• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلام اور دہشت گردی

شمولیت
اگست 28، 2019
پیغامات
74
ری ایکشن اسکور
12
پوائنٹ
56
بسم اللہ الرحمن الرحیم

اسلام اور دہشت گردی​



ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی


الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم،امابعد:

محترم سامعین!

ابھی پچھلے ہفتے 22/اپریل2025 کے دن دنیاکی جنت کہلائے جانے والی سرزمین وادیٔ کشمیر کے پہلگام میں جو ہوا اس سے ہماری آنکھیں اشکباراور دل غم واندوہ میں ڈوبے ہوئے ہیں ، سب سے پہلے تو ہم بحیثیت ہندی مسلمان اس دردناک والمناک اوراذیت ناک واقعے کی پرزورمذمت بیان کرتے ہیں اور ساتھ ہی ہماری ہمدردی وغمگساری ان مظلوم پریواروں کے ساتھ ہے جنہوں نے اس حملے میں اپنے اپنے رشتے داروں کو کھویا ہے،دوسری بات اس سلسلے میں یہ ہے کہ ایک سازش اورایک منصوبے کے تحت گودی میڈیا اور کچھ جمہوریت کی دشمن طاقتیں اس ظالمانہ وسفاکانہ واقعے کی آڑ میں اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنارہی ہے جس کا نتیجہ یہ ہورہاہے کہ پورے ملک میں جگہ جگہ پر اس واقعے کی آڑ میں مسلمانوں پر حملے کئے جارہے ہیں ،ان کی دوکانوں اور مکانوں کو لوٹا جارہاہے،اس ملعون گودی میڈیا نے لوگوں کے ذہن ودماغ میں یہ زہر گھول دیا ہے کہ نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ یہ سفاکانہ وبربریت اورظالمانہ حرکت اسلام کی تعلیم ہے اور ہرمسلمان ایسا ہی ہوتاہے ،لوگوں کویہ باور کرانے کی ناپاک کوششیں کی جارہی ہیں کہ اسلام دہشت گردی کی تعلیم دیتاہے اور ہرمسلمان دہشت گرد ہوتاہے،جب کہ ساری دنیا اورہرانصاف پسند شخص جس کے اندر ذرہ برابربھی شدبد ہے وہ اس حقیقت سے اچھی طرح سے واقف ہے کہ اس طرح کے جتنے بھی واقعات ہوتے ہیں اس کا اسلام اور مسلمانوں سے دورتک کا بھی کوئی واسطہ اور تعلق نہیں ہے،کہاں اسلام کی امن وشانتی اور انتی کا پیغام اور کہاں یہ ظلم وبربریت کی داستاں،جولوگ بھی یہ اوچھی اور نیچ حرکت کرتے ہوئے اس ظالمانہ واقعے کی آڑ میں اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنارہے ہیں وہ لوگ یہ سن لیں کہ اس روئے زمین پر اسلام ہی وہ مذہب ہے جو سب سے زیادہ امن وشانتی اور انتی کا پیغام دیتاہے،اور یہ پیغام مذہب اسلام کے نام سے ہی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام کا معنی ہی ہوتاہے،امن وشانتی،اب ذرا سوچئے کہ جس مذہب کے نام میں ہی امن وشانتی پائی جاتی ہو کیا اس مذہب میں اس طرح کی کوئی بھی تعلیم پائی جاسکتی ہے، ہرگز نہیں !بلکہ دہشت گردی تو ایک ایسا وحشیانہ فعل ہےجس کی اسلام میں کوئی گنجائش ہی نہیں ہے، اسلام تو صرف محبت واخوت،رواداری وبھائی چارگی اور انسانیت کی ہمدردی وخیرخواہی کا درس وسبق دیتاہے۔

اے اسلام ومسلمانوں کو بدنام کرنے والے انسانیت کے دشمنوں!سنو! کائنات کے رب کی قسم!اس روئے زمین پر مذہب اسلام نے جتنی زیادہ اس طرح کے ظالمانہ وسفاکانہ رویے کی مذمت اور حوصلہ شکنی کی ہےشاید ہی اتنی زیادہ کسی اور مذہب نے کی ہو؟اگرتمہیں میری باتوں پر یقین نہ ہورہاہو تو پھر مذہب اسلام کے گرنتھ قرآن کو پڑھو اور دیکھو کہ اس میں مذہب اسلام کی کیا تعلیم ہے اور انسانیت کی ہمدردی وخیرخواہی کا کیا سبق دیا گیا ہے،اوراگر تمہیں اسلام کاگرنتھ پڑھنے نہیں آتاہے تو کوئی بات نہیں اگر اس کی ایک جھلک دیکھنی ہوتوپھر اس کشمیری نوجوان سید عادل حسین شاہ کے کردار کو یاد کرلوجو تن تنہا انسانیت کے دشمنوں کے سامنے میں ڈٹ گیا ،اور اوروں کو بچانے میں اپنی جان گنوادی،کیا تم اتنے اندھے ہوچکے ہوکہ تمہیں یہ ساری چیزیں نظر نہیں آتی ہے،کشمیری مسلمانوں کی بے لوث خدمتیں کیا تمہیں نظرنہیں آرہی ہیں،کیا تمہیں ایک مسلمان کا اپنے کندھے پر ایک غیرمسلم کو اٹھائے بھاگتے نظرنہیں آرہے ہیں؟ایسے مصیبت کے گھڑی میں جو جوقربانیاں کشمیری مسلمانوں نے اپنے اپنے مالوں اور جانوں سے دی ہے کیا تمہیں یہ ساری چیزیں نظرنہیں آرہی ہے،تمہیں نظرآئے بھی کیسے ؟تم تو اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی میں اندھے ہوچکے ہو ،تم تو بس ہندومسلم کولڑاکر اپنا الوسیدھا کرناجانتے ہو،تم تو بس اپنا ٹی آرپی بڑھانے کی غرض سے ہرآن اورہرلمحہ ہندومسلم کی سیاست کرتے رہتے ہو،آج اس واقعے پر ہندومسلم کی سیاست کی جارہی ہے اور اس واقعے کی آڑ میں ہندومسلم کی گنگاجمنی تہذیب کو توڑنے کی ناپاک کوششیں کی جارہی ہیں ،ایسے کٹھن اور تکلیف دہ گھڑی میں ہم برادران وطن سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ اے میرے ہندی بھائیو اور بہنو!جمہوریت کے دشمنوں کی سیاست کو سمجھواور عقل سے کام لو اور آپس میں گتھم گتھا ہو کر انسانیت کے دشمنوں کو کامیاب نہ ہونے دینا ،ورنہ بزبان شاعر یہ بات یاد رکھ لو کہ :

