• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اختلاف کے آداب اور امت میں انتشار کے نقصانات قرآن و سنت کی روشنی میں

شمولیت
ستمبر 13، 2026
پیغامات
17
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
6
اختلاف کے آداب اور امت میں انتشار کے نقصانات قرآن و سنت کی روشنی میں

تحریر ! شیخ ارشادالحق جامعی شاہ پوری

اسلام دینِ حق، دینِ رحمت اور دینِ اخوت ہے۔ اس نے مسلمانوں کو ایمان، عبادت، اخلاق اور باہمی تعلقات کے ایسے اصول عطا کیے ہیں جن کی بنیاد پر ایک صالح اور متحد معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔ اسلام نے مسلمانوں کو حق پر قائم رہنے، کتاب و سنت کی پیروی کرنے، خیر خواہی اختیار کرنے اور باہمی نزاعات کو عدل و انصاف کے ساتھ حل کرنے کی تعلیم دی ہے۔
لیکن انسانی طبیعتوں، فہم و ادراک، علمی صلاحیتوں اور اجتہادی آرا میں فرق کی وجہ سے بعض مسائل میں اختلاف پیدا ہو سکتا ہے۔ ہر اختلاف قابلِ مذمت نہیں، اور ہر اختلاف امت کے انتشار کا سبب بھی نہیں بنتا۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اختلاف کے آداب پامال کر دیے جائیں، ذاتی پسند و ناپسند کو حق کا معیار بنا لیا جائے، مخالف کی نیتوں پر حملے کیے جائیں، اہلِ علم کی تحقیر کی جائے اور معمولی مسائل کو دشمنی، قطع تعلقی اور گروہ بندی کا ذریعہ بنا لیا جائے۔
امت کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان حق کو پہچاننے اور اس کی پیروی کرنے کے ساتھ اختلاف کے شرعی آداب بھی سیکھیں۔ حق بات کو دلیل کے ساتھ بیان کریں، غلطی کی اصلاح حکمت کے ساتھ کریں اور کسی شخص سے اختلاف کی وجہ سے اس کے وہ حقوق پامال نہ کریں جو اسلام نے اس کے لیے مقرر کیے ہیں۔

1۔ اتحادِ امت کا قرآنی حکم
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا
ترجمہ: ’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔‘‘
(سورۃ آل عمران: 103)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنی رسی مضبوطی سے تھامنے اور تفرقے سے بچنے کا حکم دیا ہے۔
اللہ کی رسی سے مراد اللہ کا دین اور اس کی نازل کردہ ہدایت ہے۔ مسلمانوں کا حقیقی اتحاد اسی وقت مضبوط ہو سکتا ہے جب وہ کتاب و سنت کو اپنی رہنمائی کا بنیادی سرچشمہ بنائیں۔
یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے: اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مسئلے میں تمام مسلمانوں کی آرا یکساں ہو جائیں، بلکہ مطلوب یہ ہے کہ مسلمان حق کی پیروی کریں، اختلاف کے وقت شرعی حدود کی پابندی کریں اور ایک دوسرے کے حقوق پامال نہ کریں۔

2۔ تفرقہ اور باہمی نزاع سے اجتناب
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ
ترجمہ: ’’اور آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی، اور صبر کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘
(سورۃ الأنفال: 46)
اس آیت میں باہمی نزاع کے ایک بڑے نقصان کی نشاندہی کی گئی ہے: مسلمانوں کی قوت اور اثر پذیری کمزور ہو جاتی ہے۔
جب کسی جماعت کی توانائیاں علم، دعوت، تعلیم، اصلاح اور خدمتِ خلق کے بجائے باہمی جھگڑوں میں صرف ہونے لگیں تو اس کے تعمیری کام متاثر ہوتے ہیں۔
اس لیے اختلاف کے وقت یہ دیکھنا چاہیے کہ ہمارا طرزِ گفتگو مسئلے کو حل کر رہا ہے یا اسے مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔

3۔ اختلاف کے وقت اللہ اور رسول ﷺ کی طرف رجوع
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ
ترجمہ: ’’پھر اگر کسی چیز میں تمہارے درمیان اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو، اگر تم اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘
(سورۃ النساء: 59)
یہ آیت اختلافات کے حل کے لیے بنیادی اصول فراہم کرتی ہے۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ کسی مسئلے میں اختلاف ہو تو محض جذبات، شخصیات، خاندانی وابستگی یا گروہی تعصب کی بنیاد پر فیصلہ نہ کریں، بلکہ متعلقہ دلائل کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔
دینی مسائل میں اہلِ علم کی طرف رجوع، دلائل کا صحیح فہم اور نصوص کو ان کے سیاق و سباق میں سمجھنا ضروری ہے۔
محض کسی آیت یا حدیث کا حوالہ دے دینا کافی نہیں؛ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اس کا مسئلے سے تعلق کیا ہے اور اہلِ علم نے اس سے کیا استدلال کیا ہے۔

4۔ اختلاف میں عدل و انصاف کا اہتمام
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ
ترجمہ: ’’اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔‘‘
(سورۃ المائدۃ: 8)
یہ اصول اختلاف کے آداب میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
کسی شخص کی بات سے اختلاف ہو جائے تو اس کی ہر بات کو غلط قرار دینا انصاف نہیں۔ اسی طرح کسی شخص سے محبت کی وجہ سے اس کی ہر بات کو درست سمجھ لینا بھی درست طرزِ عمل نہیں۔
حق اور باطل کا معیار دلیل ہے، نہ کہ شخصی محبت یا نفرت۔
اختلاف کے وقت مسلمان کو چاہیے کہ مخالف کی بات کو درست طور پر نقل کرے، اس کے موقف کو توڑ مروڑ کر پیش نہ کرے اور جہاں وہ درست بات کہے وہاں اس کی بات کی صحت تسلیم کرنے میں تنگ دلی سے کام نہ لے۔

5۔ اختلاف میں زبان کی حفاظت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ
ترجمہ: ’’جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔‘‘
(صحیح البخاری: 6018؛ صحیح مسلم: 47)
یہ حدیث اختلاف کے وقت گفتگو کے لیے ایک جامع اصول فراہم کرتی ہے۔
اگر کسی شخص کی بات غلط معلوم ہو تو اس کی اصلاح دلیل اور حکمت کے ساتھ کی جائے۔ گالی، تمسخر، بہتان، تحقیر اور ذاتی حملوں سے اجتناب کیا جائے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ خاموشی ہر صورت میں مطلوب نہیں؛ جہاں حق واضح کرنا، ظلم کی نشاندہی کرنا یا غلطی کی اصلاح کرنا ضروری ہو، وہاں حکمت اور مناسب الفاظ کے ساتھ بات کرنا چاہیے۔
اصل مقصود یہ ہے کہ زبان حق کے اظہار اور اصلاح کا ذریعہ بنے، نہ کہ نفرت اور فساد کا۔

6۔ مسلمان کی عزت و آبرو کا احترام
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَىٰ أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے، ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔‘‘
(سورۃ الحجرات: 11)
یہ آیت مسلمانوں کو تمسخر اور تحقیر سے روکتی ہے۔
علمی اختلاف کے باوجود کسی شخص کی عزت پامال کرنا، اس کی تحقیر کرنا یا اس کی ذاتی کمزوریوں کو اچھالنا اصلاح کا درست طریقہ نہیں۔
اگر کسی عالم یا داعی سے علمی غلطی ہو جائے تو اس غلطی کی علمی وضاحت کی جا سکتی ہے۔ لیکن غلطی کی نشان دہی اور شخصیت کی تذلیل دو الگ چیزیں ہیں۔
اصلاح کا مقصد حق کو واضح کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ مخالف کو لوگوں کی نظروں میں گرانا۔

