• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اجتماع

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
19- عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: لَنْ يَبْرَحَ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ. ([1])
(١٩)جابر بن سمرۃ ؓبیان كرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا: دین اسلام ہمیشہ قائم رہے گا ،قیامت تك مسلمانوں كی ایك جماعت اس كی خاطر جہاد كرتی رہے گی۔
20- عَنْ أَبِي مُوسَىؓ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا.
(٢٠)ابو موسیٰ اشعری ؓنبیﷺ سے بیان كرتے ہیں آپ نے فرمایا: ایماندار ( دوسرے ) ایماندار كے لئے عمار ت كی مانند ہے
گویا عمارت كے ایك حصے نے دوسرے حصے كو مضبوط كیا ہوا ہے۔([2])
21- عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى.
(٢١)نعمان بن بشیر بیان كرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ایمانداروں كی آپس میں رحم كرنے، محبت اور شفقت كرنے كی مثال ایك جسم كی مانند ہے،جیسے ( جسم كا) كوئی حصہ بیمار ہوتا ہے تو اس كی وجہ سے تمام جسم بیدار رہتا ہے اور بخار میں مبتلا ہوتا ہے۔ ([3])
22- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَؓ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَرْقًا سَمِينًا أَوْ مَرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ. ([4])
(٢٢)ابو ہریرہ ؓبیان كرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا: اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ارادہ كر لیا تھا كہ لكڑیوں كے جمع كرنے كا حكم دوں پھر نمازکا حکم دوں تو اس كے لئے اذان دی جائے پھر كسی شخص كو كہوں وہ امامت كرے اور میں ان لوگوں كی طرف جاؤں( جو نماز باجماعت میں حاضر نہیں ہوتے) پھر ان كے گھروں سمیت جلادوں ،اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میری جان ہے اگر یہ جماعت میں نہ شریك ہونے والے لوگ اتنی بات جان لیں كہ انہیں مسجد میں ایك اچھے قسم كی گوشت والی ہڈی مل جائے گی یا دو عمدہ كھر ہی مل جائیں گے تو یہ عشاء كی جماعت كے لئے مسجد میں ضرور حاضر ہو جائیں۔

اجتماعیت کے متعلق آثار اور علماء و مفسرین کے اقوال

(۱)عبداللہ بن مسعود ؓنے خطبہ دیتے ہوئےفرمایا:لوگو! اطاعت اور اجتماع (اجتماعیت )کو لازم اختیارکرو، کیوں کہ یہی دو چیزیں اللہ کی رسی ہیں جس کو پکڑنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے۔
(۲)علی ؓنےفرمایا: تم ویسے ہی فیصلہ کرو جس طرح پہلے کرتے تھے۔بے شک میں اختلاف کو پسند نہیں کرتا، یہاں تک کہ لوگ ایک جماعت ہو جائیں اور مجھے اس حال میں موت آئے جیسے میرے ساتھیوں(یعنی خلفائےثلاثہ اور دیگر صحابہ کرام) کو موت آئی ہے۔ اسی لئے ابن سیرین کہتے تھے کہ علی ؓسے عام طور پر جو مرویات ہیں وہ سب جھوٹ ہیں۔(یعنی ثابت نہیں ہیں)۔

