• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اصحاب رسول ﷺ کی تنقیص اہل السنۃ والجماعت کے نزدیک بدباطنی اور دین سے انحراف کا خطرناک دروازہ

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
860
ری ایکشن اسکور
228
پوائنٹ
111
اصحاب رسول ﷺ کی تنقیص اہل السنۃ والجماعت کے نزدیک بدباطنی اور دین سے انحراف کا خطرناک دروازہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ وحدہ، والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ، وعلی آلہ وصحبہ ومن تبعہم بإحسان إلی یوم الدین، أما بعد:

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں اہل سنت والجماعت کا موقف کوئی بعد کے لوگوں کا وضع کردہ نظریہ نہیں، بلکہ قرآن، سنت اور منہج سلف سے ثابت شدہ عقیدہ ہے۔ صحابہ وہ پاکیزہ جماعت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے لیے منتخب فرمایا، جنہوں نے وحی کا نزول اپنی آنکھوں سے دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دین سیکھا، آپ کے ساتھ مل کر جہاد کیا، اپنا مال و جان قربان کیا اور پھر اس دین کو پوری امانت کے ساتھ اگلی نسلوں تک پہنچایا۔

لہٰذا جو شخص صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گالی دیتا، ان کی تحقیر کرتا، ان کی عدالت کو مجروح کرتا یا ان کے بارے میں بغض و عداوت کا اظہار کرتا ہے، اس کے جرم کو محض ’’تاریخی اختلاف‘‘ کہہ کر ٹال دینا اہل سنت کے منہج سے ناواقفیت ہے۔

اسی حقیقت کو امام اہل سنت احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے ایسی صراحت اور شدت کے ساتھ بیان فرمایا ہے کہ اہل بدعت کے لیے اس کے بعد عذر کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«مَنْ تَنَقَّصَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَا يَنْطَوِي إِلَّا عَلَى بَلِيَّةٍ، وَلَهُ خَبِيئَةُ سَوْءٍ، إِذَا قَصَدَ إِلَى خَيْرِ النَّاسِ، وَهُمْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم»

’’جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی ایک کی تنقیص کرتا ہے، وہ اپنے اندر ایک مصیبت چھپائے ہوئے ہے اور اس کے دل میں کوئی بری چیز پوشیدہ ہے، کیونکہ وہ بہترین لوگوں، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو نشانہ بنا رہا ہے۔‘‘

[السنة لأبي بكر بن الخلال، 2/477، رقم: 758]

10442.jpg

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے یہاں صرف یہ نہیں فرمایا کہ ’’صحابہ کو برا کہنا غلط ہے‘‘ بلکہ اس کے باطن کے متعلق فرمایا: «وَلَهُ خَبِيئَةُ سَوْءٍ» یعنی اس کے اندر برائی چھپی ہوئی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں اہل سنت اور اہل بدعت کے منہج میں نمایاں فرق ظاہر ہوتا ہے۔ اہل سنت صحابہ کی تنقیص کو محض ایک ’’تاریخی رائے‘‘ نہیں سمجھتے، بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ آخر ان خبیثوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہی کیوں برے دکھائی دیتے ہیں؟

کیا یہی وہ لوگ نہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شرکت کی؟ کیا یہی وہ لوگ نہیں جنہوں نے اپنا مال و جان اللہ کے دین کے لیے قربان کیا؟ کیا یہی وہ لوگ نہیں جن کے ذریعے قرآن و سنت ہم تک پہنچے؟

پس جب کوئی شخص اسی جماعت کو نشانہ بناتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے لیے منتخب کیا، تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے الفاظ میں اس کے دل کے اندر موجود «خَبِيئَةُ سَوْءٍ» سے بے خوف نہیں ہوا جا سکتا۔

