محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,080
- ری ایکشن اسکور
- 35
- پوائنٹ
- 111
اللہ تعالی کی عبادت اور بندگی کی خاطر مسجد میں ٹھہرنے کو اعتکاف کہتے ہیں-
- مرد اورعورت دونوں کےلیے مسجد میں اعتکاف کرنا سنت ہے، امہات المؤمنین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں ہی اعتکاف کیا کرتی تھیں۔ (صحیح مسلم: 1172)
- رمضان اورغیررمضان ہروقت اعتکاف کرنا سنت ہے، لیکن رمضان المبارک میں خصوصاً رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا افضل اوربہتر ہے- رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔(صحيح مسلم: 1172)
- اگر انسان رمضان المبارک كےآخری عشرہ كا اعتكاف كرنا چاہے تو اكيسويں رات كو سورج کے غروب ہونے سے پہلے مسجد ميں داخل ہو گا اور رمضان المبارک ختم ہونے پر (جب عید کا چاند نظر آ جائے) مسجد سے نكلےگا۔
- اعتکاف کرنے والے کو چاہیے کہ وہ ذکر الہی، قرآن کی تلاوت، نماز اور نوافل میں مشغول رہے، فضول اور بے مقصد گپ شپ سے اجتناب کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کے لیے مسجد میں خیمہ لگاتے تھے، تاکہ یکسوئی کے ساتھ اللہ تعالی کی عبادت کر سکیں۔
- بغیر ضرورت کے مسجد سے نکلنے پر اعتکاف باطل ہو جاتا ہے، ضرورت کی غرض سے مسجد سے باہر جانا جائز ہے، مثلا: قضائے حاجت کے لیے، وضو اور غسل وغیرہ کے لیے، اگرکوئی کھانا لانے والا نہ ہوتو کھانے لانے کے لیے بھی نکلنا جائز ہے۔(صحیح مسلم: 297)
- اعتکاف کرنے والے کے لیے سنت یہ ہے کہ وہ کسی مریض کی عیادت نہ کرے، اورنہ ہی کسی جنازہ کے ساتھ جائے، اورنہ عورت کو چھوئے اورنہ ہی اس سے مباشرت کرے، اور نہ ہی کسی کام کے لیے نکلے، لیکن جس کام کے بغیر گزارہ نہ ہو وہ کرسکتا ہے ۔ (صحیح سنن أبي داود: 2473 ) واللہ اعلم بالصواب