رضا میاں
سینئر رکن
- شمولیت
- مارچ 11، 2011
- پیغامات
- 1,557
- ری ایکشن اسکور
- 3,583
- پوائنٹ
- 384
اسلام علیکم
پہلے ایک سوال میں آپ نے فرمایا تھا کہ ارسال کرنے والے کا عن سے روایت کرنا جبکہ اس کے شیخ سے اس کی معاصرت ثابت ہو تو سماع پر محمول ہوتی ہے۔
لیکن اگر کوئی راوی ارسال کرتا ہو اور اپنے کسی خاص شیخ سے اس نے سماع کی تصریح تو کیا کبھی عن سے بھی روایت نہ کیا ہو مثلا کہے: قال فلان، یا یردہ الی فلان وغیرہ۔ لیکن ایک بھی روایت میں اس نے نہ تو سماع کی تصریح کی اور نہ ہی کبھی عن سے روایت کیا، جبکہ صرف اس کی معاصرت ثابت ہے۔ اس حالت میں اس کو سماع پر محمول کیا جائے گا؟
اور "یردہ الی فلان" کہنے میں کوئی خاص فرق تو نہیں؟ مثلا یہ لفظ اس سند میں یوں استعمال ہوا ہے:
ثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ فَضَالَةَ، يَرُدُّهُ إِلَى ابْنِ عَائِذٍ , يَرُدُّهُ ابْنُ عَائِذٍ إِلَى جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ۔۔۔
اور آخر میں یہ بھی بتا دیں کہ یہی حکم ارسال نہ کرنے والے کے بارے میں کیا ہو گا؟
جزاک اللہ خیرا
پہلے ایک سوال میں آپ نے فرمایا تھا کہ ارسال کرنے والے کا عن سے روایت کرنا جبکہ اس کے شیخ سے اس کی معاصرت ثابت ہو تو سماع پر محمول ہوتی ہے۔
لیکن اگر کوئی راوی ارسال کرتا ہو اور اپنے کسی خاص شیخ سے اس نے سماع کی تصریح تو کیا کبھی عن سے بھی روایت نہ کیا ہو مثلا کہے: قال فلان، یا یردہ الی فلان وغیرہ۔ لیکن ایک بھی روایت میں اس نے نہ تو سماع کی تصریح کی اور نہ ہی کبھی عن سے روایت کیا، جبکہ صرف اس کی معاصرت ثابت ہے۔ اس حالت میں اس کو سماع پر محمول کیا جائے گا؟
اور "یردہ الی فلان" کہنے میں کوئی خاص فرق تو نہیں؟ مثلا یہ لفظ اس سند میں یوں استعمال ہوا ہے:
ثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ فَضَالَةَ، يَرُدُّهُ إِلَى ابْنِ عَائِذٍ , يَرُدُّهُ ابْنُ عَائِذٍ إِلَى جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ۔۔۔
اور آخر میں یہ بھی بتا دیں کہ یہی حکم ارسال نہ کرنے والے کے بارے میں کیا ہو گا؟
جزاک اللہ خیرا