یہاں ایک بڑا اصول سمجھنے کا ہے کہ صحابہ کی بشری لغزش کا ذکر اور چیز ہے، اور صحابہ کی تنقیص و تحقیر کو اپنا مذہب و منہج بنا لینا دوسری چیز۔ اہل سنت پہلی چیز کو اصول شریعت کے مطابق دیکھتے ہیں، مگر دوسری چیز کے سامنے خاموشی اختیار نہیں کرتے۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے منقول ہے:

«يَا أَبَا الْحَسَنِ، إِذَا رَأَيْتَ أَحَدًا يَذْكُرُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسُوءٍ فَاتَّهِمْهُ عَلَى الْإِسْلَامِ»

’’اے ابو الحسن! جب تم کسی شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا برائی کے ساتھ ذکر کرتے دیکھو تو اس کے اسلام کے بارے میں تہمت/شبہ رکھو۔‘‘

[الحجة في بيان المحجة، 2/427، رقم: 831]

10445.jpg

یہ الفاظ کسی معمولی معاملے کے بارے میں نہیں ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا: «فَاتَّهِمْهُ عَلَى الْإِسْلَامِ» یعنی اس کے اسلام کے بارے میں بھی اطمینان نہ کرو۔

یہاں اہل بدعت کے لیے مقام عبرت ہے۔ جو لوگ صحابہ کی اہانت کو ’’اختلاف رائے‘‘ کہہ کر اس کی سنگینی کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں پہلے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا یہ منہج سمجھنا چاہیے۔ اگر صحابہ کی تنقیص محض ایک تاریخی مسئلہ ہوتی تو امام احمد رحمہ اللہ اس شخص کے اسلام کو موضوع تشویش نہ بناتے۔

مگر اہل سنت جانتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم پر طعن صرف افراد پر طعن نہیں؛ یہ اس پورے دینی نظام کو متزلزل کرنے کا راستہ ہے جس کے اولین حامل اور ناقل یہی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔

اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اس سے بھی زیادہ سخت الفاظ فرمائے:

«مَنْ شَتَمَ أَخَافُ عَلَيْهِ الْكُفْرَ مِثْلَ الرَّوَافِضِ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ شَتَمَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَا نَأْمَنُ أَنْ يَكُونَ قَدْ مَرَقَ عَنِ الدِّينِ»

’’جو شخص (صحابہ کو) برا بھلا کہے، مجھے اس پر کفر کا خدشہ ہے، جیسے روافض؛ پھر فرمایا: جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو برا بھلا کہا، ہمیں اطمینان نہیں کہ کہیں وہ دین سے نکل نہ گیا ہو۔‘‘

[السنة لأبي بكر بن الخلال، 3/493، رقم: 780]

10450.jpg

ذرا امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے الفاظ پر غور کیجیے «أَخَافُ عَلَيْهِ الْكُفْرَ» مجھے اس پر کفر کا خوف ہے۔ اور پھر «لَا نَأْمَنُ أَنْ يَكُونَ قَدْ مَرَقَ عَنِ الدِّينِ» ہم اس بات سے بے خوف نہیں کہ شاید وہ دین سے نکل گیا ہو۔ یہ الفاظ اس بات کی کھلی دلیل ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی اہانت کو معمولی سمجھنا سلف کے منہج کے سراسر خلاف ہے۔

یہاں ایک سوال نہایت اہم ہے کہ اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی قابل اعتماد نہ رہے تو قرآن ہم تک کس کے ذریعے پہنچا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کس جماعت کے ذریعے امت تک پہنچی؟ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت کس نے کی؟ دین کے عملی احکام امت نے کن نفوس سے حاصل کیے؟

یہی وجہ ہے کہ صحابہ کی عدالت پر حملہ دراصل دین کی بنیاد پر حملہ ہے یہ ایک خطرناک نظریاتی بنیاد رکھتا ہے۔ پہلے صحابہ پر اعتماد ختم کیا جاتا ہے، پھر حدیث پر اعتماد کمزور کیا جاتا ہے، اور بالآخر دین کے مستند ماخذ ہی مشکوک بنا دیے جاتے ہیں۔

