کائنات فاطمہ
مبتدی
- شمولیت
- اپریل 21، 2012
- پیغامات
- 4
- ری ایکشن اسکور
- 21
- پوائنٹ
- 0
نبی رحمتﷺ کی وفات کے فورابعد ہی فتنوں کی ابتدا ہو گئی،کسی نے نبوت کا دعوی کردیا کوئی دجال پیدا ہوا کسی نے اسلام میں زکوۃ کا انکار کیاتو کسی نے سرے سے قرآن ہی کے اصل ہونے سے انکار کر دیا،وقت کے ساتھ ساتھ طرح طرح کے فتنوں کا ظہور ہوتا رہااسی دوران ہی اسلام میں عقائد کو تباہ کرنے والے فتنے تقلید نے جنم لیا جس نے اسلام کی بنیادوں کوشدید نقصان پہنچایا۔موجودہ دور جو کہ ایام تاریخ میں سب سے زیادہ پرفتن دور ہے جس میں جھوٹی نبوت کے دعویدار مرزا قادیانی ویوسف کذاب کے پیروکار ہیں تو کہیں پرویزیت کے دلدادہ منکرین حدیث کہیں اہل تشیع صحابہ کرام پہ سب کرنے والے ہیں تو کہیں ہر روز نئی بدعت ایجاد کرنے والےبریلوی ۔
انسان کی فطرت میں رب العلمین نے میلان رکھا ہے کہ اسے جو چیز یا بات اچھی لگتی ہے اسی کی طرف مائل ہو جاتا ہےانتہا یہاں تک ہوتی ہے کہ اپنے نظریات کی خاطر جان تک کی بازی لگانے کو تیار ہوجاتا ہے اسی فطری عادت نے دنیا میں جب بھی جہاں بھی کسی نے اپنے نظریات کا دعوی کیا اسے اس کے پیروکار اور متبع مل ہی گئے یوں انسانوں میں ملتیں اور ملتوں میں فرقے بنتے چلے گئے۔ طلوع اسلام کے بعد تمام ادیان اور ملتیں ایک ہی دین اور ملت میں تبدیل ہوگئیں کہ خالق کل نے فرما دیا۔
ان الدین عنداللہ الاسلام کہ بے شک اللہ کے نزدیک (پسندیدہ)دین اسلام ہی ہے۔
لیکن سابقہ سوچوں کے حامل افراد نے پھر اس اللہ کے پسند کردہ دین میں اپنی سوچ اور نظریات کو داخل کرنا شروع کر دیاجس سے دین اسلام میں بھی تفرقات کا آغاز ہوگیا۔طرح طرح کےباطل فرقوں کا ظہور ہوا فتنے بڑھتے چلے گئے کسی نے قرآن کا انکار کیا تو کسی نے حدیث کا کسی نے زکوۃ کا تو کسی نے نماز کا کسی نے جہاد کا تو کسی نے سرے سے اسلامی تعلیمات ہی کا انکار کردیا اور دین کی تعلیمات کے مقابل اپنی سوچ اور اپنی عقل کو مقدم جانا۔انہی فتنوں میں ایک نیا فتنہ جو کہ ابھی سر اٹھا ہی رہا ہے وہ ہے اللہ کی راہ میں قتل ہوجانے والے کی شہادت کا انکارکرنے والے ،جماعتی انتشار کے دلدادہ یہ ایسے متعصب لوگ ہیں جو سرےسے ہی شہید کی شہادت کو نہیں مانتے، جن کے نزدیک شہید کا درجہ صرف ان لوگوں کیلئے ہے جواوائل اسلام میں شہید ہوئے اور اللہ نے اپنےپیغمبر کے ذریعے انکی شہادت کی توثیق کردی بعد میں جو بھی اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے اسے ہم قطعی طور پر شہید نہیں کہ سکتے، دلیل لائے ہیں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں باب باندھا ہے۔
باب لا يقول فلان شهيد قال أبو هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم الله أعلم بمن يجاهد في سبيله والله أعلم بمنيكلم في سبيله ۔
باب قطعی طور پر یہ نہ کہا جائے کہ فلاں شخص شہید ہے (کیونکہ نیت اور خاتمہ کا حال معلوم نہیں ہے) اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے میں جہاد کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے میں زخمی ہوتا ہے۔
اس حدیث سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے اللہ کی راہ میں قتل ہو جانے والے ہرمقتول کو ہی شہید کہنے سے منع فرمادیا ہے۔(جس پہ ان شاءاللہ ہم قرآن و حدیث سے دلائل کی روشنی میں سیر حاصل بحث کریں گے)
جبکہ اس حدیث کے معانی کو بغیر سوچے سمجھے اپنے مقصد کیلئے استعما ل کیا جارہا ہے کیونکہ اگر دوسری طرف اللہ کے فرمان کو دیکھیں تو معلوم پڑتا ہے کہ اللہ کی راہ میں قتل ہوجانے والے کسی بھی معین یا غیر معین مقتول کو کو مردہ نہ کہا جائے۔
وَلَا تَـقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ ۭ بَلْ اَحْيَاءٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ ۔البقرہ
اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مرا ہوا نہ کہا کرو بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم نہیں سمجھتے۔
دوسری جگہ پہ فرمان باری تعالی ہے۔
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا ۭ بَلْ اَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْن۔ال عمران
جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ان کو ہرگز مردہ نہ سمجھیں، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس روزیاں دیئے جاتے ہیں ۔
اللہ تعالی کے فرامین واضح اور مکمل ہیں جنہیں کسی بھی طور تاویل کی ضرورت نہیں ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ اللہ کا فرمان یہ ہے کہ میری راہ میں قتل ہوجانے والے کسی بھی مقتول کو مردہ نہ کہا جائے لیکن جو باب امام بخاری لائے ہیں اس کے مطابق شہید کو شہید نہ کہا جائے،یہاں معاملہ ایسا ہے کہ اللہ کی راہ میں اپنی جان سپرد کرنے والا اپنی ہی موت سے بے خبر ہے کہ وہ اگر جان دینے جا رہا ہے تو اس کا کٹ مرنا موت ہے یا شہادت؟؟؟۔(ابھی سےیہ نہ سمجھاجائے کہ ہم فہم بخاری پہ جرح کر رہے ہیں جبکہ ہم اسی کو واضح کرنا چاہتے ہیں کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا یہ باب لانے کا مقصد کیا ہے )
شہید کو شہید نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟
اس روایت سے قطعا یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ جو شخص خالصتاََ اللہ کی راہ میں جہاد کیلئے نکلے اور اسےقتل کر دیا جائےتو اس کو شہید نہ کہا جائے۔
سب سے پہلے دیکھنا چاہئے کہ کیا ایسی روایات ہیں جن میں خود اللہ کے رسولﷺ نے کسی کی موت کو شہادت قرار دیا ہو؟ اس کے بعد دیکھیں گے کہ کیا ایسے لوگ بھی مقتول ہوئے جن کے بارے فرما دیا گیا کہ وہ میدان جہاد میں قتل ہونے کے باوجودشہید نہیں بلکہ جہنمی ہیں۔، اس کےبعد دیکھیں گے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ باب باندھا ہے تو اس باب باندھنے سے کیا مراد ہے؟اور مضمون کے آخر میں ہم ذکر کریں گے کہ کیا ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کی راہ میں مخلص ہو کر لڑے اور آخر تک ایمان بھی قائم رہا اور اللہ نے ان کی شہادت بھی قبول کر لی اللہ کے رسول ﷺ نے بھی ان کو شہید قرار دے دیا لیکن پھر بھی اللہ ان کے گناہوں کو نہیں بخشتا۔
اگرچہ صحاح ستہ میں کثرت سے ایسی روایات موجود ہیں لیکن ہم اختصار کیلئے صرف صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے چار روایات لیں گےجن میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کے فلاں فلاں قسم کے لوگ شہید ہیں۔
حدیث نمبر 1۔
حدثنا عبد الله بن يوسف أخبرنا مالک عن سمي عن أبي صالح عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال الشهدائ خمسة المطعون والمبطون والغرق وصاحب الهدم والشهيد في سبيل اللہ۔متفق علیہ، صحیح بخاری:جلد دوم(جہاد اور سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )
ترجمہ۔
عبداللہ بن یوسف، مالک، سمی ابوصالح، ابوہریرہ سے روایت کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ شہید پانچ قسم کے ہوتے ہیں وہ جو طاعون کے مرض سے مرجاءے، وہ جو پیٹ کے مرض سے مر جائے، وہ جو ڈوب کر جان بحق ہو، اور وہ جو دیوار کے گرنے سے مر جائے، اور وہ جو اس کی راہ میں اس طرح شہید ہو کہ اپنی جگہ پہنچ کر جان دے یا میدان جنگ میں پہنچ کر واصل بحق ہو۔
حدیث نمبر 2۔
حدثنا عبد الله بن يزيد حدثنا سعيد هو ابن أبي أيوب قال حدثني أبو الأسود عن عکرمة عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال سمعت النبي صلی الله عليه وسلم يقول من قتل دون ماله فهو شہید۔متفق علیہ ۔صحیح بخاری:جلد اول(اس شخص کا بیان جو اپنے مال کی حفاظت کے لیے جنگ کرے۔)
