• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الاعتصام

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
الاعتصام

لغوی بحث:
ابن فارس نے کہا "عین صاد اور میم (ع ص م) ایک صحیح اصل ہے جو کہ امساک (رکنا /روکنا /پکڑنا) اور منع اور ملازمة (لازم کرنا /کسی کے ساتھ ہو جانا )پر دلالت کرتا ہے اور یہ ایک ہی معنی ہے اور اس سے "اَلعِصمَة" ہے جس کا معنی ہے "اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو برائی /گناہ میں گرنے سےروکتا ہے اور بچاتا ہے۔ اور اِعتَصَمَ العَبدُ باللہ تعالیٰ یعنی بندہ اللہ تعالیٰ(کی توفیق سے )رک گیا /بچ گیا۔ اور اِستَعصَمَ بمعنی اِلتَجأ الخ۔ کسی سہارے کو پکڑا۔
الاعتصام اَلاِستِمسَاک بِالشٰیءِ یعنی کسی چیز کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنا ۔
ابو طالب نے کہا ہے" ثَمال الیتامیٰ عِصمَة للارامل یعنی (آپ ﷺکے متعلق کہا کہ) یتیموں کو کھلانے والا ان کے لئے سایہ رحمت اور بیواؤں کا سہارا ان کا دفاع کرنے والا ہے۔ اور انہیں ضائع ہونے اور محتاجی سے بچاتا ہے۔ اورعَصَمَ اِلَیه کا معنی ہے اِعتَصَمَ به اس نے اس کے ذریعے خود کا دفاع کیا / اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑا ۔اور "اَعصَمَه" (اباب افعال) صیغہ واحد مذکر غائب ،ماضی معروف اس نے اس لئے وہ چیز مہیا کی جس کو مضبوطی کےساتھ پکڑے ۔اور اَعصَمَ بِالفَرَس یعنی اس نے گھوڑے کی گردن کے بالوں کو پکڑا اور ان کے ساتھ چمٹ گیا۔
زجاج نے کہا "اصلا العصمة الحبل وکل ما امسک شیئا فقد عصمه" یعنی عصمت اصل رسی کو کہتے ہیں (کیوں کہ اس کو پکڑا جاتا ہے )اور جب کسی بھی چیز کو پکڑا جاتا ہے تو کہتے ہیں عَصَمة اس نے اس کو پکڑا۔ اور اَعصم الرجل بصاحبه اِعصَاماً یعنی اس نے اس کو لازم کر لیا اس سے الگ نہیں ہوا ہمیشہ ساتھ رہا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
(الاعتصام بالکتاب والسنة) کی اصطلاحی بحث:

(اعتصام بالکتاب والسنة کی معنی ہے)اصطلاح میں اعتصام بالکتاب والسنة کہتے ہیں مسلمانوں کا مجتمع ہونا اللہ تعالیٰ سے استعانت/ مدد طلب کرنے اور اس کے ساتھ تعلق جوڑنے پراور اس سے لاتعلقی سے بچنے پرمجتمع ہونے کو۔ اور اس کے اس عہد کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنے پر جو اس نے اپنے بندوں سے لیا ہےمجتمع ہونے کو۔
اور وہ (عہد سے)ایمان اور اطاعت (عمل صالح) ہے یا کتاب اللہ ہے([1])(اور سنت نبوی بھی) کیوں کہ جو رسول اللہ ﷺکی اطاعت کرتا وہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی کتاب کے اندر فرض کیا ہے جیسےفرمایا: مَّن يُطِعِ الرَّ‌سُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّـهَ ۖ ۔۔﴿٨٠النساء
یعنی جس نے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔
کتب اصطلاحا ت کے اندر فقط العصمہ کی تعریف مذکور ہے جبکہ اعتصام کی تعریف ذکر نہیں کی۔ مثلاً جرجانی نے العصمة کی تعریف لکھی
ہے "ملکة اجتناب المعاصی مع التمکن منھا "(التعریفات،۱۵)
یعنی باوجود قدرت و امکان کے معاصی سے بچنے کے ملکہ کوعصمت کہتے ہیں۔

[1])یہ تعریف ہم نے الکشاف للزمحشری (۲۰۶/۱) سے لی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
انواع الاعتصام​
اعتصام کی اقسام

