• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الاحتساب

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
8- عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِؓ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺإِنَّ اللهَ لَا يَرْضَى لِعَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ إِذَا ذَهَبَ بِصَفِيِّهِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ وَقَالَ مَا أُمِرَ بِهِ بِثَوَابٍ دُونَ الْجَنَّةِ. ([1])
(٨)عبداللہ بن عمر و بن العاص بیان كرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے كی محبوب ترین چیز واپس لے لیتا ہے ( یعنی بینائی) اور وہ بندہ اس پر ثواب كی نیت سے صبر كرتا ہے اور جس چیز كا حكم دیا گیا ہے وہ كہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت كا بدلہ دیئے بغیر راضی نہیں ہوتا۔
9- عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ؓ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بَيْتُهُ أَقْصَى بَيْتٍ فِي الْمَدِينَةِ فَكَانَ لَا تُخْطِئُهُ الصَّلَاةُ مَعَ رَسُولِ اللهِ ﷺقَالَ فَتَوَجَّعْنَا لَهُ فَقُلْتُ لَهُ يَا فُلَانُ لَوْ أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا يَقِيكَ مِنْ الرَّمْضَاءِ وَيَقِيكَ مِنْ هَوَامِّ الْأَرْضِ قَالَ أَمَ وَاللهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِي مُطَنَّبٌ بِبَيْتِ مُحَمَّدٍ ﷺقَالَ فَحَمَلْتُ بِهِ حِمْلًا حَتَّى أَتَيْتُ نَبِيَّ اللهِ ﷺفَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَدَعَاهُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ وَذَكَرَ لَهُ أَنَّهُ يَرْجُو فِي أَثَرِهِ الْأَجْرَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺإِنَّ لَكَ مَا احْتَسَبْتَ.([2])
(٩)ابی بن كعب ؓكہتے كہ انصار میں سے ایك شخص تھا اس كا گھر مدینہ كے سب گھروں سےزیادہ مسجد سے دور تھااور اس كی كوئی جماعت رسول اللہﷺ كےساتھ جانے نہ پاتی تھی(یعنی ہرنماز میں پہنچتے تھے) تو مجھے ان پر ترس آیا اور میں نے ان سے كہا كہ كاش تم ایك گدھا خرید لو كہ تمہیں گرمی سے اور راہ كے كیڑے مكوڑوں سے بچائے تو انہوں نے كہا اللہ كی قسم میں نہیں چاہتا كہ میراگھر محمد ﷺكے گھر سے متصل ہو مجھ پر اس كی یہ بات گراں گزری تو میں نبیﷺكے پاس آیا اور آپ كو خبردی ،آپ نے ان كو بلوایا انہوں نے رسول اللہﷺ سے بھی وہی كہا جو مجھ سے كہا تھا اور كہا كہ میں اپنے قدموں كا اجر چاہتا ہوں۔نبیﷺ نے فرمایا:بے شك تم كو اجر ملے گا جس كے تم امیدوارہو۔
10- عَنْ أَبِي أُمَامَةَؓ عَنْ النَّبِيِّ ﷺقَالَ يَقُولُ اللهُ سُبْحَانَهُ: ابْنَ آدَمَ إِنْ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى لَمْ أَرْضَ لَكَ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ. ([3])
(١٠)ابوامامہؓكہتے ہیں كہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے ابن آدم اگر تو مصیبت كے آغاز میں صبر كرے اور ثواب كی امید ركھے تو میں تیرے لئے جنت كے سوا كسی اور چیز پر راضی نہیں ہوں(یعنی تجھے ضرور جنت میں داخل كروں گا،مترجم)۔

[1]- (حسن) صحيح سنن النسائي رقم (1871) سنن النسائي كِتَاب الْجَنَائِزِ ثَوَابُ مَنْ صَبَرَ وَاحْتَسَبَ باب مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ...رقم (3106)
[2]- صحيح مسلم كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةِ بَاب فَضْلِ كَثْرَةِ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ رقم (663)
[3]- (حسن) صحيح سنن ابن ماجة رقم (1597) سنن ابن ماجه كِتَاب مَا جَاءَ فِي الْجَنَائِزِ بَاب مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْمُصِيبَةِ رقم (1586)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
11- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَؓ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺقَالَ يَقُولُ اللهُ تَعَالَى مَا لِعَبْدِي الْمُؤْمِنِ عِنْدِي جَزَاءٌ إِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهُ مِنْ أَهْل الدُّنْيَا ثُمَّ احْتَسَبَهُ إِلَّا الْجَنَّةُ. ([1])
(١١)ابوہریرہؓسے روایت ہے كہ رسول اللہﷺنے فرمایا:میرا وہ مومن بندہ جس كی محبوب ترین چیز میں واپس لے لوں لیكن وہ اس پر ثواب كی نیت سے (صبر و رضاكا مظاہرہ كرے)اس كے لئے میرے پاس جنت كے سوا كوئی اور بدلہ نہیں ہے۔
وضاحت: بچہ ،بیوی، والدین وغیرہ یہ سب انسان كے لئے محبوب ترین چیزیں ہیں۔مترجم​
12- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَؓ عَنْ النَّبِيِّ ﷺقَالَ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ وَكَانَ جُرَيْجٌ رَجُلًا عَابِدًا فَاتَّخَذَ صَوْمَعَةً فَكَانَ فِيهَا فَأَتَتْهُ أُمُّهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ فَقَالَ يَا رَبِّ أُمِّي وَصَلَاتِي فَأَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهِ فَانْصَرَفَتْ فَلَمَّا كَانَ مِنْ الْغَدِ أَتَتْهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ فَقَالَ يَا رَبِّ أُمِّي وَصَلَاتِي فَأَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهِ فَلَمَّا كَانَ مِنْ الْغَدِ أَتَتْهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ فَقَالَ أَيْ رَبِّ أُمِّي وَصَلَاتِي فَأَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهِ فَقَالَتْ اللَّهُمَّ لَا تُمِتْهُ حَتَّى يَنْظُرَ إِلَى وُجُوهِ الْمُومِسَاتِ فَتَذَاكَرَ بَنُو إِسْرَائِيلَ جُرَيْجًا وَعِبَادَتَهُ وَكَانَتْ امْرَأَةٌ بَغِيٌّ يُتَمَثَّلُ بِحُسْنِهَا فَقَالَتْ إِنْ شِئْتُمْ لَأَفْتِنَنَّهُ لَكُمْ قَالَ فَتَعَرَّضَتْ لَهُ فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهَا فَأَتَتْ رَاعِيًا كَانَ يَأْوِي إِلَى صَوْمَعَتِهِ فَأَمْكَنَتْهُ مِنْ نَفْسِهَا فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَحَمَلَتْ فَلَمَّا وَلَدَتْ قَالَتْ هُوَ مِنْ جُرَيْجٍ فَأَتَوْهُ فَاسْتَنْزَلُوهُ وَهَدَمُوا صَوْمَعَتَهُ وَجَعَلُوا يَضْرِبُونَهُ فَقَالَ مَا شَأْنُكُمْ قَالُوا زَنَيْتَ بِهَذِهِ الْبَغِيِّ فَوَلَدَتْ مِنْكَ فَقَالَ أَيْنَ الصَّبِيُّ فَجَاءُوا بِهِ فَقَالَ دَعُونِي حَتَّى أُصَلِّيَ فَصَلَّى فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَى الصَّبِيَّ فَطَعَنَ فِي بَطْنِهِ وَقَالَ يَا غُلَامُ مَنْ أَبُوكَ قَالَ فُلَانٌ الرَّاعِي قَالَ فَأَقْبَلُوا عَلَى جُرَيْجٍ يُقَبِّلُونَهُ وَيَتَمَسَّحُونَ بِهِ وَقَالُوا نَبْنِي لَكَ صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ لَا أَعِيدُوهَا مِنْ طِينٍ كَمَا كَانَتْ فَفَعَلُوا وَبَيْنَا صَبِيٌّ يَرْضَعُ مِنْ أُمِّهِ فَمَرَّ رَجُلٌ رَاكِبٌ عَلَى دَابَّةٍ فَارِهَةٍ وَشَارَةٍ حَسَنَةٍ فَقَالَتْ أُمُّهُ اللَّهُمَّ اجْعَلْ ابْنِي مِثْلَ هَذَا فَتَرَكَ الثَّدْيَ وَأَقْبَلَ إِلَيْهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى ثَدْيِهِ فَجَعَلَ يَرْتَضِعُ قَالَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللهِ ﷺوَهُوَ يَحْكِي ارْتِضَاعَهُ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ فِي فَمِهِ فَجَعَلَ يَمُصُّهَا قَالَ وَمَرُّوا بِجَارِيَةٍ وَهُمْ يَضْرِبُونَهَا وَيَقُولُونَ زَنَيْتِ سَرَقْتِ وَهِيَ تَقُولُ حَسْبِيَ اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ فَقَالَتْ أُمُّهُ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهَا فَتَرَكَ الرَّضَاعَ وَنَظَرَ إِلَيْهَا فَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا فَهُنَاكَ تَرَاجَعَا الْحَدِيثَ فَقَالَتْ حَلْقَى مَرَّ رَجُلٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ اجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهُ فَقُلْتَ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ وَمَرُّوا بِهَذِهِ الْأَمَةِ وَهُمْ يَضْرِبُونَهَا وَيَقُولُونَ زَنَيْتِ سَرَقْتِ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهَا فَقُلْتَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا قَالَ إِنَّ ذَاكَ الرَّجُلَ كَانَ جَبَّارًا فَقُلْتُ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ وَإِنَّ هَذِهِ يَقُولُونَ لَهَا زَنَيْتِ وَلَمْ تَزْنِ وَسَرَقْتِ وَلَمْ تَسْرِقْ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا. ([2])