ترجمہ۔
عبداللہ بن یزید، سعید بن ابی ایوب، ابوالاسود عکرمہ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا، کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں قتل کیا جائے وہ شہید ہے۔
حدیث نمبر 3۔
حدثنا شيبان بن فروخ حدثنا حماد بن سلمة حدثنا ثابت عن أنس بن مالک قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم من طلب الشهادة صادقا أعطيها ولو لم تصبه۔متفق علیہ ۔صحیح مسلم:جلد سوم:(امارت اور خلافت کا بیان )
شیبان بن فروخ، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے صدق دل سے شہادت طلب کی اسے شہادت کا رتبہ دے دیا جاتا ہے اگرچہ وہ شہید نہ بھی ہو۔
حدیث نمبر 4۔
و حدثني زهير بن حرب حدثنا جرير عن سهيل عن أبيه عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم ما تعدون الشهيد فيکم قالوا يا رسول الله من قتل في سبيل الله فهو شهيد قال إن شهدا أمتي إذا لقليل قالوا فمن هم يا رسول الله قال من قتل في سبيل الله فهو شهيد ومن مات في سبيل الله فهو شهيد ومن مات في الطاعون فهو شهيد ومن مات في البطن فهو شهيد قال ابن مقسم أشهد علی أبيک في هذا الحديث أنه قال والغريقشہید۔ متفق علیہ۔صحیح مسلم:جلد سوم(امارت اور خلافت کا بیان )
ترجمہ۔ زہیر بن حرب، جریر، سہیل، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے سے شہید کسے شمار کرتے ہو صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول جو اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے وہ شہید ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسی صورت میں تو میری امت کے شہید کم ہوں گے صحابہ نے عرض کیا پھر وہ کون ہوں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اللہ کے راستہ میں قتل کیا گیا وہ شہید ہے اور جو اللہ کے راستہ میں مر گیا وہ بھی شہید ہے اور جو طاعون میں مرا وہ بھی شہید ہے اور جو پیٹ کی بیماری میں مر گیا وہ بھی شہید ہے ابن مقسم نے اس حدیث میں یہ بھی کہا ڈوب کر مر جانے والا بھی شہید ہے۔
جیسا کہ ہم نے بیان کیا کہ احادیث میں ایسے لوگوں کے متعلق بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیںلیکن ہم نے صرف چار احادیث کا ذکر کیا ہے جو متفق علیہ ہیں،ان روایات میں اللہ کے رسول ﷺ نے مختلف قسم کی اموات کو شہید کا درجہ دیا جبکہ ایک مومن مسلم کا ایمان ہونا چاہئے کہ جو اللہ کے رسولﷺ فرما دیں وہی حق ہے اور اللہ تعالی کی رضابھی اسی میں ہے،لیکن ان روایات کے پیش نظر ہم کسی کو قطعی یہ نہیں کہہ سکتے یہ شخص واقعی شہادت کے مقام پہ ہی فائز ہوگا کیونکہ نہ تو اس کے عقیدے کا علم ہے اور نہ اعمال کا،ہر نتیجہ عمل مانگتا ہے اور جنتی ہونے کیلئے سب سے پہلے عقیدے کا درست ہونا بے حد ضروری ہے اور پھر باقی فرائض کو انجام دینا دینی امور کا حصہ ہے۔اگر ان علامات میں وفات پانے والے شخص کا عقیدہ درست ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا عمل بھی عین قرآن و سنت کے مطابق ہو گا تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ممکن ہے اسے اللہ شہادت کا اجر عطا فرما دیںاور اسے ان شاءاللہ شہید کہہ سکتے ہیں کیونکہ یہ شخص اس علامت پہ فوت ہوا ہے جن کی بشارت رسول اکرم ﷺ نے خود فرمائی ہے کہ میری امت کے ایسے فوت ہونے والے بھی شہید ہیں،لیکن ان کا معاملہ قطعی اللہ کی ذات کے ساتھ ہے ان کے دنیاوی اعمال کا بھی اور اخروی جزا کا بھی کیونکہ ان کی قطعیت کی وضاحت اللہ تعالی نے اپنی کلام میں نہیں فرمائی اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ نے فرمائی اس لئے ایسے وفات پاجانے والوں کو مردہ بھی کہہ سکتے ہیں ۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں علامات کے حامل لوگوں میں سے ایک شخص کی موت ہے کہ جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے قتل کر دیا جائے اس کے بارے اللہ تعالی نے سختی کے ساتھ وضاحت فرما دی کہ خبردار ایسا شخص جو میری راہ میں لڑتے ہوئے مارا جائے اسے مردہ نہ کہنا اور نہ ایسا گمان ہی کرنا ،یعنی ایسا سوچنے سے بھی منع فرما دیا۔فرمان باری تعالی
وَلَا تَـقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ ۭ بَلْ اَحْيَاءٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ ۔البقرہ
اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مرا ہوا نہ کہا کرو بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم نہیں سمجھتے۔
دوسری جگہ پہ فرمان باری تعالی ہے۔
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا ۭ بَلْ اَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْن۔ال عمران
جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ان کو ہرگز مردہ نہ سمجھیں، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس روزیاں دیئے جاتے ہیں ۔
ان واضح فرامین کو قران وسنت کی نظر سے دیکھا جائے توایمان کی حالت میں عقیدہ توحید کے ساتھ عمل بھی کامل ہو اور خالصتاََ اللہ کی راہ میں قتل ہو جانے والے کی شہادت کے بارے تذبذب کا شکار ہونا گویا ایسا ہی ہے کہ اللہ کی بات کایقین نہ کرنا اور اس بات میں شک (تحسبن)کرناکہ جانے وہ شہید ہوا یا قتل ہوا جبکہ اللہ کا فرمان لاریب اور ہر شک و شبہ سے بالا تر ہے۔ان تمام روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے حقیقت یہی واضح ہوتی ہے کہ ہر شہید کو شہید نہیں کہا جاسکتا بلکہ شہید ان شاءاللہ کے ساتھ کہیں گے لیکن جو اللہ کی راہ میں لڑتا ہوا میدان جنگ میں قتل کر دیا جائے یا اس راہ میں کسی طرح بھی وفات پا جائے اسے ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺکے فیصلہ کے مطابق دنیا میں قطعی شہادت کا ہی درجہ دیں گے کہ یہ ہمارے لئے حکم ہے لیکن آخرت کا معاملہ اس کا بھی اللہ ہی کی ذات کے ساتھ ہے۔اس کے بارے صحاح ستہ میں سے ابو داوود،کتاب الجہاد کی یہ روایت بھی مد نظر رکھنی چاہئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔
حدثنا عبد الوهاب بن نجدة حدثنا بقية بن الوليد عن ابن ثوبان عن أبيه يرد إلی مکحول إلی عبد الرحمن بن غنم الأشعري أن أبا مالک الأشعري قال سمعت رسول الله صلی الله عليه وسلم يقول من فصل في سبيل الله فمات أو قتل فهو شهيد أو وقصه فرسه أو بعيره أو لدغته هامة أو مات علی فراشه أو بأي حتف شا الله فإنه شهيد وإن له الجنۃ۔سنن ابوداؤد:جلد دوم:کتاب الجہاد
عبدالوہاب بن نجدہ، بقیہ بن ولید، بن ثوبان، حضرت ابومالک اشعری سے روایت ہے کہ میں نے سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے۔ جو شخص راہ خدا میں جہاد کی غرض سے نکلا اور وہ مر گیا یا مارا گیا تو ہر دو صورت میں وہ شہید ہے یا اس کے گھوڑے یا اونٹ نے اس کو کچل ڈالا یا کسی زہریلے جانور نے اس کو کاٹ لیا یا اپنے بستر پر (طبعی) موت مرا یا کسی اور طریقہ سے جو اللہ نے چاہا مر گیا تو ہرصورت میں وہ شہید ہے اور اس کے لئے جنت ہے۔
یہ روایت شہید کی شہادت کی قطعیت پہ دلالت کرتی ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے اور اعلائے کلمۃ اللہ بلند کرنے کی غر ض سے نکلا اوراسی راہ میں واپس لوٹنے سے پہلے وہ کسی بھی طرح مارا گیا یا وہ اپنی طبعی موت بھی مرا فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فإنه شهيد وإن له الجنۃ کہ اس کی شہادت میں اور جنت میں جانے کا کوئی شک ہی نہیں ہے کیونکہ وہ توقطعی شہید ہے۔ہمارا یہ عقیدہ اکثر لوگوں پہ شاک گزرے گا کہا جائے گاکہ ایسا تو تاریخ میں کسی نے نہیں کہانہ کسی محدث نے نہ کسی عالم نے اور نہ ہی کسی فقیہہ نے ان کے لئے عرض ہے کہ ایسا فتنہ بھی پہلے کبھی پیدا نہیں ہوا کہ اس امرکی تصریح کی ضرورت پیش آتی ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ایک خبر ہوگئی کہ جو شخص کہے کہ شہید قطعی شہید ہے اورساتھ ان شاءاللہ نہ کہے تو کیا اس نے غیب سے خبر دی؟
