• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

استشہادی کارروائیوں کا شرعی جواز شیخ ابن عثیمین کے فتویٰ کی روشنی میں

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
846
ری ایکشن اسکور
227
پوائنٹ
111
استشہادی کارروائیوں کا شرعی جواز شیخ ابن عثیمین کے فتویٰ کی روشنی میں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للّٰہ ربِّ العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، و علیٰ من تبع ہداہُ و اقتفیٰ أثرہ إلیٰ یوم الدین۔

امّا بعد


بعض اشخاص اپنے فہمِ قاصر کے بل بوتے پر ایسے مسائلِ جلیلہ میں کلام آرائی کرتے پائے جاتے ہیں جن میں سلفِ صالحین کے مناہج و اقوال قطعی طور پر موجود ہوں، مگر یہ گروہ ظواہرِ متشابہات سے التباس پیدا کرتا اور نصوصِ فقہیہ کے مدارک کو ترک کر دیتا ہے۔ چنانچہ ان لوگوں نے استشہادی کاروائیوں کو مطلقاً "خودکشی" سے تعبیر کیا، اور اس میں وارد قیود و شروطِ شرعیہ کو نظرانداز کر کے ایک ایسا مسلک وضع کیا جو نہ سلف کا ہے، نہ ائمۂ محققین کا۔ پس ان کے جواب میں شیخ محمد بن صالح العثیمین کا فتوٰی پیش خدمت ہے۔

سئل فضيلة الشيخ- رحمه الله-: قام أحد الرجال في فلسطين بوضع متفجرات على نفسه، ودخل بين اليهود وقتل أكثر من عشرين يهوديًّا، وجرح قريباً من خمسين وبعضهم يعلل ويقول: إن لم يقتل اليوم قتل غداً، فهل هذا الفعل منه يُعتبرَ انتحارًا، أو يعتبر جهادًا؟

فضیلۃ الشیخ رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا: فلسطین میں ایک شخص نے اپنے جسم پر دھماکا خیز مواد باندھا، اور یہودیوں کے درمیان داخل ہو کر بیس سے زیادہ یہودیوں کو قتل کر دیا، اور تقریباً پچاس کو زخمی کیا۔ اور کچھ لوگ اس عمل کی یہ تعلیل کرتے ہیں کہ: "اگر وہ آج نہ مارے تو کل مارا جائے گا"۔ تو کیا اس کا یہ فعل خودکشی شمار ہوگا یا جہاد؟

فأجاب بقوله: هذا الذي وضع على نفسه هذا اللِّباس الذي يقتل، أول من يقتل نفس الرجل، لاشكَّ أنه هو الذي تَسبَّبَ لقتل نفسه، ولا يجوز مثل هذه الحال إلا إذا كان في ذلك مصلحةٌ كبيرة للإسلام، لا لقتل أفرادٍ من الناس لا يمثِّلون الرؤساء ولا يمثلون القادة لليهود، أما لو كان هناك نفعٌ عظيم للإسلام لكان ذلك جائزًا.

شیخ نے جواب میں فرمایا: جس شخص نے اپنے اوپر ایسا دھماکہ خیز لباس باندھا جس سے سب سے پہلے خود اس کی جان جاتی ہے، تو بلا شبہ وہ اپنی جان کے قتل کا خود سبب بنتا ہے۔ اور اس طرح کی صورت حال جائز نہیں، سوائے اس کے کہ اس میں اسلام کے لیے کوئی بہت بڑی مصلحت موجود ہو۔ صرف چند عام افراد کو قتل کر دینا جو نہ یہودیوں کے بڑے رہنماؤں میں سے ہوں اور نہ قائدین میں سے یہ کوئی ایسی شرعی مصلحت نہیں۔ لیکن اگر اس میں اسلام کے لیے بہت عظیم فائدہ ہو، تو پھر یہ عمل جائز ہو جاتا ہے۔


[مجموع فتاوى ورسائل فضيلة الشيخ محمد بن صالح العثيمين، ج :٢٥، ص :٣٥٤-٣٥٥]

IMG-20251121-WA0002.jpg

IMG-20251121-WA0001.jpg

شریعت نے جہاں مسلمان کی جان کی حفاظت کو معتبر ٹھہرایا ہے، وہیں دین کی عزت و نصرت کو مقدم رکھا ہے چنانچہ فرمایا: ﴿إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ۚ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ

بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لیے ہیں، اس کے بدلے کہ یقیناً ان کے لیے جنت ہے، وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں، پس قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں۔ [سورة التوبة، آیت : ١١١]

خودکشی اور استشہاد میں فرق ہوتا ہے شیخ ابن عثیمین کے کلام سے واضح ہوتا ہے کہ استشہادی کاروائی کا مقصد موت نہیں، بلکہ دشمن کو ضررِ عظیم پہنچانا اور اسلام کو نفعِ کبیر حاصل کرنا ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ شیخ ابن عثیمین فرماتے ہیں "إذا كان فيه نفعٌ عظيمٌ للإسلام كان جائزًا" اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر ایک مسلمان اپنی جان کو خطرے میں ڈالے مگر اسلام کو نفع ہو تو یہ مشروع بلکہ محمود ہے۔ کیونکہ دین کی مصلحت کبھی فرد کی مصلحت سے اولیٰ ہو جاتی ہے، خصوصاً حالتِ حرب میں۔

