• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی تعظیم اور اُسے گالی دینے والے کا حُکم

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
کسی ملک میں اللہ کوگالی دیکر اسکا پرچار کرنا ،اسمیں زنا کو حلال سمجھنے اور اسے مشروع ٹہرانے سے بڑھکر ہے، اورلوط علیہ السلام کے قوم کی بُرائی اور اسے جائز ٹہرانے سے بڑھکر ہے؛ کیونکہ فواحشات کو حلال سمجھنے کا کُفر ایسا کفر ہے جسکا سبب اللہ کے آسمانی قوانین میں سے ایک قانوں کا انکار کرنا اور اللہ کے احکامات میں سے ایک حکم کی توہین کرنی ہے،
لیکن جہاں تک گالی دینے کی بات ہے تو وہ ایسی کفر ہے جسکا سبب خود قانون سازذات(اللہ) کے ساتھ کُفر کرنا ہے،اور خود قانون ساز ذات (اللہ) کے ساتھ کفر کرنے کا مطلب اسکے سبھی قانون کا انکار کرنا، اور توہین کرنا ہوتا ہے،اور یہ بہت گمبھیر اور شدید تر ہے؛جبکہ دونوں ہی کام کفر ہیں ؛لیکن کفر کی مختلف اقسام ہیں ،جسطرح کہ ایمان کےکئی مراتب ہیں۔
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
% اور جب اللہ نے عیسائیوں کے کفر،اور انکی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف بیٹے کی نسبت کرکے گالی دینے کا تذکرہ کیا، تو انکے جُرم کا تذکرہ کیا ہے اور اسکے اثر کا وصف ، بت پرستوں اور ستارہ پرستوں کے شرک کے وصف سے بڑھکر کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا 88 لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا 89 تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا 90 أَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا 91 وَمَا يَنْبَغِي لِلرَّحْمَنِ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا 92 إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَنِ عَبْدًا 93 لَقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا 94 وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا ﴾ [مريم : 88 -95 ]
‘‘ان کا قول تو یہ ہے کہ اللہ رحمٰن نے بھی اود اختیار کی ہے ، یقیناً تم بہت بری اور بھاری چیز ئے ہو، قریب ہے کہ اس قول کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ریزے ریزے ہو جائیں، کہ وه رحمان کی اود ابت کرنے بیٹھے، شان رحمٰن کے ئق نہیں کہ وه اود رکھے، آسمان وزمین میں جو بھی ہیں سب کے سب اللہ کے غلام بن کر ہی آنے والے ہیں،ان سب کو اس نے گھیر رکھا ہے اور سب کو پوری طرح گن بھی رکھا ہے، یہ سارے کے سارے قیامت کے دن اکیلے اس کے پاس حاضر ہونے والے ہیں’’[سورہ مریم:۸۸-۹۵]
کیونکہ اولاد کی نسبت کرنا اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی شان میں کمی کرنا ،اور اسکی برائی کرنا ہے۔ یہ اس چیز سے بڑھکر ہے کہ اگر انہوں نے اللہ کی عبادت کی ہوتی اور اسکے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹہرایا ہوتا، تو وہ مخلوق کواونچا کرکے اللہ کی عزت واحترام کرنے کے برابراسکی تعظیم کرنے والے ہوتے؛اسلئے کہ اولاد کی نسبت کرنا خالق کو نیچے گرانا ہے تاکہ وہ مخلوق کے برابر ہوجائے، جبکہ بت کی پوجا کرنا مخلوق کو اونچا کرنا ہے تاکہ وہ خالق کے برابر ہوجائے، اور خالق کی شان گرانا مخلوق کے مقام کو اونچا کرنے سے بڑھکر (گمبھیر) اور کفر کے اعتبار سے زیادہ سخت ہے۔