امام ابن القیم نے کہا ہے "اعتصام کی دو قسمیں ہیں (۱)اعتصام باللہ (۲)اعتصام بحبل اللہ ۔فرمان الٰہی ہے: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّ‌قُوا ۚ .. ﴿١٠٣آل عمران
یعنی اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑو اور جدا جدا نہ ہونا۔
اور فرمایا : وَاعْتَصِمُوا بِاللَّـهِ هُوَ مَوْلَاكُمْ ۖ فَنِعْمَ الْمَوْلَىٰ وَنِعْمَ النَّصِيرُ‌ ﴿٧٨ الحج
یعنی اللہ کےسا تھ ہو جاؤ وہ تمہارا مالک ہے اور اچھا مالک اور مدد گار ہے۔ اور دنیا وآخرت میں سعادت کا مدار اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق و اعتصام پر اور اس کی رسی کو پکڑنے پر ہے۔ اورنجات فقط اسی کے لئے ہے جو ان دو عصمتوں کو پکڑتا ہے ۔
اور اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنا گمراہی سے بچاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اعتصام و تعلق ہلاکت سے بچاتا ہے ۔اور اللہ تعالیٰ کی طرف جانے والا اس شخص کی طرح ہے جو اس راستہ پرچلتا ہے جو کہ اس کی طرف جاتا ہے لہٰذا وہ محتاج ہےکہ اسے راستہ دکھایا جائے اور اس کے اندر سلامتی دی جائے،اور وہ ان دو چیزوں کے حصول کے بعدہی مقصد تک پہنچ سکتا ہےلہذا راستہ دکھانے والا اس کی گمراہی(راستہ بھولنے) سے بچاؤ کا ضامن ہے اور وہ اسے راستہ دکھائے گا۔ اوروہ ہی اس کے لئے سامان (زاد راہ) قوت اور اسلحہ (مہیاکرے گا) ہے جس سے اس کو ڈاکوؤں اور دیگر آفات وغیرہ سے سلامتی حاصل ہوگی۔
لہٰذا اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنا ہی اس کے لئے ہدایت اوردلیل و رہنما کی اتباع کو واجب کرتا ہے ۔اللہ تعالیٰ کے ساتھ اعتصام اور تعلق اس کے لئے سامان ،قوت اور اس مادہ (کے حصول) کو واجب کرتا ہے جس سے وہ اپنے راستے میں سلامتی کے ساتھ گذر جاتا ہے۔ اسی وجہ سے سلف کی اعتصام بحبل اللہ کے بارے میں اگرچہ عبارات مختلف ہیں ۔جبکہ سب کا اشارہ ایک ہی معنی کی طرف ہے ۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا "تمسکوا بدین اللہ "
یعنی اللہ کے دین کو مضبوطی کے ساتھ پکڑو۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا "وہ جماعت ہے اور جماعت کو لازم پکڑو کیوں کہ وہ ہی حبل اللہ یعنی اللہ کی رسی ہے۔ جس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ اور جماعت اور اطاعت کے اندرجس چیز کو تم نا پسند کرتے ہو وہ اس چیز سے اچھی ہے جو تم افتراق کے اندر پسند کرتے ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اور مجاہد اور عطاء نے کہا "بعھداللہ"
یعنی اللہ کے عہد کو مضبوطی سے پکڑو۔
اور قتادہ ،اور بہت سے مفسرین نے اس سے قرآن مراد لیا ہے۔
اور مقاتل نے کہا " اللہ کے امر اور اس کی اطاعت کو لازم کرو اور جدا جدا مت ہو نا جس طرح یہود و نصاری فرقے فرقے ہو گئے۔
منازل والے نے لکھا ہے "الاعتصام بحبل اللہ ھو المحافظة علی طاعته مرا قبا لامرہ"
یعنی اعتصام بحبل اللہ یہ ہے کہ اس کی پکڑ سے ڈرتے ہوئے اس کی اطاعت پر ہمیشگی و محافظت کی جائے۔ اور " مراقبة الامر " کامعنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اس لئے کی جائے کہ اس نے اس کا حکم کیا ہے اور اسے پسند کرتا ہے اور عادت کی وجہ سے یا امر الٰہی پر عمل کرنے کی بجائے کسی دوسری علت کی وجہ سے عمل نہ کیا جائے۔
جس طرح طلق بن حبیب نےتقویٰ کے بارے میں کہا ہےاللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنا اس کے نور (یعنی ہدایت کے مطابق) اس کے ثواب کی امید رکھتے ہوئے اور اللہ کے نور کی بناء پر اس کی نا فرمانی چھوڑنا اس کی سزا سے ڈرتے ہوئے۔
لہٰذا اعتصام بحبل اللہ " بدعت اور عملی آفات سے بچاتا ہے۔
اور اعتصام باللہ یعنی اللہ کے ساتھ تعلق کا مقصد اس پر توکل کرنا اور اس کو سہارا بنانا اور اسی سے دفاع اور بچاؤ لینا ہے۔ اور اسی سے سوال کرنا ہے کہ بندے کی حفاظت کرے اس کا بچاؤ کرے۔ اور پناہ دے کیوں کہ اعتصام باللہ کا فائدہ بندے کا دفاع ہے۔ اور اللہ تعالیٰ مومنوں کا دفاع کرتا ہے لہٰذا بندہ جب اسی کو سہارا بناتا ہے اور تعلق جوڑتا ہے تو وہ اس سے ہر اس سبب کو دور کرتا ہے جو اس کو ہلاکت کے اندر ڈالتا ہے ۔اور اس سے بچاتا ہے۔ اور اس سے شبہات اور خواہشات اور اس کے ظاہری اور باطنی دشمن کی سازش اور اس کے نفس کے شر کو دور کرتا ہے ۔اور دور کرتا ہے۔اور شر کے اسباب کو واجب کرنی والی چیزوں کو اعتصام کی قوت کے حساب سےدور کرتا ہےاور اس کی پختگی کے حساب سے پھر اس کے حق میں ہلاکت کے اسباب ختم ہو جاتے ہیں اور رب تعالیٰ ان اسباب کے موجبات اور ھسیات کو بھی اس سے دور کر دیتا ہے۔