سبھی ہندو،مسلمانوں کو سمجھادے کوئی جاکر

اگرنہ سمجھوگے تو پھرگندی سیاست مارڈالے گی​

اے میرے ہندی بھائیو !ذرا اس گندی سیاست کی ایک مثال سنو ابھی جب پہلگام میں یہ حملہ ہوا ہے تویہ چیخ چیخ کر اسلام اور مسلمان کا نام لے رہے ہیں اور یہ کہہ کر پورے ملک میں آگ لگانا چاہتے ہیں کہ مذہب کے نام پر جان سے مارا ،اب ذرا ان کا دوسرا دوغلاکردار بھی ذراملاحظہ کروکہ ابھی کچھ دن تقریبا ایک سال پہلے 2023 میں مہاراشٹرا کی جے پور سے ممبئی جانے والی ٹرین میں اسی مذہب کے نام پر ایک پولس افسر چیتن سنگھ نےمذہب دیکھ کر دومسلمانوں کی ہتھیا کردی تھی تو تب اس گندی سیاست اور ملعون گودی میڈیا نے یہ کہہ کر سب کو رام کردیا کہ اس پولس افسر کی دماغی حالت ٹھیک نہیں تھی،،اے میرے ہندی بھائیو اور بہنو ! ان کی سیاسی چالوں کو دیکھو اور سمجھو،دونوں جگہ پرایک ہی قسم کے ظالمانہ وسفاکانہ اور وحشیانہ حرکت ہے مگر ایک جگہ پر مذہب کی سیاست ہے تو دوسری جگہ پر کسی اور چیز کا بہانہ ہے،اس لئے اے میرے ہم وطنوں!اپنی اور اپنے ملک ونسل کی فکرکرو کیونکہ یہ ہندومسلم کے نام پرایک بار پھر سے تمہیں چھوت چھات،اونچ ونیچ کے دلدل میں پھنسانے والے ہیں اور تمہارے تمام حقوق کو غصب کرکے پھر سے تمہیں غلامی کی زندگی جینے پر مجبور کرنے والے ہیں،اس لئے تم سے میری یہ درخواست ہے کہ ہندومسلم کے نام پر ان کے بہکاوے میں نہ آؤ،ورنہ بزبان شاعر