گالی دینا اور برائی کرنا ظاہری اورباطنی ایمان کے منافی ہے؛اور یہ دل کے قول کےمنافی ہے،اور یہ اللہ کی تصدیق کرنے، اسکے وجود پر ایمان لانے اور عبادت کامستحق سمجھے جانے کا نام ہے،اسی طرح دل کے عمل کے بھی خلاف ہے،اور یہ اللہ کی محبت وتعظیم اور اسکی توقیر کا نام ہے،اسلئے کسی کی تعظیم کرنے کا دعوی قبول نہیں کیا جائے گا جبکہ آپ اُسے گالی دے رہے ہوں؛ جیسے کہ اللہ کی تعظیم اور ماں باپ کا احترام۔
اسلئے کہ جو شخص والدین کی احترام وتوقیر کا دعوی کرتا ہے حالانکہ وہ انہیں گالی دیتا ہے اور انکا مذاق اُڑاتا ہے، تو وہ اپنے دعوی میں جھوٹا ہے!
اسی طرح اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو گالی دینا اوراُسکی بُرائی کرنا ظاہری ایمان کے خلاف ہے، اور وہ قول و فعل دونوں کو شامل ہے۔
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
اللہ کو گالی دینے والے کے کُفر پر علمائے کرام کا اجماع
ایمان کوقول وعمل کا نام دینے والے تما م مذاہب کے علماء کا اللہ کو گالی دینے والے شخص کے کُفر پر اتفاق ہے،اور اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ اللہ کو گا لی دینے والے یا اسکی صریح تنقیص بیان کرنے والے شخص کے کسی بھی اعذار وبہانے کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
امام حرب اپنی کتاب ‘‘مسائل’’ میں مجاہد کے واسطے سےعمررضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا :
‘‘کہ جوشخص اللہ کو گالی دے، یا نبیوں میں سے کسی نبی کو گالی دے تو اسکی گردن اُڑادو ) (الصارم المسلول ص:102)۔(
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
اورامام لیث نے مجاہد کے واسطے سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا:
‘‘کہ جس مسلمان نے بھی اللہ کو، یا کسی نبی کو گالی دیا، تو اسنے اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا، اور یہ دین سے مرتد ہوجانا ہے، اس سے توبہ کروایا جائے گا، اگر وہ اسلام کی طرف لوٹ آتا ہے تو ٹھیک ، ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا! اور جس معاہد شخص نے سرکشی اختیار کرتے ہوئے اللہ کو ،یا کسی نبی کو گالی دیا ، یا اسکا کھلا مظاہرہ کیا،تو اس نے عہدوپیمان کو توڑڈالا، اس لئے اسے قتل کردو ) (الصارم المسلول ص:201)۔(
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
اور امام احمد سے اللہ کو گالی دینے والے شخص کے بارے میں پوچھا گیا ؟تو انہوں نے فرمایا:
‘‘ایسا شخص مرتد ہے ،اسکی گردن ماردی جائے گی’’ ۔،جیسا کہ ان کے بیٹے عبد اللہ نے اپنی کتاب ((المسائل )) میں اپنے باپ سے نقل کیا ہے۔)(المسائل،ص:431)
اور اللہ کو گالی دینے والے کےکفرپراوراسکے قتل کا مستحق ہونے کے بارے میں بہت سارے لوگوں نے علماء کا اجماع نقل کیا ہے:
˜ابن راہویہ-رحمہ اللہ –
نے فرمایا:-‘‘مسلمانوں کا اس بات پراجماع ہے کہ جس نے اللہ کوگالی دی ،یا اسکے رسول کو گالی دی، یا اللہ کے نازل کردہ کسی چیزکوٹھکرادیا،یا اللہ کے نبیوں میں سے کسی نبی کو قتل کردیا،: تو وہ اسکی وجہ سے کافر ہے ، گرچہ وہ اللہ کی نازل کردہ چیزوں کا اقرار کرنے والا ہو ) (امام ابن عبد البرکی ((التمہید4/226))،اور((الاستذکار:2/150)

˜ قاضی عیاض –رحمہ اللہ – نے فرمایا : ‘‘اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ مسلمانوں میں سے اللہ کو گالی دینے والا شخص کافر مباح الدّم ہے ) ( الشفا:2/270)۔
˜اور ابن حزم وغیرہ نے بھی اجماع نقل کیا ہے،اورامام ابن ابی زید القیروانی اور ابن قدامہ وغیرہما نے بھی ایسے شخص کے کفر کی تنصیص کی ہے۔ ) ((المحلی)) لابن حزم (11/411)، و((المغنی)) لابن قدامہ (9/33)، و(الصارم المسلول) لابن تیمیہ (ص:512)، و(الفروع) لابن مفلح (6/162)، و(الانصاف) للمرداوی (10/326)، و(التاج والاکلیل) للموّاق (6/288)۔(
اسی طرح تمام علماء اللہ کو گالی دینے والے کے کفرکی تنصیص فرماتے ہیں ،اور اسکے کسی بھی عُذر کو قبول نہیں کرتے،کیونکہ معمولی عقل رکھنے والاشخص گالی اور اُسکے علاوہ میں تمیز کرتاہے ، اور ذم سے مدح کو پہچانتا ہے، لیکن وہ اس پر جسارت کرنے میں تساہل سے کام لیتے ہیں!۔


