• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اجماع، اجماع کی اقسام وبنیاد ،،اجماع کی حجیت کے دلائل،اجماع کا زمانہ (اصول الفقہ)

ناصر رانا

رکن مکتبہ محدث
شمولیت
مئی 09، 2011
پیغامات
1,171
ری ایکشن اسکور
5,454
پوائنٹ
306
اجماع:

تعریف: لغت میں اجماع کا لفظ دو چیزوں پر بولا جاتا ہے:

۱۔ اتفاق: مثلاً: لوگ فلاں چیز پر جمع ہوگئے ، یہ اس وقت کہا جاتا ہےجب وہ اس چیز پر متفق ہوجائیں، یہ معنی ایک جماعت کے تصور سے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔

۲۔ پختہ ارادہ: مثلاً: فلاں نے اپنی رائے کو فلاں چیز پر جمع کرلیا ہے ، یہ اس وقت کہا جاتا ہے جب وہ اس چیز پر اپنا ارادے کو پختہ کرلے، یہ معنی مفرد اور جماعت دونوں کے تصور سے حاصل ہوسکتا ہے۔

اصطلاح میں:اتفاق جميع العلماء المجتهدين من أمة محمد صلى الله عليه وسلم بعد وفاته في عصر من العصور على أمر ديني“ نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد کسی بھی زمانہ میں آپ کی امت کے تمام مجتہد علماء کا کسی دینی معاملے پر اکھٹے ہوجانا۔

تعریف کی وضاحت: «الاتفاق» کا لفظ ایک جنس ہے جو کئی چیزوں کے لیے عام استعمال ہوتا ہے ، یہاں پر اس سے غیر مراد چیزوں کو بذریعہ چند قیود کے خارج کیا گیا ہے۔ ان قیود کا بیان درج ذیل ہے:

۱۔ تمام مجتہد علماء کی طرف اتفاق کے لفظ کو مضاف کرکے اس سے اس طالب علم کو خارج کیا گیا جو ابھی اجتہاد کے درجے کو نہ پہنچا ہو، چہ جائیکہ وہ عامی یا اس کے حکم میں جو افراد ہیں، وہ ہوں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ان کے کسی مسئلہ پر اکٹھے ہوجانے یا اختلاف کرنے کا اعتبار نہیں ہے۔

۲۔ اسی طرح اس قید سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ اگر بعض مجتہد کسی مسئلہ پر اکٹھے ہوجائیں تو ان کے اکٹھ سے بھی اجماع نہیں کہلا سکتا۔

«من أمة محمد صلى الله عليه وسلم»کی قیدسے دوسری امتوں کا اجماع خارج ہوگیا۔ اور امت سے مراد : امت اجابت ہے ، امت دعوت نہیں ۔

امت اجابت: جو ایمان لاچکے ہیں اور امت دعوت: جن کو ابھی دعوت دی جارہی ہے۔

” بعد وفاته صلى الله عليه وسلم “ کی قید سے مراد اجماع کی ابتداء کے وقت کا بیان ہے ۔ جو اجماع نبی کریمﷺ کے زمانے میں ہوا ہو، اس کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ وہ تو نزول وحی کا زمانہ تھا۔

ہمارے اس قول ” «في عصر من العصور» “ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نبوت کے زمانے کے بعد کسی بھی زمانے میں کیا ہوا اجماع قابل قبول ہوگا ، چاہے وہ صحابہ کے زمانے میں ہوا ہو یا اس کے بعدوالے کسی زمانے میں۔

«على أمر ديني»
کی قید سے امت کےمجتہدین کا کسی عقلی یا عادی مسئلہ پر اتفاق نکل گیا۔

اجماع کی مثالیں:

خاص وغیرہ کی بحث میں اجماع کی مثالیں گزر چکی ہیں۔ ابن حزم رحمہ اللہ کی کتاب مراتب الاجماع میں سے چند مسائل پیش خدمت ہیں ، جن اجماع ہوچکا ہے۔یہ مثالیں ہم نے اس کتاب کے مختلف ابواب سے لی ہیں:

اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ طلاق رجعی والی عورت کو عدت کے دوران رہائش اور خرچہ دیا جائےگا۔

اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ جماع اعتکاف کو فاسد کردیتا ہے۔

اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ کبائر کا مرتکب ہونا اور صغائر پر علی الاعلان عمل کرنا ایسی جرح ہے جس کی وجہ سے اس بندے کی شہادت مردود ہوجاتی ہے۔

اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ ماں کی موجودگی میں دادی/نانی وارث نہیں بن سکتی۔

اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ وارث کےلیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔

اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ قتل خطا کے مرتکب سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔

اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ طلاق رجعی والی مطلقہ جب تک وہ عدت میں ہے تب تک وہ اپنے خاوند کی وراثت پانے کی حق دار ہے ، اسی طرح اس کا خاوند بھی اس کی وراثت پانے کا حقدار ہے۔

اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ عورت کےلیے مباح سفروں میں سے کوئی سفر اپنے خاوند یا محر م کے ساتھ کرنا مباح ہے۔

اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ حرم میں محرم کےلیے جانوروں کو ذبح کرنا جائز ہے۔

10۔ اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ قرآن مجید فرقان حمید میں پندرہ سے سجدات تلاوت نہیں ہیں۔

1 اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ اپنے حیض کے دوران چھوڑےہوئے روزوں کی قضائی دے گی۔

12۔ اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ کوئی شخص کسی زندہ کی طرف سے روزہ نہیں رکھ سکتا۔

ترجمہ کتاب تسہیل الوصول از محمد رفیق طاہر
 

ناصر رانا

رکن مکتبہ محدث
شمولیت
مئی 09، 2011
پیغامات
1,171
ری ایکشن اسکور
5,454
پوائنٹ
306
اجماع کی اقسام:

اپنے وجود کے اعتبار سے اجماع کی دو قسمیں ہیں:

۱۔ اجماع قولی یا فعلی ۲۔ اجماع سکوتی

جس مسئلہ پر اجماع ہورہا ہو اس پر اجماع کرنے والے تمام افراد اپنے قول سے اس کی صراحت کریں یا ایسا فعل کریں جو اس نوزائیدہ اجماعی مسئلہ کے ان کے ہاں جائز ہونے پر دلالت کرے۔

اجماع کے ثبوت کے ذریعے اجماع کے قائلین کے ہاں اجماع کی اس قسم کے حجت ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

اجماع کرنے والوں میں سے بعض کا قول یا فعل ملے اور ان کے ہاں عام ہوجائے اور باقی اس کے بارے میں کلام کرنے یا کوئی فعل کرنے سے خاموش رہیں یا جن لوگوں نے اجماع کیا ہے ان پر اعتراض نہ کریں۔

اس کی مثال عول کا مسئلہ ہے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے دوران کچھ صحابہ کے مشورہ سے یہ فیصلہ کیا تھا اور باقی صحابہ خاموش رہے تھے۔

اجماع کی اس قسم میں اختلاف کیا گیا ہے ۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس اجماع کی مخالفت یا اس سے پیچھے ہٹنا جائز نہیں ہے ۔ اور کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ نہ تو یہ اجماع ہے اور نہ ہی حجت۔ اور کچھ اور لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ حجت تو ہے لیکن اجماع نہیں ہے۔

حجیت کے قائلین نے اس بات سے استدلال کیا ہے کہ تابعین کے ہاں جب صحابہ کرام سے اس طرح کی کوئی بات نقل ہوکر آتی تھی تو وہ اس سے تجاوز کرنے کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔ تو گویا کہ تابعین کا اجماع ہے کہ یہ حجت ہے۔

اور جس شخص کا یہ کہنا ہے کہ یہ حجت نہیں ہے چہ جائیکہ یہ اجماع ہو، اس کی دلیل یہ ہےکہ اس اجماع میں جو مجتہد خاموش رہے ہیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ اس اجماع کی موافقت میں ہوں اور ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اس مسئلہ میں اجتہاد ہی نہ کیا ہو یا اگر کیا ہو تو کسی نتیجہ پر نہ پہنچ سکے ہوں ، یا پھر وہ کسی ڈر کی وجہ سے خاموش رہے ہوں جیسا کہ عول کے مسئلہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بات مروی ہے۔