(١٢)ابوہریرہؓنبیﷺ سے روایت كرتے ہیں كہ نبی ﷺنے فرمایا: سوائے تین بچوں كے كسی نے گود میں بات نہیں كی ایك عیسیٰ علیہ السلام دوسرا جریج كا ساتھی۔ جُریج ایك عابد تھا اس نے ایك عبادت خانہ بنایا اور اسی میں رہتا تھا(ایك دن) وہ نماز پڑھ رہا تھا كہ اس كی ماں آئی اور اسے آواز دی كہ اے جُریج تو وہ(دل میں ) كہنے لگا كہ یا اللہ میری ماں پكار رہی ہے اور میں نماز میں ہوں(یعنی میں نماز کو جاری رکھوں یا اپنی ماں كو جواب دوں؟)آخر وہ نماز میں ہی رہا تو اس كی ماں واپس چلی گئی پھر جب دوسرا دن ہوا تو وہ پھر آئی اور پكارا اے جُریج وہ بولا اے اللہ میری ماں پكارتی ہے اور میں نماز میں ہوں ،آخر وہ نماز میں ہی رہا پس وہ واپس چلی گئی پھر اس كی ماں تیسرے دن آئی اور بلایا لیكن جُریج نماز میں ہی رہا تو اس كی ماں نے كہا یا اللہ اس كو اس وقت تك موت نہ دینا جب تك یہ چھنال(فاحشہ زانی) عورتوں كا منہ نہ دیكھ لے(یعنی ان سے اس كا سابقہ نہ پڑے) پھر بنی اسرائیل نے جُریج كا اور اس كی عبادت كاچرچا شروع كیا اور بنی اسرائیل میں ایك بدكار عورت تھی جس كی خوبصورتی سے مثال دی جاتی تھی وہ بولی اگر تم كہو تو میں جُریج كو فتنہ میں ڈالوں ۔پھر وہ عورت جُریج كے سامنے گئی لیكن جُریج نے اس كی طرف خیال بھی نہ كیا ۔آخر وہ ایك چرواہے كے پاس گئی جو اس كے عبادت خانے میں آكر پناہ لیا كرتا تھا اور اس كو اپنے سے صحبت كرنے كا موقع دیا تو اس نے اس عورت سے صحبت كی وہ حاملہ ہو گئی جب بچہ جنا تو بولی كہ یہ بچہ جُریج كا ہے لوگ یہ سن كر اس كے پاس آئے ۔اس كو نیچے اتارا اور اس كے عبادت خانہ كو گرادیا اور اس كو مارنے لگے۔ وہ کہنے لگا تمہیں كیا ہوا ہے؟ انہوں نے كہا تو نے اس بدكار عورت سے زنا كیا ہے اور اس نے تجھ سے ایك بچہ كو جنم دیاہے جُریج نے كہا كہ وہ بچہ كہاں ہے؟ لوگ اس كو لائے تو جُریج نے كہا كہ ذرا مجھے چھوڑو میں نماز پڑھ لوں ۔پھر نماز پڑھی اور اس بچہ كے پاس آكر اس كے پیٹ كو ایك ٹھو سا دیا اور بولا كہ اے بچے تیرا باپ كون ہے؟ وہ بولا كے فلاں چرواہا ہے۔ یہ سن كر لوگ جُریج كی طرف دوڑے اور اس كو چومنے چاٹنے لگے اور كہنے لگے كہ ہم تیرا عبادت خانہ سونے اور چاندی سے بنائے دیتے ہیں۔اس نے کہا نہیں جیسا تھا ویسا ہی پھر مٹی سے بنادو تو لوگوں نے بنا دیا(تیسرا)بنی اسرائیل میں ایك بچہ تھا جو اپنی ماں كا دودھ پی رہا تھا كہ اتنے میں ایك بہت عمدہ جانور پر خوش وضع ،خوبصورت سوار گزرا تو اس كی ماں اس كو دیكھ كر كہنے لگی كہ یا اللہ میرے بیٹے كو اس سوار كی طرح بنادے یہ سنتے ہی اس بچے نے ماں كی چھاتی چھوڑی اور سوار كی طرف منہ كر كے اسے دیكھا اور كہنے لگا كہ یا اللہ مجھے اس كی طرح نہ كرنا اتنی بات كہہ كر پھر چھاتی سے لگ گیا اور دودھ پینے لگا۔ ابوہریرہ  نے كہا كہ گویامیں( اس وقت) نبیﷺ كو دیكھ رہا ہوں كہ آپ نے اپنی انگلی كو چوس كر دكھایا كہ وہ لڑكا اسی طرح دودھ پینے لگا۔ پھر ایك لونڈی ادھر سے گزری جسے لوگ مارتے جا رہے تھے اور كہہ رہے تھے كہ تو نے زنا كیا اور چوری كی ہے وہ كہتی تھی كہ مجھے اللہ تعالیٰ ہی كافی ہے اور وہ میرا وكیل ہے ۔تو اس كی ماں نے كہا كہ یا اللہ میرے بیٹے كو اس کی طرح نہ كرنا ۔یہ سن كر بچے نے پھر دودھ پینا چھوڑ دیا اور اس عورت كی طرف دیكھ كر كہا كہ یا اللہ مجھے اسی لونڈی كی طرح كرنا ۔اس وقت ماں اور بیٹے میں گفتگو ہوئی تو ماں نے كہا كہ او سر منڈے!جب ایك شخص اچھی صورت كا نكلا اور میں نے كہا كہ یا اللہ میرے بیٹے كو ایسا كرنا تو تو نے كہا كہ یا اللہ مجھے ایسا نہ كرنا اور لونڈی جسے لوگ مارتے جا رہے تھے اور كہتے تھے كہ تو نے زنا كیا اور چوری كی ہے تو میں نے كہا كہ یا اللہ میرے بیٹے كو اس كی طرح نہ كرنا تو تو نے كہا كہ یا اللہ مجھے اس كی طرح كرنا(یہ كیا بات ہے؟)بچہ بولا وہ سوار ایك ظالم شخص تھا میں نے دعا كی كہ یا اللہ مجھے اس كی طرح نہ كرنا اور اس لونڈی پر لوگ تہمت لگاتے ہیں اور كہتے ہیں كہ تو نے زنا كیا اور چوری كی ہے حالانكہ اس نے نہ زنا كیا ہے اور نہ چوری كی ہے تو میں نے كہا كہ یا اللہ مجھے اس كی طرح كرنا۔


[1] - صحيح البخاري كِتَاب الرِّقَاقِ بَاب الْعَمَلِ الَّذِي يبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ فِيهِ سَعْدٌ رقم (2424)
[2] - صحيح البخاري رقم (3436) صحيح مسلم كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَاب تَقْدِيمِ بِرِّ الْوَالِدَينِ عَلَى التَّطَوُّعِ بِالصَّلَاةِ وَغَيرِهَا رقم (2550)​

 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وہ احادیث جو احتساب پر معنوی دلالت کرتی ہیں

13- عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّؓ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺقَالَ إِذَا مَاتَ وَلَدُ الْعَبْدِ قَالَ اللهُ لِمَلَائِكَتِهِ قَبَضْتُمْ وَلَدَ عَبْدِي فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيَقُولُ قَبَضْتُمْ ثَمَرَةَ فُؤَادِهِ فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيَقُولُ مَاذَا قَالَ عَبْدِي فَيَقُولُونَ حَمِدَكَ وَاسْتَرْجَعَ فَيَقُولُ اللهُ ابْنُوا لِعَبْدِي بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَسَمُّوهُ بَيْتَ الْحَمْدِ.