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے​

میرے دوستو!اس دہشت گردی کی آڑ میں اہل دنیا کا دوغلاکردار دیکھئے کہ اس لفظ دہشت گردی کو صرف اسلام اورمسلمانوں کے ساتھ جوڑ دیا گیاہےجب کہ جگہ جگہ پر مسلمانوں کا قتل عام کیاجارہاہے مگر ان قاتلوں کو دہشت گرد کہنے کے بجائے ان کوپھولوں کا ہارپہناکر تمغے دئے جارہے ہیں،ابھی ازرائیل لاکھوں کی تعداد میں فلسطینی مسلمانوں اورمسلمان بچوں کو موت کے گھاٹ اتاررہاہےتو کوئی اسےدہشت گرد قرار نہیں دیتا،اسی طرح سے کچھ سال پہلے برما میں 80/ہزار مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا مگر ان بدھسٹوں کو کوئی دہشت گرد قرار نہیں دیتا،ویکیپیڈیا رپورٹ کے مطابق امریکہ نے عراق کے اندر سن 2003 میں صرف اٹھارہ مہینے میں دس لاکھ سے زیادہ افراد کی جانیں لیں تھیں اوراسی طرح سے امریکہ نے ہیروشیما اورناگاساکی میں سن 1945 میں ایٹم بم گرائے جس کی وجہ سے کم وبیش دوسے تین لاکھ لوگوں کو جانیں گئیں تھی اورآج تک وہاں کے لوگوں میں اس کا اثر نظرآتاہے مگر انہیں کوئی دہشت گرد قرار نہیں دیتاہے،اسی طرح سے امریکہ افغانستان میں مسلمانوں کے خون سے مسلسل کئی سال ہولی کھیلتارہا مگر دنیا اسے دہشت گرد قرار نہیں دیتی ہے،آپ کو یہ جان کر بڑی حیرانی ہوگی کہ ویکیپیڈیا رپورٹ کے مطابق 1991 سے لے کر 2015 تک جگہ جگہ پر 15 لاکھ مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا مگر یہ دنیا ان تمام واقعات کو دہشت گردی قرار نہیں دیتی ہے،اور تواورہے ہمارے ملک میں جگہ جگہ پر نہتے مسلمانوں کو جان سے ماردیاجاتاہے مگر یہ دنیا ان ظالموں کو دہشت گرد قرار نہیں دیتی ہے، سب سے بڑا آتنکواد اور دہشت گرد تو وہ ہے جس نے ہمارے باپوگاندھی جی کی ہتھیا کی تھی ،سب سے بڑا آتنکواد اوردہشت گرد تو وہ ہے جس نے جناب راجیوگاندھی کی ہتھیا کی تھی،سب سے بڑا آتنکواد اور دہشت گرد تو وہ ہے جس نے محترمہ اندراگاندھی کی ہتھیا کی تھی مگر آپ دیکھیں گے ان سب کی ہتھیاکرنے والوں کو یہ میڈیا اور یہ دنیا نہ تو آتنکواد کہتی ہے اور نہ ہی دہشت گردکیونکہ ان سب کے پیچھے کوئی مسلمان نہ تھا بلکہ وہ سب کے سب ہندو تھے،اسی طرح سے آپ دیکھیں گےکہ جب کبھی بھی مسلمانوں پر کئی طرح کے جانی حملے ہوتے ہیں اور مسلمانوں کا خون بہایا جاتاہے تو یہ گودی میڈیا بڑے ہی چالاکی وعیاری سےاسے کچھ دوسرا ہی رنگ وروپ دے دیتی ہے،اسی کے برعکس اگر خدانخواستہ کسی واقعے میں کچھ نام نہادمسلمان ملوث ہوں تو پھر آسمان سرپراٹھالیاجاتاہے اوریہ باورکرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ پوری دنیا کے مسلمان ایسے ہی ہیں ،آپ نے دیکھا ہوگا کہ اگر کسی واقعے میں کوئی ہندوملوث ہوتاہے تو پھر اسے دہشت گرد نہ کہہ کر کچھ اورہی حیلے وبہانے پیش کردئے جاتے ہیں،کبھی یہ کہاجاتاہے کہ اس کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے توکبھی یہ کہاجاتاہے کہ یہ کام نکسلائٹ والوں نے کیاہے ،ابھی پچھلے ہفتے 22/ اپریل 2025کی بات ہے انڈیا کرکٹ ٹیم کے ہیڈکوچ جناب گمبھیر کو کسی نے جان سے مارنے کی دھمکی دی اور جب دہلی پولس نے اسے دھردبوچاتوپتہ چلا کہ وہ گجرات کا جگنیش سنگھ پرمار ہندو شخص ہے ،پھر کیا تھا گھروالوں نے اور میڈیا نے یہ کہا کہ اس کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے،دیکھا اور سنا آپ نے اس گودی میڈیا کا دوغلا کردار،اور یہ سب ایک سازش ومنصوبے کے تحت کئے جارہے ہیں ،مگر ہمیں حالات سے ڈرنا اور گھبرانا نہیں ہے، آپ یقین جانیں کہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب ان کی چالیں اور ان کی سازشیں ان ہی کے حلق کاکانٹا بن جائیں گی اور ان شاءاللہ وہ اپنی چال اور اپنی جال میں خود پھنس کرہلاک وبرباد ہوں گےجیسا کہ فرمان باری تعالی ہے’’ وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَابِرَ مُجْرِمِيهَا لِيَمْكُرُوا فِيهَا وَمَا يَمْكُرُونَ إِلَّا بِأَنْفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ ‘‘اور اسی طرح ہم نے ہربستی میں بڑے بڑے مجرم پیدا کئے کہ ان میں مکاریاں کرتے رہیں اور جو مکاریاں یہ کرتے ہیں ان کا نقصان انہیں کو ہے اور (وہ اس سے )بے خبر ہیں۔(الانعام:123) میرے بھائیو اوربہنو!آپ یہ اچھی طرح سے جان لیں کہ مذہب اسلام میں آتنکواد اور دہشت گردی کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے،یہ ایک سازش اور منصوبے کے تحت اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی غرض سے ہرواقعات کے پیچھے بس اسلام اور مسلمانوں کوجوڑدیاجاتاہے۔