˜ اور امام ابن ابی زید قیروانی مالکی سےایک ایسے آدمی کے بارے میں دریافت کیا گیاجس نے ایک آدمی پر لعن طعن کیا اور اسکے ساتھ اللہ پر بھی لعنت کیا، تو اس آدمی نے بہانہ کرتے ہوئے کہا : ‘‘میں شیطان کو لعنت کرنا چاہتا تھا تو میری زبان پھسل گئی!
تو ابن ابی زید نے جواب دیتے ہوئے فرمایا : ‘‘اسکے ظاہری کفر کے سبب اسے قتل کردیا جائے گا، اور اسکا عُذر قبول نہیں کیا جائے گا، چاہے وہ مذاق کرنے والا ہو یاسنجیدگی کی حالت میں ہو’’) (الشفا لعیاض (2/271)۔(
اس طرح فقہ کے تمام مذاہب-جیسے مذاہب اربعہ اور ظاہریہ-کے علماء وقضاۃ ظاہر کے مطابق فیصلہ کرتے اور فتوی دیتے ہیں، اور باطن کا اعتبار نہیں کرتے ہیں، اگرچہ گالی دینے والا یہ گُمان کرے کہ اُس کے باطن میں جو چیز ہے وہ اسکے علاوہ ہے!

اور اگر علماء ظاہر کی کھلی مخالفتوں کو ظاہر کے برعکس باطن کے دعووں کی طرف لوٹاتے، تو شریعت کی نامیں،احکام ،سزائیں اور حدود ساقط ہوجاتیں، اور لوگوں کی حقوق وکرامات پامال ہوجاتیں،مسلمان کو کافر سے اور مومن کو منافق سے تمییز کرنا مشکل ہوجاتا، اور دین و دنیا بے وقوفوں کی زبانوں پر ، اور دل کے مریضوں کے ہاتھوں میں کھلونہ بن کر رہ جاتیں!
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
اللہ کو گالی دینا کُفرہے گرچہ کُفرکا ارادہ نہ ہو
اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو گالی دینا کفر ہے اسمیں کوئی اختلاف نہیں ہے، اور عوام کی اس لا پرواہی کا کوئی اعتبار نہیں ہے کہ انکا ارادہ کُفر کا نہیں تھا، اور گالی پر مبنی انکی بات اللہ کے حق میں بُرائی کا ارادہ کئے بغیر جاری ہوگئی ہے۔اور یہ عُذر پیش کرنا عُذر والے کی جہالت کی بنا پر ہے! اس عُذر کو قبول کرنے کی بات جہم بن صفوان اور غالی مرجئہ کے علاوہ کوئی نہیں کہتا ہے، جنکا کہنا یہ ہے کہ: ‘‘ایمان دل کی جانکاری اور تصدیق کا نام ہے’’۔ اسکا سبب اس بات کی جانکاری کا نہ ہونا ہے کہ ایمان: ‘‘ قول وفعل دونوں کا نام ہے ؛ یعنی : ایمان زبان اور دل کےقول، اور دل اور اعضاء (جوارح)کے عمل کو شامل ہے۔
چنانچہ غالی مرجئہ کا خیال ہے کہ ظاہری عمل ایمان کو ثابت نہیں کرتا ہے،اس بنیاد پر وہ،دل کے ارادے کو دیکھے بغیر ، ایمان کی نفی نہیں کرے گا۔
جبکہ حق ودرست بات یہ ہے کہ ایمان ظاہر وباطن دونوں کا نام ہے،اور ان دونوں میں سے ہرایک دوسرے کے ساتھ ملکر ایمان کو ثابت کرتا ہے،اور ان دونوں میں سے کسی ایک کے نہ پائے جانے کی وجہ سے پورا ایمان ہی نہیں پایا جاتا ہے۔
اورجسطرح کہ کافر شخص اگر کُفر کا ارادہ اور قصد کرے تو کا فر ہو جاتا ہے ؛ بھلے ہی اس نے اپنی زبان سے اسے نہ کہا ہو، یا اپنے اعضاء سے اسے نہ کیا ہو۔
اسی طرح وہ کُفر کے کہنے کی وجہ سے بھی کافر ہو جاتا ہے ؛ بھلے ہی اس نے اپنے دل سے کفر کی نیت نہ کی ہو اور اپنے اعضاء وجوارح سے اُسے نہ کیا ہو۔اور اسی طرح کُفر کا کرنے والا بھی کافر ہوجاتا ہے ، بھلے ہی اس نے اپنے دل سے کُفر کا ارادہ نہ کیا ہو، اور اپنی زُبان سے اُسے نہ کہا ہو۔