(١٣)ابو موسیٰ اشعری ؓسے روایت ہے وہ بیان كرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب كسی شخص كا بچہ فوت ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے مخاطب ہو كر فرماتا ہے كہ كیا تم نے میرے بندے كے بچے كی روح كو قبض كیا ہے؟ وہ کہیں گے جی ہاں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :كیا تم نے اس كے لختِ جگرکولے لیا؟ وہ اقرار كریں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہےكہ میرے بندے نے كیا كہا ؟ وہ جواب میں کہتے ہیں اس نے تیری حمد كی اور ا نا للہ وانا لیہ راجعون كے كلمات كہے۔اللہ تعالیٰ حكم دے گا كہ میرے بندے كے لئے جنت میں گھر تعمیر كرو اور اس كا نام بیت الحمد ركھو۔([1])
14- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَؓ قَالَ جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺبِابْنٍ لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ يَشْتَكِي وَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْهِ قَدْ دَفَنْتُ ثَلَاثَةً قَالَ لَقَدْ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنْ النَّارِ. ([2])
(١٤)ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے ایك عورت اپنا بچہ نبیﷺ كی خدمت میں لے كر حاضر ہوئی اور عرض كیا اے اللہ كے نبی ﷺاس كے لئے( درازیٔ عمر كی) دعا كیجئےكیونكہ میں تین بچوں كو دفن كر چكی ہوں اور اس كے اوپر ڈرتی ہوں(كہ یہ بھی نہ مرجائے) آپ نے فرمایا: تو نے جہنم كے بچاؤ کے لئے ایک مضبوط آڑ بنالی ہے۔
15- عَنْ أَبِي مُوسَىؓ قَالَ فَدَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ وَهِيَ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَنَا عَلَى حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺزَائِرَةً وَقَدْ كَانَتْ هَاجَرَتْ إِلَى النَّجَاشِيِّ فِيمَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِ فَدَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ وَأَسْمَاءُ عِنْدَهَا فَقَالَ عُمَرُ حِينَ رَأَى أَسْمَاءَ مَنْ هَذِهِ قَالَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ قَالَ عُمَرُ الْحَبَشِيَّةُ هَذِهِ الْبَحْرِيَّةُ هَذِهِ فَقَالَتْ أَسْمَاءُ نَعَمْ فَقَالَ عُمَرُ سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ فَنَحْنُ أَحَقُّ بِرَسُولِ اللهِ ﷺمِنْكُمْ فَغَضِبَتْ وَقَالَتْ كَلِمَةً كَذَبْتَ يَا عُمَرُ كَلَّا وَاللهِ كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللهِ ﷺيُطْعِمُ جَائِعَكُمْ وَيَعِظُ جَاهِلَكُمْ وَكُنَّا فِي دَارِ أَوْ فِي أَرْضِ الْبُعَدَاءِ الْبُغَضَاءِ فِي الْحَبَشَةِ وَذَلِكَ فِي اللهِ وَفِي رَسُولِهِ وَايْمُ اللهِ لَا أَطْعَمُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى أَذْكُرَ مَا قُلْتَ لِرَسُولِ اللهِ ﷺوَنَحْنُ كُنَّا نُؤْذَى وَنُخَافُ وَسَأَذْكُرُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ ﷺوَأَسْأَلُهُ وَ وَاللهِ لَا أَكْذِبُ وَلَا أَزِيغُ وَلَا أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ قَالَ فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ ﷺقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللهِ إِنَّ عُمَرَ قَالَ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺلَيْسَ بِأَحَقَّ بِي مِنْكُمْ وَلَهُ وَلِأَصْحَابِهِ هِجْرَةٌ وَاحِدَةٌ وَلَكُمْ أَنْتُمْ أَهْلَ السَّفِينَةِ هِجْرَتَانِ قَالَتْ فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ يَأْتُونِي أَرْسَالًا يَسْأَلُونِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ مَا مِنْ الدُّنْيَا شَيْءٌ هُمْ بِهِ أَفْرَحُ وَلَا أَعْظَمُ فِي أَنْفُسِهِمْ مِمَّا قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ ﷺ. ([3])
(١٥)ابو موسیٰ اشعری ؓكہتے ہیں اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہاجو ہمارے ساتھ آئیں تھیں ام المؤ منین حفصہ رضی اللہ عنہا سے ملنے گئیں اور انہوں نے بھی نجاشی كے ملك میں مہاجرین كے ساتھ ہجرت كی تھی( كہ اس دوران) عمر ؓام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہاكے پاس آئے اور ا سماء بنت عمیس ان كے پاس موجود تھیں ۔ عمر ؓنے اسماء كو دیكھ كر پوچھا یہ كون ہے؟ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے جواب دیا كہ یہ اسماء بنت عمیس ہیں ۔ عمر ؓ نے كہا كہ جو حبشہ كے ملك گئیں تھیں اور اب سمند ر كا سفر كر كے آئیں ہیں؟ اسماء رضی اللہ عنہا بولیں جی ہاں میں وہی ہوں عمر ؓنے كہا كہ ہم ہجرت میں تم سے سبقت لے گئے ۔