ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 813
- ری ایکشن اسکور
- 225
- پوائنٹ
- 111
استبدال شریعت اور وضعی قوانین کا نفاذ کبیرہ گناہ یا کفر اکبر؟ شیخ حسان حسین الصومالی حفظہ اللہ کی توضیح
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:
کفر دون کفر اور کفرِ اکبر کا مسئلہ ان عظیم عقدی مسائل میں سے ہے جن میں اس دور کے مرجئہ، اہل باطل اور طاغوتی نظاموں کا دفاع کرنے والے مدخلیوں نے شدید خلط مبحث پیدا کیا ہے۔ چنانچہ وہ ہر قسم کے حکم بغیر ما أنزل اللہ کو محض گناہ اور کفر دون کفر قرار دے کر ان حکمرانوں، عدالتوں اور نظاموں کا دفاع کرتے ہیں جو کھلے عام شریعتِ الٰہیہ کو چھوڑ کر وضعی قوانین نافذ کرتے اور طاغوتی دستوروں کو حاکم بناتے ہیں۔
حالانکہ اہل سنت والجماعت نے ہمیشہ یہ فرق واضح کیا ہے کہ کسی خاص مقدمے میں خواہشِ نفس، رشوت یا ظلم کی وجہ سے خلافِ شرع فیصلہ کرنا ایک باب ہے، جبکہ اللہ کے حکم کو بدل کر اس کی جگہ انسانی قوانین نافذ کرنا، یا وضعی قوانین کا التزام اختیار کرنا، بالکل دوسرا باب ہے، اور یہی کفرِ اکبر، استبدالِ شریعت اور تحکیمِ طاغوت کی حقیقت ہے۔
اسی اصولی فرق کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتے ہوئے شیخ ابو سلمان حسان حسين آدم الصومالي حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
الحاكم لا يقضي إلا في القضايا العينيّة.
- فإن ترك إقامة الحدّ على الزاني مثلا لقبول شفاعة أو رشوة ولم يحكم بشيء آخر فهو صاحب كبيرة (كفر دون كفر).
حاکم عموماً معین مقدمات ہی میں فیصلہ کرتا ہے۔
پس اگر وہ کسی زانی پر حد قائم کرنا صرف سفارش یا رشوت قبول کرنے کی وجہ سے چھوڑ دے، اور اس کے بدلے کوئی دوسرا حکم نافذ نہ کرے، تو وہ کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے (یعنی کفر دون کفر)۔
- وإن ترك الحدّ الشرعي وحكم بالسجن مثلا فهو كافر (كفر أكبر).
لیکن اگر وہ شرعی حد کو چھوڑ کر اس کی جگہ مثلاً قید کی سزا نافذ کرے، تو وہ کافر ہے (یعنی کفرِ اکبر)۔
- وإن ترك الحدّ جحودا ...، أو التزاما لقانون فهو كافر أيضا (كفر أكبر).
اسی طرح اگر وہ شرعی حد کا انکار کرتے ہوئے اسے ترک کرے، یا کسی وضعی قانون کی پابندی اور التزام کی وجہ سے شریعت کو چھوڑ دے، تو وہ بھی کافر ہے (یعنی کفرِ اکبر)۔
شیخ حسان حسين الصومالي کا یہ کلام اس دور کے مرجئہ، جمہوریت پرستوں اور وضعی قوانین کے دفاع کرنے والے مدخلیوں پر ایک نہایت واضح اور اصولی رد ہے، جو ہر قسم کے حکم بغیر ما أنزل اللہ کو صرف معصیت قرار دے کر کفرِ اکبر کے باب کو تقریباً معطل کر دینا چاہتے ہیں۔
شیخ نے ابتدا ہی میں ایک نہایت اہم فرق واضح کیا کہ ہر خلافِ شرع فیصلہ ایک ہی درجے کا نہیں ہوتا۔ چنانچہ فرمایا: "فإن ترك إقامة الحدّ ... لقبول شفاعة أو رشوة ... فهو صاحب كبيرة" یعنی اگر کوئی حاکم کسی خاص مقدمے میں رشوت، سفارش یا خواہشِ نفس کی وجہ سے شرعی حد نافذ نہ کرے، جبکہ وہ شریعت کے حکم کو حق مانتا ہو اور اس کے بدلے کوئی دوسرا قانون بھی نافذ نہ کرے، تو یہ کبیرہ گناہ ہے، جسے سلف نے کفر دون کفر کہا ہے۔
