محمد آصف مغل
سینئر رکن
- شمولیت
- اپریل 29، 2013
- پیغامات
- 2,677
- ری ایکشن اسکور
- 4,008
- پوائنٹ
- 436
اہلسنّت والجماعت جہاں اہل بدعات کو فرداً فرداً کافر یا فاسق کہنے میں جلدی کرنے سے احتیاط برتتے ہیں تاآنکہ ان پر قیام حجت اور ازالہ شبہات نہ ہو جائے ، وہاں وہ کسی مسلمان عالم کو کسی بناپر غلط اجتہاد یا دور کی تاویل کی وجہ سے کافر یا فاسق حتیٰ کہ مرتکب گناہ قرار دینے کو بھی روا نہیں سمجھتے خاص طور پر اگر تاویل ان مسائل میں کی گئی ہو جو ظنیات اور اختلافی ہوں۔اجتہاد یا تاویل کرنے والے مسلمان عالم کے بارے میں اہلسنّت کا مسلک
امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں :
[وہ مسلمان علماء جو علم کلام میں اجتہاد کرلیتے ہیں ان میں سے اگر کسی کے کلام میں غلطی سرزد ہوگئی ہے تو بھی اس کی تکفیر جائز نہیں ہے...چنانچہ جاہلوں کو مسلمان علماء کی تکفیر کا کام سونپ دینا بہت ہی بڑا جرم ہے۔اصل میں اس کی بنیاد خوارج اور روافض سے جاملتی ہے جو اپنے تئیں امور دین میں کچھ غلطیوں کی بناپر ائمہ مسلمین کی تکفیر کرتے ہیں ۔اہلسنّت والجماعت کا اس بات پر اتفا ق ہے کہ علماء امت کی محض کسی غلطی یا لغزش کی بناپر تکفیر جائز نہیں بلکہ سوائے رسول اکرمﷺ کے ہر کسی کی بات لی بھی جاسکتی ہے اور ترک بھی کی جاسکتی ہے اور وہ عالم جس کی کسی غلطی کی بناپر اس کی کوئی بات ترک کرنے کے قابل ہو، ضروری نہیں کہ وہ کافر یا فاسق یاگنہگار ہو...] (مجموع الفتاویٰ ،ج ۳۵ ص ۱۰۰)
قبوری شرک میں مبتلا لوگوں کی بابت صحیح موقف یہ ہے کہ اسلامی ممالک میں رہنے والوں کو اس شرک اکبر کے ارتکاب پر عذر نہیں دیا جائے گا ۔مگر جو لوگ انہیں جہالت کا عذر دیتے ہیں ان کی غلطی اجتہادی نوعیت کی ہے جس کی بنا پر انہیں کافر کہنا غلط ہے ۔ اللجنۃ الدائمہ سعودی عرب قبر پرستوں کو ان کی جہالت کی وجہ سے مسلمان سمجھنے والے موحدین کو کافر کہنے والوں کا رد کرتے ہوئے کہتی ہے :
الحمد للہ وحدہ والصلوۃ والسلام علیٰ رسولہ وآلہ وصحبہ وبعد:
کسی شخص کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا کہ دینی مسائل میں اسے لا علمی کی بنیاد پر معذور قرار دیا جائے یا نہیں اس کا دارو مدار اس بات پر بھی ہے کہ اسے یہ مسئلہ کماحقہ پہنچا بھی ہے یا نہیں اور اس بات پر بھی کہ یہ مسئلہ کس حد تک واضح ہے اور کس حد تک اس میں غموض اورا خفاء پایا جاتاہے اور اس بات پر بھی کہ کسی شخص میں اس بات کو سمجھنے کی استعداد کس حد تک ہے ۔اس لیے جو شخص کسی تکلیف یا مصیبت کو دور کرنے کے لیے قبروں میں مدفون افراد سے فریاد کرتا ہے اسے وضاحت سے بتانا چاہئے کہ یہ شرک ہے اور اس پر اس حد تک اتمام حجت ہونا چاہئے کہ تبلیغ کا فرض اد اہو جائے اس کے بعد بھی اگر وہ شخص قبر پرستی پر اصرار کرے تو وہ مشرک ہے اس سے دنیا میں غیر مسلموں والا سلوک کیا جائے اور اگر اسی عقیدہ پر مرجائے تو آخرت میں سخت عذاب کا مستحق ہو گا ۔