ہر گز نہیں کیاجو اللہ اور اس کے رسول ﷺ فرما دیں وہ غیب کی خبر ہوتی ہے؟ جبکہ واضح آیات جو کہ حکماََ بھی ہیں جو اللہ کی راہ میں قتل ہوجانے والے کی شہادت کی قطعی دلالت کرتی ہیں اور ابو داوودکی روایت بھی شہید کی شہادت کیلئے قطعیت پہ دلیل ہے۔اس میں شک کی کوئی گنجائیش نہیں ہے۔
اب ہم دو ایسی صحیح احادیث دیکھیں گے جن میں لوگ مسلمانوں کے لشکروں میں جہاد کرتے ہوئے قتل تو ہوئے لیکن اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایاکہ انہیں میں نے کسی عمل کی وجہ سے جہنم میں دیکھا ہے۔
حدیث 1
۔حدثني زهير بن حرب حدثنا هاشم بن القاسم حدثنا عکرمة بن عمار قال حدثني سماک الحنفي أبو زميل قال حدثني عبد الله بن عباس قال حدثني عمر بن الخطاب قال لما کان يوم خيبر أقبل نفر من صحابة النبي صلی الله عليه وسلم فقالوا فلان شهيد فلان شهيد حتی مروا علی رجل فقالوا فلان شهيد فقال رسول الله صلی الله عليه وسلم کلا إني رأيته في النار في بردة غلها أو عباة ثم قال رسول الله صلی الله عليه وسلم يا ابن الخطاب اذهب فناد في الناس أنه لا يدخل الجنة إلا المؤمنون قال فخرجت فناديت ألا إنه لا يدخل الجنة إلا المؤمنون۔متفق علیہ۔صحیح مسلم:جلد اول:باب ۔مال غنیمت میں خیانت کی سخت حرمت اور اس بات کے بیان میں کہ جنت میں صرف مومن داخل ہوں گے ۔
ترجمہ حدیث۔ زہیر بن حرب، ہاشم بن قاسم، عکرمہ بن عمار، سماک، ابوزمیل حنفی، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، غزوہ خیبر میں چند صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ فلاں آدمی شہید ہے یہاں تک کہ ایک آدمی پر گزر ہوا تو اس کے متعلق بھی کہنے لگے کہ فلاں شہید ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے چادر یا عباء کی چوری کی وجہ سے اس کو جہنم میں دیکھا ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ابن خطاب جاؤ اور لوگوں میں آواز لگا دو کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نکل کر لوگوں میں یہ آواز لگادی کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے۔
اس باب میں دو احادیث ملتی ہیں جو کہ اسی بارے ہیںامام نووی نے فرمایا کہ ان سے یہ مسائل اخذ ہوتے ہیں۔
1۔مال غنیمت میں سے چوری مال رکھنا سخت حرام ہے۔
2۔مال غنیمت میں سے تھوڑی یا زیادہ مال کی چوری ایک برابر ہے وہ چاہے ایک تسمہ ہو یا چادر۔
3۔جس نے غلول کیا اسے شہید نہ کہیں گے۔
4۔جو کفر پر مرے وہ جنت میں نہیں جائیگا۔جس پہ تمام امت مسلمہ کا اجماع ہے۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ جو مال غنیمت میں سے کچھ چرائے وہ سیدھا جنت میں نہیں جائیگااگرچہ وہ میدان جنگ ہی میں مارا گیا ہو بلکہ وہ اپنے اس عمل کا حساب دیکر ہی جنت میں جائیگا جیسا کہ دوسری متعدد احادیث میں مروی ہے کہ کلمہ گو جس نے شرک نہ کیاہو آخر جنت میں ہی جائیگا۔جبکہ اس حدیث سے یہ قطعی ثابت نہیں ہوتا کہ جو اللہ کی راہ میں مخلص ہو کر لڑا اور قتل کر دیا گیا وہ جنت میں نہیں جائیگا کیونکہ باقی لوگ جو جنگ خیبر میں شہید ہوئے اللہ کے رسول ﷺ نے کسی پہ بھی تبصرہ نہیں کیااور خاموشی اختیار کی، جب کہ اس شخص کی غلطی بھی اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر کے ذریعے اسلئے بتائی کہ مال غنیمت کے مال کی حرمت کا احساس دلانا مقصود تھا نہ کہ اس سے یہ دلیل لی جائے کہ اس بنا پہ اللہ کی راہ میں قتل ہوجانے والے کسی بھی مقتول کو شہید نہ کہا جائے۔ہاں اگر یہ بات شہید کی شہادت کے بعد ثابت ہوجائے کہ اس نے مال غنیمت سے کچھ چرایاتھا تو ہمیں اس بات کی اجازت ہے کہ ہم کہیں کہ وہ شہید نہیں ہوا کیونکہ حدیث سے یہ بات ثابت ہے کہ جس نے غلول کیا اسے شہید نہ کہیں گےبلکہ اس کی مغفرت کی دعا کریں ۔
چوتھی بات یہ ہے کہ جو کفر پر مرے وہ جنت میں نہیں جائیگا۔یہاں اس بات کو سمجھنا ازحد ضروری ہے کہ اس بات کا اعلان کرنے حضرت نبی کریمﷺ نے حضرت عمر"رضی اللہ عنہ کو بھیجا،یہ ایک الگ بات ہے اس پہلی بات سے جو اس مقتول کے متعلق کہی گئی جس نے چادر چرائی تھی۔کیونکہ چوری کرنے سے انسان کافر نہیں ہوتامسلمان ہی رہتا ہے کیونکہ اس کے متعلق بہت ساری صحیح روایات موجود ہیں جن کا حوالہ یہ ہے۔صحیح بخاری:جلد اول۔ جنازوں کا بیان۔صحیح بخاری:جلد دوم۔ مخلوقات کی ابتداء کا بیان۔صحیح بخاری:جلد سوم۔لباس کا بیان
یہاں صرف صحیح بخاری سے حوالے دئے گئے ہیں جبکہ اسی طرح مکررات میں مسلم ابو داوود ترمذی ابن ماجہ میں بھی بہت سی روایات ہیں جن سے قطعی ثابت ہے کہ چوری کرنے والا انسان کافر نہیں ہوتا بلکہ اپنی سزا پا کر جنت میں جائیگایااپنے کسی ایسے عمل کی وجہ سےجو اللہ کو پسند آجائے
معاف کر دیا جائے گا۔اوربے شک کافر کیلئے جنت نہیں ہے جنت صرف مومنین کیلئے ہے۔
دوسری حدیث۔
حدثنا قتيبة حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن عن أبي حازم عن سهل بن سعد الساعدي رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم التقى هو والمشركون فاقتتلوا فلما مال رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى عسكره ومال الآخرون إلى عسكرهم وفي أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم رجل لا يدع لهم شاذة ولا فاذة إلا اتبعها يضربها بسيفه فقال ما أجزأ منا اليوم أحد كما - أجزأ فلان فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أما إنه من أهل النار فقال رجل من القوم أنا صاحبه قال فخرج معه كلما وقف وقف معه وإذا أسرع أسرع معه قال فجرح الرجل جرحا شديدا فاستعجل الموت فوضع نصل سيفه بالأرض وذبابه بين ثدييه ثم تحامل على سيفه فقتل نفسه فخرج الرجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أشهد أنك رسول الله قال وما ذاك قال الرجل الذي ذكرت آنفا أنه من أهل النار فأعظم الناس ذلك فقلت أنا لكم به فخرجت في طلبه ثم جرح جرحا شديدا فاستعجل الموت فوضع نصل سيفه في الأرض وذبابه بين ثدييه ثم تحامل عليه فقتل نفسه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك إن الرجل ليعمل عمل أهل الجنة فيما يبدو للناس وهو من أهل النار وإن الرجل ليعمل عمل أهل النار فيما يبدو للناس وهو من أهل الجنة ۔صحیح بخاری ،باب لا يقول فلان شهيد