اسی لیے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ صحابہ کے باب میں ایسی سختی فرماتے ہیں۔ «إِذَا رَأَيْتَ أَحَدًا يَذْكُرُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسُوءٍ فَاتَّهِمْهُ عَلَى الْإِسْلَامِ» پس اہل سنت کے نزدیک صحابہ کی اہانت کو ’’اظہار رائے‘‘ کہہ کر اس کے خطرے کو چھپا دینا علمی دیانت نہیں۔

یہاں ایک شبہ کا ازالہ بھی ضروری ہے کہ اہل سنت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو معصوم نہیں کہتے۔ ان سے اجتہادی خطا کا امکان تسلیم کرتے ہیں، کیونکہ عصمت انبیاء علیہم السلام کے لیے ہے۔ لیکن کیا کسی انسان کی خطا تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو گالی دی جائے؟ کیا اجتہادی اختلاف کی بنیاد پر اس کی عدالت ہی ختم کردی جائے؟ کیا اس کے ایمان و دیانت پر حملہ کیا جائے؟ کیا اسے لعنت و ملامت کا نشانہ بنایا جائے؟

ہرگز نہیں!

یہ فرق نہ سمجھنا ہی اہل بدعت کی ایک بڑی خیانت ہے کہ وہ ’’عدم عصمت‘‘ کو ’’جواز اہانت‘‘ سمجھ لیتے ہیں۔ اہل سنت کا اصول صاف ہے کہ صحابی معصوم نہیں، مگر صحابی کی اہانت جائز بھی نہیں۔

صحابی سے اجتہادی خطا ممکن ہے، مگر صحابہ کی جماعت کو بددین اور خائن قرار دینا اہل سنت کا منہج نہیں۔ صحابہ انسان تھے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عام پیروکاروں جیسے انسان نہ تھے؛ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منتخب اصحاب اور دین کے اولین حامل تھے۔

اللہ تعالیٰ نے بعد میں آنے والے اہل ایمان کا وصف یہ بیان کیا: «رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا» ’’اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے، اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کینہ نہ رکھ۔‘‘

یہ ہے اہل ایمان کا طریقہ۔ وہ اپنے سے پہلے گزرنے والے اہل ایمان کے لیے مغفرت مانگتے ہیں، دل میں کینہ نہیں پالتے۔ لہٰذا جس شخص کا دل اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بغض، سبّ، لعن، تحقیر اور عیب جوئی سے بھرا ہوا ہو، اسے اپنے دل کا محاسبہ کرنا چاہیے کہ وہ قرآن کے اس طریقے کے قریب ہے یا امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے بیان کردہ خطرے کے قریب۔

پس جو شخص اہل سنت کے منہج کا دعویٰ کرتا ہے، اسے چاہیے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اپنی زبان کی حفاظت کرے، ان کے لیے دل میں محبت رکھے، ان کے فضائل بیان کرے، ان کے لیے رضی اللہ عنہم کہے اور ان کے باہمی اختلافات میں عدل و انصاف سے کام لے۔

اور جو لوگ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی اہانت کو ’’تحقیقی آزادی‘‘، ’’تاریخی تنقید‘‘ یا ’’صرف رائے‘‘ کا خوبصورت نام دے کر پیش کرتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ نام بدل دینے سے حقیقت نہیں بدلتی۔ صحابہ کی تحقیر کو تحقیق کہہ دینے سے وہ علمی تحقیق نہیں بن جاتی۔

اہلِ سنت کے نزدیک اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام نہ غلو کا موضوع ہے نہ جفا کا؛ بلکہ محبت، ادب، عدل اور اتباع حق کا مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت سے آباد فرمائے، ان کے بارے میں ہر قسم کے بغض و غلو سے محفوظ رکھے، ہمیں کتاب و سنت اور منہج سلف پر ثابت قدم رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔
 
Top