[1] - صحيح مسلم كِتَاب الْإِمَارَةِ بَاب قَوْلِهِ ﷺلَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ رقم (1922)
[2] - صحيح البخاري رقم (6026) صحيح مسلم كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَاب تَرَاحُمِ الْمُؤْمِنِينَ وَتَعَاطُفِهِمْ وَتَعَاضُدِهِمْ رقم (2585)
[3] - صحيح البخاري رقم (6011) صحيح مسلم كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَاب تَرَاحُمِ الْمُؤْمِنِينَ وَتَعَاطُفِهِمْ وَتَعَاضُدِهِمْ رقم (2586)
[4] - صحيح البخاري كتاب الْأَذَانِ بَاب وُجُوبِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ رقم (644)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
(۳)عبداللہ بن مسعود ؓنے اس آیت : ( ) کے بارے میں کہا کہ اللہ تعالیٰ کی رسی جماعت ہے۔
(۴)عبداللہ بن مسعودؓ ہی سے مروی ہے کہ "صراط مستقیم کے پاس شیطان موجود رہتے ہیں جو کہ پکار کر کہتے ہیں "اے اللہ کے بندے ادھر آؤ یہ ہے راستہ ۔تاکہ اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکیں ۔لہٰذا تم اللہ کی رسی کو پکڑ و اور اللہ کی رسی قرآن ہے۔
(۵)سماک بن الولید حنفی جناب ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ملے اور ان سے پوچھا کہ "آپ حکمرانوں کے متعلق کیا کہتے ہیں جو ہم پر ظلم کرتے ہیں ،ہمیں گالیاں دیتے ہیں اور ہمارے صدقات میں ہم پر زیادتی کرتے ہیں (یعنی زبردستی زیادہ وصول کرلیتے ہیں) کیا ہم ان کو اپنے صدقات و زکوٰۃ دینا بند کردیں، ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا، نہیں۔ جماعت کے ساتھ رہو کیوں کہ پچھلی امتیں اپنے افتراق کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئیں ۔کیا تو نے فرمان الٰہی نہیں سنا(آل عمران: ١٠٣) یعنی اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑو اور جدا جدا نہ ہونا۔
(۶)ربیع رحمہ اللہ سے اس آیت [یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو تم ایک دوسرے کے دشمن تھے]کی تفسیر میں مروی ہے یعنی تم ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے ۔طاقتور کمزور کو کھا جاتا تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسلام لایا پھر تمہیں ملادیا اور تمہارے درمیان الفت پیدا کر دی اور تمہاری جماعت کو اس پر جمع کر دیا اور تمہیں بھائی بھائی بنا دیا۔
(۷)ابو العالیہ رحمہ اللہ سے اس آیت ( ) کی تفسیر میں مروی ہے فرمایا:اللہ تعالیٰ کے لئے (عبادات وغیرہ کو)خالص کرتے ہوئے۔ ( ) یعنی اخلاص پر چلتے ہوئے ایک دوسرے سے عداوت نہ رکھو اور اخلاص کی بنیاد پر اخوت قائم کرو۔
(۸)ابن زید نے اس آیت ( ) میں "اللہ کی رسی" سے اسلام مراد لیا ہے( یعنی اسلام پر جمع ہو جاؤ)۔
(۹)کسی شاعر نے کہا ہے:

تَـأْبَي الـرِّمَـاحُ إِذَا اِجْتَمَـعْنَ تَكَسُّـراً
وَإِذَا افـْتَـرَقْـنَ تَكَسَّـرَتْ اَفْـرَادَا


