شیخین ابو بکر و عمر -رضی اللہ عنہما- کا گستاخ ...
امام ذہبی کہتے ہیں: مجھے امام محمد بن منتاب نے بیان کیا کہ عز الدین یوسف الموصلی -رحمہم اللہ- نے انہیں ایک خط لکھا - اور ابن منتاب نے مجھے (یعنی ذہبی کو) وہ خط دکھایا - عز الدین کہتے ہیں :
ہمارا ایک ساتھی تھا جو الشمس ابن حشیشی کے نام سے معروف تھا۔ وہ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کو خوب برا بھلا کہتا تھا۔ ایک دفعہ میں نے اس سے کہا: "شمس! کتنی گھٹیا بات ہے کہ تم ان ہستیوں کو برا بھلا کہتے کہتے بوڑھے ہو چلے ہو، حالانکہ ان کو گزرے سات صدیاں ہو گئیں، اور اللہ کہتا ہے: یہ ایک امت تھی جو گزر چکی!"
اس نے جواب دیا: "اللہ کی قسم! ابو بکر و عمر (رضی اللہ عنہما) آگ میں ہیں!" لوگ جمع تھے۔ یہ سنتے ہی میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے فورا ہاتھ اٹھائے اور دعا کی: "اے اللہ، اے بندوں پر غالب ذات! اگر یہ کتا صحیح کہتا ہے تو مجھ پر عذاب نازل کر، اور اگر یہ غلط ہے تو اس کے ساتھ ایسا معاملہ کر کہ سب لوگوں پر اس قول کی شناعت واضح ہو جائے۔"
تو اس کی آنکھیں سوجنا شروع ہو گئیں یہاں تک کہ پھٹنے کے قریب آ گئیں۔ جسم سیاہ کوئلے کی مانند ہو کر پھول گیا اور حلق سے عجیب مادہ نکلنا شروع ہو گیا۔ اسے گھر لے جایا گیا۔ تین دن پورے نہیں گزرے تھے کہ وہ مر گیا۔ اس کی آنکھوں اور جسم سے جاری مادے کے باعث کوئی اسے غسل نہ دے سکا اور اسے اسی حال میں دفن کر دیا گیا۔ اللہ اس پر رحم نہ کرے!
ابن منتاب رحمہ اللہ کہتے ہیں : پھر ہمارے کچھ دوست موصل سے بغداد آئے تو انہوں نے ہمیں یہ واقعہ سنایا اور یہ بالکل صحیح واقعہ ہے جو ٧١٠ھ میں پیش آیا۔
[ ذيل تاريخ الإسلام : ١١٧ ]