محترم سامعین!بحیثیت مسلمان میں اہل دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتاہوں اور وہ یہ بات اچھی طرح سے جان لیں کہ اس دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے،کسی بھی مذہب نے اس بات کی اجازت نہیں دی ہے کہ کسی کا خون بہایاجائے چہ جائے کہ اسلام اس بات کی اجازت دے،اے اہل دنیا سن لو! اسلام اور دہشت گردی یہ دو متضاد چیزیں ہیں ،جس طرح سے رات اور دن ایک نہیں ہوسکتے ٹھیک اسی طرح سے اسلام اور دہشت گردی یہ ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے ہیں ،اے اہل دنیا سن لو!جہاں دہشت گردی ہوگی وہاں اسلام نہیں ہوگا اور جہاں اسلام ہوگا وہاں دہشت گردی نہ ہوگی ،اے انسانیت کے دشمنوں!تمہاری عقلوں کو کیاہوگیا ہے اورکیا تمہیں شرم نہیں آتی ہے کہ تم اس دہشت گردی کو اسلام سے جوڑتے ہوحالانکہ اس مذہب اسلام میں کسی دوسرے کی جان لینا تو دور کی بات ہے خوداپنی جان لینے کی بھی اجازت کسی کونہیں ہے جیسا کہ اللہ رب العزت نے یہ اعلان کررکھا ہے ’’ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ‘‘ کہ اے لوگوں!اپنے آپ کو ہلاک وبربادنہ کرو۔(البقرۃ:195)کہیں اللہ نے فرمایا کہ ’’ وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ‘‘اوراپنے آپ کو قتل نہ کرو۔(النساء:29)اورجس انسان نے اپنے آپ کو قتل کردیا یعنی کہ خودکشی کرلی تو اسلام کا حکم یہ ہے کہ وہ سیدھا جہنم کے اندر جائے گا جیسا کہ جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا جوانسان خودکشی کرلے گا وہ سیدھا جہنم کے اندر جائے گا۔(بخاری:1365)اور ایک دوسری روایت کے اندرمحسن انسانیت جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا کہ ایک انسان نے خودکشی کرلی تو اللہ رب العزت نے یہ کہا کہ ’’ بَادَرَنِي عَبْدِي بِنَفْسِهِ حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الجَنَّةَ ‘‘میرے بندے نے اپنی جان کے معاملے میں مجھ سے سبقت لینی چاہی ،اس لئے میں نے اس پر جنت حرام کردی ہے۔ (بخاری:3013)سنا آپ نے کہ مذہب اسلام کی کیا تعلیم ہے، اب ذرا سوچئے کہ جس مذہب میں اپنی جان لینے کی اجازت نہ ہو وہ مذہب کسی اور کی جان لینے کی اجازت کیسے دے سکتاہے؟اے اسلام کو بدنام کرنے والو ں ذرا تو شرم کرو اور سوچو کہ جس مذہب نے اپنے آپ کی جان لینے کو حرام قراردیاہو اور یہ کہاہوکہ جو اپنے آپ کو ہلاک وبرباد کرے گا،چاہے وہ جس صورت میں بھی ہو خواہ وہ خودکشی کی شکل میں ہو یاپھر کسی اورشکل میں تو وہ سیدھا جہنم میں جائے گا اور ایسے لوگوں کے اوپر جنت بھی حرام ہے، تو کیا اس مذہب اسلام میں دوسروں کی جان لینےکی اجازت ہوسکتی ہے؟ہرگز نہیں !اے عقل کے پیدلوں!اسلام کے اوپر انگلی اٹھانے سے پہلے کبھی تو اسلام کی تعلیم کو پڑھ لیا کرو،تمہیں اس مذہب اسلام میں سوائے الفت ومحبت،امن وشانتی،عدل وانصاف،ایک دوسرے کی خیرخواہی اور انسانیت کی ہمدردی کے سوا کچھ اور نہ ملے گا،اللہ غارت کرے ان لوگوں کو جواسلام کا نام لےکر اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں اور بے قصور لوگوں کی جانیں لیتے ہیں ،اور جو لوگ بھی اس کی آڑ میں اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی ناپاک کوشش کرتے ہیں وہ لوگ اسلام کا یہ پیغام سن لیں کہ ’’ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا ‘‘جوشخص کسی کو بغیر اس کے کہ وہ کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے والا ہو ،قتل کرڈالے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیاا ورجوشخص کسی ایک کی جان بچالے،اس نے گویا تمام لوگوں کوزندہ کردیا۔(المائدہ:32)اے اسلام سے بغض وعناد رکھنے والوں! سن لیا تم نے اسلام کا پیغام کہ ایک کی جان لینا یہ پوری انسانیت کی جان لیناہے اور ایک کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانا ہے،یہ ہے اصل اسلام کی تعلیم،اور ہاں اے دنیا کے لوگوں سن لو !پہلگام میں جن لوگوں نے لوگوں کی جانیں لیں وہ نہ توحقیقی مسلمان ہیں اورنہ ہی اسلام کا اس سے کچھ تعلق ہے، ہاں جس نوجوان نے مذہب کی پوچھ تاچھ کئے بغیرپریٹکوں کی حفاظت میں سینہ سپر ہوکر گولیاں کھائی اوراپنی جان گنوا بیٹھا ،یہی حقیقی مسلمان کی پہچان اوریہی اسلام کی تعلیم ہے۔

