marhaba
رکن
- شمولیت
- اکتوبر 24، 2011
- پیغامات
- 99
- ری ایکشن اسکور
- 274
- پوائنٹ
- 68
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید کہ آپ سب بخیر و بعافیت ہوں ۔۔۔ آج ایک تحریر نظر سے گزری ،اسے پڑھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔۔۔ میں مسئلہ ھذا "اختلاف رائے"کے بارے میں آپ حضرات کی بھی رائے جاننا چاہتا ہوں ۔۔۔ امید کہ اپنی رائے سے مطلع فرمائیں گے ۔۔۔۔ شکریہ ۔۔۔۔۔ وہ تحریر یہ ہے
"مولانا محمود حسن دیو بندی تحریک خلافت کے پر جوش حامیوں میں سے تهے-
ان کے شاگرد مولانا اشرف علی تهانوی تحریک خلافت کے مخالف تهے-
وه اس تحریک پر کهلم کهلا تنقید کرتے تهے-مگر استاد نے اپنے شاگرد کی اس "گستاخی" کو کبهی برا نہیں مانا-
دونوں کے درمیان آخر وقت تک مخلصانہ تعلق باقی رہا-
مولانا اشرف علی تهانوی ایک گفتگو کے ذیل میں اپنے استاد اور شیخ کے بارے میں لکهتے ہیں:
"حضرت کے قلب پر میرے اختلاف سے ذره برابر بهی گرانی نہ تهی-ایک مرتبہ تحریک خلافت کے زمانہ میں حضرت کی بیٹهک میں کچهہ لوگ بیٹهے هوئے تهے میرے متعلق برے الفاط کہہ رہے تهے-
کچهہ الفاظ حضرت کے کانوں میں پڑگئے-باہر تشریف لے آئے-بہت خفا هوئے اور یہ فرمایا کہ خبردار،جو آئنده ایسے الفاظ کبهی استعمال کئے-
اور یہ فرمایا کہ میرے پاس کیا وحی آتی ہے کہ جو کچهہ میں کر رہا هوں وه سب ٹهیک ہے-میری بهی ایک رائے ہے،اس کی بهی ایک رائے ہے-
ایک مرتبہ حضرت نے فرمایا کہ ہمیں تو اس پر فخر ہے کہ جو شخص تمام ہندوستان سے بهی متاثر نہ هوا اور کسی کی بهی پروا نہ کی وه بهی ہماری ہی جماعت سے ہے"-
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازه هوتا ہے کہ اختلاف کے معاملہ میں علماء امت کا طریقہ کیا هونا چاہئے-
اس طرح کے اختلاف میں وہی روح کارفرما هونی چاہئے جس کو امام شافعی نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے:
میری رائے درست ہے،مگر احتمال خطا کے ساتهہ،دوسرے کی رائے غلط ہے احتمال صحت کے ساتهہ-
یہ اختلافات عام طور پر اجتہادی امور میں هوتے ہیں اور اجتہادی امور میں ہمیشہ ایک سے زیاده رائے کی گنجائش هوتی ہے-
اس لئے صحیح ترین مسلک یہ ہے کہ آدمی اختلاف کے باوجود اپنے آپ کو فریق ثانی کی نفرت سے بچائے-
وه اپنے نقطہ نظر کو شدت کے ساتهہ پیش کرے، اس کے باوجود اس کی نفسیات یہ هو کہ یہ معاملہ 50فیصد اور 50 فیصد کا ہے نہ کہ صد فی صد کا- "
کمپوزنگ:جہانگیرآفریدی