اور جب اعضاء وجوارح کسی حرام کا ارتکاب کریں گے،تو اس پر ان کا مؤاخذہ کیا جائے گا، اور باطن کا معاملہ تو اللہ ہی کے حوالے ہے۔
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
اور ہروہ شخص جس پر- اُسکے ظاہری کفر کےظاہرہونے کیوجہ سے- کفر کا حکم لگایا جاتا ہے وہ باطن میں اللہ کے پاس (بھی) کافر نہیں ہوتا ہے؛ اس لئے کہ باطن کے معاملات اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حوالے ہیں، اور ظاہری چیزوں پر دنیا کے اندر بندے کی پکڑ ہوگی۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اُس شخص پر کفرکا حکم لگایا ہے جس نے اسکا، اسکی کتاب اور اسکے رسول-صلی اللہ علیہ وسلم- کا مذاق اُڑایا ،اور اس کے عذر وبہانہ کو قبول نہیں کیا کہ اس نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا تھا؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

]وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنتُمْ تَسْتَهْزِؤُونَ 65 لاَ تَعْتَذِرُواْ قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ [ [التوبة :65- 66 ]
‘‘اگر آپ ان سے پوچھیں تو صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو یونہی آپس میں ہنس بول رہے تھے۔ کہہ دیجئے کہ اللہ، اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کے لئے ره گئے ہیں؟’’[سورہ توبہ:65-66]
عقل بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ لوگوں کی، ان سے ظاہر ہونے والی چیزوں پر پکڑ کی جائے گی،چنانچہ کسی پر زنا کی تہمت کو قبول نہیں کیا جائے گا، اسی طرح بادشاہ اپنی بُرائی اور لعنت کوقبول نہیں کرے گا، چاہے لوگ لاکھ بہانہ کریں کہ اُنکا ایسا قصد نہیں تھا! چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بغیر ثبوت کے زنا کا تہمت لگانے والے پر، تہمت کی سزا : ۸۰ کوڑا لگانے کا حکم دیا ہے، اور تہمت لگانے کا یہ عذر قبول نہیں کیا جائے گا کہ اُس کا مقصد ہنسی اور کھیل کود کا تھا۔
اس طرح بادشاہ کی ہیبت ختم ہوجائے گی اگر وہ لوگوں کو اپنی عزّت کے ساتھ ہنسی مذاق کرنے کی چھوٹ دیدے؛ اسی لئے آپ دیکھتے ہیں کہ وہ لوگوں کو سزا دیتا ہے اور انکے ساتھ تادیبی کارروائی کرتا ہے، خواہ ان میں کوئی مذاق کے طور پر ایسا کرنے والا ہو یا سنجیدگی کے ساتھ ۔
اور اس سلسلے میں شریعت کی بہت نصوص پائی جاتی ہیں کہ انسان کی، اسکے اس ظلم و زیادتی پر گرفت کی جائے گی جسکی شریعت اور عقل میں واضح طور سے ثابت عظمت ومنزلت کی جانکاری میں اس نے سستی سے کام لیا ہے، اور اس سلسلے میں اُس کا کوئی بہانہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
چنانچہ صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:‘‘کہ بندہ اللہ کی ناراضگی کی کوئی ایسی بات کہدیتا ہے جسکی پرواہ نہیں کرتا اور اسکے بدلے وہ جہنم میں ستّرسال تک گرتا رہتا ہے’’۔
((صحیح بخاری:6478)، وصحیح مسلم باختصار:2988)
یہاں اللہ تعالیٰ نے اسکے لئے عذاب کو واجب کردیا اور اسے معذور نہیں سمجھا ،جبکہ اسنے اپنی بات کی کوئی پرواہ نہیں کی تھی! یعنی اپنی بات کی اہمیت و وقعت نہیں دی تھی،کیونکہ وہ اپنی بات پر غور کرنے میں متساہل تھا ،اگر وہ اپنی بات پرغوروفکر سے کام لیتا اور معمولی سا دھیان دیا ہوتا تو اسے اپنے کلام کی قباحت وشناعت کا اندازہ ہوجاتا۔
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
اور بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آیا ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :‘‘بےشک تم میں سے ایک شخص اللہ کی ناراضگی کی بات کہتا ہے جسکی بڑائی کا اسے اندازہ نہیں ہوتا ہے،لیکن اللہ اسکے سبب اسکے لئے قیامت تک کی ناراضگی لکھ دیتا ہے) (مسند احمد:3/469 رقم:18852)، اور (صحیح ابن حبان (280)۔(