اے ضمیر فروشوں اوراسلام کو بدنام کرنے کی ٹھیکہ لینے والوں سن لو!تم اس دہشت گردی کی آڑ میں اسلام کو بدنام کرتے ہوجب کہ اس اسلام نے برسوں پہلے یہ اعلان کردیا ہے کہ اے دنیا والو ں سن لو!جولوگ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور بے قصور لوگوں کی ہتھیا کرتے ہیں تو ایسے فسادیوں اور ایسے ظالموں کو اللہ رب العزت ہرگز ہرگز پسند نہیں کرتاہے بلکہ اللہ رب العزت ایسے ظالموں اور ایسے فسادیوں سےسخت نفرت کرتاہے ،فرمان باری تعالی ہے ’’ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ ‘‘ اورملک میں فساد کو خواہاں نہ ہو،یقین مان کہ اللہ مفسدوں کو ناپسند رکھتاہے۔(القصص:77) کہیں اللہ نے فرمایا کہ اے لوگوں سن لو! ’’ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ ‘‘اور اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔(آل عمران:57)سن لیا تم نے کہ اللہ فساد اور فسادیوں سے نفرت کرتاہے اس لئے اپنی زبان کو لگام دو اور اس طرح کے واقعات کو نہ تو اسلام سے جوڑو اور نہ ہی کسی اور مذہب سےکیونکہ کوئی بھی مذہب اس آتنکواد کا درس وسبق نہیں دیتاہے اور بالخصوص اسلام میں تو ہرگز ہرگز اس طرح کے واقعات کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے کیونکہ اسلام یہ تو سراپا امن و سلامتی کا داعی ہے۔

اے ضمیر فروشوں اوراسلام کو بدنام کرنے کی ٹھیکہ لینے والوں سن لو!تم اس طرح کے واقعات کو اسلام اورمسلمانوں سے جوڑتے ہو جب کہ اسلام کا حکم اور اسلام کی تعلیم تو یہ ہے کہ جوشخص کسی کو اپنی زبان یاپھر اپنے ہاتھ سے تکلیف دے تو وہ مسلمان کہلائے جانے کا حقدار اور مستحق نہیں ہے،کتنی شرم وعار کی بات ہے کہ تم ایسے فسادیوں کو مسلمان کہتے ہو اور اسلام ایسے فسادیوں کو مسلمان ہی نہیں سمجھتاہے ،جیسا کہ محسن انسانیت ورحمۃ للعالمین جناب محمدعربیﷺ کا یہ فرمان موجود ہے کہ ’’ ألْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ‘‘ کامل مسلمان وہ ہے جس کے زبان وہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہے۔(مسلم:41،بخاری:10)صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ کسی بھی انسان کو اگر کوئی تکلیف دیتاہے تو وہ مسلمان کہلائے جانے کا حقدار نہیں ہے جیسا کہ جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا کہ ’’ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أمِنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ ‘‘مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ رہیں اور مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں اور مالوں کے بارے میں میں بے فکررہیں اورکوئی خطرہ محسوس نہ کریں۔(احمد:8931)اب تم خود یہ فیصلہ کرلو کہ کیا ایسے لوگ مسلمان ہوسکتے ہیں جو بلاوجہ میں کسی کی جان لے لے،تم ایسے فسادیوں کو مسلمان کہتے ہوجب کہ خود اسلام نے ایسےفسادیوں کو انسانیت کا دشمن قرار دیتے ہوئے سب سے بدترین انسان قرار دیاہےجیسا کہ اس دنیا کے آخری نبی ورسول ﷺ نے فرمایاکہ ’’ وَشَرُّكُمْ مَنْ لَا يُرْجَى خَيْرُهُ وَلَا يُؤْمَنُ شَرُّهُ ‘‘ بدترین اور براانسان وہ ہے جس سے خیروبھلائی کی کوئی امید نہ ہو اور نہ ہی اس کی شرارتوں اورحرکتوں سے لوگ محفوظ ہوں ۔(ترمذی:2263،اسنادہ صحیح)بلکہ ایسے لوگوں کو اسلام تومومن ہی نہیں سمجھتاہے جو کسی کو تکلیف دے جیساکہ جناب محمدعربی ﷺ نے تین مرتبہ قسم کھا تے ہوئے فرمایا کہ ’’ وَاللَّهِ لاَ يُؤْمِنُ وَاللَّهِ لاَ يُؤْمِنُ وَاللَّهِ لاَ يُؤْمِنُ ‘‘ اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں ہے، اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں ہے، اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں ہے،’’ الَّذِي لاَ يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَايِقَهُ ‘‘ جس کی شرارتوں سے اس کاپڑوسی چاہے وہ مسلمان ہویاپھر ہندو محفوظ نہ ہو۔(بخاری:6016)صرف اتنا ہی نہیں اے سلام کے دشمنوں سن لو! اسلام تو اپنے ماننے والوں کو یہ تعلیم دیتاہے کہ اے مسلمانوں یہ بات یاد رکھنا کہ اگرکسی نے کسی کی بلاوجہ میں جان لے لی تواللہ رب العزت اسے ایسی سزا دے گا کہ ویسی سزا پھر کسی اور کونہ دی جائے گی جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے’’ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا ‘‘ اورجوکوئی کسی مومن کو قصدا قتل کرڈالے،اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا،اس پر اللہ کا غضب ہے،اسے اللہ نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار کررکھا ہے۔(النساء:93)صرف مومن یا مسلمان ہی نہیں بلکہ مذہب اسلام نے کسی کی بھی ہتھیا کرنے کو حرام قراردے دیا جیسا اللہ رب العزت کا یہ فرمان تمام انسانوں کے نام ہے کہ’’ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ‘‘اورجس كاخون كرنا الله نے حرام کردیاہے اس کو قتل مت کرو،مگرحق کے ساتھ(یعنی اگر کسی نے کسی کو قتل کردیا ہے تو بطورقصاص وقت کا حاکم اسے بھی قتل کرنے کا حکم دے گا)یہ ہیں وہ باتیں جن کا اللہ نے تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو۔(الانعام:151)اب اہل دنیا خود یہ فیصلہ کرلے کہ جو بلاوجہ میں کسی کی جان لے لے کیاوہ مسلمان کہلائے جانے کا حق رکھتاہے اور کیا وہ اس دنیا میں زندہ رہنے کاحق رکھتاہے ؟ہرگز نہیں !پھرکتنے بڑے ظالم ہیں وہ لوگ جو اس طرح کے واقعات کو اسلام اورمسلمانوں سے فوراً جوڑ دیتے ہیں۔