■ترجمہ حدیث ۔ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (اپنے اصحاب کے ہمراہ احد یا خیبر کی لڑائی میں) مشرکین سے مڈ بھیڑ ہوئی اور جنگ چھڑ گئی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اس دن لڑائی سے فارغ ہو کر) اپنے پڑاؤ کی طرف واپس ہوئے اور مشرکین اپنے پڑاؤ کی طرف تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فوج کے ساتھ ایک شخص تھا، لڑائی لڑنے میں اس کا یہ حال تھا کہ مشرکین کا کوئی آدمی بھی اگر کسی طرف نظر پڑ جاتا تو اس کا پیچھا کر کے وہ شخص اپنی تلوار سے اسے قتل کر دیتا۔ سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے متعلق کہا کہ آج جتنی سرگرمی کے ساتھ فلاں شخص لڑا ہے، ہم میں کے کوئی بھی اس طرح نہ لڑ سکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ لیکن وہ شخص دوزخی ہے۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے (اپنے دل میں کہا اچھا میں اس کو پیچھا کروں گا (دیکھوں) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوزخی کیوں فرمایا ہے) بیان کیا کہ وہ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے دن لڑائی میں موجود رہا، جب وہ کھڑا ہوتا تو یہ بھی کھڑا ہو جاتا اور جب وہ تیز چلتا، تو یہ بھی اس کے ساتھ تیز چلتا۔ بیان کیا کہ آخر وہ شخص زخمی ہوگیا اور زخم بڑا گہرا تھا۔ اس لئے اس نے چاہا کہ موت جلدی آجائے اور اپنی تلوار کا پھل زمیں پر رکھ کر اس کی دھار کو سینے کے مقابلے میں کر لیا اور تلوار پر گِر کا اپنی جان دے دی۔ اب وہ صاحب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہوئی؟ انہوں نے بیان کیا کہ وہی شخص جس کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ وہ دوزخی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر یہ آپ کا فرمان بڑا شاق گزرا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ تم سب لوگوں کی طرف سے میں اس کے متعلق تحقیق کرتا ہوں۔ چنانچہ اس کے پیچھے ہو لیا۔ اس کے بعد وہ شخص سخت زخمی ہوا اور چاہا کہ جلدی موت آجائے۔ اس لئے اس نے اپنی تلوار کا پھل زمین پر رکھ کر اس کی دھار کو اپنے سینے کے مقابل کر لیا ور اس پر گِر کر خود جان دے دی۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی زندگی بھر بظاہر اہل جنت کے سے کام کرتا ہے حالانکہ وہ اہل دوزخ میں سے ہوتا ہے اور ایک آدمی بظاہر اہل دوزخ کے کام کرتا ہے حالانکہ وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے۔
بیان کی گئی یہ وہ دوسری حدیث ہے جو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اس باب میں لائےہیں "باب لا يقول فلان شهيد " ۔مذکورہ بالا اس روایت میں موجود واقعہ اس بات کی خبر دیتا ہے کہ امام بخاری ؒ اس حدیث میں موجود واقعہ کی لڑائی پہ کنفرم نہیں ہیںکہ یہ لڑائی احد کی تھی یا خیبر کی اور نہ ہی راوی صحابی نے اس کی وضاحت فرمائی ،اس لئے ترجمہ کرنے والے مولانا داوود رازاور دیگر محدثین نے بریکٹ میں لکھا کہ اللہ کے رسول ﷺ (اپنے اصحاب کے ہمراہ احد یا خیبر کی لڑائی میں) شریک تھے،کہ ایک شخص تھا، لڑائی لڑنے میں اس کا یہ حال تھا کہ مشرکین کا کوئی آدمی بھی اگر کسی طرف نظر پڑ جاتا تو اس کا پیچھا کر کے وہ شخص اپنی تلوار سے اسے قتل کر دیتا۔
اب یہ شخص کون تھا اس کی وضاحت ہمیں کہیں نہیں ملتی بلکہ روایت ہی کے سیاق و سباق سے دیکھنا پڑیگا کہ وہ شخص کیسا تھا اور اس کا ایمان کیا تھا؟وہ صحابہ کی جماعت سے تھا یا منافق؟ایمان دار تھا یا ابھی ایمان نہیں لایا تھا؟یا وہ شخص مسلمانوں کے لشکر کے ساتھ حلیف بن کر آیا تھاجبکہ ابھی وہ حالت کفر میں ہی تھاکیونکہ غزوہ احد میں مدینہ کے ارد گرد بسنے والے بہت سے مسلمانوں کے حلیف قبائل جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے لیکن مسلمانوں ہی کی طرف سے شریک ہوئے اور بے جگری سے لڑے۔آئیے اسی حدیث کے راوی کے الفاظ پہ ہی غور کرتے ہیں کہ صحابی کیا فرماتے ہیں؟
پہلی دلیل۔سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے متعلق کہا کہ آج جتنی سرگرمی کے ساتھ فلاں شخص لڑا ہے، ہم میں سےکوئی بھی اس طرح نہ لڑ سکا۔الفاظ پہ غور کیجئےکہ حضرت سہل فرما رہے ہیں کہ ہم نے اس شخص کے متعلق کہا کہ جتنی سرگرمی کے ساتھ فلاں شخص لڑا ،ہم میں سے کوئی بھی اس کی طرح نہیں لڑ سکا،یعنی وہ صحابہ کرام کی جماعت سے نہیں تھا، ثابت ہوا کہ وہ مسلمان نہیں ہوا تھا بلکہ وہ کسی حلیف قبیلے سے تعلق رکھنے والا فرد تھاجو لڑتے ہوئے زخمی ہوا اور اس نے خود کو مارلیا۔
دوسری دلیل ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ لیکن وہ شخص دوزخی ہے۔اور حدیث کے آخری الفاظ ہیں، اس وقت آپ ﷺنے فرمایا کہ ایک آدمی زندگی بھر بظاہر اہل جنت کے سے کام کرتا ہے حالانکہ وہ اہل دوزخ میں سے ہوتا ہے اور ایک آدمی بظاہر اہل دوزخ کے کام کرتا ہے حالانکہ وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے۔اللہ کے رسول ﷺ کے ان الفاظ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ شخص قطعی مسلمان نہیں تھا بلکہ مسلمانوں کے ساتھ کفار کے مقابل لڑنے کیلئے ہی آیا تھا اس لئے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ اس کا یہ عمل بیکار ہے۔جس طرح کافر جو حالت کفر میں اچھے اعمال کرتا ہے لیکن وہ اس کے باوجود جنت میں نہیں جائیگا مختلف احادیث میں اس بات کی شہادت ملتی ہے کہ جنت میں جانے کیلئے سب سے پہلی شرط ایمان کا کامل ہونا ضروری ہے۔اسی طرح ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ سے ایک بار حاتم طائی کے متعلق پوچھا گیا جو کہ مشہور صحابی حضرت عدی رضی اللہ عنہ کے والد بھی تھےکہ وہ شخص بے حدسخی تھا، لوگ اس کی سخاوت اور نیکی کی مثالیں دیا کرتے تھےسوال کیا گیا یا رسول اللہﷺ اس کے بارے فرمائیےاللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جنت ایمان کے ساتھ مشروط ہے انسان حالت کفر میں جتنے بھی اچھے اعمال کر لے اس کے لئے کسی قسم کی نجات کا سبب نہیں بنیں گے جب تک اللہ اور اس کے رسول پہ ایمان نہ لے آئے۔تو اس حدیث سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس شخص کے ایمان کی کوئی گواہی نہیں ہے کیونکہ صحابی اسے اپنی جماعت سے نہیں مان رہے اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایاکہ ایک آدمی زندگی بھر بظاہر اہل جنت کے سے کام کرتا ہے حالانکہ وہ اہل دوزخ میں سے ہوتا ہے اور ایک آدمی بظاہر اہل دوزخ کے کام کرتا ہے حالانکہ وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے۔یعنی حالت کفر میں ایک شخص زندگی بھر نیک اعمال کرتا ہے لیکن وہ تمام اعمال اس کے کسی کام کے نہیں ہوتے جبکہ ایک شخص حالت کفر میں تمام عمر اللہ کی نافرمانیاں ہی کرتا ہے لیکن موت سے پہلے اللہ اس کو ہدایت دے دیتا ہے اور وہ جنت میں چلا جاتا ہے۔
تیسری دلیل۔روایت میں ہےسہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے متعلق کہا کہ آج جتنی سرگرمی کے ساتھ فلاں شخص لڑا ہے، ہم میں سےکوئی بھی اس طرح نہ لڑ سکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ لیکن وہ شخص دوزخی ہے۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے (اپنے دل میں کہا اچھا میں اس کو پیچھا کروں گا (دیکھوں) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوزخی کیوں فرمایا ہے) بیان کیا کہ وہ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے دن لڑائی میں موجود رہا، جب وہ کھڑا ہوتا تو یہ بھی کھڑا ہو جاتا اور جب وہ تیز چلتا، تو یہ بھی اس کے ساتھ تیز چلتا۔ بیان کیا کہ آخر وہ شخص زخمی ہوگیا اور زخم بڑا گہرا تھا۔ اس لئے اس نے چاہا کہ موت جلدی آجائے اور اپنی تلوار کا پھل زمیں پر رکھ کر اس کی دھار کو سینے کے مقابلے میں کر لیا اور تلوار پر گِر کراپنی جان دے دی۔
اس سے کچھ سوال پیدا ہوتے ہیں کہ اگر وہ مسلمان تھا تو کیا اللہ کے رسول ﷺنے اپنے صحابی کے بارے فرمایا کہ وہ دوزخی ہے؟یا اگر وہ صحابی تھا تو اللہ کے رسول ﷺ کو پہلے ہی وحی کے ذریعے خبر کر دی گئی تھی کہ وہ جہنمی ہے پھر بھی آپ ﷺ نے اسے نہیں بتایا کہ وہ اپنا عمل بہتر کر لیتا؟جو بات اللہ کے رسول ﷺ نے فرمائی باقی سب صحابہ کو معلوم پڑ گئی صرف اسی کو کیوں نہ معلوم ہوئی؟یہ تمام سوالات کا جواب ایک ہی ہے کہ وہ شخص مسلمان تھا ہی نہیں اور مسلمانوں کے ساتھ صرف حلیف بن کر آنیوالے قبیلوں میں سے کوئی فرد تھا۔اب آخری بات جو رہ جاتی ہے وہ یہ ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ ایساشخص جو میدان قتال میں ہو اور ایمان والا بھی ہو اور اللہ کے رسول ﷺ کا صحابی بھی ہو شہادت کا جذبہ لیکر میدان میں بھی آیاہولیکن زخمی ہو جانے کےبعد خود کو یوں مار لے اور اپنا ایمان ضائع کر لے؟ اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ اب تو یقیناََوہ شخص ہرگز مسلمانوں کی جماعت سے نہیں تھا اسی لئے اس نے اپنے زخم کی تکلیف سے نجات پانے کیلئے خود سوزی کر لی،جبکہ احادیث کے مطابق شہید کو شہادت کے وقت اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی انسان کو کانٹاچبھنے کی۔
