- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,589
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
19- عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: لَنْ يَبْرَحَ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ. ([1])
(١٩)جابر بن سمرۃ ؓبیان كرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا: دین اسلام ہمیشہ قائم رہے گا ،قیامت تك مسلمانوں كی ایك جماعت اس كی خاطر جہاد كرتی رہے گی۔
20- عَنْ أَبِي مُوسَىؓ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا.
(٢٠)ابو موسیٰ اشعری ؓنبیﷺ سے بیان كرتے ہیں آپ نے فرمایا: ایماندار ( دوسرے ) ایماندار كے لئے عمار ت كی مانند ہے
گویا عمارت كے ایك حصے نے دوسرے حصے كو مضبوط كیا ہوا ہے۔([2])
21- عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى.
(٢١)نعمان بن بشیر بیان كرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ایمانداروں كی آپس میں رحم كرنے، محبت اور شفقت كرنے كی مثال ایك جسم كی مانند ہے،جیسے ( جسم كا) كوئی حصہ بیمار ہوتا ہے تو اس كی وجہ سے تمام جسم بیدار رہتا ہے اور بخار میں مبتلا ہوتا ہے۔ ([3])
22- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَؓ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَرْقًا سَمِينًا أَوْ مَرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ. ([4])
(٢٢)ابو ہریرہ ؓبیان كرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا: اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ارادہ كر لیا تھا كہ لكڑیوں كے جمع كرنے كا حكم دوں پھر نمازکا حکم دوں تو اس كے لئے اذان دی جائے پھر كسی شخص كو كہوں وہ امامت كرے اور میں ان لوگوں كی طرف جاؤں( جو نماز باجماعت میں حاضر نہیں ہوتے) پھر ان كے گھروں سمیت جلادوں ،اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میری جان ہے اگر یہ جماعت میں نہ شریك ہونے والے لوگ اتنی بات جان لیں كہ انہیں مسجد میں ایك اچھے قسم كی گوشت والی ہڈی مل جائے گی یا دو عمدہ كھر ہی مل جائیں گے تو یہ عشاء كی جماعت كے لئے مسجد میں ضرور حاضر ہو جائیں۔
اجتماعیت کے متعلق آثار اور علماء و مفسرین کے اقوال
(۱)عبداللہ بن مسعود ؓنے خطبہ دیتے ہوئےفرمایا:لوگو! اطاعت اور اجتماع (اجتماعیت )کو لازم اختیارکرو، کیوں کہ یہی دو چیزیں اللہ کی رسی ہیں جس کو پکڑنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے۔
(۲)علی ؓنےفرمایا: تم ویسے ہی فیصلہ کرو جس طرح پہلے کرتے تھے۔بے شک میں اختلاف کو پسند نہیں کرتا، یہاں تک کہ لوگ ایک جماعت ہو جائیں اور مجھے اس حال میں موت آئے جیسے میرے ساتھیوں(یعنی خلفائےثلاثہ اور دیگر صحابہ کرام) کو موت آئی ہے۔ اسی لئے ابن سیرین کہتے تھے کہ علی ؓسے عام طور پر جو مرویات ہیں وہ سب جھوٹ ہیں۔(یعنی ثابت نہیں ہیں)۔
(١٩)جابر بن سمرۃ ؓبیان كرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا: دین اسلام ہمیشہ قائم رہے گا ،قیامت تك مسلمانوں كی ایك جماعت اس كی خاطر جہاد كرتی رہے گی۔
20- عَنْ أَبِي مُوسَىؓ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا.
(٢٠)ابو موسیٰ اشعری ؓنبیﷺ سے بیان كرتے ہیں آپ نے فرمایا: ایماندار ( دوسرے ) ایماندار كے لئے عمار ت كی مانند ہے
گویا عمارت كے ایك حصے نے دوسرے حصے كو مضبوط كیا ہوا ہے۔([2])
21- عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى.
(٢١)نعمان بن بشیر بیان كرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ایمانداروں كی آپس میں رحم كرنے، محبت اور شفقت كرنے كی مثال ایك جسم كی مانند ہے،جیسے ( جسم كا) كوئی حصہ بیمار ہوتا ہے تو اس كی وجہ سے تمام جسم بیدار رہتا ہے اور بخار میں مبتلا ہوتا ہے۔ ([3])
22- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَؓ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَرْقًا سَمِينًا أَوْ مَرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ. ([4])
(٢٢)ابو ہریرہ ؓبیان كرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا: اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ارادہ كر لیا تھا كہ لكڑیوں كے جمع كرنے كا حكم دوں پھر نمازکا حکم دوں تو اس كے لئے اذان دی جائے پھر كسی شخص كو كہوں وہ امامت كرے اور میں ان لوگوں كی طرف جاؤں( جو نماز باجماعت میں حاضر نہیں ہوتے) پھر ان كے گھروں سمیت جلادوں ،اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میری جان ہے اگر یہ جماعت میں نہ شریك ہونے والے لوگ اتنی بات جان لیں كہ انہیں مسجد میں ایك اچھے قسم كی گوشت والی ہڈی مل جائے گی یا دو عمدہ كھر ہی مل جائیں گے تو یہ عشاء كی جماعت كے لئے مسجد میں ضرور حاضر ہو جائیں۔
اجتماعیت کے متعلق آثار اور علماء و مفسرین کے اقوال
(۱)عبداللہ بن مسعود ؓنے خطبہ دیتے ہوئےفرمایا:لوگو! اطاعت اور اجتماع (اجتماعیت )کو لازم اختیارکرو، کیوں کہ یہی دو چیزیں اللہ کی رسی ہیں جس کو پکڑنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے۔
(۲)علی ؓنےفرمایا: تم ویسے ہی فیصلہ کرو جس طرح پہلے کرتے تھے۔بے شک میں اختلاف کو پسند نہیں کرتا، یہاں تک کہ لوگ ایک جماعت ہو جائیں اور مجھے اس حال میں موت آئے جیسے میرے ساتھیوں(یعنی خلفائےثلاثہ اور دیگر صحابہ کرام) کو موت آئی ہے۔ اسی لئے ابن سیرین کہتے تھے کہ علی ؓسے عام طور پر جو مرویات ہیں وہ سب جھوٹ ہیں۔(یعنی ثابت نہیں ہیں)۔
[1] - صحيح مسلم كِتَاب الْإِمَارَةِ بَاب قَوْلِهِ ﷺلَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ رقم (1922)
[2] - صحيح البخاري رقم (6026) صحيح مسلم كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَاب تَرَاحُمِ الْمُؤْمِنِينَ وَتَعَاطُفِهِمْ وَتَعَاضُدِهِمْ رقم (2585)
[3] - صحيح البخاري رقم (6011) صحيح مسلم كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَاب تَرَاحُمِ الْمُؤْمِنِينَ وَتَعَاطُفِهِمْ وَتَعَاضُدِهِمْ رقم (2586)
[4] - صحيح البخاري كتاب الْأَذَانِ بَاب وُجُوبِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ رقم (644)
[2] - صحيح البخاري رقم (6026) صحيح مسلم كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَاب تَرَاحُمِ الْمُؤْمِنِينَ وَتَعَاطُفِهِمْ وَتَعَاضُدِهِمْ رقم (2585)
[3] - صحيح البخاري رقم (6011) صحيح مسلم كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَاب تَرَاحُمِ الْمُؤْمِنِينَ وَتَعَاطُفِهِمْ وَتَعَاضُدِهِمْ رقم (2586)
[4] - صحيح البخاري كتاب الْأَذَانِ بَاب وُجُوبِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ رقم (644)