اے ضمیر فروشوں اوراسلام کو بدنام کرنے کی ٹھیکہ لینے والوں سن لو!تم اس طرح کے دہشت گردی والے واقعات سے اور بے قصورلوگوں کے اوپرہتھیار اٹھانے والوں کو اسلام اورمسلمانوں سےجوڑکراسلام کو داغ دارکرنے کی ناپاک کوششیں کرتے ہوجب کہ اسلام کا حکم اور اسلام کی تعلیم تو یہ ہے کہ کوئی مسلمان کسی کی طرف کسی ہتھیار یاپھر کسی دھاردار چیز سے اشارہ بھی نہ کریں جیسا کہ ہمارے اور تمہارے خیرخواہ جناب محمدعربیﷺ کا یہ فرمان ہے کہ اے لوگوں سن لو!’’ لاَ يُشِيرُ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ بِالسِّلاَحِ فَإِنَّهُ لاَ يَدْرِي لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ ‘‘ تم میں سے کوئی بھی شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے کیونکہ (ہروقت تمہارے ساتھ شیطان لگا ہوتاہے اور)تم میں سے کوئی شخص یہ نہیں جانتاہے کہ شاید شیطان اس کے ہاتھ کو ڈگمگادے (اورپھراس ہتھیار سے کسی کا جانی نقصان ہوجائے)جس کے نتیجے میں ایسا کرنے والا جہنمی ہوجائے۔(بخاری:7072،مسلم:2617)اے انسانیت کے دشمنوں سنو! جس مذہب میں صرف ہتھیار سے اشارہ کرنا منع ہو اس مذہب میں کسی کے اوپر ہتھیار اٹھاکر اس کی جان لینے کی اجازت کیسے ہوسکتی ہے؟

اے ضمیر فروشوں اوراسلام کو بدنام کرنے کی ٹھیکہ لینے والوں سن لو!تم اس طرح کے واقعات کو اسلام اورمسلمانوں سے جوڑکر اسلام کو بدنام کرنے کی ناپاک کوشش کرتے ہوجب کہ اسلام کی تعلیم تو یہ ہےکہ کسی عورت پر ہاتھ نہ اٹھائی جائےاور نہ ہی کسی معصوم بچوں کی جان لی جائے جیسا کہ محسن انسانیت جناب محمدعربیﷺ نے یہ حکم دیا ہے کہ تم حالت جنگ میں بھی ضعیف وکمزور اورعورتوں ،معصوم بچوں اورنوکروں کو قتل نہ کرنا۔ (مسلم:4547،ابوداؤد:2614،الصحیحۃ:701،ابن ماجہ:2842)بلکہ اسلام کی پاکیزہ تعلیم تو یہاں تک ہے کہ دوسرے مذہب کے پادریوں اورپنڈتوں وغیرہ کو قتل نہ کیاجائے۔(احمد:2728) آج حالیہ واقعے اوردیگر واقعات کوفوراً اسلام اورمسلمانوں سے جوڑکراسلام اورمسلمانوں کو نشانہ بنایاجاتاہے مگر ذرا یہ سوچئے کہ پچھلے کچھ سالوں سے مسلسل ملعون نتن یاہو فلسطینی معصوم بچوں پر بمباری کررہاہے،جس کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں بچے مارےجارہے ہیں،عورتیں ماری جارہی ہیں ،پورا غزہ شہر تباہ وبرباد ہوچکا ہے مگریہ دنیا اسے نہ توآتنکواد کہتی ہے اور نہ ہی دہشت گرد،اے ظالموں ! تم نے سن لیا اور جان لیا نہ کہ اسلام کی کتنی پاکیزہ اور اعلی تعلیم ہے ،اس لئے اب تو اپنی زبان پر لگام دو،اورہاں ایک بات یاد رکھنا اگر تم اسی طرح سے اسلام کونشانہ بناتے رہے تو جتنا تم اس مذہب اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کروگے یہ مذہب اتنی ہی تیزی کے ساتھ پھیلتاجائے گا،کسی شاعرنے کیا ہی خوب کہا ہے:

اسلام زمانے میں ،دبنے کو نہیں آیا

تاریخ سے یہ مضموں ،ہم تو کودکھادیں گے

اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے

اتنا ہی یہ ابھرے گا، جتنا کہ دبادیں گے​

اورفرمان باری تعالی بھی ہے ’’ يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُا نُورَ اللَّهِ بِأَفْواهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكافِرُونَ ،هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ ‘‘ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھادیں اور اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچانے والاہے،گوکافر برامانیں،وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچادین دے کربھیجا تاکہ اسے دیگر تمام مذاہب پر غالب کردے،اگرچہ مشرکین ناخوش ہوں۔(الصف:8-9)