یہی وہ صورت ہے جسے بہت سے مدخلی مرجئہ ہر مسئلے پر چسپاں کر دیتے ہیں، حالانکہ سلف کا مقصود ہرگز یہ نہیں تھا کہ شریعت کو چھوڑ کر وضعی قوانین نافذ کرنے والوں کو بھی اسی حکم میں داخل کر دیا جائے۔
اسی لیے شیخ نے فوراً دوسری صورت بیان کی: "وإن ترك الحدّ الشرعي وحكم بالسجن مثلا فهو كافر" یعنی اگر حکمران اللہ کی مقرر کردہ حد کو چھوڑ کر اس کی جگہ کوئی دوسرا انسانی قانون نافذ کرے، مثلاً حد کے بجائے جیل کی سزا مقرر کرے، تو یہ کفرِ اکبر ہے۔
یہاں شیخ نے واضح کر دیا کہ اصل مسئلہ صرف گناہ یا خواہشِ نفس کا نہیں، بلکہ تشریع اور استبدال کا ہے۔ یعنی جب کوئی حکمران اللہ کے حکم کو بدل کر اس کی جگہ انسانی قانون نافذ کرتا ہے، تو وہ عملاً اپنے آپ کو حقِ تشریع میں اللہ کا شریک بنا رہا ہوتا ہے۔ اور یہی وہ حقیقت ہے جسے مدخلی مرجئہ جان بوجھ کر چھپاتے ہیں۔
مداخلہ ہر اس حکمران، اسمبلی اور عدالت کا دفاع کرتے ہیں جو قرآن و سنت کو چھوڑ کر فرانسیسی، برطانوی یا اقوامِ متحدہ کے قوانین نافذ کرے، پھر بھی کہتے ہیں یہ صرف گناہ ہے، کفر نہیں! حالانکہ شیخ حسان الصومالی حفظہ اللہ نے ایسے حاکم کے متعلق صاف الفاظ میں فرمایا: "فهو كافر (كفر أكبر)" وہ کافر ہے، یعنی کفرِ اکبر کا مرتکب ہے۔
پھر شیخ نے ایک اور اہم صورت بیان کی: "أو التزاما لقانون فهو كافر أيضا" یعنی اگر حکمران شرعی حکم کو اس لیے چھوڑ دے کہ وہ کسی وضعی قانون، آئین یا جاہلی نظام کا پابند ہے، تو وہ بھی کافر ہے۔ یہ ان تمام لوگوں پر حجت ہے جو کہتے ہیں: ہم کیا کریں؟ ملکی قانون یہی ہے! بین الاقوامی نظام یہی چاہتا ہے! آج کے دور میں شریعت نافذ نہیں ہو سکتی!
یہ تمام عذر دراصل طاغوتی قوانین کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہیں۔ کیونکہ مؤمن کا شعار یہ نہیں کہ وہ اللہ کے حکم کو چھوڑ کر پارلیمنٹ، آئین یا عالمی دباؤ کی پیروی کرے، بلکہ مؤمن وہ ہے جو قرآن و سنت کا تابع ہو۔
مدخلیوں کی گمراہی یہ ہے کہ انہوں نے حاکمیت میں اللہ کی توحید اور طاغوت سے براءت کے باب کو حقیر بنا دیا۔ چنانچہ اگر کوئی حکمران کھلے عام شریعت کو بدل دے، جاہلی قوانین نافذ کرے، اور اللہ کے حکم کے بجائے انسانی قانون کو حاکم بنا دے، تب بھی وہ کہتے ہیں کہ جب تک وہ حلال نہ سمجھے، کافر نہیں!
حالانکہ سلف اور اہل سنت کے ائمہ نے استبدالِ شریعت، التزامِ قانون اور تحکیمِ طاغوت کو کفرِ اکبر کے ابواب میں شمار کیا ہے، کیونکہ یہ صرف معصیت نہیں بلکہ اللہ کے حقِ حاکمیت میں منازعت ہے۔
پس مسلمان پر واجب ہے کہ وہ مدخلیوں کے ان شبہات سے بچے، اور یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہی واجب الاتباع ہے، اور جو شخص اس کے مقابل جاہلی قوانین نافذ کرے، یا ان کا التزام اختیار کرے، وہ ایک عظیم ناقضِ اسلام کا مرتکب ہوتا ہے۔
ونسأل الله الثبات على التوحيد والسنة، والبراءة من الشرك والطاغوت، وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔
Last edited: