• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

احرام کی حالت میں حیض آنے پر کیا کیا جائے؟

محدث میڈیا

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
1,099
ری ایکشن اسکور
35
پوائنٹ
111
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
  • اگر عورت نے عمرے کی نیت کی ہے، مکہ پہنچ کر یا اس سے پہلے ہی اسے حیض آ گیا ہے تو اس کے لیے بیت اللہ کا طواف کرنا منع ہے ۔ وہ مکہ میں انتظار کرے گی، حیض سے پاک ہونے کے بعد غسل کر کے عمرہ ادا کرے گی۔اگر اس نے حیض آنے سے پہلے بیت اللہ کا طواف مکمل کر لیا ہے تو وہ اسی حالت میں ہی صفا اور مروہ کی سعی کر سکتی ہے ، کیونکہ حیض کی حالت میں صرف بیت اللہ کا طواف کرنا منع ہے۔
  • اگر عورت نے حج کی نیت کی ہے ، اور اسے حیض کا خون آ گیا ہے تو وہ بیت اللہ کا طواف کرنے کے علاوہ باقی تمام مناسک حج ادا کرے گی، لیکن طواف تب کرے گی جب وہ حیض سے پاک ہونے کے بعد غسل کرلے گی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم سب مدینہ منورہ سے صرف حج کے ارادے سے نکلے، چنانچہ جب ہم مقام سرف پر پہنچے تو مجھے حیض آ گیا۔ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’تجھے کیا ہوا؟ کیا حیض آ گیا ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا:

إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الحَاجُّ، غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ (صحيح البخاري، الحيض: 294)

’’یہ امر تو اللہ تعالیٰ نے بناتِ آدم پر لکھ دیا ہے، لہٰذا تم وہ تمام کام کرو جو حاجی کرتا ہے، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔‘‘

  • اگر عورت نے حج کے تمام مناسک ادا کر لیے ہیں ، طواف افاضہ بھی کر لیا ہے ، لیکن مکہ مکرمہ چھوڑنے سے پہلے اسے حیض آ جائے تو اس پر طواف وداع کرنا واجب نہیں ہو گا ، وہ طواف وداع کیے بغیر ہی مکہ سے جا سکتی ہے۔

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

أُمِرَ النَّاسُ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِمْ بِالْبَيْتِ إِلَّا أَنَّهُ خُفِّفَ عَنْ الْحَائِضِ (صحيح البخاري، الحج: 1755، صحيح مسلم، الحج: 1328)

’’لوگوں کو حکم دیا گیا کہ سب سے آخر میں ان کا عمل بیت اللہ کا طواف ہو مگر ایام ماہواری والی عورت سے تخفیف کی گئی ہے۔‘‘
  • اگر عورت نے حج کے تمام مناسک ادا کر لیے ہیں ، لیکن طواف افاضہ نہیں کیا تو وہ حیض سے پاک ہونے تک انتظار کرے گی ۔ حیض سے پاک ہونے کے بعد غسل کر کے طواف افاضہ کر ے گی۔
  • اگر عورت کو خدشہ ہو کہ طواف افاضہ کرنے سے پہلے اسے حیض آ جائے گا اور اس کے مکہ میں قیام کے دن بھی کم رہ گئے ہیں ، یعنی حیض سے پاک ہونے تک وہ مکہ میں نہیں ٹھہر سکتی اور نہ ہی دوبارہ آ سکتی ہے تو مانع حیض ادویات استعمال کر سکتی ہے۔ واضح رہےکہ اس طرح کی ادویات استعمال کرنے کا نقصان بھی ہو سکتا ہے ، اس لیے کسی معتبر ڈاکٹر سے مشورہ کر لیا جائے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا گیا ، جس کا حیض کا خون رک نہیں رہا تھا ، وہ خون روکنے کے لیے دوا کھانے کا ارادہ رکھتی ہے تو ابن عمر رضی اللہ عنہا نے اس عمل کو جائز قرار دیا ۔ (مصنف عبد الرزاق: 1220)

ایسے ہی اگر عورت کو حیض آ جائے اور اس کا طواف افاضہ باقی ہو، لیکن اس کی واپسی کی فلائٹ کی تاریخ آ چکی ہے، وہ فلائٹ کی تاریخ یا ویزے کی تاریخ بڑھانے کی استطاعت نہیں رکھتی اور اخراجات کے زیادہ ہونے کی وجہ سے دوبارہ آنے کی استطاعت بھی نہیں ہے تو وہ دو کاموں میں سے ایک کام کر سکتی ہے :
  1. حیض روکنے کے لیے کوئی ٹیکہ وغیرہ لگوا لے ، جب حیض رک جائے غسل کر کے طواف کر لے۔
  2. یا شرمگاہ پر مضبوطی سے کپڑا باندھ لے تاکہ مسجد میں خون کے قطرے نہ گریں اور طواف کر لے۔

والله أعلم بالصواب.
 
Top