lovelyalltime
سینئر رکن
- شمولیت
- مارچ 28، 2012
- پیغامات
- 3,735
- ری ایکشن اسکور
- 2,899
- پوائنٹ
- 436
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس لنک سے اصل کتاب ڈاؤن لوڈ کرلیں۔
یہی وه لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں اور اس کی ملاقات سے کفر کیا، اس لئے ان کے اعمال غارت ہوگئے پس قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن قائم نہ کریں گے (105) حال یہ ہے کہ ان کا بدلہ جہنم ہے کیونکہ انہوں نے کفر کیا اور میری آیتوں اور میرے رسولوں کو مذاق میں اڑایا (106)
اس واقعہ سے دو باتیں معلوم ہوئیں:
ایک یہ کہ پہلے امام ابو حنیفہ ؒ اعمال شرعیہ کو ایمان کا جزء نہیں سمجھتے تھے؛جب حدیث سنائی گئی ،تو خاموش ہو گئے اور کوئی جواب نہ دیا،جس سے ظاہر ہے کہ انھوں نے یہ مسئلہ تسلیم کر لیا۔
دوسری یہ بات ظاہر ہوئی کہ امام ابوحنیفہ ؒ جب کوئی عقیدہ یا مسئلہ حدیث کے خلاف بیان کر دیتے اور پھر حدیث مل جاتی اور کوئی محدث انھیں سمجھا دیتا ،تو امام صاحب حدیث نبوی کی تعظیم کرتے ہوئے اس کو تسلیم فرما لیتے تھے،اس لیے ان کا مشہور قول ہے : اذا صح الحدیث فھو مذھبی،یعنی’’جب صحیح حدیث مل جائے ،تو وہی میرا مذہب ہے۔‘‘(فتاویٰ حصاریہ و مقالات علمیہ ،ج4،ص305)