لہٰذا رسول اللہﷺ پر تم سے زیادہ ہمارا حق ہے یہ سن كر انہیں غصہ آگیا اور كہنے لگیں اے عمر اللہ كی قسم ہر گز نہیں تمہیں غلطی لگی ہے تم تو رسول اللہﷺ كے پاس موجود تھے ۔آپ تم میں سے بھوكے كو كھانا كھلاتے اور تمہارے جاہل كو نصیحت كرتے تھے اور ہم ایك دور دراز دشمنوں كی زمین حبشہ میں تھے اور ہماری یہ سب تكالیف اللہ اور اس كے رسول كی راہ میں تھیں اللہ كی قسم میں اس وقت تك نہ کھاؤں گی اور نہ پیوں گی جب تك كہ تمہاری یہ بات رسول اللہﷺسے ذكر نہ كر لوں اور ہم كو ایذائیں دی جاتی تھی اور ہمیں ہر وقت خوف رہتا تھا ۔عنقریب میں رسول اللہﷺ سے ذكركروں گی اور ان سے پوچھوں گی اوراللہ كی قسم نہ میں جھوٹ بولوں گی نہ میں (اپنی بات سے پھروں گی)اور نہ اس میں زیادتی كروں گی۔جب نبیﷺ تشریف لائے تو اسماءرضی اللہ عنہانے عرض كی كہ یا نبی اللہ عمر ؓنے اس اس طرح كہا ہے تو رسول اللہﷺنے فرمایا: تم سے زیادہ كسی كا حق نہیں ہے۔ كیونكہ عمر ؓاور ان كے ساتھیوں كی ایك ہجرت ہے اور تم كشتی والوں كی دو ہجرتیں ہوئیں( ایك مكہ سے حبشہ كو اور دوسری حبشہ سے مدینہ كو)۔ اسماء ؓنے كہا كہ میں نے ابو موسیٰ ؓاور كشتی والوں كو دیكھا كہ وہ گروہ در گروہ میرے پاس آتے اور اس حدیث كو سنتے تھے اور دنیا میں كوئی چیز ان كے لئے رسو ل اللہﷺكے اس فرمان سے زیادہ خوشی كی تھی اور نہ اتنی بڑی تھی۔(جتنی كہ یہ حدیث تھی)


[1] - (حسن) صحيح سنن الترمذي رقم (1021) سنن الترمذي كِتَاب الْجَنَائِزِ بَاب فَضْلِ الْمُصِيبَةِ إِذَا احْتَسَبَ رقم (942)
[2] - صحيح مسلم كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَاب فَضْلِ مَنْ يمُوتُ لَهُ وَلَدٌ فَيحْتَسِبَهُ رقم (2636)
[3] - صحيح البخاري رقم (3136) صحيح مسلم كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ بَاب مِنْ فَضَائِلِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيسٍ... رقم (2503)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
16- عَنْ صُهَيْبٍؓ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺعَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ. ([1])
(١٦)صہیب ؓسے روایت ہے كہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: مومن كا معاملہ بھی عجیب ہے اس كے ہر كام میں اس كے لئے بھلائی ہے اور یہ چیز مومن كے سواء كسی كو حاصل نہیں۔ اگر اسے خوش حالی نصیب ہو( اس پر اللہ كا ) شكر كرتا ہے تو(یہ شكر كرنا بھی) اس كے لئے بہتر ہے(یعنی اس میں اجر ہے) اور اگر اسے تكلیف پہنچے تو صبر كرتا ہے ،تو یہ (صبر كرنا بھی) اس كے لئے بہتر ہے ( كہ صبر بھی بجائے خود نیك عمل اور باعث اجر ہے)
17- عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّؓ قَالَتْ النِّسَاءُ لِلنَّبِيِّ ﷺغَلَبَنَا عَلَيْكَ الرِّجَالُ فَاجْعَلْ لَنَا يَوْمًا مِنْ نَفْسِكَ فَوَعَدَهُنَّ يَوْمًا لَقِيَهُنَّ فِيهِ فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ فَكَانَ فِيمَا قَالَ لَهُنَّ مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّمُ ثَلَاثَةً مِنْ وَلَدِهَا إِلَّا كَانَ لَهَا حِجَابًا مِنْ النَّارِ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ وَاثْنَيْنِ فَقَالَ وَاثْنَيْنِ. ([2])
(١٧)ابو سعید خدری ؓسے فرماتے ہیں كہ عورتوں نے رسول اللہﷺ سے كہا كہ( آپ سے فائدہ اٹھانے والے) مرد ہم سے آگے بڑھ گئے ہیں۔ اس لئے آپ اپنی طرف سے ہمارے( وعظ کے ) لئے بھی كوئی دن خاص فرمادیں ۔تو آپ نے ان سے ایك دن كا وعدہ فرمالیا۔اس دن عورتوں سے آپ نے ملاقات كی اور انہیں وعظ فرمایا اور( مناسب) احكام سنائے۔ جو كچھ آپ نے ان سے فرمایا تھااس میں سے یہ بات بھی تھی كہ تم میں سے جو عورت ( اپنے تین بچے آگے بھیج دے گی تو وہ اس كے لئے دوزخ سے پناہ بن جائیں گے۔ اس پر ایك عورت نے كہا اگر دو (بچے بھیج دے) آپ نے فرمایا: ہاں اور دو( كا بھی یہی حكم ہے)۔
18- عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺمَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللهِ إِلَّا بَاعَدَ اللهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا.([3])
(١٨)ابو سعید خدری ؓنے بیان كیا كہ میں نے نبی كریمﷺسے سنا آپ فرماتے تھے كہ جس نے اللہ تعالیٰ كے راستے میں (جہاد كرتے ہوئے) ایك دن بھی روزہ ركھا اسے جہنم سے ستر سال كی مسافت كی دوری تك دور كر دےگا ۔
19- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَؓ عَنْ النَّبِيِّ ﷺقَالَ لَا يَمُوتُ لِأَحَدٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةٌ مِنْ الْوَلَدِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ.
