• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللہ تعالیٰ کے ناموں ا ور صفات کے بارے میں چند اہم اصول وضوابط

محدث میڈیا

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
1,089
ری ایکشن اسکور
35
پوائنٹ
111
پہلا قاعدہ

اللہ تعالیٰ کےناموں اور صفات کے بارے جتنی بھی قرآنی آیات یا احادیث مبارکہ آئی ہیں ، ان کا ظاہری اور معروف معنی ہی لیا جائے گا۔ ان کے مفہوم میں کسی قسم کی تبدیلی کرنا جائز نہین ہے؛ كيوں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید واضح عربی زبان میں نازل فرمایا ہے، اور نبی کریم ﷺ بھی واضح عربی زبان میں ہی گفتگو فرماتے تھے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی کلام سے وہی معنی اور مفہوم مراد لیا جائے جو عربی زبان میں سمجھا جاتا ہے۔اگر ان نصوص کا ظاہری معنی بدل دیا جائے تو اللہ تعالیٰ کی بارے میں بغیر علم کے بات کرنا لازم آئے گا جو کہ حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّي الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَاناً وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لا تَعْلَمُونَ} [الأعراف: 33]
’’ کہہ دے میرے رب نے تو صرف بے حیائیوں کو حرام کیا ہے، جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کو اور یہ کہ تم اللہ کے ساتھ اسے شریک ٹھہرائو جس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور یہ کہ تم اللہ پر وہ کہو جو تم نہیں جانتے۔‘‘

مثال:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ يُنفِقُ كَيْفَ يَشَاءُ} [المائدة: 64]
’’بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں، خرچ کرتا ہے جیسے چاہتا ہے۔‘‘

مذکورہ آیت مبارکہ کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقیقی دو ہاتھ ہیں، لہٰذا اللہ تعا لیٰ کے لیے ہاتھوں کو ثابت کیا جائے گا۔اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اس آیت میں ہاتھوں سے مراد اللہ تعا لیٰ کی طاقت ہے، تو اس کو جواب دیا جائے گا کہ یہ کلام الہی کو اس کے ظاہری معنی سے ہٹا نا ہے، اور ایسا کرنا جائز نہیں؛ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بغیر علم کے بات کرنا ہے۔
جاری ہے...
 

محدث میڈیا

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
1,089
ری ایکشن اسکور
35
پوائنٹ
111
دوسرا قاعدہ

اللہ تعالیٰ کے تمام نام انتہائی اچھے اور خوبصورت ہیں، ہر نام اللہ تعا لیٰ کی کامل صفات پر بھی مشتمل ہے، ان ناموں میں کسی بھی پہلو سے کوئی نقص یا کمی نہیں ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ [الأعراف: 180]
’’اور سب سے اچھے نام اللہ ہی کے ہیں، سو اسے ان کے ساتھ پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں کے بارے میں سیدھے راستے سے ہٹتے ہیں، انھیں جلد ہی اس کا بدلہ دیا جائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘
مثال :
الرحمن اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، یہ اللہ تعا لیٰ کی عظیم صفت رحمت پربھی دلالت کرتا ہے۔
 
Top