• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

البراء۔۔۔

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
838
ری ایکشن اسکور
227
پوائنٹ
111
البراء۔۔۔

از قلم : مفتی اعظم حفظہ اللہ


❁ کفّار سے نفرت، دشمنی، بیزاری ایمان کا حصہ ہے اور اس کے بغیر ایمان کا دعویٰ مردود ہے، کیونکہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ اللہ سے محبت کرتے ہوں لیکن اس کے دشمنوں سے آپ کو نفرت نہ ہو۔

❁ اللہ تعالیٰ کافروں کا دشمن ہے، ان سے نفرت کرتا ہے، ان پر لعنت کرتا ہے۔ تو اگر آپ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی محبت کا دعویٰ کرتے ہو تو لازمی طور پر اس کے دشمنوں سے نفرت اور عداوت رکھنی ہوگی۔ بصورتِ دیگر آپ جھوٹ بول رہے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہوں یا اس پر ایمان رکھتا ہوں۔

❁ اس لیے آپ کو ہر کافر، ہر مشرک و مرتد سے سخت نفرت ہونی چاہیے۔ ان کی تباہی کے لیے ہر وقت فکرمند ہونا، ان کے لیے بددعا کرنا، ان کی ہلاکت و تباہی پر خوش ہونا، ان کے مذاہب، ممالک، پرچم، ترانوں اور شعارات سے نفرت کرنا، ان کو قوت سے مٹانا—اگر یہ بس میں نہ ہو تو زبان سے ان کے خلاف کام کرنا، سوشل میڈیا کو ان کے خلاف استعمال کرنا، اور دل میں ان کو سخت برا سمجھنا، ان سے شدید بغض رکھنا—آپ پر واجب ہے۔

❁ اسی طرح اپنے بچوں کی تربیت میں بھی ابتداء سے ہی کفار کی نفرت، ان کی تباہی، ان کے خون کو ایک کتے کے خون کے برابر سمجھنا، ان کے قول کو ایک کتے کی بھونک سمجھنا، ان کی کتب، ان کے دانشوروں، ان کے سربراہوں، ان کے تاجروں اور تمام حمایتیوں کو گندی نالی کے کیڑے کے برابر سمجھنے کا عقیدہ ضرور پڑھانا چاہیے۔ اور ان کی ایسی تربیت کرنی چاہیے کہ کسی کافر، مشرک، مرتد کو دیکھتے ہی ان کا خون کھول اٹھے۔

❁ اور یہ ایمان کا تھرمامیٹر ہے کہ کفار کو دیکھ کر، ان کے پرچم اور شعارات دیکھ کر، ان کے شرکیہ اڈے یا عبادت گاہیں دیکھ کر، شرکیہ مزارات دیکھ کر آپ کیسا محسوس کرتے ہو؟ اگر آپ کا خون نہیں جلتا، آپ کو سخت غصہ نہیں آتا، آپ ان کو مٹانے کا جذبہ نہیں رکھتے، تو آپ کا ایمان صرف زبانی ہے، اور آپ کو اپنے ایمان کی کیفیت پر فوری نظرثانی کرنی چاہیے۔

❁ اور یہی اہلِ حق کو معلوم کرنے کا بھی پیمانہ ہے کہ کون ان میں سے کفار پر سب سے زیادہ شدید ہے؟ کون ان کا بے دریغ خون بہاتا ہے؟ ان کے گھروں کو نذرِ آتش کرتا ہے؟ ان کے خلاف دنیا کے ہر کونے میں نبرد آزما ہے؟ ان کے سر قلم کرتا ہے؟ ان کے شرکیہ مزارات کو ملیامیٹ کرتا ہے؟ ان کی قائم کی ہوئی حدود کو بلڈوزر چلا کر مٹاتا ہے؟ — جس کے جواب میں کفار بھی ان سے سخت نفرت کرتے ہیں، ان کے خلاف اتحاد کرتے ہیں، ان کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے ہیں، ان کو دیکھتے ہی قتل یا قید کرتے ہیں، ان کے پرچم، نام یا نشان پر سخت پابندی عائد کرتے ہیں، ان کو سوشل میڈیا سے بے دخل کرتے ہیں، اور ان کی آواز اور دعوت دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔

❁ اسی سے اہلِ باطل کی پہچان ہوتی ہے کہ کون کفار کے ساتھ ذلت آمیز معاہدے کرتا ہے، ان کی شوریٰ (اقوامِ متحدہ) میں سیٹ کی بھیک مانگتا ہے، ان کو تسلیاں دیتا ہے کہ ہماری سرزمین آپ کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، ان کے شرکیہ مزارات، گردواروں، مندروں، امام بارگاہوں کی حفاظت کرتا ہے، ان کی تزئین و آرائش کرتا ہے، ان کی جانب سے مسلمانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے والی لکیروں اور سرحدوں کو تسلیم کرتا ہے، ان کے ساتھ کانفرنسوں میں شریک ہوتا ہے، ان کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر تصویریں بنواتا ہے، ان کے جہازوں میں چل کر ان کے ممالک کے دورے کرتا ہے، ان کے آرام دہ ہوٹلوں میں عیاشیاں کرتا ہے، ان کے مرنے والوں کی تعزیت کرتا ہے، ان کے جمہوریوں اور دیگر مرتد عناصر کو اپنا رہنما، استاد یا عالمِ دین قرار دیتا ہے، ان کو بار بار امن و سلامتی کے وعدے دیتا ہے، اور ان کو اطمینان دلاتا ہے کہ ہم کسی مسلمان کو اپنی سرزمین پر نہیں چھوڑیں گے جو آپ کو نقصان پہنچائے یا آپ کے لیے خطرہ بنے۔

❁ یہ یاد رکھو کہ ایک مضبوط ایمان والا ہمیشہ کفار سے شدید نفرت کرتا ہے۔ ان کا وجود اس سے برداشت نہیں ہوتا۔ وہ ان کو دیکھ کر سوچتا ہے کہ اس نجس کی ہمت کیسے ہوئی کہ اللہ کی زمین پر، اس کا رزق کھاتے ہوئے، اس کے سامنے اکڑ رہا ہے، اس سے کفر کر رہا ہے، اس کے ساتھ دوسروں کو برابر کر رہا ہے؟

❁ یہی ایمان کی نشانی ہے کہ ایک مؤمن کفار سے نفرت کرتا ہے اور کفار اس سے نفرت کرتے ہیں۔

❁ اس لیے یہ خوب اچھی طرح سمجھ لو کہ کفار کی نفرت و دشمنی ایمان کا حصہ ہے۔ جتنا ایمان بڑھتا جاتا ہے، یہ نفرت و دشمنی بھی بڑھتی جاتی ہے، اور جتنا ایمان کمزور ہوتا جاتا ہے، یہ نفرت و دشمنی بھی کم ہوتی جاتی ہے۔

وما علینا إلا البلاغ
 
Top