محمد آصف مغل
سینئر رکن
- شمولیت
- اپریل 29، 2013
- پیغامات
- 2,677
- ری ایکشن اسکور
- 4,008
- پوائنٹ
- 436
9۔ حدیث مخالف کو منسوخ سمجھنا
بعض اوقات ایک عالم ایک حدیث پر عمل نہیں کرتا کیونکہ اس کے خیال میں ایک دوسری حدیث ہے اور زیر بحث روایت ضعیف ہے یا منسوخ ہے یا اس میں تأویل کی گنجائش ہے ۔حالانکہ زیر بحث حدیث جسے وہ عالم ضعیف سمجھتا ہے سند اور متن کے اعتبار سے بلحاظ صحت و ثقاہت ثابت ہے ۔یا وہ حدیث جس کووہ ناسخ جانتا ہے وہ حقیقت میں منسوخ ہے یا اسے تأویل کرنے میں غلطی لگی ہو اور اس نے اس کے وہ معانی بیان کئے ہیں جن کی اس کے الفاظ میں سرے سے گنجائش ہی نہیں۔ یا وہ عالم سمجھتا ہے کہ اس مسئلے میں اللہ کی کتاب اور رسول کی سنت کچھ اور کہتی ہے جیسے ابو اسحاق نے فرمایا''میں بڑی مسجد میں اسود بن یزید کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ہمارے ساتھ امام شعبی بھی تھے امام شعبی نے فاطمہ بنت قیس کی روایت بیان کی کہ ان کو ان کے خاوند نے تین طلاقیں دیں ۔انہوں نے ان کے اہل و عیال سے نفقہ کا مطالبہ کیا ان کے انکار پر وہ رسول اللہ کے پاس گئی تو آپﷺ نے فرمایا کہ تمہارے لیے (تین طلاقوں کے بعد خاوند کے ذمے)نہ تو نان نفقہ ہے اور نہ رہائش ہے''اسود نے کنکریاں پکڑ کر امام شعبی کو ماری اور فرمایا تم یہ حدیث بیان کرتے ہو حالانکہ سیدنا عمر نے فرمایا تھا کہ ہم ایک عورت کے کہنے پر اللہ کی کتاب اور اپنے نبی ﷺ کی سنت نہیں چھوڑ سکتے معلوم نہیں کہ اس خاتون کو واقعہ یاد بھی رہا یا نہیں اس لیے سیدنا عمر نے (تین طلاقوں والی)عورت کو عدت کے دوران رہائش اور خرچہ دلوایا سیدنا عمر نے اس آیت سے استدلال کیا:
﴿لَا تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْۢ بُيُوْتِہِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَـيِّنَۃٍ۰ۭ﴾ (الطلاق:۱)
''عورتوں کے اپنے گھر سے مت نکالو نہ وہ خود نکلیں مگر یہ کہ واضح بے حیائی کی مرتکب ہوں''۔(مسلم 1480)
بعض اوقات ایک عالم ایک حدیث پر عمل نہیں کرتا کیونکہ اس کے خیال میں ایک دوسری حدیث ہے اور زیر بحث روایت ضعیف ہے یا منسوخ ہے یا اس میں تأویل کی گنجائش ہے ۔حالانکہ زیر بحث حدیث جسے وہ عالم ضعیف سمجھتا ہے سند اور متن کے اعتبار سے بلحاظ صحت و ثقاہت ثابت ہے ۔یا وہ حدیث جس کووہ ناسخ جانتا ہے وہ حقیقت میں منسوخ ہے یا اسے تأویل کرنے میں غلطی لگی ہو اور اس نے اس کے وہ معانی بیان کئے ہیں جن کی اس کے الفاظ میں سرے سے گنجائش ہی نہیں۔ یا وہ عالم سمجھتا ہے کہ اس مسئلے میں اللہ کی کتاب اور رسول کی سنت کچھ اور کہتی ہے جیسے ابو اسحاق نے فرمایا''میں بڑی مسجد میں اسود بن یزید کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ہمارے ساتھ امام شعبی بھی تھے امام شعبی نے فاطمہ بنت قیس کی روایت بیان کی کہ ان کو ان کے خاوند نے تین طلاقیں دیں ۔انہوں نے ان کے اہل و عیال سے نفقہ کا مطالبہ کیا ان کے انکار پر وہ رسول اللہ کے پاس گئی تو آپﷺ نے فرمایا کہ تمہارے لیے (تین طلاقوں کے بعد خاوند کے ذمے)نہ تو نان نفقہ ہے اور نہ رہائش ہے''اسود نے کنکریاں پکڑ کر امام شعبی کو ماری اور فرمایا تم یہ حدیث بیان کرتے ہو حالانکہ سیدنا عمر نے فرمایا تھا کہ ہم ایک عورت کے کہنے پر اللہ کی کتاب اور اپنے نبی ﷺ کی سنت نہیں چھوڑ سکتے معلوم نہیں کہ اس خاتون کو واقعہ یاد بھی رہا یا نہیں اس لیے سیدنا عمر نے (تین طلاقوں والی)عورت کو عدت کے دوران رہائش اور خرچہ دلوایا سیدنا عمر نے اس آیت سے استدلال کیا:
﴿لَا تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْۢ بُيُوْتِہِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَـيِّنَۃٍ۰ۭ﴾ (الطلاق:۱)
''عورتوں کے اپنے گھر سے مت نکالو نہ وہ خود نکلیں مگر یہ کہ واضح بے حیائی کی مرتکب ہوں''۔(مسلم 1480)