ان تمام دلائل کو مد نظر رکھتے ہوئے جو سمجھ آتی ہے وہ یہ ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ جو اپنی صحیح میں باب لائے ہیں باب لا يقول فلان شهيد قال أبو هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم الله أعلم بمن يجاهد في سبيله والله أعلم بمنيكلم في سبيله ۔
باب قطعی طور پر یہ نہ کہا جائے کہ فلاں شخص شہید ہے (کیونکہ نیت اور خاتمہ کا حال معلوم نہیں ہے) اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے میں جہاد کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے میں زخمی ہوتا ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ کسی بھی ہر ایرےغیرے شخص کو یونہی شہید نہی کہا جاسکتااگرچہ وہ میدان جنگ میں ہی قتل کیو ں نہ ہوا ہوجب تک اس کے ایمان کی تصدیق نہ ہو جائے۔کیونکہ تب منافقین بھی اپنے آپ کو ایمان والے ثابت کرنے کیلئے میدان میں چلے جایا کرتے تھے اور لڑتے نہ تھے اسی طرح جو حلیف بن کر چلے جاتےوہ لڑتے تو تھے لیکن ان کا ایمان ثابت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں شہید نہ کہنے کا رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا۔اب اس سے یہ مسئلہ لیا جائے کہ کسی مسلمان موحد کو بھی اللہ کی راہ میں بے غرض لڑ کر مرنے کے باوجود شہید نہیں کہہ سکتے تو یہ عقیدہ ہی باطل ہے ایسا نہ تو اللہ کے رسول ﷺ سے ثابت ہے اور نہ اللہ تعالی نے ہی حکم فرمایا ہے۔اسی طرح مولانا داوود راز نے بھی اس حدیث کی تشریح میں فرمایاحضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی طرف اشارہ کیا جس کو حضرت امام احمد نے نکالا کہ تم اپنی جنگوں میں کہتے ہو کہ فلاں شہید ہوا ایسا نہ کہو۔ یوں کہو جو خدا کی راہ میں مرے وہ شہید ہے۔ یعنی میدان جنگ میں جس کا ایمان ہی ثابت نہ ہو اسے شہید نہ کہواور جس کا ایمان بظاہر مکمل ہو اور وہ بےغرض اللہ کے دین کو سر بلند کرنے کی خاطر لڑتے ہوئے قتل کر دیا جائے تووہ شہید ہے،باقی اس کا ہر معاملہ اللہ کی ذات کے ساتھ ہے جبکہ ہمارے لئے اللہ کا بھی واضح حکم یہ ہے کہ ایسے شخص کو مردہ نہ کہا جائے بلکہ اس کے بارے ایسا گمان بھی نہ رکھا جائے۔
اسی طرح ایک سوال باقی ہےجو بار باردہرایا جاتا ہے کہ جو شخص کسی کو شہید کہتا ہے وہ گویااپنی طرف سے گارنٹی یا خبر دیتا ہے کہ شہیدہونے والا سیدھا جنت میں ہی جائے گااس لئے قطعی طور پر شہید کہنا حرام ہے بلکہ ایسا کہنے والا غیب کی خبر دیتا ہے اور اللہ سے بغاوت و شرک کرتا ہے سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایسا کہنے والا غیب کی خبر دیتا ہے اور اپنی طرف سے شہید کو جنت کی ضمانت دیتا ہے اور کیا واقعی ہر شہید جنتی ہے؟
ایسا عقیدہ رکھنا ہی غلط ہے پہلی بات کہ جنت، رحمت کے ساتھ ہے کیونکہ رحمت کے بنا کوئی عمل قابل قبول نہیں اور یہ شرط انبیا کیلئے بھی ہے اس لئے اس کا یہاں ذکر کرنا غلط ہے، بات ہو رہی ہے شہید کی کہ کیا شہید بھی انبیا ہی کی طرح سیدھا جنت میں چلا جائیگا؟ہم خود سے کچھ کہیں گے تو ممکن ہے کوئی فتویآجائے آئیے دیکھتے ہیں اللہ کے رسول ﷺ بھی اس چیز کی ضمانت دیتے ہیں کہ شہید سیدھا جنت میں ہی جائیگا اور ایسا کہنے والا منکر یا مشرک ہے یا غیب کی خبر دینے والا؟
حدثنا زکريا بن يحيی بن صالح المصري حدثنا المفضل يعني ابن فضالة عن عياش وهو ابن عباس القتباني عن عبد الله بن يزيد أبي عبد الرحمن الحبلي عن عبد الله بن عمرو بن العاص أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال يغفر للشهيد کل ذنب إلا الدين۔متفق علیہ ۔صحیح مسلم:جلد سوم :امارت اور خلافت کا بیان :
زکریا بن یحیی بن صالح مصری، ابن فضالہ، ابن عباس قتبانی، عبداللہ بن یزید، ابی عبدالرحمن حبلی، حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ارشاد فرمایا شہید سے سوائے قرض کے سب گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔
یعنی شخص شہید تو ہو گیا اللہ نے شہادت بھی قبول فرما لی لیکن اللہ قرض معاف نہیں فرماتے،اب اگر اس کے لواحقین شہید کی طرف سے قرض ادا کر دیں تو ممکن ہے اللہ اسے معاف فرما دے لیکن اگر اس کے پچھلے اس کا قرض نہ چکائیں تو اللہ کی مرضی ہے اس شہید کے ساتھ کیا معاملہ کرے عذاب دے یا معاف فرمائے یا اس کے درجات میں کمی کرے۔لیکن اس سب کے باوجود جو بات دیکھنے کی ہے کہ ابھی شہید جنت میں بھی نہیں جارہا یعنی اس کا گناہ ابھی اس کے سر ہے سزاءو جزا کافیصلہ نہیں ہوا لیکن اللہ کے رسولﷺ اسے شہید ہی فرما رہے ہیں اور یہ بات قیامت تک آنیوالے انسانوں کیلئے بھی ویسے ہی ہے جیسے رسول اکرم ﷺ کے دور مبارک میں تھی۔اگر کوئی ایسا سمجھے کہ شہید کہنا گویا سیدھا جنت کا ٹکٹ دینے کے ہی مترادف ہے تو وہ اس حدیث کی روشنی میں اپنی اصلاح کرے کہ اللہ کے رسول ﷺ ایسے شخص کو شہید ہی فرما رہے ہیں جس کے بارے ابھی فیصلہ ہی نہیں ہوا اور ابھی تک وہ قرض جیسے گناہ میں معتوب ہے۔
فقط قرآن و سنت کی اس مدلل اور قابل توجہ بحث سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ میدان قتال میں آپکی طرف اگر ایسے لوگ شریک ہیں جن کے ایمان کا ہی معلوم نہیں یا وہ عقیدے کے لحاظ سے مشرک ہیں اور عملی طور پر بھی مکمل نہیں ہیں تو ایسے لوگوں کو شہید کہنے سے گریز کرنا چاہئے اور ان شاءاللہ کے لفظ کے ساتھ شہید کہا جاسکتا ہے کہ اللہ چاہے تو اس کی شہادت کو قبول فرما لےاسیطرح ایسے لوگ جو شہید ہونے کی دوسی بتائی گئی عالمات کے مطابق وفات پا جائیں جو اللہ کے رسول ﷺ نے میدان جہاد کے علاوہ وفات شدگان کے متعلق فرمائی ہیں توایسے لوگوں کے متعلق بھی گمان رکھنا چاہئے کہ اللہ ان کو شہید کا درجہ دے اور شہید ان شاءاللہ بھی کہا جاسکتا ہے لیکن اس کے برعکساگر کوئی شخص واقعی صحیح العقیدہ ہو اور قرآن و سنت پہ عمل پیرا ہو او روہ میدان جہاد میں کسی بھی طرح مارا جائے یا قتل کردیا جائے یا اسے طبعی موت آجائے تو اسے ہم قطعی شہید ہی کہیں گے اس کی شہادت کے بارے تذبذب کا شکار ہونا گویا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرامین کا انکار کرنے کے مترادف ہے۔ممکن
ہے علماء کرام میرے اس مئوقف کے بارے شدید تنقید کریں اور سابقہ علماءمحدثین کے اقوال نقل کریں لیکن ہمارا عقیدہ ہے کہ جہا ں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات آجائے وہاں تمام دنیا کے علمائو مفتیاں کے اقول و فتوی جات باطل ہوجاتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسولﷺ کا حکم ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔وما توفیقی الا باللہ
انسان کی فطرت میں رب العلمین نے میلان رکھا ہے کہ اسے جو چیز یا بات اچھی لگتی ہے اسی کی طرف مائل ہو جاتا ہےانتہا یہاں تک ہوتی ہے کہ اپنے نظریات کی خاطر جان تک کی بازی لگانے کو تیار ہوجاتا ہے اسی فطری عادت نے دنیا میں جب بھی جہاں بھی کسی نے اپنے نظریات کا دعوی کیا اسے اس کے پیروکار اور متبع مل ہی گئے یوں انسانوں میں ملتیں اور ملتوں میں فرقے بنتے چلے گئے۔ طلوع اسلام کے بعد تمام ادیان اور ملتیں ایک ہی دین اور ملت میں تبدیل ہوگئیں کہ خالق کل نے فرما دیا۔
ان الدین عنداللہ الاسلام کہ بے شک اللہ کے نزدیک (پسندیدہ)دین اسلام ہی ہے۔