نیزے جب اکھٹے ہوتے ہیں تو ٹوٹنے سے جواب دے دیتے ہیں
اور جب جدا جدا ہوتے ہیں تو ٹوٹ جاتے ہیں
(۱۰)ابو الاحوص سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:ہم دیکھتے تھے کہ نماز سے وہی شخص پیچھے رہتا تھا جو ظاہراً منافق ہوتا تھا یا بیمار شخص ۔جب کہ مریض دو آدمیوں کے سہارے (جماعت کے ساتھ) نماز کے لئے آتا تھا۔ بے شک رسول اللہ ﷺنے ہمارے لئے ہدایت کے طریقے مقرر فرمائے ہیں (اور ان میں سے) نماز کو اس مسجد میں ادا کرنا جہاں اذان دی جاتی ہے(بھی ہے)۔
(۱۱)امام ابن حجر نےفرمایا: جماعت کے ساتھ نماز کی حفاظت میں، خاص طور پر فجر اور عشاء میں، صبح و شام ملنے والوں کے درمیان محبت کا بندوبست ہے اور یہ کہ وہ اپنے دن کا خاتمہ اجتماعیت سے کریں اور اسی طرح اس کی ابتداء بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر۔
(۱۲)امام طیبی نے بعض علماء سے نقل کیا ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مسلمان فرشتوں کی طرح مل کر صفیں بنا کر کھڑے ہوں۔
(۱۳)سالم سے روایت ہے کہا میں نے ام درداء rسے سنا، انہوں نےفرمایا:میرے پاس ابو درداء ؓآئے، وہ غصہ میں تھے ۔ میں نے کہا:غصہ کیوں کر رہے ہو؟ کہا: اللہ کی قسم میں امت محمدیہ کے اندر جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کے سوا کوئی بھی عمل (مسنون طریقہ کے مطابق)نہیں دیکھ رہا۔ابن حجر نےفرمایا: یہ صورتحال جناب عثمان بن عفان ؓکےآخری دور میں تھی پھر ہماری حالت ان کے مقابلہ میں کیا ہو سکتی ہے؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اجتماعیت کے فوائد
(۱)اجتماعیت امت کے ذاتی صحیح فہم کی حفاظت کے لئے کار آمد ہے جو کہ فکر و سلوک کے اتحاد اور صحیح اسلامی اساس پر بحث و نظر کے اسلوب کے لئے معاون ہے۔
(۲)اجتماعیت اسلامی معاشرہ کو چیلنجوں کا سامنا کرنے میں مددگار ہوتی ہے۔
(۳)اجتماعیت اجتماعی رابطےکے لئے اسلامی طرز و مثال کے ساتھ معاون ہوتی ہے ۔
(۴)اجتماعیت اسلامی معاشرہ کے لئےفکری اور ثقافتی تقلید سے نجات حاصل کرنے کے لئے مدد گار ثابت ہوتی ہے ۔ جو کہ صحیح فہم ذاتی کے نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔
(۵)اجتماعیت مسلمان کے ضمیر کو صحیح قالب میں ڈھالنے کے لئے معاون ہوتی ہے۔اس کی تجدیدتہذیب کی طاقت کو بڑھاتی ہے اور انسانی تہذیب اور ثقافت کے لئے بہترین اسلامی طرز کو پیش کرتی ہے۔
(۶)اسلام کے عظیم آثار کومسلمان کے لئے واضح کرنے میں مفید ہوتی ہے جس سے اس کو قوت ،عزت اور شان و شوکت حاصل ہوتی ہے۔
(۷)عقیدہ و اخلاق وغیرہ کے حقیقی مفہوم کو امت کے لئے ثابت کرنے میں مفید ہوتی ہے جن سے بالآخر ایک ایسی حقیقی اسلامی ثقافت اور تہذیب پیدا ہوتی ہے جو کہ ایک اسلامی معاشرےکے خوابوں کی تعبیر ہوتےہیں۔
(۸)الفت و محبت اور عدل و انصاف اور ان سارے عوامل کو ادا کرنے میں معاون ہوتی ہے جن سے اسلامی معاشرےمیں باہمی رابطہ پیدا ہوتا ہے۔
(۹)اسلامی ثقافتی ورثےاور عربی زبان کی حفاظت ہوتی ہے (جو کہ قرآن کی زبان ہے ) اور اس کا استمرار رہتا ہے ۔
(۱۰)قبائلی عصبیت کا خاتمہ ہوتا ہے اور اجتماعی دینی اصول کو بنیاد بنایا جا تا ہے جو کہ ساری اقوام و قبائل کے لئے کشادہ ہوں۔
(۱۱)مل کر کھانے اور دیگر نیکی کے کام کرنے سے برکت حاصل ہو تی ہے۔
