- شمولیت
- ستمبر 26، 2011
- پیغامات
- 2,767
- ری ایکشن اسکور
- 5,412
- پوائنٹ
- 562
سوال:
میں نے ایک مولوی صاحب سے پوچھا کہ دنیا مین اتنا ظلم ھو رھا ہے اللہ خاموش کیوں ہے مولوی صاحب نے کھا کہ یہ سب ان کے گناھون کا نتیجا ہے اب میری سمجھ مین یہ نہین آ رھا کہ کیا گناھ صرف مسلمان ہی کرتے ہین کیوں کے اس وقت پوری دنیاں مین سب سے زایاداہ مسلمانون پے ہی ظلم ہو رہا ہے کیا یھودی کافر ہندؤن نے کوئی گناھ نہین کیا یا پھر گناہوں کہ سزا صرف مسلمانوں کے لئی ہے
یوسف ثانی: مولوی صاحب نام کے مولوی ہوں گے۔ آپ یہی سوال قرآن اور حدیث سے پوچھئے تو آپ کو مستند جواب ملے گا۔ ایک حدیث ہے: دنیا مومنوں کے لئے قید خانہ اور کافروں کے لئے جنت ہے۔ دنیا میں جو ظلم ہورہا ہے، وہ ”ظالموں“ کے طرز عمل کی وجہ ہے۔ سب سے زیادہ ظلم مسلمانوں پر اس لئے ہورہا ہے کہ مسلمانوں نے من حیث القوم جہاد کا راستہ ترک کردیا ہے ۔ اور قرآن کے بتلائے ہوئے لائف اسٹائل کی بجائے کفار کے لائف اسٹائل کو اپنایا ہوا ہے۔ اللہ نے ظالموں اور مظلوموں دونوں کو ”صراط مستقیم“ بتلادیا ہے۔ یہ دنیا دونوں کے لئے ”دارالامتحان“ ہے۔ ”کمرہ امتحان“ میں آپ آزاد ہوتے ہیں چاہے غلط کریں یا صحیح۔ غلط کرنے پر کمرہ امتحان میں آپ کو روکا نہیں جاتا۔ بس نتیجہ میں آپ فیل ہوجاتے ہیں۔ اللہ ظالموں کو ظلم کرنے سے نہیں روکتا۔ لیکن اس نے ظالموں کو بھی یہ بتلادیا ہے کہ وہ اگر ظلم کریں گے یوم حساب والے روز فیل ہوکر جہنم میں جائیں گے۔ اللہ نے ”مظلوم مسلمانوں“ کو بھی قرآن و سنت سے بتلادیا ہے کہ آپ اس دنیا میں ظالموں کے ظلم سے خود کو کیسے بچا سکتے ہیں۔ لیکن اگر قرآن و سنت سے انحراف کریں گے تو ظالموں کے ظلم سے نہیں بچ سکیں گے۔ البتہ یوم حساب والے روز ”مظلوموں“ کو اجر ملے گا اور ظالموں کو سزا۔ کافروں کو ہر ”اچھے عمل“ کی جزا اسی دنیا میں مل جاتی ہے۔ جبکہ مسلمانوں کو اس کے تمام نیک و اچھے عمل کی ”جزا“ اسی دنیا میں نہیں ملتی۔ بہت سا اجر آخرت کے لئے بھی مؤخر کردیا جاتا ہے۔ البتہ مسلمانوں کے گناہوں کی سزا اسی دنیا میں اس لئے مل جاتی ہے تاکہ آخرت میں اس سزا سے بچ سکیں۔ دنیا بہت محدود اور عارضی جبکہ آخرت لا محدود اور ہمیشہ کے لئے ہے۔ اسی لئے اللہ مسلمانوں کا مستقل بھلا آخرت میں چاہتے ہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
(فیس بک سے)
میں نے ایک مولوی صاحب سے پوچھا کہ دنیا مین اتنا ظلم ھو رھا ہے اللہ خاموش کیوں ہے مولوی صاحب نے کھا کہ یہ سب ان کے گناھون کا نتیجا ہے اب میری سمجھ مین یہ نہین آ رھا کہ کیا گناھ صرف مسلمان ہی کرتے ہین کیوں کے اس وقت پوری دنیاں مین سب سے زایاداہ مسلمانون پے ہی ظلم ہو رہا ہے کیا یھودی کافر ہندؤن نے کوئی گناھ نہین کیا یا پھر گناہوں کہ سزا صرف مسلمانوں کے لئی ہے
یوسف ثانی: مولوی صاحب نام کے مولوی ہوں گے۔ آپ یہی سوال قرآن اور حدیث سے پوچھئے تو آپ کو مستند جواب ملے گا۔ ایک حدیث ہے: دنیا مومنوں کے لئے قید خانہ اور کافروں کے لئے جنت ہے۔ دنیا میں جو ظلم ہورہا ہے، وہ ”ظالموں“ کے طرز عمل کی وجہ ہے۔ سب سے زیادہ ظلم مسلمانوں پر اس لئے ہورہا ہے کہ مسلمانوں نے من حیث القوم جہاد کا راستہ ترک کردیا ہے ۔ اور قرآن کے بتلائے ہوئے لائف اسٹائل کی بجائے کفار کے لائف اسٹائل کو اپنایا ہوا ہے۔ اللہ نے ظالموں اور مظلوموں دونوں کو ”صراط مستقیم“ بتلادیا ہے۔ یہ دنیا دونوں کے لئے ”دارالامتحان“ ہے۔ ”کمرہ امتحان“ میں آپ آزاد ہوتے ہیں چاہے غلط کریں یا صحیح۔ غلط کرنے پر کمرہ امتحان میں آپ کو روکا نہیں جاتا۔ بس نتیجہ میں آپ فیل ہوجاتے ہیں۔ اللہ ظالموں کو ظلم کرنے سے نہیں روکتا۔ لیکن اس نے ظالموں کو بھی یہ بتلادیا ہے کہ وہ اگر ظلم کریں گے یوم حساب والے روز فیل ہوکر جہنم میں جائیں گے۔ اللہ نے ”مظلوم مسلمانوں“ کو بھی قرآن و سنت سے بتلادیا ہے کہ آپ اس دنیا میں ظالموں کے ظلم سے خود کو کیسے بچا سکتے ہیں۔ لیکن اگر قرآن و سنت سے انحراف کریں گے تو ظالموں کے ظلم سے نہیں بچ سکیں گے۔ البتہ یوم حساب والے روز ”مظلوموں“ کو اجر ملے گا اور ظالموں کو سزا۔ کافروں کو ہر ”اچھے عمل“ کی جزا اسی دنیا میں مل جاتی ہے۔ جبکہ مسلمانوں کو اس کے تمام نیک و اچھے عمل کی ”جزا“ اسی دنیا میں نہیں ملتی۔ بہت سا اجر آخرت کے لئے بھی مؤخر کردیا جاتا ہے۔ البتہ مسلمانوں کے گناہوں کی سزا اسی دنیا میں اس لئے مل جاتی ہے تاکہ آخرت میں اس سزا سے بچ سکیں۔ دنیا بہت محدود اور عارضی جبکہ آخرت لا محدود اور ہمیشہ کے لئے ہے۔ اسی لئے اللہ مسلمانوں کا مستقل بھلا آخرت میں چاہتے ہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
(فیس بک سے)