شیخ احمد شاکر نے فرمان الٰہی: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّ‌قُوا ۚ .. ﴿١٠٣آل عمران کی تفسیر میں کہا ہے " اللہ نے انہیں جماعت کے ساتھ رہنے اور افتراق سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ اور متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں تفر ق سے منع کی بابت اور اجتماعیت اور باہمی محبت کے بارے میں حکم کے بابت اور یہ اس امت کے اندر ہو چکا ہے اور وہ تہتر فرقوں کے اندر تقسیم ہو چکے ہیں ۔ان میں سے ایک فرقہ جنت میں داخل ہو نے والا اور جہنم سے بچنے والا ہے۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جو اسی راستہ پر چلتے ہیں جس پر رسول اللہ ﷺاور آپ ﷺکے صحابہ کرام تھے۔
الالفة، الاجتماع، التعاون علی البر والتقویٰ، التعارف .
اور اس کے ضد کے لئے دیکھئے: التفرق، التفریط، الافراط، التنازع، الضعف ،الوھن .
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
آیات​
﴿١﴾ آل عمران
﴿١﴾اے ایمان والو اگر تم اہل كتاب كی كسی جماعت كی باتیں مانو گے تو وہ تمہیں تمہارے ایمان لانے كے بعد مرتد كافر بنا دیں گے﴿100﴾﴿گویا ظاہر ہے كہ﴾تم كیسے كفر كر سكتے ہو؟ باوجودیكہ تم پر اللہ تعالیٰ كی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تم میں رسول اللہ موجود ہیں۔جو شخص اللہ تعالیٰ ﴿ كے دین ﴾ كو مضبوط تھام لے تو بلا شبہ اسے راہ راست دكھا دی گئی﴿101﴾اے ایمان والو اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیئے اور دیكھو مرتے دم تك مسلمان ہی رہنا﴿102﴾اللہ تعالیٰ كی رسی كو سب مل كر مضبوط تھا م لو اور یاد كرو جب تم ایك دوسرے كے دشمن تھے، تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی ،پس تم اس كی مہربانی سے بھائی بھائی ہو گئے ،اور تم آگ كے گڑھے كے كنارے پہنچ چكے تھے تو اس نے تمہیں بچالیا اللہ تعالیٰ اسی طرح تمہارے لئے اپنی نشانیاں بیان كرتا ہے تاكہ تم ہدایت پاؤ﴿103﴾

