محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,049
- ری ایکشن اسکور
- 34
- پوائنٹ
- 111
قرآن وسنت میں اذان اور اقامت کے درمیانی وقت کی کوئی تحدید نہیں کی گئی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے، سیدہ ام فروہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا، اعمال میں سے کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
الصَّلَاةُ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا (سنن أبي داود، الصلاة: 426)(صحيح)
”نماز اول وقت میں ادا کرنا۔“
إِنَّ شِدَّةَ الحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاَةِ (صحیح البخاری، مواقیت الصلاۃ: 539)
’’گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہوتی ہے، اس لیے جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو۔‘‘
والله أعلم بالصواب.
الصَّلَاةُ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا (سنن أبي داود، الصلاة: 426)(صحيح)
”نماز اول وقت میں ادا کرنا۔“
- اس لیے اگر انسان نے اکیلے نماز ادا کرنی ہو، قریب کوئی مسجد نہ ہو تو افضل یہ ہے کہ جوں ہی نماز کاوقت داخل ہو ، نماز ادا کرلے۔
- مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کے لیے اذان اور اقامت کے درمیان اتنا وقت ضرور دینا چاہیے کہ لوگ آسانی کے ساتھ وضو وغیرہ کر کے مسجد میں آ جائیں۔
- اگر لوگوں کو مشقت نہ ہو تو عشاء کی نماز کو تاخیر سے پڑھنا افضل ہے۔
- شدید گرمی کے دنوں میں ظہر کی نماز کو تاخیر سے پڑھنا افضل ہے۔
إِنَّ شِدَّةَ الحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاَةِ (صحیح البخاری، مواقیت الصلاۃ: 539)
’’گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہوتی ہے، اس لیے جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو۔‘‘
والله أعلم بالصواب.