(١٩)ابو ہریرہ ؓروایت كرتے ہیں كہ نبیﷺ نے فرمایا: كہ كسی كے اگر تین بچے مرجائیں تو وہ دوزخ میں نہیں جائے گا۔سوائے قسم پوری كرنے كے لئے۔([4])
20- عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺيَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ} إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ {اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَخْلَفَ اللهُ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا قَالَتْ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ أَوَّلُ بَيْتٍ هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللهِ ﷺثُمَّ إِنِّي قُلْتُهَا فَأَخْلَفَ اللهُ لِي رَسُولَ اللهِ ﷺ...) ([5])
(٢٠)ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان كرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس مسلمان كو كوئی مصیبت لاحق ہوتو وہ( اس وقت) وہ كلمات كہے جن كا اللہ نے حكم دیا ہے( بلا شبہ ہم اللہ كے لئے ہیں اور بلا شبہ ہم آخرت میں اللہ كی جانب جانے والے ہیں اے اللہ مجھے میری مصیبت میں اجر وثواب عطا فرما اور مجھے اس سے بہتر عطا فرما چنانچہ اللہ اس كو اس سے بہتر بدل عطا كرتا ہے ۔ام سلمہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں جب ابو سلمہ فوت ہوگئے تو میں نے( دل میں) كہا ابو سلمہ سے بہتر كون مسلمان ہے؟ یہ پہلا خاندان ہے جس نے رسول اللہﷺ كی طرف ہجرت كی پھر بھی میں نے یہ كلمات كہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ابو سلمہ ؓكے عوض رسول اللہﷺ كا بدل عطا فرمایا۔
21- عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّؓ وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَؓ عَنْ النَّبِيِّ ﷺقَالَ مَا يُصِيبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ وَلَا هَمٍّ وَلَا حَزْنٍ وَلَا أَذًى وَلَا غَمٍّ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا إِلَّا كَفَّرَ اللهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ. ([6])
(٢١) ابوسعیدخدریؓاورابو ہریرہؓسے روایت ہے وہ نبیﷺ سے بیان كرتے ہیں آپ نے فرمایا:جس مسلمان كوكوئی تھكاوٹ ، درد،فكر ،غم ،تكلیف اور پریشانی لاحق ہوتی ہے ۔یہاں تك كہ اگر اس كو كانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس كی وجہ سے اس( مسلمان) كے گناہوں كو دور كر دیتا ہے۔

[1] - صحيح مسلم كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ بَاب الْمُؤْمِنُ أَمْرُهُ كُلُّهُ خَيرٌ رقم (2999)
[2] - صحيح البخاري كِتَاب الْعِلْمِ بَاب هَلْ يجْعَلُ لِلنِّسَاءِ يوْمٌ عَلَى حِدَةٍ فِي الْعِلْمِ رقم (101) صحيح مسلم رقم (2633)
[3] - صحيح البخاري رقم (2840) صحيح مسلم كِتَاب الصِّيامِ بَاب فَضْلِ الصِّيامِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لِمَنْ يطِيقُهُ بِلَا ضَرَرٍ وَلَا تَفْوِيتِ حَقٍّ رقم (1153)
[4] - صحيح البخاري رقم (1251) صحيح مسلم كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَاب فَضْلِ مَنْ يمُوتُ لَهُ وَلَدٌ فَيحْتَسِبَهُ رقم (2632)
[5] - صحيح مسلم كِتَاب الْجَنَائِزِ بَاب مَا يقَالُ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ رقم (918)
[6] - صحيح البخاري كِتَاب الْمَرْضَى بَاب مَا جَاءَ فِي كَفَّارَةِ الْمَرَضِ رقم (5641، 5642) صحيح مسلم رقم (2573)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
نبی ﷺ كی زندگی میں احتساب كے عملی نمونے
22- عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّؓ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ ﷺوَهُوَ يُوعَكُ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَيْهِ فَوَجَدْتُ حَرَّهُ بَيْنَ يَدَيَّ فَوْقَ اللِّحَافِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ مَا أَشَدَّهَا عَلَيْكَ قَالَ إِنَّا كَذَلِكَ يُضَعَّفُ لَنَا الْبَلَاءُ وَيُضَعَّفُ لَنَا الْأَجْرُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً قَالَ الْأَنْبِيَاءُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ الصَّالِحُونَ إِنْ كَانَ أَحَدُهُمْ لَيُبْتَلَى بِالْفَقْرِ حَتَّى مَا يَجِدُ أَحَدُهُمْ إِلَّا الْعَبَاءَةَ يُحَوِّيهَا وَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمْ لَيَفْرَحُ بِالْبَلَاءِ كَمَا يَفْرَحُ أَحَدُكُمْ بِالرَّخَاءِ.