اے ضمیر فروشوں اوراسلام کو بدنام کرنے کی ٹھیکہ لینے والوں سن لو!تم اس طرح کے واقعات کو اسلام اورمسلمانوں سے جوڑکر اسلام کو بدنام کرنے کی ناپاک کوشش کرتے ہوجب کہ اسلام کی تعلیم تو یہ ہےکہ بلاوجہ میں کسی جانور کی بھی ہتھیانہ کی جائے،(احمد:6551،نسائی:4445)کسی جانوربلکہ کسی چرند وپرند کو بھی گالی نہ دی جائے،(ابوداؤد:5101) جانوروں کے اوپر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالی جائے۔(ابوداؤد:2549) اور نہ ہی کسی جانور کو بھوکا وپیاسا رکھا جائے۔(الصحیحہ:20)اورنہ ہی کسی جانور کے اوپر نشانے کی پریکٹس جائے، (مسلم:1956)بلکہ اسلام کی تعلیم تو یہاں تک ہے کہ کمزورجانوروں پر سواری نہ کی جائے(الصحیحۃ:23) اورنہ ہی جانوروں کے اوپربلاضرورت کرسی سمجھ کر بیٹھا جائے۔(الصحیحۃ:21)جانوروں کے ساتھ رحم وکرم کا معاملہ کیاجائے اور جو جانوروں کے ساتھ رحم وکرم کرے گا اللہ بھی اس کے ساتھ رحم وکرم کرے گا۔(الصحیحۃ:26)بلکہ اسلام کی تعلیم تو یہ بھی ہے کہ جانوروں کو اچھی طرح سے کھلانے اورپلانے پر بھی اجروثواب ہے،۔(بخاری:6009،مسلم:2244)صرف یہی نہیں بلکہ اسلام نے یہاں تک اعلان کردیا ہے کہ جانوروں کو ستانے،مارنے اورپیٹنے کی وجہ سے ایک انسان جہنمی بن گیا(بخاری:2365،مسلم:2242،الصحیحۃ:28) اور اسی کے برعکس ایک انسان جانوروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے جنت کے اندر داخل ہوگیا۔ (بخاری:6009،مسلم:2244)اے اسلام کوبدنام کرنے والوں تم لوگوں کی جان لینے والوں اوران کی ہتھیاکرنے والے آتنک وادوں کو اسلام سے جوڑتے ہو جب کہ اسلام کی تعلیم تو یہ ہے تم اپنے ناخن سے کسی جانور کوخراش تک نہ آنے دوجیسا کہ محسن انسانیت جناب محمدعربیﷺ کا یہ حکم موجودہے کہ اے لوگوں تم جانوروں کے تھنوں سے دودھ نکالنے سے پہلے اپنے اپنے ناخنوں تراش لیاکرو کہیں ایسانہ ہوکہ تمہارے ناخن سے جانوروں کے تھنوں میں خراش آجائے۔(الصحیحۃ:317) اللہ اکبر۔یہ ہے مذہب اسلام اور مذہب اسلام کی تعلیم!اب ذرا اہل دنیا اگر ان کے اندر انسانیت نام کی کوئی چیز ہے،اورذرہ برابر بھی ان کے اندر شرم وحیاہے تو خود یہ فیصلہ کرلیں کہ جس مذہب میں جانوروں کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنے کی تاکید کی گئی ہو کیا وہ مذہب کسی انسان کے جان لینے کی اجازت دے سکتاہے؟ہرگز نہیں!ستیاناس ہوں ان لوگوں کا جو اسلام اورمسلمانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

میرے دوستو! ایک سازش اور منصوبے کے تحت ملک میں ہندومسلم فساد پھیلانے کی غرض ونیت سے ہرآتنکواد کو مذہب اسلام سے جوڑدیا جاتاہے جب کہ دنیا جانتی ہے کہ آتنک واد اور دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہےمگرآپ دیکھیں گے کہ اگر اس طرح کی ہتھیاؤں کے پیچھے کوئی مسلمان نام کا شخص ملوث نظرآتاہے تو یہ گودی میڈیا اسے بہت اچھالتی ہے اور آسمان سرپراٹھالیتی ہے،اسی کے برعکس اس طرح کے ہتھیاؤں کے پیچھے اگر کوئی ہندوہوتاہے تو چپی سادھ لی جاتی ہے،یقینا بے قصورلوگون کی جان لینا آتنک واد اور دہشت گردی ہے اور پہلگاما میں جو کچھ ہوا ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ مذہب کے نام پر ہتھیاکرنے والے ملزموں کو کیفرکردار تک پہنچائے،لیکن کوئی اس گودی میڈیا کو یہ بتادیں کہ اگر مذہب کے نام پر ہتھیا کرنا آتنک واد اوردہشت گردی ہے تو کیا مذہب کانام پوچھ کر موب لینچنگ کرنا ،گاؤں رکشا کے نام پر مذہب دیکھ کر ہتھیاکرنا،مذہب کے نام پر نوکری سے نکال دینا،مذہب کے نام پر ٹرین میں ہتھیاکردینا،مذہب دیکھ کر گھروں پر بلڈوزر چلانا کیایہ آتنک واد اوردہشت گردی نہیں ہے؟ہم تو حکومت سے یہی کہتے ہیں کہ اس طرح کے جتنے بھی واقعات ہوتے ہیں اس میں ملوث تمام افراد کوبلاتفریق مذہب پھانسی دے دی جائے کیونکہ آتنک واد اور دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتاہے اور سب سے بڑی بات تویہ ہے کہ اس طرح کے واقعات یہ ملک کی امن وامان کو تہس نہس کرنے والی چیز ہوتی ہے۔