7۔ بدگمانی، تجسس اور غیبت سے اجتناب
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا
ترجمہ: ’’بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور تجسس نہ کرو اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔‘‘
(سورۃ الحجرات: 12)
بعض اوقات اختلاف کسی علمی مسئلے سے شروع ہوتا ہے، لیکن رفتہ رفتہ لوگوں کی نیتوں کے بارے میں فیصلے، خفیہ باتوں کی تلاش اور غیبت تک پہنچ جاتا ہے۔
یہ طرزِ عمل اختلاف کو مزید بگاڑ دیتا ہے۔
مسلمان کو چاہیے کہ کسی کے بارے میں بلا دلیل بدگمانی نہ کرے، اس کی نیت کا فیصلہ کرنے سے بچے اور علمی گفتگو کو ذاتی دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دے۔

8۔ اختلاف کے باوجود اسلامی اخوت برقرار رکھنا
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ
ترجمہ: ’’مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دو۔‘‘
(سورۃ الحجرات: 10)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ باہمی نزاع کی صورت میں مسلمانوں کو اصلاح اور صلح کی کوشش کرنی چاہیے۔
اختلاف کی وجہ سے ہر تعلق ختم کر دینا، ہر مخالف کو دشمن سمجھنا اور ہر معاملے کو گروہی وفاداری کا مسئلہ بنا دینا درست نہیں۔
البتہ جہاں حق کی وضاحت، ظلم سے روکنا یا کسی شرعی غلطی کی اصلاح ضروری ہو، وہاں حکمت کے ساتھ اپنا موقف بیان کیا جائے۔
اسلامی اخوت کا تقاضا یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود خیر خواہی، عدل اور حقوق کی رعایت باقی رہے۔

9۔ امت میں انتشار کے نقصانات
امت میں انتشار کے متعدد دینی، دعوتی اور معاشرتی نقصانات ہیں، جن میں اہم درج ذیل ہیں:

اول: اجتماعی قوت میں کمی۔ باہمی جھگڑے مسلمانوں کی صلاحیتوں اور وسائل کو کمزور کر سکتے ہیں، جیسا کہ سورۃ الأنفال کی آیت 46 میں تنبیہ کی گئی ہے۔

دوم: دعوتی کام متاثر ہونا۔ جب داعیانِ دین کی توانائیاں باہمی تنازعات میں صرف ہونے لگیں تو تعلیم، دعوت، اصلاح اور خدمتِ خلق کے کام پیچھے رہ سکتے ہیں۔

سوم: عوام میں بداعتمادی۔ مسلسل الزامات، مناظرانہ تلخی اور غیر محتاط گفتگو سے عام لوگ دینی رہنمائی کے بارے میں بدگمان ہو سکتے ہیں۔

چہارم: نئی نسل کی فکری الجھن۔ جب نوجوان دیکھتے ہیں کہ دینی شخصیات باہمی اختلاف میں شائستگی اور انصاف کا لحاظ نہیں رکھتیں تو ان کے ذہنوں میں دین کے نمائندوں کے بارے میں سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔

پنجم: وقت اور وسائل کا ضیاع۔ علمی تحقیق، تعلیم اور اصلاح کے لیے استعمال ہونے والا وقت غیر ضروری بحث و تکرار میں صرف ہو سکتا ہے۔

ششم: دشمنی اور قطع تعلقی۔ جب اختلاف میں ذاتی حملے شامل ہو جائیں تو خاندانوں، دوستوں، طلبہ اور دینی حلقوں کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔
ان نقصانات سے بچنے کے لیے اختلاف کو علمی حدود میں رکھنا، شرعی آداب کی پابندی کرنا اور اصلاح کے لیے حکمت اختیار کرنا ضروری ہے۔


