محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,089
- ری ایکشن اسکور
- 35
- پوائنٹ
- 111
پہلا قاعدہ
اللہ تعالیٰ کےناموں اور صفات کے بارے جتنی بھی قرآنی آیات یا احادیث مبارکہ آئی ہیں ، ان کا ظاہری اور معروف معنی ہی لیا جائے گا۔ ان کے مفہوم میں کسی قسم کی تبدیلی کرنا جائز نہین ہے؛ كيوں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید واضح عربی زبان میں نازل فرمایا ہے، اور نبی کریم ﷺ بھی واضح عربی زبان میں ہی گفتگو فرماتے تھے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی کلام سے وہی معنی اور مفہوم مراد لیا جائے جو عربی زبان میں سمجھا جاتا ہے۔اگر ان نصوص کا ظاہری معنی بدل دیا جائے تو اللہ تعالیٰ کی بارے میں بغیر علم کے بات کرنا لازم آئے گا جو کہ حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّي الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَاناً وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لا تَعْلَمُونَ} [الأعراف: 33]
’’ کہہ دے میرے رب نے تو صرف بے حیائیوں کو حرام کیا ہے، جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کو اور یہ کہ تم اللہ کے ساتھ اسے شریک ٹھہرائو جس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور یہ کہ تم اللہ پر وہ کہو جو تم نہیں جانتے۔‘‘
مثال:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ يُنفِقُ كَيْفَ يَشَاءُ} [المائدة: 64]
’’بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں، خرچ کرتا ہے جیسے چاہتا ہے۔‘‘
مذکورہ آیت مبارکہ کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقیقی دو ہاتھ ہیں، لہٰذا اللہ تعا لیٰ کے لیے ہاتھوں کو ثابت کیا جائے گا۔اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اس آیت میں ہاتھوں سے مراد اللہ تعا لیٰ کی طاقت ہے، تو اس کو جواب دیا جائے گا کہ یہ کلام الہی کو اس کے ظاہری معنی سے ہٹا نا ہے، اور ایسا کرنا جائز نہیں؛ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بغیر علم کے بات کرنا ہے۔
جاری ہے...
اللہ تعالیٰ کےناموں اور صفات کے بارے جتنی بھی قرآنی آیات یا احادیث مبارکہ آئی ہیں ، ان کا ظاہری اور معروف معنی ہی لیا جائے گا۔ ان کے مفہوم میں کسی قسم کی تبدیلی کرنا جائز نہین ہے؛ كيوں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید واضح عربی زبان میں نازل فرمایا ہے، اور نبی کریم ﷺ بھی واضح عربی زبان میں ہی گفتگو فرماتے تھے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی کلام سے وہی معنی اور مفہوم مراد لیا جائے جو عربی زبان میں سمجھا جاتا ہے۔اگر ان نصوص کا ظاہری معنی بدل دیا جائے تو اللہ تعالیٰ کی بارے میں بغیر علم کے بات کرنا لازم آئے گا جو کہ حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّي الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَاناً وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لا تَعْلَمُونَ} [الأعراف: 33]
’’ کہہ دے میرے رب نے تو صرف بے حیائیوں کو حرام کیا ہے، جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کو اور یہ کہ تم اللہ کے ساتھ اسے شریک ٹھہرائو جس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور یہ کہ تم اللہ پر وہ کہو جو تم نہیں جانتے۔‘‘
مثال:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ يُنفِقُ كَيْفَ يَشَاءُ} [المائدة: 64]
’’بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں، خرچ کرتا ہے جیسے چاہتا ہے۔‘‘
مذکورہ آیت مبارکہ کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقیقی دو ہاتھ ہیں، لہٰذا اللہ تعا لیٰ کے لیے ہاتھوں کو ثابت کیا جائے گا۔اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اس آیت میں ہاتھوں سے مراد اللہ تعا لیٰ کی طاقت ہے، تو اس کو جواب دیا جائے گا کہ یہ کلام الہی کو اس کے ظاہری معنی سے ہٹا نا ہے، اور ایسا کرنا جائز نہیں؛ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بغیر علم کے بات کرنا ہے۔
جاری ہے...