لیکن سابقہ سوچوں کے حامل افراد نے پھر اس اللہ کے پسند کردہ دین میں اپنی سوچ اور نظریات کو داخل کرنا شروع کر دیاجس سے دین اسلام میں بھی تفرقات کا آغاز ہوگیا۔طرح طرح کےباطل فرقوں کا ظہور ہوا فتنے بڑھتے چلے گئے کسی نے قرآن کا انکار کیا تو کسی نے حدیث کا کسی نے زکوۃ کا تو کسی نے نماز کا کسی نے جہاد کا تو کسی نے سرے سے اسلامی تعلیمات ہی کا انکار کردیا اور دین کی تعلیمات کے مقابل اپنی سوچ اور اپنی عقل کو مقدم جانا۔انہی فتنوں میں ایک نیا فتنہ جو کہ ابھی سر اٹھا ہی رہا ہے وہ ہے اللہ کی راہ میں قتل ہوجانے والے کی شہادت کا انکارکرنے والے ،جماعتی انتشار کے دلدادہ یہ ایسے متعصب لوگ ہیں جو سرےسے ہی شہید کی شہادت کو نہیں مانتے، جن کے نزدیک شہید کا درجہ صرف ان لوگوں کیلئے ہے جواوائل اسلام میں شہید ہوئے اور اللہ نے اپنےپیغمبر کے ذریعے انکی شہادت کی توثیق کردی بعد میں جو بھی اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے اسے ہم قطعی طور پر شہید نہیں کہ سکتے، دلیل لائے ہیں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں باب باندھا ہے۔
باب لا يقول فلان شهيد قال أبو هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم الله أعلم بمن يجاهد في سبيله والله أعلم بمنيكلم في سبيله ۔
باب قطعی طور پر یہ نہ کہا جائے کہ فلاں شخص شہید ہے (کیونکہ نیت اور خاتمہ کا حال معلوم نہیں ہے) اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے میں جہاد کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے میں زخمی ہوتا ہے۔
اس حدیث سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے اللہ کی راہ میں قتل ہو جانے والے ہرمقتول کو ہی شہید کہنے سے منع فرمادیا ہے۔(جس پہ ان شاءاللہ ہم قرآن و حدیث سے دلائل کی روشنی میں سیر حاصل بحث کریں گے)
جبکہ اس حدیث کے معانی کو بغیر سوچے سمجھے اپنے مقصد کیلئے استعما ل کیا جارہا ہے کیونکہ اگر دوسری طرف اللہ کے فرمان کو دیکھیں تو معلوم پڑتا ہے کہ اللہ کی راہ میں قتل ہوجانے والے کسی بھی معین یا غیر معین مقتول کو کو مردہ نہ کہا جائے۔
وَلَا تَـقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ ۭ بَلْ اَحْيَاءٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ ۔البقرہ
اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مرا ہوا نہ کہا کرو بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم نہیں سمجھتے۔
دوسری جگہ پہ فرمان باری تعالی ہے۔
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا ۭ بَلْ اَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْن۔ال عمران
جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ان کو ہرگز مردہ نہ سمجھیں، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس روزیاں دیئے جاتے ہیں ۔
اللہ تعالی کے فرامین واضح اور مکمل ہیں جنہیں کسی بھی طور تاویل کی ضرورت نہیں ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ اللہ کا فرمان یہ ہے کہ میری راہ میں قتل ہوجانے والے کسی بھی مقتول کو مردہ نہ کہا جائے لیکن جو باب امام بخاری لائے ہیں اس کے مطابق شہید کو شہید نہ کہا جائے،یہاں معاملہ ایسا ہے کہ اللہ کی راہ میں اپنی جان سپرد کرنے والا اپنی ہی موت سے بے خبر ہے کہ وہ اگر جان دینے جا رہا ہے تو اس کا کٹ مرنا موت ہے یا شہادت؟؟؟۔(ابھی سےیہ نہ سمجھاجائے کہ ہم فہم بخاری پہ جرح کر رہے ہیں جبکہ ہم اسی کو واضح کرنا چاہتے ہیں کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا یہ باب لانے کا مقصد کیا ہے )
شہید کو شہید نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟
اس روایت سے قطعا یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ جو شخص خالصتاََ اللہ کی راہ میں جہاد کیلئے نکلے اور اسےقتل کر دیا جائےتو اس کو شہید نہ کہا جائے۔
سب سے پہلے دیکھنا چاہئے کہ کیا ایسی روایات ہیں جن میں خود اللہ کے رسولﷺ نے کسی کی موت کو شہادت قرار دیا ہو؟ اس کے بعد دیکھیں گے کہ کیا ایسے لوگ بھی مقتول ہوئے جن کے بارے فرما دیا گیا کہ وہ میدان جہاد میں قتل ہونے کے باوجودشہید نہیں بلکہ جہنمی ہیں۔، اس کےبعد دیکھیں گے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ باب باندھا ہے تو اس باب باندھنے سے کیا مراد ہے؟اور مضمون کے آخر میں ہم ذکر کریں گے کہ کیا ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کی راہ میں مخلص ہو کر لڑے اور آخر تک ایمان بھی قائم رہا اور اللہ نے ان کی شہادت بھی قبول کر لی اللہ کے رسول ﷺ نے بھی ان کو شہید قرار دے دیا لیکن پھر بھی اللہ ان کے گناہوں کو نہیں بخشتا۔
اگرچہ صحاح ستہ میں کثرت سے ایسی روایات موجود ہیں لیکن ہم اختصار کیلئے صرف صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے چار روایات لیں گےجن میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کے فلاں فلاں قسم کے لوگ شہید ہیں۔
حدیث نمبر 1۔
حدثنا عبد الله بن يوسف أخبرنا مالک عن سمي عن أبي صالح عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال الشهدائ خمسة المطعون والمبطون والغرق وصاحب الهدم والشهيد في سبيل اللہ۔متفق علیہ، صحیح بخاری:جلد دوم(جہاد اور سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )
ترجمہ۔
عبداللہ بن یوسف، مالک، سمی ابوصالح، ابوہریرہ سے روایت کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ شہید پانچ قسم کے ہوتے ہیں وہ جو طاعون کے مرض سے مرجاءے، وہ جو پیٹ کے مرض سے مر جائے، وہ جو ڈوب کر جان بحق ہو، اور وہ جو دیوار کے گرنے سے مر جائے، اور وہ جو اس کی راہ میں اس طرح شہید ہو کہ اپنی جگہ پہنچ کر جان دے یا میدان جنگ میں پہنچ کر واصل بحق ہو۔
حدیث نمبر 2۔
حدثنا عبد الله بن يزيد حدثنا سعيد هو ابن أبي أيوب قال حدثني أبو الأسود عن عکرمة عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال سمعت النبي صلی الله عليه وسلم يقول من قتل دون ماله فهو شہید۔متفق علیہ ۔صحیح بخاری:جلد اول(اس شخص کا بیان جو اپنے مال کی حفاظت کے لیے جنگ کرے۔)
ترجمہ۔
عبداللہ بن یزید، سعید بن ابی ایوب، ابوالاسود عکرمہ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا، کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں قتل کیا جائے وہ شہید ہے۔
حدیث نمبر 3۔
حدثنا شيبان بن فروخ حدثنا حماد بن سلمة حدثنا ثابت عن أنس بن مالک قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم من طلب الشهادة صادقا أعطيها ولو لم تصبه۔متفق علیہ ۔صحیح مسلم:جلد سوم:(امارت اور خلافت کا بیان )
شیبان بن فروخ، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے صدق دل سے شہادت طلب کی اسے شہادت کا رتبہ دے دیا جاتا ہے اگرچہ وہ شہید نہ بھی ہو۔
حدیث نمبر 4۔
و حدثني زهير بن حرب حدثنا جرير عن سهيل عن أبيه عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم ما تعدون الشهيد فيکم قالوا يا رسول الله من قتل في سبيل الله فهو شهيد قال إن شهدا أمتي إذا لقليل قالوا فمن هم يا رسول الله قال من قتل في سبيل الله فهو شهيد ومن مات في سبيل الله فهو شهيد ومن مات في الطاعون فهو شهيد ومن مات في البطن فهو شهيد قال ابن مقسم أشهد علی أبيک في هذا الحديث أنه قال والغريقشہید۔ متفق علیہ۔صحیح مسلم:جلد سوم(امارت اور خلافت کا بیان )