(۱۲)اجتماعیت سے وہ اصل مقصد حاصل ہوتا ہے ،جس کی اسلام نے با جماعت نماز ، جمعہ اور نماز صبح میں تر غیب دی ہے (یعنی ایک دوسرے کے مسائل سے با خبر ہونا وغیرہ)
(۱۳)اجتماعیت ہی سے مسلمانوں کے درمیان الفت اور تعارف حاصل ہوتا ہے اور اسی سے محبت پیدا ہو تی ہے ، بھا ئی چارہ بنتا ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بڑھتا ہے ۔
(۱۴)اجتماعیت سے مسلمانوں کو تقو یت پہنچتی ہے اور اس عقیدہ سے کہ اللہ کا ہاتھ جماعت کے اوپر ہے ان کی رو حا نیت بلند ہو تی ہے اور جس کے ساتھ اللہ تعا لیٰ کا ہا تھ ہو، اُسے اللہ تعا لیٰ کی مدد کا پختہ یقین ہو تا ہے ۔
(۱۵)اجتماعیت فرد، خاندان اور معاشرے بلکہ سارے عالم اسلامی کے لئے نئی قوت بنتی ہے ۔
(۱۶)اجتماعیت دشمنوں کو خوفزدہ کر تی ہے اور ان کے دلوں کے اندر رعب ڈالتی ہے پھر وہ اسلام اور مسلمانوں کی شان و شوکت سے
ڈرتے ہیں اور اجتماع ہی سے مسلمانوں کو قوت و دبدبہ حاصل ہو تا ہے۔
(۱۷)بیشک اپنی صفوں میں اتحاد اور یک زبانی دو نوں امت کی بقاء، ریاستی استقلال اور دعوتی کا میابی کے لئے مضبوط بنیاد ہیں۔
(۱۸)اجتماعیت اخلاق فاضلہ کے وسائل میں سے ہے اور یہ فرد کے اندر اچھے ماحول میں گھل مل جانے سے پیدا ہو تے ہیں ۔ اس لئے کہ یہ انسان کی فطرت سے ہے کہ وہ اس ماحول سے متاثر ہو تا ہے جس میں رہ رہا ہے، جہا ں وہ ز ندگی گزار رہا ہے ، اس ماحول کے اخلاق و عادات اور طرز زندگی سے متاثر ہو تا ہے ۔
(۱۹)اجتماعیت کے ساتھ رہنے سے انسان کے اندر شو ق و مقا بلہ کا جذبہ بڑھتا ہے ۔
(۲۰)اجتماعیت افراد کے اندر جذ بۂ ترقی کو اجاگرکرتی ہے اور اپنی صلاحیتوں کو ظا ہر کر نے کی رغبت میں اشتعال پیدا کر تی ہے اور یہ تحریک اجتما عیت ہی سے پیدا ہو تی ہے ۔
(۲۱)فرد کا اجتماعیت کے ساتھ رہنا اس کے لئے گندے اخلاق و عا دات سے بچنے کے لئے ایک بنیادی رکا وٹ ہے ، اسے خوف رہے گا کہ اگر اس کی ان قبیح صفات کا دو سروں کو پتہ چل گیا تو اسے اس سے نقصان پہنچ سکتا ہے ، اس سے ظا ہرہوتا ہے کہ اجتما عیت کا جرا ئم و اخلاقی کمزوریوں کے سد باب میں ایک فعال کردار ہے ۔
(۲۲)اجتماعیت خصو صاًصالحین اور با اخلاق افراد کے ساتھ مل کر رہنے سے انسان اس جماعت کے اخلاق کو اپنا تا ہے اور ان کی تقلید کر تا ہے اور ان کے اخلاق کو اختیار کر تا ہے اور پھر ان اخلاق کے دفاع کے لئے جواں مردی دکھلا تا ہے ۔
(۲۳)اجتماعیت کتنی ہی نفسیاتی بیما ریو ں اور پریشانی کی مؤثر دواء ہے ۔ کیو ں کہ انسان کے جماعت کے سا تھ رہنے سے پریشانی دور ہو جا تی ہے ۔ خا ص طو ر پر جب اسے پتہ ہو کہ تکلیف کے وقت اس کے مسلمان بھا ئی اسے اکیلا نہیں چھو ڑیں گے ۔ پس انسان اکیلا ہے تو کم (یعنی کمز ور )ہے اور جما عت کے سا تھ ہے تو ز یا دہ (قوت و ہمت وا لا )ہے ۔
(۲۴)اور آخر میں یہ بات سمجھ لیں کہ اللہ تعا لیٰ کا ذ کر کر نے وا لوں کے سا تھ بیٹھنے وا لا کبھی محروم اور بد بخت نہیں ہو گا۔ خا ص طور پراللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رضا مندی کے حصو ل کا سبب ہو تا ہے ۔
(۲۵)جما عت کے سا تھ رہنے میں شیطان کے لئے دھتکار اور ما یو سی اور غم و غصہ ہے اس لئے کہ وہ ایک یا دو کو پھسلا نے کی کو شش کر تا ہے جب تین ہو (جو کہ جمع کی کم از کم تعدا د ہے) تو شیطان ایسا نہیں کر تا ۔ جیسا کہ حدیث نبوی میں ہے ۔

نضرۃ النعیم
 
Top