میرے دوستو!اب آئیے آخر میں اس مذہب اسلام کے بارے میں ایک اورحیران کن بات کو بتاکراپنی بات کو ختم کردیتا ہوں،آپ نے واٹس ایپ کے اوپر ایک فنکشن میٹا اے آئی (Meta AI)ضرورلکھا دیکھاہوگا،جب میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ کیا اسلام دہشت گردی سکھاتاہے؟ تو اس میٹا اے آئی (Meta AI)نے جوجواب دیا آپ اس کو سن کر انگشت بدنداں ہوں گے،اس نے جو جواب دیا میں وہ ہوبہ ہو نقل کررہاہوں ،اس نے کہا کہ ’’ نہیں،اسلام دہشت گردی نہیں سکھاتا،اسلام ایک شانتی پُروَم دھرم ہےجو مانوتا(انسانیت)کی ایکتا،دَیا(رحم) اورنیائے (انصاف)کا سندیش (پیغام) دیتاہے،وہ کہتاہے کہ دہشت گردی اور اتیاچار(ظلم وزیادتی)کی گھٹنائیں اکثر دھارمک(مذہب کے نام پر) اور راجنیتک سندھربوں(سیاست بازی)سے جڑی ہوتی ہیں،ان گھٹناؤں کو اسلام کے نام پر کرنے والے کچھ لوگ اپنے سوارتھ(مفاد)یا وِچاردھارا(خیالات)کے لئے دھرم(مذہب)کا دُراپیوگ(غلط استعمال)کرتے ہیں ‘‘،اب آخر میں میٹا اے آئی (Meta AI) کیاکہتاہے ذرا غورسے سنئے ،وہ کہتاہے کہ ’’ یہ یاد رکھنا مہتوپرن(ضروری)ہے کہ اسلام کی اصلی سکشا(تعلیم)شانتی،سہیوگی(ہمدردی)اور سمان(عزت)کی ہے ‘‘۔اللہ اکبر کبیرا۔ ابھی اورحیران کن انکشاف کوسنئے، جب یہی سوال میں نے مشہور اے آئی ٹول گروک(Grok)سےپوچھا کہ کیا اسلام دہشت گردی سکھاتاہے تو اس گروک نے کیا جواب دیاوہ بھی میں آپ کو ہوبہ ہونقل کرکے سنا دیتاہوں،گروک کا جواب تھا ’’ نہیں اسلام دہشت گردی نہیں سکھاتا،اسلام ایک دھرم ہے جو شانتی ،دیا اور مانوتا کو بڑھاوا دیتاہے،قرآن اور حدیث میں بار بار شانتی ،سہِسنوتا(صبر)اوردوسروں کے پرتی (حق میں)سمان(عزت) کی بات کہی گئی ہے،اداہرن(مثال )کے لئے قرآن(5:32)۔(المائدہ:32)میں کہاگیا ہے کہ ایک بے گناہ انسان کی ہتھیا پوری انسانیت کی ہتھیا کے برابرہے،حالانکہ کچھ لوگ اپنے نجی(ذاتی)یا راجنیتی ادیش(سیاسی فائدہ ومقصد)کے لئے دھرم کا غلط استعمال کرتے ہیں اور ہنسا(ظلم) کو جائز ٹھہرانے کی کوشش کرتے ہیں،یہ لوگ اسلام کے سچے سندھانتو (تعلیمات)کا پرتینیدھتو(نمائندگی)نہیں کرتے،اَدھی کانش(اکثر وبیشتر)اسلامی ودوان(تعلیم یافتہ لوگ) اورسمودائے(برادری وسماج)ایسی حرکتوں کی نندا(مذمت)کرتے ہیں‘‘۔ سناآپ نے ایک اے آئی ٹول اس اسلام کے بارے میں کیا حقیقت وسچائی بیان کررہاہے،اور درحقیقت یہی تو اسلام ہے مگر کچھ لوگ اپنی مفاد کے لئے اسلام کو بدنام کررہے ہیں،تو خیر تمام باتوں سے یہ اظہرمن الشمس ہے کہ اسلام صرف اور صرف امن وشانتی کا مذہب ہےاوردنیا بھر میں ہونے والےدہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔

اب آخر میں ہم اللہ رب العزت سے یہی دعاکررہے کہ ’’ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ آمِنًا ‘‘ اے ہمارے رب! توہمارے اس ملک کو امن کا گہوارہ بنادے ۔آمین ثم آمین یارب العالمین۔

طالب دعا

ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی

 

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
799
ری ایکشن اسکور
224
پوائنٹ
111
ہندؤوں کی موت پر ہے یہ آنکھیں نم کہہ رہا ہے،
مسجد جلانے والوں کو بھی محترم کہہ رہا ہے۔

قرآن کی آیتیں کاٹ کے شانتی دھرم کہہ رہا ہے،
باطل کے سامنے جھک کے اسے امن کہہ رہا ہے۔
 
Top