کتاب تصنیف کی ہے۔ جس میں اس موضوع کو قدرے تفصیل سے بیان کیا ہے۔
 

عبدالمنان

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 04، 2015
پیغامات
735
ری ایکشن اسکور
164
پوائنٹ
123
*نام کتاب: كشف الأسرار عما يورد المحدثون في كتبهم من ضعاف الأخبار*
*(کتب حدیث میں ضعیف احادیث کیوں؟)*
*تالیف: فاروق عبد اللہ بن محمد اشرف الحق نراین پوری*
-------------------------------------------
*"اگر یہ حدیث ضعیف ہے تو فلاں محدث نے اسے اپنی کتاب میں کیوں روایت کی؟ وہ نہ روایت کرتے، نہ یہ مسئلہ پیدا ہوتا کہ یہ صحیح ہے یا ضعیف۔"*
*"اگر یہ حدیث ضعیف ہوتی تو لاکھوں احادیث کے حافظ فلاں محدث قطعًا اسے اپنی مایہ ناز کتاب میں روایت نہ کرتے۔"*
*"حدیث کی فلاں کتاب آپ کے نزدیک معتبر ہے یا نہیں؟ جب اس معتبر کتاب میں یہ حدیث موجود ہے تو پھر حدیث غیر معتبر کیسے ہو گئی؟ "*
*اس طرح کی باتوں سے شاید آپ کا بھی سابقہ پڑا ہو، یا آپ کے ذہن میں بھی یہ باتیں آئیں ہوں، اور اس جیسے مسئلہ سے آپ بھی دو چار ہوئے ہوں، تو اس کتاب کو پڑھیں۔ ان شاء اللہ تعالی اس میں آپ کو مذکورہ مسئلہ کا حل اور گذشتہ سوالوں کا جواب مل جائیگا۔*
*کتاب پڑھنے کے بعد اگر آپ کو اس میں کوئی مفید چیز ملے تو مؤلف کتاب کو اپنی خاص دعاؤوں میں ضرور یاد فرمائیں۔*
*اور کسی بھی طرح کی کوئی غلطی نظر آئے تو مؤلف کتاب کو اطلاع کرنا مت بھولیں۔*
*انہیں آپ کے تأثرات کا انتظار رہے گا۔*
*آخر میں گذارش ہے کہ اسے اپنے واٹس اپ گروپوں اور خاص لوگوں تک پہنچانا نہ بھولیں۔*
*مؤلف کتاب کا واٹس اپ نمبر*
*00966530162505*
*درج ذیل لنک سے اس کتاب کو آپ ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:*
https://drive.google.com/file/d/1hfIFsbKi2ZpsuEcLcQwrKBnZQsQ0q7WF/view?usp=sharing
.
 
Top