ترجمہ۔ زہیر بن حرب، جریر، سہیل، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے سے شہید کسے شمار کرتے ہو صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول جو اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے وہ شہید ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسی صورت میں تو میری امت کے شہید کم ہوں گے صحابہ نے عرض کیا پھر وہ کون ہوں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اللہ کے راستہ میں قتل کیا گیا وہ شہید ہے اور جو اللہ کے راستہ میں مر گیا وہ بھی شہید ہے اور جو طاعون میں مرا وہ بھی شہید ہے اور جو پیٹ کی بیماری میں مر گیا وہ بھی شہید ہے ابن مقسم نے اس حدیث میں یہ بھی کہا ڈوب کر مر جانے والا بھی شہید ہے۔
جیسا کہ ہم نے بیان کیا کہ احادیث میں ایسے لوگوں کے متعلق بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیںلیکن ہم نے صرف چار احادیث کا ذکر کیا ہے جو متفق علیہ ہیں،ان روایات میں اللہ کے رسول ﷺ نے مختلف قسم کی اموات کو شہید کا درجہ دیا جبکہ ایک مومن مسلم کا ایمان ہونا چاہئے کہ جو اللہ کے رسولﷺ فرما دیں وہی حق ہے اور اللہ تعالی کی رضابھی اسی میں ہے،لیکن ان روایات کے پیش نظر ہم کسی کو قطعی یہ نہیں کہہ سکتے یہ شخص واقعی شہادت کے مقام پہ ہی فائز ہوگا کیونکہ نہ تو اس کے عقیدے کا علم ہے اور نہ اعمال کا،ہر نتیجہ عمل مانگتا ہے اور جنتی ہونے کیلئے سب سے پہلے عقیدے کا درست ہونا بے حد ضروری ہے اور پھر باقی فرائض کو انجام دینا دینی امور کا حصہ ہے۔اگر ان علامات میں وفات پانے والے شخص کا عقیدہ درست ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا عمل بھی عین قرآن و سنت کے مطابق ہو گا تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ممکن ہے اسے اللہ شہادت کا اجر عطا فرما دیںاور اسے ان شاءاللہ شہید کہہ سکتے ہیں کیونکہ یہ شخص اس علامت پہ فوت ہوا ہے جن کی بشارت رسول اکرم ﷺ نے خود فرمائی ہے کہ میری امت کے ایسے فوت ہونے والے بھی شہید ہیں،لیکن ان کا معاملہ قطعی اللہ کی ذات کے ساتھ ہے ان کے دنیاوی اعمال کا بھی اور اخروی جزا کا بھی کیونکہ ان کی قطعیت کی وضاحت اللہ تعالی نے اپنی کلام میں نہیں فرمائی اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ نے فرمائی اس لئے ایسے وفات پاجانے والوں کو مردہ بھی کہہ سکتے ہیں ۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں علامات کے حامل لوگوں میں سے ایک شخص کی موت ہے کہ جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے قتل کر دیا جائے اس کے بارے اللہ تعالی نے سختی کے ساتھ وضاحت فرما دی کہ خبردار ایسا شخص جو میری راہ میں لڑتے ہوئے مارا جائے اسے مردہ نہ کہنا اور نہ ایسا گمان ہی کرنا ،یعنی ایسا سوچنے سے بھی منع فرما دیا۔فرمان باری تعالی
وَلَا تَـقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ ۭ بَلْ اَحْيَاءٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ ۔البقرہ
اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مرا ہوا نہ کہا کرو بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم نہیں سمجھتے۔
دوسری جگہ پہ فرمان باری تعالی ہے۔
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا ۭ بَلْ اَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْن۔ال عمران
جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ان کو ہرگز مردہ نہ سمجھیں، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس روزیاں دیئے جاتے ہیں ۔
ان واضح فرامین کو قران وسنت کی نظر سے دیکھا جائے توایمان کی حالت میں عقیدہ توحید کے ساتھ عمل بھی کامل ہو اور خالصتاََ اللہ کی راہ میں قتل ہو جانے والے کی شہادت کے بارے تذبذب کا شکار ہونا گویا ایسا ہی ہے کہ اللہ کی بات کایقین نہ کرنا اور اس بات میں شک (تحسبن)کرناکہ جانے وہ شہید ہوا یا قتل ہوا جبکہ اللہ کا فرمان لاریب اور ہر شک و شبہ سے بالا تر ہے۔ان تمام روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے حقیقت یہی واضح ہوتی ہے کہ ہر شہید کو شہید نہیں کہا جاسکتا بلکہ شہید ان شاءاللہ کے ساتھ کہیں گے لیکن جو اللہ کی راہ میں لڑتا ہوا میدان جنگ میں قتل کر دیا جائے یا اس راہ میں کسی طرح بھی وفات پا جائے اسے ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺکے فیصلہ کے مطابق دنیا میں قطعی شہادت کا ہی درجہ دیں گے کہ یہ ہمارے لئے حکم ہے لیکن آخرت کا معاملہ اس کا بھی اللہ ہی کی ذات کے ساتھ ہے۔اس کے بارے صحاح ستہ میں سے ابو داوود،کتاب الجہاد کی یہ روایت بھی مد نظر رکھنی چاہئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔
حدثنا عبد الوهاب بن نجدة حدثنا بقية بن الوليد عن ابن ثوبان عن أبيه يرد إلی مکحول إلی عبد الرحمن بن غنم الأشعري أن أبا مالک الأشعري قال سمعت رسول الله صلی الله عليه وسلم يقول من فصل في سبيل الله فمات أو قتل فهو شهيد أو وقصه فرسه أو بعيره أو لدغته هامة أو مات علی فراشه أو بأي حتف شا الله فإنه شهيد وإن له الجنۃ۔سنن ابوداؤد:جلد دوم:کتاب الجہاد
عبدالوہاب بن نجدہ، بقیہ بن ولید، بن ثوبان، حضرت ابومالک اشعری سے روایت ہے کہ میں نے سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے۔ جو شخص راہ خدا میں جہاد کی غرض سے نکلا اور وہ مر گیا یا مارا گیا تو ہر دو صورت میں وہ شہید ہے یا اس کے گھوڑے یا اونٹ نے اس کو کچل ڈالا یا کسی زہریلے جانور نے اس کو کاٹ لیا یا اپنے بستر پر (طبعی) موت مرا یا کسی اور طریقہ سے جو اللہ نے چاہا مر گیا تو ہرصورت میں وہ شہید ہے اور اس کے لئے جنت ہے۔
یہ روایت شہید کی شہادت کی قطعیت پہ دلالت کرتی ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے اور اعلائے کلمۃ اللہ بلند کرنے کی غر ض سے نکلا اوراسی راہ میں واپس لوٹنے سے پہلے وہ کسی بھی طرح مارا گیا یا وہ اپنی طبعی موت بھی مرا فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فإنه شهيد وإن له الجنۃ کہ اس کی شہادت میں اور جنت میں جانے کا کوئی شک ہی نہیں ہے کیونکہ وہ توقطعی شہید ہے۔ہمارا یہ عقیدہ اکثر لوگوں پہ شاک گزرے گا کہا جائے گاکہ ایسا تو تاریخ میں کسی نے نہیں کہانہ کسی محدث نے نہ کسی عالم نے اور نہ ہی کسی فقیہہ نے ان کے لئے عرض ہے کہ ایسا فتنہ بھی پہلے کبھی پیدا نہیں ہوا کہ اس امرکی تصریح کی ضرورت پیش آتی ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ایک خبر ہوگئی کہ جو شخص کہے کہ شہید قطعی شہید ہے اورساتھ ان شاءاللہ نہ کہے تو کیا اس نے غیب سے خبر دی؟
ہر گز نہیں کیاجو اللہ اور اس کے رسول ﷺ فرما دیں وہ غیب کی خبر ہوتی ہے؟ جبکہ واضح آیات جو کہ حکماََ بھی ہیں جو اللہ کی راہ میں قتل ہوجانے والے کی شہادت کی قطعی دلالت کرتی ہیں اور ابو داوودکی روایت بھی شہید کی شہادت کیلئے قطعیت پہ دلیل ہے۔اس میں شک کی کوئی گنجائیش نہیں ہے۔
اب ہم دو ایسی صحیح احادیث دیکھیں گے جن میں لوگ مسلمانوں کے لشکروں میں جہاد کرتے ہوئے قتل تو ہوئے لیکن اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایاکہ انہیں میں نے کسی عمل کی وجہ سے جہنم میں دیکھا ہے۔
حدیث 1
۔حدثني زهير بن حرب حدثنا هاشم بن القاسم حدثنا عکرمة بن عمار قال حدثني سماک الحنفي أبو زميل قال حدثني عبد الله بن عباس قال حدثني عمر بن الخطاب قال لما کان يوم خيبر أقبل نفر من صحابة النبي صلی الله عليه وسلم فقالوا فلان شهيد فلان شهيد حتی مروا علی رجل فقالوا فلان شهيد فقال رسول الله صلی الله عليه وسلم کلا إني رأيته في النار في بردة غلها أو عباة ثم قال رسول الله صلی الله عليه وسلم يا ابن الخطاب اذهب فناد في الناس أنه لا يدخل الجنة إلا المؤمنون قال فخرجت فناديت ألا إنه لا يدخل الجنة إلا المؤمنون۔متفق علیہ۔صحیح مسلم:جلد اول:باب ۔مال غنیمت میں خیانت کی سخت حرمت اور اس بات کے بیان میں کہ جنت میں صرف مومن داخل ہوں گے ۔