(٢٢)ابو سعید خدریؓكہتے ہیں كہ میں نبیﷺ كے پاس گیا آپﷺ كو بخار كی شدت تھی میں نے اپنا ہاتھ آپ كے اوپر ركھا تو بخار كی(تپش)گرمی كی شدت لحاف (چادر) كے اوپر سے بھی مجھے محسوس ہوئی ۔میں نے عرض كیا یا رسول اللہﷺ آپ كو اتنا سخت بخار؟ آپﷺ نے فرمایا: ہمارا(انبیاءكا )یہی حال ہے كہ ہماری تكلیف دگنی ہوتی ہے اور اجر دگنا ہوتا ہے۔میں نے عرض كیا یا رسول اللہﷺكن لوگوں پر سب سے سخت مصیبت آتی ہے؟ آپ نے فرمایا انبیاء پر میں نے كہا پھر كن پر آپ ﷺنے فرمایا نیك لوگوں پر اور بعض ان میں سے فقیری میں مبتلا ہوتے تھے یہاں تك كہ ان كے پاس چادر اوڑھنے كے سوا كچھ نہ ہوتا تھا ۔اور ان میں سے بعض مصیبتوں پر اس طرح خوش ہوتے تھے كہ جس طرح تم كو مالداری سے خوشی ہوتی ہے۔ ([1])
23- عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍؓ قَالَ دَخَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ ﷺعَلَى أَبِي سَيْفٍ الْقَيْنِ وَكَانَ ظِئْرًا لِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ ﷺإِبْرَاهِيمَ فَقَبَّلَهُ وَشَمَّهُ ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَيْهِ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِبْرَاهِيمُ يَجُودُ بِنَفْسِهِ فَجَعَلَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللهِ ﷺتَذْرِفَانِ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ  وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ يَا ابْنَ عَوْفٍ إِنَّهَا رَحْمَةٌ ثُمَّ أَتْبَعَهَا بِأُخْرَى فَقَالَ ﷺإِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا وَإِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ.([2])
(٢٣)انس بن مالك ؓكہتے ہیں كہ ہم رسول اللہﷺ كے ساتھ ابو سیف لوہار كے یہاں گئے۔یہ ابراہیم(رسول اللہﷺ كے صاحبزادے ابراہیم ؓ) كو دودھ پلانے والی(عورت) آیاكے خاوند تھے نبیﷺنے ابراہیم كو گود میں لے لیا اور پیار كیا اورگلے لگایا۔پھر اس كے بعد ہم ان كے یہاں گئے۔ دیكھا كہ اس وقت ابراہیم ؓدم توڑ رہے ہیں رسول اللہﷺ كی آنكھیں آنسوؤں سے بھر آئیں ۔تو عبدالرحمن بن عوف ؓبول پڑے: یا رسول اللہﷺ آپ بھی؟ نبیﷺ نے فرمایا:ابن عوف یہ تو رحمت ہے۔ پھر آپ دوبارہ روئے اور فرمایا :آنكھوں سے آنسو جاری ہیں اور دل غم سے نڈھال ہے پر ہم زبان سے وہی كہیں گے جو ہمارے پروردگار كو پسند ہے اور اے ابراہیم ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں۔
24- عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ قَالَ دَمِيَتْ إِصْبَعُ رَسُولِ اللهِﷺفِي بَعْضِ تِلْكَ الْمَشَاهِدِ فَقَالَ: هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ مَا لَقِيتِ. ([3])
(٢٤)جندب بن سفیان ؓبیان كرتے ہیں کہ نبیﷺ كی كسی جنگ میں انگلی زخمی ہو گئی تو آپﷺ نے فرمایا بس تو ایك انگلی ہے جو زخمی ہو گئی تجھے جو تكلیف پہنچی ہے وہ اللہ كے راستے میں ہے۔
25- عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللهِ ﷺيَحْكِي نَبِيًّا مِنْ الْأَنْبِيَاءِ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَقُولُ رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ.
