• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اعراب کی تعریف اور اعراب لفظی اور اعراب تقدیری کی وضاحت

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
830
ری ایکشن اسکور
226
پوائنٹ
111
اعراب کی تعریف اور اعراب لفظی اور اعراب تقدیری کی وضاحت

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اعراب وہ تبدیلی ہے جو عربی الفاظ کے آخری حصے میں عاملوں کے بدلنے سے آتی ہے، کبھی یہ تبدیلی واضح طور پر نظر آتی ہے اور کبھی صرف اندازہ کی جاتی ہے۔

علامہ ابن آجروم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«الإعراب هو تغيير أواخر الكلم لاختلاف العوامل الداخلة عليها لفظاً أو تقديراً»

یعنی اعراب اس تبدیلی کو کہتے ہیں جو کلمات کے آخری حصے میں مختلف عوامل (اسباب) کے داخل ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، خواہ یہ تبدیلی زبان سے ظاہر ہو یا صرف اندازہ کی جائے۔

[متن الآجرومية في النحو]

7555.jpg

اسے بہت آسان انداز میں سمجھئے کہ عربی زبان میں بعض الفاظ کے آخری حرف یا آخری حرکت (زبر، زیر، پیش) بدل جاتی ہے۔ یہ تبدیلی بلاوجہ نہیں ہوتی بلکہ جملے میں اس لفظ کی جگہ اور کام بدلنے کی وجہ سے ہوتی ہے اور اسی تبدیلی کو اعراب کہتے ہیں۔

مثال کے طور پر لفظ زيد کو دیکھیں:

1. جاءَ زيدٌ (زید آیا)
یہاں زید فاعل ہے، اس لیے آخر میں ضمہ آیا۔

2. رأيتُ زيدًا (میں نے زید کو دیکھا)
یہاں زید مفعول ہے، اس لیے آخر میں فتحہ آیا۔

3. مررتُ بزيدٍ (میں زید کے پاس سے گزرا)
یہاں حرف جر "بِ" کی وجہ سے زید مجرور ہوگیا، اس لیے آخر میں کسرہ آیا۔

دیکھیں! لفظ زيد وہی ہے، لیکن اس کی آخری حرکت بدل گئی: زيدٌ، زيدًا، زيدٍ اسی کو اعراب کہتے ہیں۔

علامہ ابن آجروم کی عبارت "لاختلاف العوامل الداخلة عليها" کا مطلب ہے مختلف عامل آنے کی وجہ سے یہ تبدیلی ہوتی ہے۔ عامل سے مراد وہ چیز ہے جو لفظ کے اعراب پر اثر ڈالتی ہے۔ مثلاً فعل فاعل کو مرفوع کرتا ہے، فعل مفعول کو منصوب کرتا ہے اور حرف جر اسم کو مجرور کرتا ہے۔


مثال کے طور پر جاءَ زيدٌ میں "جاء" نے زید کو فاعل بنایا، اس لیے زید مرفوع ہوا۔ رأيتُ زيدًا میں "رأيت" نے زید کو مفعول بنایا، اس لیے زید منصوب ہوا اور مررتُ بزيدٍ میں "ب" حرف جر ہے، اس لیے زید مجرور ہوا۔


علامہ ابن آجروم کی عبارت لفظاً أو تقديراً میں "لفظاً" کا مطلب ہے کبھی اعراب واضح طور پر نظر آتا اور پڑھا جاتا ہے۔ مثلاً: زيدٌ، زيدًا اور زيدٍ میں ضمہ، فتحہ اور کسرہ زبان سے ادا بھی ہوتے ہیں اور سنائی بھی دیتے ہیں۔ اسے کہتے ہیں اعراب لفظی (لفظاً)


اور "تقديراً" کا مطلب ہے کہ کبھی اعراب موجود تو ہوتا ہے لیکن ظاہر نہیں ہوتا، بلکہ صرف اندازہ کیا جاتا ہے۔ مثال کےطور پر جاءَ موسى (موسیٰ آیا)، رأيتُ موسى (میں نے موسیٰ کو دیکھا) اور مررتُ بموسى (میں موسیٰ کے پاس سے گزرا) یہاں "موسى" ہر جگہ ایک ہی شکل میں ہے۔

ظاہری طور پر موسی کے آخر میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی، لیکن جاء موسى میں موسی مرفوع ہے، رأيت موسى میں منصوب ہے اور مررت بموسى میں مجرور ہے۔ یہاں اعراب موجود ہے مگر ظاہر نہیں ہوسکتا، اس لیے اسے اعراب تقدیری کہتے ہیں۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ کسی عربی لفظ کے آخر میں جو تبدیلی جملے کے اندر اس کے کام بدلنے کی وجہ سے آتی ہے، اسے اعراب کہتے ہیں۔ یہ تبدیلی کبھی ظاہر ہوتی ہے (زيدٌ، زيدًا، زيدٍ) اور کبھی صرف سمجھی جاتی ہے (موسى)۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
 
Top