﴿٢﴾ النساء
﴿٢﴾منافق تو یقینا جہنم كے سب سے نیچے كے طبقہ میں جائیں گے، ناممكن ہے كہ تو ان كا كوئی مدد گار پالے﴿145﴾ہاں جو توبہ كر لیں اور اصلاح كر لیں اور اللہ تعالیٰ پر كامل یقین ركھیں اور خالص اللہ ہی كے لئے دینداری كریں تو یہ لوگ مومنوں كے ساتھ ہیں، اللہ تعالیٰ مومنوں كو بہت بڑا اجر دے گا﴿146﴾

﴿٣﴾ النساء
﴿٣﴾اے لوگو تمہارے پاس تمہارے رب كی طرف سے سند اور دلیل آپہنچی اور ہم نے تمہاری جانب واضح اور صاف نور اتار دیا ہے﴿174﴾پس جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اسے مضبوط پكڑ لیا انہیں تو وہ عنقریب اپنی رحمت اور فضل میں لے لے گا اور انہیں اپنی طرف كی راہ راست دكھا دے گا﴿175﴾

﴿٤﴾ هود
﴿٤﴾اس نے جواب دیا كہ میں تو كسی بڑے پہاڑ كی طرف پناہ میں آجاؤں گا جو مجھے پانی سے بچالے گا، نوح علیہ السلام نے كہا آج اللہ كے امر سے بچانے والاكوئی نہیں، صرف وہی بچیں گے جن پر اللہ كا رحم ہوا ،اسی وقت ان دونوں كے درمیان موج حائل ہو گئی اور وہ ڈوبنے والوں میں سے ہو گیا﴿43﴾

﴿٥﴾ الحج
﴿٥﴾اور اللہ كی راہ میں ویسا ہی جہا كرو جیسے جہا دكا حق ہے اسی نے تمہیں برگزیدہ بنایا ہے اور تم پر دین كے بارے میں كوئی تنگی نہیں ڈالی ،دین اپنے باپ ابراہیم ﴿علیہ السلام﴾ كا قائم ركھو اسی اللہ نے تمہارا نام مسلمان ركھا ہے، اس قرآن سے پہلے اور اس میں بھی تاكہ پیغمبر تم پر گواہ ہو جائے اور تم تمام لوگوں كے گواہ بن جاؤ، پس تمہیں چاہیئے كہ نمازیں قائم ركھو اور زكوٰۃادا كرتے رہو اور اللہ كو مضبوط تھا م لو، وہی تمہارا ولی اور مالك ہے، پس كیا ہی اچھا مالك ہے اور كتنا ہی بہتر مددگار ہے﴿78﴾

﴿٦﴾ يوسف
﴿٦﴾اور شہر كی عورتوں میں چرچا ہونے لگا كہ عزیز كی بیوی اپنے﴿ جوان﴾ غلام كو اپنا مطلب نكالنے كے لئے بہلانے پھسلانے میں لگی رہتی ہے، ان كے دل میں یوسف كی محبت بیٹھ گئی ہے، ہمارے خیال میں تو وہ صریح گمراہی میں ہے﴿30﴾اس نے جب ان كی اس پر فریب غیبت كا حال سنا تو انہیں بلوا بھیجا اور ان كے لئے ایك مجلس مرتب كی اور ان میں سے ہر ایك كو چھری دی اور كہا اے یوسف ان كے سامنے چلے آؤ، ان عورتوں نے جب اسے دیكھا تو بہت بڑا جانا اور اپنے ہاتھ كاٹ لئے، اور زبان سے نكل گیا كہ حاشاللہ یہ انسان تو ہر گز نہیں، یہ تو یقینا كوئی بہت ہی بزرگ فرشتہ ہے﴿31﴾اس وقت عزیز مصر كی بیوی نے كہا، یہی ہیں جن كے بارے میں تم مجھے طعنے دے رہی تھیں، میں نے ہر چند اس سے اپنا مطلب حاصل كرنا چاہا لیكن یہ بال بال بچا رہا، اور جو كچھ میں اس سے كہہ رہی ہوں اگر یہ نہ كرے گا تو یقینا یہ قید كر دیا جائے گا اور بے شك یہ بہت ہی بے عزت ہو گا﴿32﴾
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
الآيات الواردة في ﴿ الاعتصام﴾ معنًي:

﴿٧﴾ البقرة
﴿٧﴾دین كے بارے میں كوئی زبردستی نہیں، ہدایت ضلالت سے روشن ہو چكی ہے اس لئے جو شخص اللہ تعالیٰ كے سوا دوسرے معبودوں كا انكار كر كے اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس نے مضبوط كڑے كو تھام لیا، جو كبھی نہ ٹوٹے گا اور اللہ تعالیٰ سننے والا جاننے والا ہے﴿256﴾

