- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,589
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
8- عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِؓ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺإِنَّ اللهَ لَا يَرْضَى لِعَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ إِذَا ذَهَبَ بِصَفِيِّهِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ وَقَالَ مَا أُمِرَ بِهِ بِثَوَابٍ دُونَ الْجَنَّةِ. ([1])
(٨)عبداللہ بن عمر و بن العاص بیان كرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے كی محبوب ترین چیز واپس لے لیتا ہے ( یعنی بینائی) اور وہ بندہ اس پر ثواب كی نیت سے صبر كرتا ہے اور جس چیز كا حكم دیا گیا ہے وہ كہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت كا بدلہ دیئے بغیر راضی نہیں ہوتا۔
9- عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ؓ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بَيْتُهُ أَقْصَى بَيْتٍ فِي الْمَدِينَةِ فَكَانَ لَا تُخْطِئُهُ الصَّلَاةُ مَعَ رَسُولِ اللهِ ﷺقَالَ فَتَوَجَّعْنَا لَهُ فَقُلْتُ لَهُ يَا فُلَانُ لَوْ أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا يَقِيكَ مِنْ الرَّمْضَاءِ وَيَقِيكَ مِنْ هَوَامِّ الْأَرْضِ قَالَ أَمَ وَاللهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِي مُطَنَّبٌ بِبَيْتِ مُحَمَّدٍ ﷺقَالَ فَحَمَلْتُ بِهِ حِمْلًا حَتَّى أَتَيْتُ نَبِيَّ اللهِ ﷺفَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَدَعَاهُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ وَذَكَرَ لَهُ أَنَّهُ يَرْجُو فِي أَثَرِهِ الْأَجْرَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺإِنَّ لَكَ مَا احْتَسَبْتَ.([2])
(٩)ابی بن كعب ؓكہتے كہ انصار میں سے ایك شخص تھا اس كا گھر مدینہ كے سب گھروں سےزیادہ مسجد سے دور تھااور اس كی كوئی جماعت رسول اللہﷺ كےساتھ جانے نہ پاتی تھی(یعنی ہرنماز میں پہنچتے تھے) تو مجھے ان پر ترس آیا اور میں نے ان سے كہا كہ كاش تم ایك گدھا خرید لو كہ تمہیں گرمی سے اور راہ كے كیڑے مكوڑوں سے بچائے تو انہوں نے كہا اللہ كی قسم میں نہیں چاہتا كہ میراگھر محمد ﷺكے گھر سے متصل ہو مجھ پر اس كی یہ بات گراں گزری تو میں نبیﷺكے پاس آیا اور آپ كو خبردی ،آپ نے ان كو بلوایا انہوں نے رسول اللہﷺ سے بھی وہی كہا جو مجھ سے كہا تھا اور كہا كہ میں اپنے قدموں كا اجر چاہتا ہوں۔نبیﷺ نے فرمایا:بے شك تم كو اجر ملے گا جس كے تم امیدوارہو۔
10- عَنْ أَبِي أُمَامَةَؓ عَنْ النَّبِيِّ ﷺقَالَ يَقُولُ اللهُ سُبْحَانَهُ: ابْنَ آدَمَ إِنْ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى لَمْ أَرْضَ لَكَ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ. ([3])
(١٠)ابوامامہؓكہتے ہیں كہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے ابن آدم اگر تو مصیبت كے آغاز میں صبر كرے اور ثواب كی امید ركھے تو میں تیرے لئے جنت كے سوا كسی اور چیز پر راضی نہیں ہوں(یعنی تجھے ضرور جنت میں داخل كروں گا،مترجم)۔
(٨)عبداللہ بن عمر و بن العاص بیان كرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے كی محبوب ترین چیز واپس لے لیتا ہے ( یعنی بینائی) اور وہ بندہ اس پر ثواب كی نیت سے صبر كرتا ہے اور جس چیز كا حكم دیا گیا ہے وہ كہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت كا بدلہ دیئے بغیر راضی نہیں ہوتا۔
9- عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ؓ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بَيْتُهُ أَقْصَى بَيْتٍ فِي الْمَدِينَةِ فَكَانَ لَا تُخْطِئُهُ الصَّلَاةُ مَعَ رَسُولِ اللهِ ﷺقَالَ فَتَوَجَّعْنَا لَهُ فَقُلْتُ لَهُ يَا فُلَانُ لَوْ أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا يَقِيكَ مِنْ الرَّمْضَاءِ وَيَقِيكَ مِنْ هَوَامِّ الْأَرْضِ قَالَ أَمَ وَاللهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِي مُطَنَّبٌ بِبَيْتِ مُحَمَّدٍ ﷺقَالَ فَحَمَلْتُ بِهِ حِمْلًا حَتَّى أَتَيْتُ نَبِيَّ اللهِ ﷺفَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَدَعَاهُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ وَذَكَرَ لَهُ أَنَّهُ يَرْجُو فِي أَثَرِهِ الْأَجْرَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺإِنَّ لَكَ مَا احْتَسَبْتَ.([2])
(٩)ابی بن كعب ؓكہتے كہ انصار میں سے ایك شخص تھا اس كا گھر مدینہ كے سب گھروں سےزیادہ مسجد سے دور تھااور اس كی كوئی جماعت رسول اللہﷺ كےساتھ جانے نہ پاتی تھی(یعنی ہرنماز میں پہنچتے تھے) تو مجھے ان پر ترس آیا اور میں نے ان سے كہا كہ كاش تم ایك گدھا خرید لو كہ تمہیں گرمی سے اور راہ كے كیڑے مكوڑوں سے بچائے تو انہوں نے كہا اللہ كی قسم میں نہیں چاہتا كہ میراگھر محمد ﷺكے گھر سے متصل ہو مجھ پر اس كی یہ بات گراں گزری تو میں نبیﷺكے پاس آیا اور آپ كو خبردی ،آپ نے ان كو بلوایا انہوں نے رسول اللہﷺ سے بھی وہی كہا جو مجھ سے كہا تھا اور كہا كہ میں اپنے قدموں كا اجر چاہتا ہوں۔نبیﷺ نے فرمایا:بے شك تم كو اجر ملے گا جس كے تم امیدوارہو۔
10- عَنْ أَبِي أُمَامَةَؓ عَنْ النَّبِيِّ ﷺقَالَ يَقُولُ اللهُ سُبْحَانَهُ: ابْنَ آدَمَ إِنْ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى لَمْ أَرْضَ لَكَ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ. ([3])
(١٠)ابوامامہؓكہتے ہیں كہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے ابن آدم اگر تو مصیبت كے آغاز میں صبر كرے اور ثواب كی امید ركھے تو میں تیرے لئے جنت كے سوا كسی اور چیز پر راضی نہیں ہوں(یعنی تجھے ضرور جنت میں داخل كروں گا،مترجم)۔
[1]- (حسن) صحيح سنن النسائي رقم (1871) سنن النسائي كِتَاب الْجَنَائِزِ ثَوَابُ مَنْ صَبَرَ وَاحْتَسَبَ باب مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ...رقم (3106)
[2]- صحيح مسلم كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةِ بَاب فَضْلِ كَثْرَةِ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ رقم (663)
[3]- (حسن) صحيح سنن ابن ماجة رقم (1597) سنن ابن ماجه كِتَاب مَا جَاءَ فِي الْجَنَائِزِ بَاب مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْمُصِيبَةِ رقم (1586)
[2]- صحيح مسلم كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةِ بَاب فَضْلِ كَثْرَةِ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ رقم (663)
[3]- (حسن) صحيح سنن ابن ماجة رقم (1597) سنن ابن ماجه كِتَاب مَا جَاءَ فِي الْجَنَائِزِ بَاب مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْمُصِيبَةِ رقم (1586)