ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 855
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
كيفية قراءة الأسانيد واكتشاف الأخطاء فيها!
اسنادوں کو پڑھنے اور ان میں واقع ہونے والی اغلاط اور تحریفات کو پہچاننے کا طریقہ
بقلم: فضيلة الشيخ خالد الحايك حفظه الله
بيّن الألباني أن بعض النساخ أخطأ في كتابته: «جرير بن أبي حازم» وإنما هو: «جرير بن عبدالحميد»! وذهب إلى أن «ابن حميد» هو: محمد بن حميد الرازي!
البانی نے بیان کیا کہ بعض نسخہ نویسوں سے یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے «جرير بن أبي حازم» لکھ دیا، حالانکہ صحیح نام «جرير بن عبدالحميد» ہے۔ پھر انہوں نے یہ رائے قائم کی کہ یہاں «ابن حميد» سے مراد محمد بن حميد الرازي ہیں۔
وخطأه في ذلك شعيب الأرنؤوط ورفاقه، وكذا الجوابرة، وقالوا بأن ابن حميد هو: يعقوب بن حميد بن كاسب، وشيخه هو: عبدالعزيز بن أبي حازم، وقد أصابوا في هذه الحيثية لكن تبقى المشكلة في القاسم بن عبدالرحمن! وقد سلّموا كلهم بأنه القاسم بن عبدالرحمن بن عبدالله بن مسعود!
شعیب ارنؤوط، ان کے رفقاء اور الجوابرہ نے اس رائے کو غلط قرار دیا اور کہا کہ یہاں «ابن حميد» سے مراد یعقوب بن حميد بن كاسب ہیں، جن کے شیخ عبدالعزيز بن أبي حازم ہیں۔ اس پہلو سے ان کی بات درست ہے، لیکن پھر بھی القاسم بن عبدالرحمن کے بارے میں اشکال باقی رہتا ہے۔ ان سب نے اس بات کو تسلیم کیا کہ یہاں القاسم بن عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود ہی مراد ہیں۔
میں کہتا ہوں کہ ابن ابی عاصم اپنی اس کتاب میں بکثرت یعقوب بن حمید سے روایت کرتے ہیں۔ کبھی ان کا پورا نام ذکر کرتے ہیں، کبھی صرف "حدثنا يعقوب" کہتے ہیں، کبھی "حدثنا ابن حميد" اور کبھی "حدثنا ابن كاسب" کہہ کر ان سے روایت بیان کرتے ہیں۔
فإذا قلنا بأن «عبدالعزيز بن أبي حازم» تحرّف إلى «جرير بن أبي حازم»، فكيف يتحرّف: «عبدالعزيز» إلى «جرير»؟ فهذا حقيقة بعيد! ثُمّ إن القول بهذا يعني أنه هكذا جاءت تسميته في كتاب ابن أبي عاصم! وهذا فيه نظرٌ!
اب اگر یہ کہا جائے کہ «عبدالعزيز بن أبي حازم» تحریف ہو کر «جرير بن أبي حازم» بن گیا، تو سوال یہ ہے کہ «عبدالعزيز» کا لفظ «جرير» میں کیسے تبدیل ہو گیا؟ حقیقت میں یہ بات بہت بعید معلوم ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ اس قول کا مطلب یہ ہوگا کہ ابن ابی عاصم کی کتاب میں بھی راوی کا نام اصل سے اسی طرح درج تھا، اور یہ بات بھی قابل غور ہے۔
فكلّ الروايات في كتاب ابن أبي عاصم يرويها عن يَعْقُوب بن حُمَيْدٍ يقول فيها: "حدّثنا ابنُ أَبِي حَازِمٍ" ولا يُسمّيه.
کیونکہ ابن ابی عاصم کی کتاب میں جتنی بھی روایات یعقوب بن حمید سے مروی ہیں، ان سب میں وہ صرف "حدثنا ابن أبي حازم" کہتے ہیں اور ابن ابی حازم کا نام صراحت کے ساتھ ذکر نہیں کرتے۔
والذي حَصَل في هذا الموضع الذي جاء فيه: «جرير بن أبي حازم» أنّه حصل سبق نظر للناسخ: حدثنا ابن حُميدٍ: ثنا (حميد) ابن أبي حازم، فكرر اسم «حميد»، ثُم بعد ذلك تحرّفت «حميد» إلى «جرير»، فصارت: «جرير بن أبي حازم»!
درحقیقت اس مقام پر جہاں «جرير بن أبي حازم» آیا ہے، ناسخ سے سبق نظر کی غلطی ہوئی۔ اصل عبارت غالباً «حدثنا ابن حميد، ثنا ابن أبي حازم» تھی۔ ناسخ نے پہلے سے موجود لفظ «حميد» کو دوبارہ لکھ دیا، پھر بعد میں یہی لفظ تحریف ہو کر «جرير» بن گیا، اور یوں عبارت «جرير بن أبي حازم» کی صورت اختیار کر گئی۔
وبحسب ما ذهبوا إليه فإن القاسم بن عبدالرحمن يروي هذا الحديث عن أبيه عَبْدالرَّحْمَن بن عَبداللَّهِ بن مَسْعُود، عن أبي هريرة!
ان حضرات کی رائے کے مطابق اس سند میں القاسم بن عبدالرحمن اپنے والد عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود سے، اور وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کرتے ہیں۔
نعم، القاسم يروي عن أبيه، لكن أباه لا يروي عن أبي هريرة! ولا تُعرف له رواية عنه، وأبو هريرة تُوُفِّيَ سنة (57هـ)، وعَبْدُالرَّحْمَنِ بن عَبْدِاللَّهِ بنِ مَسْعُودٍ الهُذَلِيُّ تُوُفِّيَ سنة (79هـ).
یہ درست ہے کہ قاسم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، لیکن ان کے والد سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت معروف نہیں، بلکہ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی کوئی روایت ثابت نہیں۔ نیز ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال 57 ہجری میں ہوا، جبکہ عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود الہذلی کا انتقال 79 ہجری میں ہوا۔
والحديث حديث العلاء بن عبدالرحمن، عن أبيه، عن أبي هريرة، وهو مشهورٌ به، فتعيّن أن يكون هناك تحريف في الإسناد!
حالانکہ یہ حدیث دراصل علاء بن عبدالرحمن کی اپنے والد سے، اور وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور یہی سند معروف و مشہور ہے۔ اس لیے یہ بات متعین ہو جاتی ہے کہ اس سند میں تحریف واقع ہوئی ہے۔
فقد تحرّف «العلاء» إلى «القاسم»! فصار الحديث عن: «القاسم بن عبدالرحمن»، وإنما هو حديث العلاء بن عبدالرحمن عن أبيه، وهو محفوظ عن عبدالعزيز بن أبي حازم، عن العلاء، عن أبيه.
اصل میں «العلاء» کا لفظ تحریف ہو کر «القاسم» بن گیا، چنانچہ سند «القاسم بن عبدالرحمن» کے نام سے مشہور ہو گئی، حالانکہ محفوظ سند یہ ہے: عبدالعزيز بن أبي حازم، عن العلاء بن عبدالرحمن، عن أبيه۔