نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جس شخص کے پاس لونڈی ہو وہ اسے تعلیم دے اور خوب اچھی طرح دے ، اسے ادب سکھا ئے اور پوری کوشش اور محنت کے ساتھ سکھائے اور اس کے بعد اسے آزاد کر کے اس سے شادی کر لے تو اسے دہر اثواب ملتا ہے اور اہل کتاب میں سے جو شخص بھی اپنے نبی پر ایمان رکھتا ہو اور مجھ پر ایما ن لائے تو اسے دوہر ا ثواب ملتا ہے اور جو غلام اپنے آقا کے حقوق بھی ادا کرتا ہے اور اپنے رب کے حقوق بھی ادا کرتا ہے اسے دہرا ثواب ملتا ہے عامر شعبی نے ( اپنے شاگرد سے اس حدیث کو سنا نے کے بعد کہا کہ بغیر کسی مشقت اورمحنت کے اسے سیکھ لو ۔ اس سے پہلے طالب علموں کو اس حدیث سے کم کے لئے بھی مدینہ تک کا سفر کرنا پڑتا تھا ۔ اور ابوبکرنے بیان کیا ابو حصین سے ، اس نے ابوبردہ سے ، اس نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کہ ” اس شخص نے باندی کو ( نکاح کرنے کے لئے ) آزادکر دیا اور یہی آزادی اس کا مہر مقرر کی ۔ “
صحیح بخاری