10۔ سوشل میڈیا پر اختلاف کے آداب

موجودہ دور میں سوشل میڈیا نے معلومات کی ترسیل کو آسان بنا دیا ہے، لیکن غیر مصدقہ باتوں، نامکمل اقتباسات اور جذباتی تبصروں کے پھیلاؤ کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔
اس لیے دینی اختلافات میں درج ذیل اصول اختیار کرنے چاہییں:

1) کسی بات کو آگے پھیلانے سے پہلے اس کی تحقیق کی جائے۔

2)کسی عالم یا داعی کی بات نقل کرتے وقت مکمل سیاق و سباق کا خیال رکھا جائے۔

3) ذاتی حملوں اور تحقیر آمیز القاب سے اجتناب کیا جائے۔

4) علمی اعتراض کو دلیل کے ساتھ پیش کیا جائے۔

5) اختلافی گفتگو میں جذبات کے بجائے علم اور انصاف کو مقدم رکھا جائے۔

6) ہر بحث میں شریک ہونا ضروری نہ سمجھا جائے۔

اگر گفتگو اصلاح کے بجائے محض اشتعال اور تضحیک کا ذریعہ بن رہی ہو تو اس سے الگ ہو جانا بہتر ہو سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر لکھی گئی بات بھی اخلاقی ذمہ داری کا حصہ ہے۔ اس لیے مسلمان کو اپنی تحریر، تبصرے اور شیئر کی گئی معلومات کے بارے میں جواب دہی کا احساس رکھنا چاہیے۔


11۔ اتحادِ امت کے لیے عملی اقدامات

امت میں اصلاح اور باہمی قربت کے لیے چند عملی اقدامات اہم ہیں:

1) کتاب و سنت کی تعلیم کو عام کیا جائے۔

2)علمی مسائل میں مستند اہلِ علم کی طرف رجوع کیا جائے۔

3) اختلاف کے آداب کو مساجد، مدارس اور تعلیمی حلقوں میں سکھایا جائے۔

4) علمی غلطیوں کی اصلاح دلیل اور حکمت کے ساتھ کی جائے۔

5) مشترکہ دینی، تعلیمی اور فلاحی کاموں میں تعاون کیا جائے۔

6) عوام کے سامنے اختلافات کو بیان کرتے ہوئے عدل اور امانت کا اہتمام کیا جائے۔

7) باہمی نزاع کی صورت میں قابلِ اعتماد اہلِ علم اور مصلحین کے ذریعے صلح کی کوشش کی جائے۔

8) اپنی رائے سے اختلاف کرنے والوں کے حقوق اور عزت کا خیال رکھا جائے۔

اتحاد کا مطلب حق و باطل میں امتیاز ختم کرنا نہیں، بلکہ حق کی پیروی کرتے ہوئے شرعی حدود اور باہمی حقوق کی حفاظت کرنا ہے۔


اختتامیہ
اختلاف انسانی معاشرت کا ایک معروف پہلو ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی، تعصب، بدزبانی اور انتشار میں تبدیل ہونے سے بچانا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
اسلام ہمیں حق کی پیروی، دلیل کی بنیاد پر گفتگو، عدل و انصاف، زبان کی حفاظت اور اسلامی اخوت کی تعلیم دیتا ہے۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اختلاف کے وقت اپنی نیتوں کا جائزہ لیں، قرآن و سنت کی طرف رجوع کریں، دوسروں کی بات کو انصاف کے ساتھ سمجھیں اور اپنی گفتگو کو اصلاح کا ذریعہ بنائیں۔
امت کی حقیقی قوت محض ظاہری اتفاق میں نہیں، بلکہ حق کی پیروی، علم، تقویٰ، عدل، خیر خواہی اور شرعی حدود کی پابندی میں ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو پہچاننے، اس کی پیروی کرنے، اختلاف کے آداب اختیار کرنے اور امت میں خیر و اصلاح کا ذریعہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
 
Top