Ahmad Ashraf
مبتدی
- شمولیت
- اپریل 30، 2026
- پیغامات
- 2
- ری ایکشن اسکور
- 0
- پوائنٹ
- 2
بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته!الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على رسوله الأمين، أما بعد
اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا ﴿سورۃ الاحزاب:56﴾
"اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی اس پر درود وسلام بھیجا کرو۔"
اللہ تعالیٰ کے درود بھیجنے کا معنی
اہلِ علم نے قرآن و صحیح احادیث کی روشنی میں بیان کیا ہے. اللہ تعالیٰ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے سے مراد ہے:
- نبی ﷺ کی ثناء و تعریف بیان کرنا
- آپ ﷺ پر رحمت نازل فرمانا
- فرشتوں کے سامنے آپ ﷺ کی بلند شان ظاہر کرنا
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنے سے مراد ”یعنی برکت کی دعا۔“ اکثر اہل علم کا قول ہے کہ ”اللہ کا درود رحمت ہے. (تفسیر ابن کثیر، تفسیر سورۃ الاحزاب آیت:56)
مشہور تابعی حضرت امام ابو العالیہ رحمہ اللہ (متوفی 93ھ۔) فرماتے ہیں:
”اللہ کا اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کا مطلب یہ ہوتا ہےکہ وہ فرشتوں کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ثناء و تعریف کرتا ہے”
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحيح البخاري میں یہ قول نقل کیا ہے۔
[صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: Q4797]
حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ اور امام ابنِ کثیر رحمہ اللہ نے بھی اسی معنی کو صحیح قرار دیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر، تفسیر آیت/آیات، 56)
مشہور محدث حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ (متوفی 852ھ۔) فرماتے ہیں:
حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے اللہ تعالیٰ کے نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنے کے معنی کے بارے میں فرمایا:
"المراد بصلاة الله على نبيه: ثناؤه عليه عند الملائكة."
“اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ پر درود بھیجنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے آپ ﷺ کی تعریف بیان فرماتا ہے۔”
یہ قول انہوں نے اپنی مشہور کتاب فتح الباری میں ذکر کیا ہے، جہاں انہوں نے امام ابو العالیہ رحمہ اللہ کے قول کی تائید کی۔
حوالہ:
- فتح الباری شرح صحیح البخاری
- تفسیر سورۃ الأحزاب آیت 56