﴿٨﴾ لقمان
﴿٨﴾اور جو﴿ شخص ﴾ اپنے آپ كو اللہ كے تابع كر دے اور ہو بھی وہ نیكو كار یقینا اس نے مضبوط كڑا تھا لیا، تمام كاموں كا انجام اللہ كی طرف ہے﴿22﴾

﴿٩﴾ الزخرف
﴿٩﴾پس جو وحی آپ كی طرف كی گئی ہے اسے مضبوط تھامے رہیں بے شك آپ راہ راست پر ہیں﴿43﴾
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
احادیث​

1-عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن الْحَارِثِ بن هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ ، قَالَ : " امْلِكْ عَلَيْكَ هَذَا " ، وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ. ([1])
(۱)حارث بن ھشام فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسولﷺ سے کہا مجھے ایسے کام کی خبر دیں جس کو میں مضبوطی سے تھام لوں۔ تو آپ ﷺنے فرمایا کہ زبان کو محفوظ کر لو۔ اور آپ نے زبان کی طرف اشارہ کیا۔

2- عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺمَكَثَ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ فِي الْعَاشِرَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺحَاجٌّ... وَقَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِنْ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ كِتَابُ اللَّهِ...) ([2])
(۲)جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آپ ﷺنو برس تک مدینہ منورہ میں رہے۔ اور آپ ﷺنے حج نہیں کیا پھر لوگوں میں پکاراگیا دسویں سال کہ رسول اللہ ﷺحج کو جانے والے ہیں ۔ ۔۔۔۔الحدیث (اسی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ میں تمہارے درمیان چھوڑے جاتا ہوں ایسی چیز اگر تم اسے مضبوط پکڑے رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔ اللہ کی کتاب ۔۔۔)

3- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺإِنَّ اللَّهَ يَرْضَى لَكُمْ ثَلَاثًا وَيَكْرَهُ لَكُمْ ثَلَاثًا فَيَرْضَى لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَيَكْرَهُ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةِ الْمَالِ. ([3])
(۳)ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے تمہاری تین باتوں سے اور نا خوش ہوتا ہے تین باتوں سے ۔خوش ہوتا ہے اس سے کہ تم پوجو اس کو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ اس کی رسی سب مل کر پکڑے رہو (یعنی قرآن پر عمل کرتے رہو) اور پھوٹ مت ڈالو۔ اور نا خوش ہوتا ہے بے فائدہ بک بک کرنے اور بہت پوچھنے سے (یعنی ان مسائل کا پوچھنا جن کی ضرورت نہ ہو یا ان باتوں کا جن کی حاجت نہ ہو۔ اور جن کا پوچھنا دوسرے کو ناگوار گذرے)اور مال کے تباہ کرنے سے( یعنی بے فائدہ اٹھانے سے جو نہ دنیا میں کام آئے نہ عقبی میں جیسے پتنگ بازی،آتشبازی میں وغیرہ۔)


[1] - المعجم الكبير للطبراني - (ج 3 / ص 420) (3271) صحيح الترغيب والترهيب - (ج 3 / ص 56)برقم : 2864 - ( صحيح )
[2] - صحيح مسلم - (ج 6 / ص 245) بَاب حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ, كِتَاب الْحَجِّ (2137)
[3] - صحيح مسلم - (ج 9 / ص 109) بَاب النَّهْيِ عَنْ كَثْرَةِ الْمَسَائِلِ مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ وَالنَّهْيِ عَنْ مَنْعٍ وَهَاتِ وَهُوَ الِامْتِنَاعُ مِنْ أَدَاءِ حَقٍّ لَزِمَهُ أَوْ طَلَبِ مَا لَا يَسْتَحِقُّهُ, كِتَاب الْأَقْضِيَةِ (3236)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
4- عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ قَالَ قُلْ رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقِمْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَخْوَفُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ فَأَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ ثُمَّ قَالَ هَذَا. ([1])
(۴)سفیان بن عبداللہ ثقفی فرماتے ہیں میں نے آپ ﷺسے کہا مجھے ایسے کام کی خبر دیں جسے میں مضبوطی سے تھام لوں۔ آپ ﷺنے فرمایا کہو! اللہ میرا رب ہے ، پھر اس پر تم استقامت اختیار کرو۔

5- عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ إِنَّ خَلِيلِي أَوْصَانِي أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ وَإِنْ كَانَ عَبْدًا مُجَدَّعَ الْأَطْرَافِ...)
(۵)ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میرے دوست جناب رسول اللہ ﷺنے مجھے وصیت کی سننے اور اطاعت کرنے کی اگرچہ ایک غلام ہاتھ پاؤں کٹا حاکم ہو۔([2])

6- عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺقَالَ تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ. ([3])
(۶)مالک بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ تک یہ بات پہنچی کہ آپ ﷺنے فرمایا میں تمہارے درمیان دو چیزوں کو چھوڑ کر جا رہا ہوں اگر انہیں مضبوطی سے تھام کے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔(۱)اللہ کی کتاب۔(۲)اس کے رسول ﷺکی سنت۔

7- عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ قَالَ سَمِعْتُهَا تَقُولُ حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺحَجَّةَ الْوَدَاعِ فَرَأَيْتُهُ حِينَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ وَانْصَرَفَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَمَعَهُ بِلَالٌ وَأُسَامَةُ أَحَدُهُمَا يَقُودُ بِهِ رَاحِلَتَهُ وَالْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺمِنْ الشَّمْسِ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺقَوْلًا كَثِيرًا ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌ حَسِبْتُهَا قَالَتْ أَسْوَدُ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا. ([4])
(۷)یحییٰ نے اپنی دادی ام الحصین رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ فرماتی تھیں کہ حج کیا میں نے جناب رسول اللہ ﷺکے ساتھ حجة الوداع ،سو میں نے آپ کو دیکھا کہ جمرہ عقبہ کو کنکر مارے اور لوٹے اور آپ سوار تھے اپنی اونٹنی پر۔ اور آپ کے ساتھ بلال اور اسامہ رضی اللہ عنہما تھے۔ کہ ایک تو آپ کی اونٹنی کی مہار پکڑ کر کھینچتا تھا اور دوسرا اپنا کپڑا رسول اللہ ﷺکے سرمبارک پر پکڑے ہوئے تھا۔ دھوپ کے سبب سے۔ سو ام حصین نے کہا کہ آپ نے بہت باتیں فرمائیں ۔پھر میں نے سنا کہ فرماتے تھے اگر تمہارے اوپر ایک غلام کن کٹا حاکم کیا جائے میں خیال کرتا ہوں کہ ام حصین نے یہ بھی کہا کہ کالا غلام ہو اور کہا کہ تم کو کتاب اللہ کے مطابق حکم دے تو بھی اس کی بات سنو اور اس کا کہنا مانو۔

8- عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺيَوْمًا فِينَا خَطِيبًا بِمَاءٍ يُدْعَى خُمًّا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَ وَذَكَّرَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ رَسُولُ رَبِّي فَأُجِيبَ وَأَنَا تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللَّهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ فَخُذُوا بِكِتَابِ اللَّهِ وَاسْتَمْسِكُوا بِهِ فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَرَغَّبَ فِيهِ ثُمَّ قَالَ وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمْ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمْ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمْ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي...). ([5])
(۸)زید رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ ﷺایک دن خطبہ سنانے کو کھڑے ہوئے ۔ ہم لوگوں میں ایک پانی پر جس کو خم کہتے تھے مکہ اور مدینہ کے بیچ میں۔ آپ نے اللہ کی حمد کی اور اس کی تعریف بیان کی اور وعظ نصیحت کی۔ پھر فرمایابعد اس کے اے لوگو! میں آدمی ہوں قریب ہے کہ میرے پروردگار کا بھیجا ہو ا(موت کا فرشتہ ) آئے اور میں قبول کروں۔ میں تم میں دو بڑی بڑی چیزیں چھوڑے جاتا ہوں۔ پہلے تو اللہ تعالیٰ کی کتاب اس میں ہدایت ہے اور نور ہے تو اللہ کی کتاب کو تھامے رہو اور اس کو مضبوط پکڑے رہو۔ غرض آپ نے رغبت دلائی اللہ کی کتاب کی طرف ،پھر فرمایا دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں۔

