• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

احادیث ہند

zeeshanb514

مبتدی
شمولیت
مئی 13، 2016
پیغامات
2
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
3
میں نے اوریا مقبول جان کی تقریر میں سنا ...
انہون نے صحیح بخاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قیامت کے قریب سندھ میں خرابی ہند کی وجہ سے ہوگی اور ہند کو چین سیدها کرے گا ؟؟؟؟
میرا سوال ہے کہ اس حدیث کی صحت کے متعلق اور صحیح واقعہ کیا ہے ؟؟؟؟
شکریہ

Sent from my GT-I9300I using Tapatalk
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,633
پوائنٹ
791
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
محترم بھائی ::
یہ روایت صحیح بخاری میں نہیں ، بلکہ حدیث کی کسی بھی مستند کتاب میں نہیں ،
یہ روایت ساتویں صدی ہجری کے مالکی فقیہ
علامہ أبو عبد الله محمد بن أحمد القرطبي (المتوفى: 671 ھ) (600 - 671هـ، 1204 - 1273م).
اپنی کتاب ’’ التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة ‘‘
میں بغیر کسی سند کے صیغہ تمریض (روی۔۔ یعنی روایت کیا گیا ) کے ساتھ لکھتے ہیں ( یعنی روایت کرنے والے کا کوئی اتا پتا نہیں )

«روي من حديث حذيفة بن اليمان رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: ويبدأ الخراب في أطراف الأرض حتى تخرب مصر، ومصر آمنة من الخراب حتى تخرب البصرة، وخراب البصرة من العراق، وخراب مصر من جفاف النيل، وخراب مكة من الحبشة، وخراب المدينة من الجوع، وخراب اليمن من الجراد، وخراب الأيلة من الحصار، وخراب فارس من الصعاليك، وخراب الترك من الديلم، وخراب الديلم من الأرمن، وخراب الأرمن من الخزر، وخراب الخزر من الترك، وخراب الترك من الصواعق وخراب السند من الهند، وخراب الهند من الصين، وخراب الصين من الرمل، وخراب الحبشة من الرجفة، وخراب الزوراء من السفياني، وخراب الروحاء من الخسف، وخراب العراق من القحط» .
روایت نقل کرنے کے بعد اس کا اتنا حوالہ دیتے ہیں کہ اسے علامہ ابن الجوزی نے اپنی کتاب ’’ روضۃ المشتاق ‘‘ میں لکھا ہے ،
ذكره أبو الفرج الجوزي رحمه الله في كتاب ’’روضة المشتاق والطريق إلى الملك الخلاق ‘‘

اور ابن الجوزی ؒ چھٹی صدی کے عالم ہیں (508هـ - 597، 1116 - 1201م)
اور ابن الجوزی کی کتاب ابھی تک مطبوع نہیں ،جسے دیکھ کر اس روایت کی اسناد یا مصدر تک پہنچا جائے ،
اس لئے یہ روایت قابل استدلال نہیں ،
 
Top