- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,589
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
الاعتبار
الاعتبار کی لغوی بحث:
”إِعتِبَار“ (بروزن اِفتِعَال ”اعتَبَرَ“ یعنی عبرت پکڑی ،نصیحت لی۔ کا مصدر ہے۔ اور اس کا اصل مادہ (ع ب ر)ہے۔ جو کہ نافذ کرنے او ر کسی چیز کو کر گذرنے پر دلالت کرتا ہے۔ مثلا:”عَبَرْتُ النَّهْرَعُبُوراً“میں نے نہر کو عبور کیا۔ اور ”عِبْرُالنَّهْرِ“عین کے کسرہ اور فتح کے ساتھ نہر کے کنارے کو کہتے ہیں۔ اور ”اَلْمِعْبَرُ“ (باء کے کسرہ کے ساتھ) اس کشتی کو کہتے ہیں جس کے ذریعے نہر کو عبور کیا جائے۔ اور ”عَبْرَةٌ“ دروازے کو بھی کہتے ہیں۔
خلیل نے کہا: ”عَبْرَةُ الدَّمْعِ“ آنسو کے بہنے کو کہتے ہیں اور خود آنسوؤں کو بھی کہتے ہیں ۔کیوں کہ آنسو بھی تو گذرتے ہوئے پار ہوتے اور جاری ہوتے ہیں۔
اور ابن فارس کے ہاں”الاعتِبَارُ“ اور”عِبْرَةُ“ نہر کے ان دونوں جانبوں کے معدار کو کہا جاتا ہے جو کنارے عبور کرنے کے لئے تیار کئے گئے ہوں(یعنی پل کے دونوں کنارے) جو کہ برابرا ہوتے ہیں۔
اور”اعتَبَرتُ الشَّئیَ“ کا معنی ہے کہ میں نے کسی چیز کو دیکھا اور جو ظاہر نظر آیا اس سے اس کی دوسری جانب (غیر ظاہر) کا اندازہ لگایا اس طرح دونوں جوانب برابر ہوگئے ۔یہ اعتبار کا اشتقاق ہے۔
اور فرمان الٰہی ہے: …… إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّأُولِي الْأَبْصَارِ ﴿٢﴾الحشر
یعنی فرمایا کہ : اس شخص کو دیکھو جس نےفلاں فلاں نا فرمانی کی پھر اسے فلاں فلاں عذاب اور سزا ہوئی لہٰذا تم ان جیسے اعمال کرنے سے بچو تاکہ تم پر ان کی طرح عذاب نازل نہ ہو۔
اس قیاس پر دلیل امام خلیل کا یہ قول ہے کہ ”عَبَّرتُ الدنائیر“ یعنی ایک ایک دینار کا الگ الگ وزن کیا۔
اور امام راغب نے کہا: ”اَلعَبر“کا اصل معنی ہے ایک حال سے دوسرے کی طرف منتقل ہونا ۔جبکہ عبور پانی کے گذرنے کے ساتھ خاص ہے۔ اسی سے ہے”عَبرُ النَهر“ نہر کے اس طرف کو کہتے ہیں جہا ں سے آدمی عبور ہوتا ہے یا کرتا ہے۔
اور ”عَبرُ العَین“معنی آنسو،اور”العَبرة“بمعنی آنسو اسی سے مشتق ہے۔ اور ”عابِرُ سبیل“ بمعنی گذرنے والا ۔راستہ پار کرنے والا اور ”عَبَرَالقوم“ بمعنی فوت ہو گئے ۔گویا کہ : ”عبروا قَنطَرَة الدنیا“ دنیا کے پل کو عبور کر لیا۔ اور ”اِعتبار“ اور ”عِبرة“ اس حالت کو کہتے ہیں کہ جس کے ذریعے سے نظر آنےو الی چیز کے ذریعے نہ نظر آنی والی چیز کی معرفت حاصل کی جائے۔
فرمان الٰہی ہے: إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّأُولِي الْأَبْصَارِ ﴿١٣﴾ آل عمران
یعنی بلا شک اس کے اندر عبرت ہے۔
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّأُولِي الْأَبْصَارِ
اے آنکھوں والے عبرت و نصیحت حاصل کرو۔
اور ابو ذر کی حدیث میں ہے:" فماکانت صحف موسیٰ؟ قال کانت عِبَراً کلها“ یعنی موسیٰ کے صحیفے عِبَر پر مشتمل تھے اور عِبَر ”عِبرة“ کی جمع ہے اور اس وعظ و موعظہ کو کہتے ہیں جس سے انسان نصیحت حاصل کرے ۔اور عمل کرے ۔اور اس کا اعتبار کرتے ہوئے دوسری چیز پر استدلال کرے۔ اور عبرت اور اعتبار دونوں مذکورہ معنی میں مشترک ہیں۔ بعض نے کہا کہ" العبرة" الاِعتباَر" کااسم (مصدر) ہے عرب کہتے ہیں:”اللھم الجعَلنَا مِمن یَعبَر الدنیا ولا یَعبُرھا“ یعنی اے اللہ ہمیں ان لوگوں میں سے بنا جو دنیا سے عبرت لیتے ہیں ان میں سے نہیں جو کہ (بغیر عبرت حاصل کئے) جلدی گذر جاتے ہیں اور نہ اعمال صالحہ سے تجھے راضی کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں”عَبَرَت عَینة وَاستَعبَر“ بمعنی اس کی پریشانی اور غم ظاہر ہوا ۔ابی بکر کی ایک روایت میں ہے :”انه ذکر النبی ﷺ ثم الستعبَرَ فبلی ھو “ یعنی ابو بکر نے رسول اللہ ﷺکا ذکر کیا اور پھر غمگین ہو گئے اور رو دئے۔
اور ”اَلعَبرَة“سے ”اِستَعبَرَ“ کا معنی ہے آنسو گرے۔