[1] - سنن الترمذى - (ج 8 / ص 431) كِتَاب الزُّهْدِ, بَاب مَا جَاءَ فِي حِفْظِ اللِّسَانِ (2334) صحيح وضعيف سنن الترمذي - (ج 5 / ص 410)برقم:2410 صحيح
[2] - صحيح مسلم(ج3/ ص 367) بَاب كَرَاهِيَةِ تَأْخِيرِ الصَّلَاةِ عَنْ وَقْتِهَا الْمُخْتَارِ...,كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةِ (1029)
[3] - موطأ مالك - (ج 5 / ص 371) بَاب النَّهْيِ عَنْ الْقَوْلِ بِالْقَدَرِ, كِتَاب الْجَامِعِ (1395)
[4] - صحيح مسلم(ج 6/ ص 427) بَاب اسْتِحْبَابِ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ رَاكِبًا وَبَيَانِ قَوْلِهِ ﷺ لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ, كِتَاب الْحَجِّ (2287)
[5] - صحيح مسلم - (ج 12 / ص 134) بَاب مِنْ فَضَائِلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ, كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ (4425)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اعتصام بالکتاب والسنۃ کے متعلق آثار اور علماء و مفسرین کے اقوال
(۱)عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس آیت باری تعالی وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ آل عمران: ١٠٣
یعنی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو" کی تفسیر میں فرمایا اس رسی سے مراد جماعت ہے۔

(۲)عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا صراط مستقیم کے پاس شیاطین آتے ہیں جو کہ پکار کر کہتے ہیں اے اللہ کے بندے ادھر آ، یہ ہے راستہ ،تاکہ وہ اللہ کے راستہ سے روکیں ،لہٰذا اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو۔ بلا شک اللہ کی رسی قرآن ہے۔

(۳)ابو العالیہ نے اس فرمان الٰہی: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ کی تفسیر میں کہا" اللہ تعالیٰ اکیلے کے لئے (عبادات کو) خالص کر تے ہوئے (اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو)"ولا تفرقوا" یعنی توحید سے دور نہ ہو جاؤ اور توحید اوراخلاص کی بنیاد پر بھائی بھائی بن جاؤ۔

(۴)اور ابن زید نے کہا "حبل اللہ" اللہ کی رسی سے اسلام مراد ہے ۔

(۵)سماک بن الولید الحنفی سے روایت ہے کہ وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ملے اور ان سے پوچھا کہ آپ ان حکمرانوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو ہم پر ظلم کرتے ہیں اور ہمیں گالیاں دیتے ہیں اور ہماری زکوٰۃ و صدقات میں ہم پر زیادتی کرتے ہیں۔ کیا ہم ان کو زکوٰۃ و صدقات دینا بند نہ کریں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا نہیں،انہیں دے دیں۔جماعت کے ساتھ رہیں جماعت کے ساتھ رہیں، کیوں کہ گذشتہ امتیں تفرقہ کی وجہ سے ہلاک ہوئیں۔ کیا تو نے فرمان الٰہی نہیں سنا "واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا" یعنی اللہ کی رسی کو مِل کر مضبوطی کے ساتھ پکڑو اور جدا جدا مت ہونا۔

(۶)ابن بطال نے کہا اللہ کی کتاب اور سنت رسول اللہ ﷺاور ان دونوں میں سے کسی ایک کے معنیٰ پر علماء امت کے اجماع کے علاوہ کسی کی بات میں عصمت نہیں ہے۔ یعنی غلطی سے پاک نہیں ہو سکتی، اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قرآن و سنت کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنے کے فوائد
(۱)یہی کسی انسان کی اچھائی اور استقامت کی دلیل ہے۔

(۲)کتاب و سنت کو مضبوطی کے ساتھ تھامنے سے اللہ کی محبت اور انسانوں کی محبت حاصل ہوتی ہے۔

(۳)دنیا و آخرت کی سعادت نصیب ہوتی ہے۔

(۴)انسان کو شیطان کے راستوں اور اس کے گمراہی کے ہتھکنڈوں سے بچاتا ہے۔

(۵)یہی صدق ایمان اور محبت الٰہی کی دلیل ہے۔

(۶)امت کو قوی اور شان و شوکت میں بڑھا تا ہے۔

(۷)اعتصام بالکتاب والسنة میں ہی اجتماعیت ہے اور اجتماعیت رحمت ہے اور افتراق عذاب ہے۔

(۸)اعتصام بالکتاب والسنة بندے کو خواہشات اور شبہات سے بچاتا ہے۔

نضرۃ النعیم
 
Top