اس کے عین مطابق شیخ ابن عثیمین کا فیصلہ ہے کہ عام افراد کو مار دینا عظیم مصلحت نہیں۔ لیکن اگر حملہ کافروں کے صفِ اول کے لیڈرز، عسکری قوت، یا دشمن کے اہم مقامات پر ہو، تو یہ عمل عظیم مصلحت کے حکم میں آ جاتا ہے، اور ان پر استشہادی حملے کرنا مشروع ہو جاتا ہے۔

استشہادی کاروائی میں خود ہلاک ہونا نہیں، دشمن کو مٹانا مقصود ہوتا ہے چنانچہ اگر مقصود دشمن کو تباہ کرنا ہو اور یہ کام عام طریقوں سے ناممکن یا شدید مشکل ہو اور استشہادی حملہ کرنے والے کی نیت نصرتِ اسلام ہو اور اس سے دین کو ظاہری فائدہ پہنچ رہا ہو تو یہ خودکشی نہیں بلکہ مشروع جہادی عمل ہے۔

اس کے خلاف جو لوگ اعتراضات اٹھاتے ہیں کہ "ہر وہ عمل جس میں فاعل خود مرے، وہ خودکشی ہے۔" یہ اعتراض تین وجہ سے باطل ہے:

اول : شریعت میں نیت کا اعتبار ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إنما الأعمال بالنیات" استشہادی کاروائیوں میں نیت قتل نفس نہیں ہوتی بلکہ دشمن کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔

دوم : صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے آثار میں ملتا ہے کہ وہ دشمنوں کے اندر گھس کر شدت سے لڑتے اور بعض اوقات اپنے ہی ہتھیار سے زخمی ہو کر شہد ہو جاتے لیکن اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خودکشی نہیں کہا۔

أن سلمةَ بن الأكوعِ قال: لما كان يومُ خيبرَ قاتلَ أخي قتالاً شديداً، فارتَدَّ عليه سيفُه فقتلَه، فقال أصحابُ رسولِ الله -صلَّى الله عليه وسلم- في ذلك، وشَكُّوا فيه: رجلٌ مات بسلاحِه، فقال رسولُ الله -صلَّى الله عليه وسلم-: "ماتَ جَاهداً مُجاهداً ".

سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب جنگ خیبر ہوئی تو میرے بھائی بڑی شدت سے لڑے، ان کی تلوار اچٹ کر ان کو لگ گئی جس نے ان کا خاتمہ کر دیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کے سلسلے میں باتیں کی اور ان کی شہادت کے بارے میں انہیں شک ہوا تو کہا کہ ایک آدمی جو اپنے ہتھیار سے مر گیا ہو ( وہ کیسے شہید ہو سکتا ہے ؟ ) ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”وہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے ہوئے مجاہد ہو کر مرا ہے“۔

قال ابنُ شهابٍ: ثم سألتُ ابناً لسلمةَ بن الأكوعِ فحدَّثني عن أبيه بمثل ذلك، غيرَ أَنه قال: فقال رسول الله -صلَّى الله عليه وسلم-: "كذَبُوا ماتَ جَاهداً مُجاهداً، فله أَجرُه مرتين".

ابن شہاب زہری کہتے ہیں : پھر میں نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے سے پوچھا تو انہوں نے اپنے والد کے واسطہ سے اسی کے مثل بیان کیا ، مگر اتنا کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں نے جھوٹ کہا ، وہ جہاد کرتے ہوئے مجاہد ہو کر مرا ہے ، اسے دوہرا اجر ملے گا “۔


[سنن أبي داود - ت الأرنؤوط، حدیث : ٢٥٣٨]

IMG-20251121-WA0000.jpg

IMG-20251121-WA0003.jpg

سوم : شیخ ابن عثیمین جیسے جید عالم خود مشروعیت کے قائل ہیں شیخ نے واضح طور پر فرمایا کہ: "إذا كان فيه نفع عظیم للإسلام جاز" جب خود شیخ نے اجازت دی تو اعتراض کیسے باقی رہتا ہے؟

پس حاصلِ کلام یہ ہے کہ استشہادی کارروائیاں بشرطِ عظیم مصلحت، صائب نیت، اور دشمنِ حربی پر کاری ضرب شریعت میں مشروع ہیں، اور ان کو خودکشی گرداننا جہلِ مرکب ہے۔

اللہ ہمیں دین کے معاملات میں فہمِ سلف عطا فرمائے، باطل فرقوں کے شر سے محفوظ رکھے، اور ہمیں حق کے لیے جان و مال قربان کرنے والوں میں شامل فرمائے۔ آمین، وصلی اللّٰہ علی سید المرسلین، محمد، وآلہ وصحبہ أجمعین۔

وآخر دعوانا أن الحمد للّٰہ رب العالمین۔
 
Top