اور اس وجہ سے بھی کہ اگر مثال کے طور پر علماء کسی برے فعل کے وقوع کے موقع پر خاموش رہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں لیا جاسکتا کہ وہ اس کا انکار کرنے والے نہیں ہیں کیونکہ یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ انکار کے تین درجے ہیں، ہاتھ سے یا زبان سے یا دل سے۔تو ان علماء کا ہاتھ اور زبان سے انکار نہ کرنا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ وہ اس بات کو دل سے بھی برا نہیں جانتے ۔ تو اسی طرح کسی مجتہد کا کسی کام پر سکوت کرنا جو واقع ہوچکا ہو ، اس کے اس کام پر راضی ہونے کی دلیل نہیں ہے کہ یہ کہہ دیا جائے کہ اس نے فلاں مسئلہ پر اجماع سکوتی کرلیا ہے ، جبکہ یہ بات نہ تو اس سے ثابت ہے اور نہ ہی اس کی منسوب کی جاسکتی ہے مگر اسی وقت جب اس واقع ہونے والے مسئلہ میں اس کی رضامندی کامعلوم کرلی جائے اور اسے تو صرف غیبوں کا جاننے والا اللہ رب العالمین ہی جان سکتا ہے۔

ترجمہ کتاب تسہیل الوصول از محمد رفیق طاہر
 

ناصر رانا

رکن مکتبہ محدث
شمولیت
مئی 09، 2011
پیغامات
1,171
ری ایکشن اسکور
5,454
پوائنٹ
306
اجماع کی بنیاد:

کتاب وسنت کی کسی بنیاد پر ہی اجماع ہوسکتا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اجتہاد پر بھی اجماع ہوسکتا ہے۔ لیکن شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب «معارج الوصول إلى أن أصول الدين وفروعه قد بينها الرسولﷺ» اس بات کو ممنوع قرار دیا ہے اور فرمایا ہے: کوئی بھی مسئلہ ایسا نہیں ملتا جس پر اجماع ہو اور وہ نص سے ثابت نہ ہو۔ بعض الناس ایسے مسائل ذکر کرتےہیں جن اجماع ہے لیکن وہ نص پر مبنی نہیں ہیں جیسا کہ مضاربت۔ حالانکہ بات ایسی نہیں ہے بلکہ مضاربت تو لوگوں میں عموماً اور قریش میں خصوصاً جاہلیت کے زمانے سےمشہور چلی آرہی تھی اور ان کی اکثرتجارت کی بنیاد اسی پر تھی۔ مالدار افراد اپنا مال اسی بنیاد پر کام کرنے والوں کے سپرد کیا کرتے تھے۔ نبی کریمﷺ نے بھی نبوت سے پہلے دوسروں کا مال لے کر(تجارت کےلیے) سفرکیے جیسا کہ آپﷺ نے خدیجہ رضی اللہ عنہا کا مال لے کر سفر کیا۔

اور وہ قافلہ جس میں ابوسفیان تھا، اس قافلے کا اکثر مال بطور مضاربت کے ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے پاس تھا۔ تو جب اسلام کا آغاز ہوا تو رسول اللہﷺ نے اسے برقرار رکھا اور آپ کے صحابہ کرام دوسروں کا مال بطور مضاربت لے کر سفر کرتے تھے اور آپﷺ نے کبھی ان کو منع نہیں کیا ۔ اور یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ سنت کی تین قسمیں ہیں: قولی ، فعلی اور تقریری۔ تو جب نبی کریمﷺ نے اس مضاربت کو قائم رکھا تو گویا کہ یہ سنت سے ثابت ہوئی۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا کلام ختم ہوا۔


ترجمہ کتاب تسہیل الوصول از محمد رفیق طاہر
 

ناصر رانا

رکن مکتبہ محدث
شمولیت
مئی 09، 2011
پیغامات
1,171
ری ایکشن اسکور
5,454
پوائنٹ
306
اجماع کی حجیت کے دلائل:

جمہور کا اس بارے میں یہ مذہب ہے کہ اجماع حجت ہے اور اس پر عمل پیرا ہونا واجب ہے۔ اس مسئلہ میں نظام طوسی، شیعہ اور خوارج نے جمہور کی مخالفت کی ہے۔

جمہور نے اجماع کی حجیت پر کئی دلائل سے استدلال کیا ہے ، ان میں سے چند ایک یہ ہیں:

اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان گرامی ہے: ﴿ وَمَن يشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَينَ لَهُ الْهُدَى وَيتَّبِعْ غَيرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا ﴾ [النساء:115] جو شخص باوجود راه ہدایت کے واضح ہو جانے کے بھی رسول (صلی اللہ علیہ وسلم(کا خلاف کرے اور تمام مومنوں کی راه چھوڑ کر چلے، ہم اسے ادھر ہی متوجہ کردیں گے جدھر وه خود متوجہ ہو اور دوزخ میں ڈال دیں گے، اور وہ )جہنم (ٹھکانہ کے اعتبار سے بہت بری جگہ ہے۔

اس آیت سے استدلال کی وجہ یہ ہے کہ اللہ رب العالمین نے مؤمنوں کے راستے کو چھوڑنے والے کو عذاب کی وعید سنائی ہے، تو اس کا مطلب واضح ہے کہ مؤمنوں کے راستے کی پیروی واجب ہے ، اور ایسا اسی وجہ ہے کہ پیروی سبیل المؤمنین حجت ہے۔

نبی کریمﷺ کا فرمان گرامی ہے: «لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين على الحق...» الحديث۔ میری امت میں سے ایک گروہ حق پر جما رہے گا۔۔۔الخ

اگر کسی زمانہ میں سب زمانے والے کسی باطل پر اکٹھے ہوجائیں تو اس زمانہ میں تو اس حدیث کا مصداق پیچھے رہ جائے گا کیونکہ اس زمانہ میں کوئی حق پر جما رہنے والا باقی نہیں ہوگا، اور ایسا ہونا باطل ہے۔ تو تمام زمانے والوں کا خلاف حق بات پر اجماع ہونا بھی باطل ہوگیا۔ تو گویا یہ ایسی حجت بن گیا جس کی اتباع واجب ہے۔

ترجمہ کتاب تسہیل الوصول از محمد رفیق طاہر
 

ناصر رانا

رکن مکتبہ محدث
شمولیت
مئی 09، 2011
پیغامات
1,171
ری ایکشن اسکور
5,454
پوائنٹ
306
اجماع کا زمانہ:​

اجماع کی تعریف میں یہ بات گزر چکی ہے کہ اجماع نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد کسی بھی زمانہ میں ہوسکتا ہے۔ اس میں صحابہ اور ان کے بعد والے زمانوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہی جمہور کا قول ہے۔ بعض نے اس کی مخالفت کی ہے اور اسے صحابہ کے زمانے کے ساتھ خاص کیا ہے۔ یہ قول داؤد ظاہری اور ان کے پیروکار وں کاہے۔ ان کی دلیل یہ ہےکہ: صحابہ کی قلت تعداد اور ان کا ایک جگہ پر اکٹھے ہونا، اور ان کے اندر خواہش نفس کی پیروی پر ابھارنے والے اسباب کی کمی کی وجہ سے ان کا اجماع ہوسکتا ہے، اس پر اطلاع بھی مل سکتی ہے ، اور اس اجماع سے حجت بھی پکڑی جاسکتی ہے۔بخلاف ان لوگوں کے جو بعد میں آئے کیونکہ ان کی کثرت تعداد، خواہشات نفس کا مختلف ہونا اور حکام کا مقابلہ کرنے میں ضعیف ہونا ان کے اجماع کو اور اس پر اطلاع کو عادتاً بعید قراردیتا ہے ۔

جمہور نے اس استدلال کا توڑ اس طرح نکالا ہے کہ شک وشبہ پیدا کرنے والوں کی کثرت اور ان کی خواہشات نفس کے مختلف ہونے کے باوجود ان کا باطل پر اکٹھاہونا ثابت ہے اور اس پر اطلاع بھی پائی گئی ہے ، جیسا کہ یہود نے محمدﷺ کے انکار پر اجماع کیا تھا، تو مسلمانوں کا اجماع اس بات کا زیادہ حق درکھتا ہے کہ وہ واقع ہو اور اس پر اطلاع پائی جائے۔

جمہور کی دلیل یہ ہے کہ : اجماع کی حجیت پر جو دلیلیں مہیا کی گئی ہیں ، وہ ساری ساری عام ہیں، ان میں کسی زمانے کی تخصیص نہیں ہے تو گویا اس بات پر اجماع ہے کہ ہر زمانے کا اجماع حجت ہے۔

کیا اجماع کے منعقد ہونے کےلیے یہ شرط ہے کہ اجماع کرنے والوں کا زمانہ ختم ہوجائے یا نہیں؟


جب کسی زمانے میں مجتہد علماء کسی مسئلہ پر اجماع کرلیں تو کیا ان کے یہ اجماع اسی وقت منعقد ہوجائے گا یا اس کے منعقد ہونے کےلیے یہ ضروری ہے کہ ان (مجتہد علماء)کا زمانہ گزر جائے۔اس بارے میں دو قول ہیں اور دونوں ہی امام احمد سے مروی ہیں۔ ان میں سے پہلاقول صحیح ہے اور یہی جمہور کا قول ہے اور اسی پر آنے والے امور دلالت کرتے ہیں:

کتاب وسنت میں موجود اجماع کے دلائل زمانہ کے ختم ہونے کو واجب قرار نہیں دیتے۔

تابعین نے صحابہ کے اجماع سے ان کا زمانہ ختم ہونے سے پہلے ہی احتجاج کرنا شروع کردیا تھا، تو اگر زمانہ کا گزرجانا شرط ہوتا تو تابعین صحابہ کا زمانہ گزرنے سے پہلے ان کے اجماع سے حجت نہ پکڑتے۔

اگر اجماع کرنے والوں کے زمانے کے گزرنے کی شرط لگائی جائے تو پھر قیامت تک اجماع نہیں ہوسکتا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ہر زمانہ میں افراد پیدا ہوئے ، پروان چڑھتے اور اجتہاد کے درجے تک پہنچتے رہتے ہیں، اور ان کے گزرنے سے پہلے اور لوگ پیدا ہوجاتے ہیں اور اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ اور جو چیز انعقادِ اجماع کے ابطال پر دلالت کرے وہ خود باطل ہوتی ہے۔

اختلاف کا ثمرہ:
اس مسئلہ میں اختلاف دوچیزوں پر مبنی ہے:

زمانہ گزر جانے کی شرط پر بعض اجماع کرنے والوں کا اپنی رائے سے رجوع کرنا جائز ہوجائے گا اور اجماع کے مخالف ہونے کی وجہ سے ان کا اعتبار نہیں کیا جائے گا کیونکہ اجماع تو واقع ہی نہیں۔

اور زمانہ کے گزرنے کی شرط نہ لگانے والے قول کے مطابق اجماع ہوجانے کے بعد کسی کےلیے اپنی رائے سے رجوع کا حق استعمال کرنا جائز نہیں ہوگا کیونکہ جو اجماع ہوا ہوگا وہ یا تو حق پر ہوگا یا باطل پر۔ باطل پر اجماع ہو نہیں سکتا کیونکہ دلائل اس کے خلاف ہیں۔ تو لازمی بات ہے کہ جو بھی اجماع ہوا ہوگا وہ حق ہی ہوگا اور حق سے رجوع کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ہے۔

زمانہ گزرنے کی شرط پر تو ہر اس شخص کی موافقت ضروری ہوگی جو بھی اس زمانہ میں پروان چڑھے اور اجتہاد کے درجےتک پہنچ جائے ورنہ اس کے بغیراجماع مکمل نہیں ہوگا کیونکہ اجماع کے منعقد ہونے کےلیے زمانہ کا گزر جانا شرط ہے۔

اور زمانہ کا گزرنا اگر شرط نہ ہو تو کسی کےلیے اجماع کی مخالفت کرنا جائز نہیں ہوگا کیونکہ وہ تو منعقد ہوچکا ہے۔

ترجمہ کتاب تسہیل الوصول از محمد رفیق طاہر
 
Top