اسلئے انسان کا یہ بہانہ کرنا کہ اللہ کو گالی دینا، اور اس پر لعنت کرنا، بغیر اہانت وتذلیل یا تنقیص کا ارادہ کئے ہوئے اسکی زبان پر جاری ہوجاتا ہے :ایسا عُذر ہے جسے ابلیس انسان کیلئے مزیّن کرتا ہے؛ تاکہ اسے اسکے کفر پر باقی رکھے، اور اُسے اپنے خالق کے حق میں اپنے اوپر ظلم وزیادتی پر جمائے رکھے۔
چنانچہ شیطان انسان کو کُفر پر نہیں ابھارتا ہے مگر اسکے لئے کمزور عقلی اور شرعی شبہات پیدا کرکے اسے ان پر مطمئن کردیتا ہے، حالانکہ وہ شبہات خواہشات سے خالی صحیح فہم کے تراضو پر ٹہرنے سے عاجز ہوتی ہیں۔
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
اور ابلیس کی دسیسہ کاری اور شبہات میں سے یہ ہے کہ: وہ انسان کی نیکیوں کو سامنے کرکے اسکی نگاہ میں کفر اور معصیت کو حقیر اور ہلکا بنا دیتا ہے، جسکی وجہ سے سیاہ کار انسان کے دل میں نافرمانی کی تکلیف اور گناہ پر پچھتاوا ختم ہوجاتا ہے؛ جیسے کہ عوام میں سے اللہ کو گالی دینے والے کو یہ باور کرانا کہ وہ شہادتین (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ) کا اقرار کرتا ہے،اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک وبرتاؤ کرتا ہے! اور ہو سکتا ہے کہ اس نے نماز بھی پڑھی ہو!

اسی طرح کے شبہات اور فریب کے ذریعہ مکّہ میں عرب مشرکین گمراہ ہوئے، انہوں نے اللہ کے ساتھ شرک کیا، اور اسے چھوڑ کر بتوں کی پوجا کی،اور اپنے دلوں میں حاجیوں کو پانی پلانے،مسجد حرام کو آبادکرنے اورکعبہ کوغلاف پہنانے کی باتیں رکھیں، لیکن ان سب چیزوں نے اللہ کے نزدیک انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچایا،کیونکہ انکا اللہ کے ساتھ غیراللہ کو شریک ٹہرانا اسکی تعظیم کرنے کے خلاف ہے، تو وہ بیت الحرام کی تعظیم کرتے ہیں جبکہ بیت الحرام کے مالک کے ساتھ کُفر کرتے ہیں! حالانکہ بیت الحرام کی تعظیم اسکے مالک کی وجہ سے کی جاتی ہے،رب کی تعظیم اسکے گھر کی وجہ سے نہیں کی جاتی ہے۔
اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَوُونَ عِنْدَ اللَّهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾ [التوبة : 19 ]]
‘‘کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلا دینا اور مسجد حرام کی خدمت کرنا اس کے برابر کر دیا ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان ئے اور اللہ کی راه میں جہاد کیا، یہ اللہ کے نزدیک برابر کے نہیں اور اللہ تعالیٰ الموں کو ہدایت نہیں دیتا’’ [سورہ توبہ:19]
اور اکثر انسان کا اللہ پر ایمان ایک دعوی ہوتا ہے، کیونکہ یہ اسکے علاوہ کے مخالف ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فر مایا:

﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ﴾ [البقرة : 8 ]
‘‘اور لوگوں میں سے بعض کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں ،لیکن در حقیقت وہ ایمان والے نہیں ہیں’’ [سورہ بقرہ:8]
اسلئے اللہ کی تعظیم کرنے اور شہادتین کے اقرار کرنے کا دعوی اللہ سبحانہ تعالیٰ کو گالی دینے اور اسکا مذاق اُڑ انے کے ساتھ درست نہیں ہوسکتا ۔
 
Top