- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
الاستقامة
لغوی بحث:
”اسْتِقَامَةٌ“(بروزن استفعال) استقام کا مصدر ہے۔ بمعنی سیدھا ہونا۔ اس کا اصل مادہ (ق وم )ہے جو کہ دو معانی پر دلالت کرتا ہے ۔ ایک لوگوں کی جماعت اور دوسرا معنی سیدھا کھڑا ہونا یا عزم کرنا اور اعتدال کے معنی میں لفظ ”اسْتِقَامَة“ اسی سے متعلق ہے۔ (یعنی دوسرے معنی سے) کہا جاتا ہے۔ ”قَامَ الشَّيْءُ وَاسْتَقَامَ“یعنی معتدل اور برابر ہوئی۔اور ”اسْتَقَامَ لَهُ الأَمْر“یعنی معاملہ اس کے لئے معتدل ہو گیا۔ اور فرمان الٰہی ہے: فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ فصلت: ٦ یعنی معبودان باطل کو ترک کر کے اکیلے اللہ تعالیٰ کی طرف تو جہ میں سیدھے ہو جاؤ۔ اور فرمان الٰہی ہے: إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا…﴿٣٠﴾فصلت، یعنی وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہی ہے پھر استقامت اختیار کی۔یہاں استقامت کا معنی ہے کہ انہوں نے اس کی اطاعت اختیار کی اور اس کے نبی ﷺکی سنت کو لازم کیا ۔اور ”اسْتَقَامَ فُلاَنٌ بِفُلاَنٍ“یعنی اس نے اس کی مدح اور تعریف کی۔
ابو اسحاق رحمہ اللہ نے کہا: ”اسْتَقَامَ الشِّعْرُ“ یعنی شعر صحیح وزن پر ٹھہرا اور ”قَوَّامُ الأَمْرِ“ نظام الامراور اس کی بنیاد کو کہتے ہیں ۔ جبکہ”القَوَّام“(بالفتح) عَدل کو کہتے ہیں۔ فرمان الٰہی ہے: وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًا ﴿٦٧﴾الفرقان اور ”القَائِمُ“ ثابت کو کہتے ہیں اور”کُلُّ مَنْ قَامَ عَلَی شَيْءٍ فَهُوَ ثَابِتٌ عَلَیْهِ مُسْتَمْسِكٌ بِهِ“ یعنی جو بھی کسی چیز پر کھڑا ہے تو وہ اس پر ثابت اور اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنے والا ہے۔ فرمان الٰہی ہے: مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ يَتْلُونَ آيَاتِ اللَّـهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ ﴿١١٣﴾آل عمران، یعنی وہ جماعت دین پر (اعما ل صالحہ میں) مداومت کرنے والی اس کا قیام کرنے والی ہے۔اور ”فُلاَنٌ قَائِمٌ بِکَذَا“ معنی وہ اس کی حفاظت کرنے والا اور اس کو مضبوطی سے لینے والا ہے۔
ابن برّی رحمہ اللہ نے کہا ہے: ”القَائِمُ عَلَی الشِّرَاءِ“خریداری پر کھڑا ہونے والا۔ ”القَیِّمُ“ معنی معتدل اور”المِلَّةُ الْقَیِّمَة“ یعنی معتدل امت ،یہی معنی ”الأُمَّةُ الْقَیِّمَة“ کا ہے۔ ([1])
[1]- لسان العرب (6/3781-3787)، الصحاح (5/2016-2018)