(٢٥)عبداللہ بن مسعود ؓكہتے ہیں كہ گویا كہ میں ( اب بھی)رسول اللہﷺ كو دیكھ رہا ہوں ۔آپ ایك پیغمبر كا حال بیان كر رہے تھے كہ ان كی قوم نے ان كو مارا تھا اور وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتےہوئے کہہ رہے تھے اے اللہ! میری قوم كو بخش دے وہ نادان ہیں۔([4])

[1] - (صحيح) صحيح سنن ابن ماجة رقم (4024) سنن ابن ماجه كِتَاب الْفِتَنِ بَاب الصَّبْرِ عَلَى الْبَلَاءِ رقم (4014)
[2] - صحيح البخاري كِتَاب الْجَنَائِزِ بَاب قَوْلِ النَّبِي ﷺ إِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ رقم (1303) صحيح مسلم رقم (2315)
[3] - صحيح البخاري رقم (6146) صحيح مسلم كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيرِ بَاب مَا لَقِي النَّبِي ﷺ مِنْ أَذَى الْمُشْرِكِينَ وَالْمُنَافِقِينَ رقم (1796)
[4] - صحيح البخاري رقم (3477) صحيح مسلم كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيرِ بَاب غَزْوَةِ أُحُدٍ رقم (1792)

 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
احتساب کے متعلق آثار اور علماء و مفسرین کے اقوال

(۱)عمر بن خطاب ؓنے فرمایا :اے لوگوں !اپنے اعمال کا محاسبہ کرو ۔کیوں کہ جو شخص اپنے اعمال کا محاسبہ کرے گا اس کے لئے اس کی نیکیوں کا اور احتساب کا بھی اجر لکھا جائے گا۔
(۲)ابن عباس ؓنے فرمایا :جس مسلمان کے دو بیٹے ہوں اور وہ ان کا روزانہ احتساب کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئےجنت کے دو دروازے کھولے گا اور اگر ایک ہو تو ایک دروازہ کھولے گا۔
(۳)خبیب ؓکو جب بنو حارث بن عامر بن نوفل نے قتل کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے فرمایا : جب میں مسلمان ہو کر قتل ہوتا ہوں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ میں کس کروٹ اللہ کے لئےگرتا ہوں ، اور یہ اللہ کی ذات کے لئے ہے اور وہ اگر چاہے تو بکھرے ہوئے اعضاء میں بھی برکت ڈال دے۔
(۴)امام وکیع نے عدی بن حاتمؓکی اس حدیث جس میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"تم میں سے ہر شخص کے ساتھ اس کا رب روز جزاء کو بات کرے گا اور اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا۔ الحدیث ۔اس حدیث کے بعد کہا:یہاں جو اہل خراسان میں سے ہے وہ اس حدیث کے اظہار میں ثواب کی نیت رکھے ،کیوں کہ جہمیہ اس حدیث کا انکار کرتے ہیں (یعنی وہ قیامت کے دن رؤیت باری تعالیٰ اوراس کے ساتھ کلام کے منکر ہیں )۔
(۵)امام ماوردی نے اس آیت الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَ‌اجِعُونَ ﴿١٥٦ (البقرة: ١٥٦) کی تفسیر میں کہا ہے :یعنی جان اور اہل ومال میں مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں "انا للہ"یعنی ہماری جانیں اور گھر اور ہمارے مال اللہ ہی کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جو ہمارے ساتھ کرتا ہےاس میں ہمارے ساتھ ظلم نہیں کرتا (وانا الیہ راجعون)یعنی قیامت کے دن جب نیکو کار کو ثواب اور گناہ گار کو سزا ملے گی۔
(۶)امام ابن کثیر نے اسی آیت کی تفسیر میں لکھا ہے: یعنی وہ اس قول سے اپنی مصیبت میں تسلی حاصل کرتے ہیں اور یقین کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی ملکیت ہیں ۔وہ اپنے بندوں کے بارے میں جو چاہتا ہےکرتا ہے۔ اور یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قیامت کے دن ذرہ برابر بھی(نیکی )ضائع نہیں ہوگی۔ اس بات سے ان کے اندر یہ پختہ اعتراف پیدا ہو گیا کہ وہ اسی کے بندے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ جائیں گے۔
(۷)عبد بن حمید نے قتادہ سے اسی آیت: (البقرة)کی تفسیر میں روایت کیا ہے:جو اللہ تعالیٰ کے اوپر تین چیزیں یعنی صلوۃ،رحمت اور ہدایت کو واجب کر سکتا ہے تو کر لے ۔اور اللہ تعالیٰ کی توفیق کے سوا کوئی چارہ نہیں لہٰذا جو شخص اللہ کے اوپر حق کو واجب کرتا ہے کسی حق کے ساتھ ،تو اللہ اس کے لئے اس چیز کو واجب کر دیتا ہے اور وہ شخص اللہ تعالیٰ کو پورا پورا دینے والا پائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
احتساب کے فوائد
(۱)احتساب وہ راستہ ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور رضا مندیوں تک پہنچاتا ہے۔
(۲)احتساب کمال ایمان اور حسن اسلام کی دلیل ہے۔
(۳)احتساب سے جنت حاصل ہو گی اور جہنم سے نجات ملے گی۔
(۴)احتساب سے دنیا و آخرت میں سعادت حاصل ہوتی ہے۔
(۵)نیکی کے کاموں میں احتساب نیکیوں کو اللہ کی رضامندی کے لئے خالص بنا دیتا ہے پھر ان نیکیوں کا بدلہ جنت کے سوا اورکوئی چیز نہیں ہے۔
(۶ )تکلیف دہ کاموں میں احتساب (یعنی ثواب کی امید رکھنے )سے ان کاموں کے اندر صبر پر اجر دوگنا ہو جاتا ہے ۔
(۷)احتساب انسان کو ریاء کے شبہ سے بچاتا ہے اور اپنے رب پر بھروسے کو بڑھاتا ہے۔
(۸)مصائب اور تکلیف دہ کاموں میں احتساب غم کو دور کرتا ہے، سرور و خوشی لاتا ہےاور جس چیز کو انسان پکڑو عذاب سمجھتا ہے اس کو نعمت میں تبدیل کردیتا ہے۔
(۹)نیکی کے کاموں میں محتسب کو ٹھنڈی آنکھوں والا اور خوش دل بنا دیتا ہے۔ اس لئے کہ وہ اپنے رب کے پاس نیکیاں جمع کرتا رہتا ہے
(۱۰)احتساب اللہ کی قضا ء وتقدیر پر رضامندی کی اور اللہ کے بارے میں نیک گمان کی دلیل ہے۔

نضرۃ النعیم
 
Top