ترجمہ حدیث۔ زہیر بن حرب، ہاشم بن قاسم، عکرمہ بن عمار، سماک، ابوزمیل حنفی، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، غزوہ خیبر میں چند صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ فلاں آدمی شہید ہے یہاں تک کہ ایک آدمی پر گزر ہوا تو اس کے متعلق بھی کہنے لگے کہ فلاں شہید ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے چادر یا عباء کی چوری کی وجہ سے اس کو جہنم میں دیکھا ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ابن خطاب جاؤ اور لوگوں میں آواز لگا دو کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نکل کر لوگوں میں یہ آواز لگادی کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے۔
اس باب میں دو احادیث ملتی ہیں جو کہ اسی بارے ہیںامام نووی نے فرمایا کہ ان سے یہ مسائل اخذ ہوتے ہیں۔
1۔مال غنیمت میں سے چوری مال رکھنا سخت حرام ہے۔
2۔مال غنیمت میں سے تھوڑی یا زیادہ مال کی چوری ایک برابر ہے وہ چاہے ایک تسمہ ہو یا چادر۔
3۔جس نے غلول کیا اسے شہید نہ کہیں گے۔
4۔جو کفر پر مرے وہ جنت میں نہیں جائیگا۔جس پہ تمام امت مسلمہ کا اجماع ہے۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ جو مال غنیمت میں سے کچھ چرائے وہ سیدھا جنت میں نہیں جائیگااگرچہ وہ میدان جنگ ہی میں مارا گیا ہو بلکہ وہ اپنے اس عمل کا حساب دیکر ہی جنت میں جائیگا جیسا کہ دوسری متعدد احادیث میں مروی ہے کہ کلمہ گو جس نے شرک نہ کیاہو آخر جنت میں ہی جائیگا۔جبکہ اس حدیث سے یہ قطعی ثابت نہیں ہوتا کہ جو اللہ کی راہ میں مخلص ہو کر لڑا اور قتل کر دیا گیا وہ جنت میں نہیں جائیگا کیونکہ باقی لوگ جو جنگ خیبر میں شہید ہوئے اللہ کے رسول ﷺ نے کسی پہ بھی تبصرہ نہیں کیااور خاموشی اختیار کی، جب کہ اس شخص کی غلطی بھی اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر کے ذریعے اسلئے بتائی کہ مال غنیمت کے مال کی حرمت کا احساس دلانا مقصود تھا نہ کہ اس سے یہ دلیل لی جائے کہ اس بنا پہ اللہ کی راہ میں قتل ہوجانے والے کسی بھی مقتول کو شہید نہ کہا جائے۔ہاں اگر یہ بات شہید کی شہادت کے بعد ثابت ہوجائے کہ اس نے مال غنیمت سے کچھ چرایاتھا تو ہمیں اس بات کی اجازت ہے کہ ہم کہیں کہ وہ شہید نہیں ہوا کیونکہ حدیث سے یہ بات ثابت ہے کہ جس نے غلول کیا اسے شہید نہ کہیں گےبلکہ اس کی مغفرت کی دعا کریں ۔
چوتھی بات یہ ہے کہ جو کفر پر مرے وہ جنت میں نہیں جائیگا۔یہاں اس بات کو سمجھنا ازحد ضروری ہے کہ اس بات کا اعلان کرنے حضرت نبی کریمﷺ نے حضرت عمر"رضی اللہ عنہ کو بھیجا،یہ ایک الگ بات ہے اس پہلی بات سے جو اس مقتول کے متعلق کہی گئی جس نے چادر چرائی تھی۔کیونکہ چوری کرنے سے انسان کافر نہیں ہوتامسلمان ہی رہتا ہے کیونکہ اس کے متعلق بہت ساری صحیح روایات موجود ہیں جن کا حوالہ یہ ہے۔صحیح بخاری:جلد اول۔ جنازوں کا بیان۔صحیح بخاری:جلد دوم۔ مخلوقات کی ابتداء کا بیان۔صحیح بخاری:جلد سوم۔لباس کا بیان
یہاں صرف صحیح بخاری سے حوالے دئے گئے ہیں جبکہ اسی طرح مکررات میں مسلم ابو داوود ترمذی ابن ماجہ میں بھی بہت سی روایات ہیں جن سے قطعی ثابت ہے کہ چوری کرنے والا انسان کافر نہیں ہوتا بلکہ اپنی سزا پا کر جنت میں جائیگایااپنے کسی ایسے عمل کی وجہ سےجو اللہ کو پسند آجائے
معاف کر دیا جائے گا۔اوربے شک کافر کیلئے جنت نہیں ہے جنت صرف مومنین کیلئے ہے۔
دوسری حدیث۔
حدثنا قتيبة حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن عن أبي حازم عن سهل بن سعد الساعدي رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم التقى هو والمشركون فاقتتلوا فلما مال رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى عسكره ومال الآخرون إلى عسكرهم وفي أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم رجل لا يدع لهم شاذة ولا فاذة إلا اتبعها يضربها بسيفه فقال ما أجزأ منا اليوم أحد كما - أجزأ فلان فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أما إنه من أهل النار فقال رجل من القوم أنا صاحبه قال فخرج معه كلما وقف وقف معه وإذا أسرع أسرع معه قال فجرح الرجل جرحا شديدا فاستعجل الموت فوضع نصل سيفه بالأرض وذبابه بين ثدييه ثم تحامل على سيفه فقتل نفسه فخرج الرجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أشهد أنك رسول الله قال وما ذاك قال الرجل الذي ذكرت آنفا أنه من أهل النار فأعظم الناس ذلك فقلت أنا لكم به فخرجت في طلبه ثم جرح جرحا شديدا فاستعجل الموت فوضع نصل سيفه في الأرض وذبابه بين ثدييه ثم تحامل عليه فقتل نفسه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك إن الرجل ليعمل عمل أهل الجنة فيما يبدو للناس وهو من أهل النار وإن الرجل ليعمل عمل أهل النار فيما يبدو للناس وهو من أهل الجنة ۔صحیح بخاری ،باب لا يقول فلان شهيد
■ترجمہ حدیث ۔ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (اپنے اصحاب کے ہمراہ احد یا خیبر کی لڑائی میں) مشرکین سے مڈ بھیڑ ہوئی اور جنگ چھڑ گئی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اس دن لڑائی سے فارغ ہو کر) اپنے پڑاؤ کی طرف واپس ہوئے اور مشرکین اپنے پڑاؤ کی طرف تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فوج کے ساتھ ایک شخص تھا، لڑائی لڑنے میں اس کا یہ حال تھا کہ مشرکین کا کوئی آدمی بھی اگر کسی طرف نظر پڑ جاتا تو اس کا پیچھا کر کے وہ شخص اپنی تلوار سے اسے قتل کر دیتا۔ سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے متعلق کہا کہ آج جتنی سرگرمی کے ساتھ فلاں شخص لڑا ہے، ہم میں کے کوئی بھی اس طرح نہ لڑ سکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ لیکن وہ شخص دوزخی ہے۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے (اپنے دل میں کہا اچھا میں اس کو پیچھا کروں گا (دیکھوں) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوزخی کیوں فرمایا ہے) بیان کیا کہ وہ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے دن لڑائی میں موجود رہا، جب وہ کھڑا ہوتا تو یہ بھی کھڑا ہو جاتا اور جب وہ تیز چلتا، تو یہ بھی اس کے ساتھ تیز چلتا۔ بیان کیا کہ آخر وہ شخص زخمی ہوگیا اور زخم بڑا گہرا تھا۔ اس لئے اس نے چاہا کہ موت جلدی آجائے اور اپنی تلوار کا پھل زمیں پر رکھ کر اس کی دھار کو سینے کے مقابلے میں کر لیا اور تلوار پر گِر کا اپنی جان دے دی۔ اب وہ صاحب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہوئی؟ انہوں نے بیان کیا کہ وہی شخص جس کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ وہ دوزخی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر یہ آپ کا فرمان بڑا شاق گزرا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ تم سب لوگوں کی طرف سے میں اس کے متعلق تحقیق کرتا ہوں۔ چنانچہ اس کے پیچھے ہو لیا۔ اس کے بعد وہ شخص سخت زخمی ہوا اور چاہا کہ جلدی موت آجائے۔ اس لئے اس نے اپنی تلوار کا پھل زمین پر رکھ کر اس کی دھار کو اپنے سینے کے مقابل کر لیا ور اس پر گِر کر خود جان دے دی۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی زندگی بھر بظاہر اہل جنت کے سے کام کرتا ہے حالانکہ وہ اہل دوزخ میں سے ہوتا ہے اور ایک آدمی بظاہر اہل دوزخ کے کام کرتا ہے حالانکہ وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے۔
بیان کی گئی یہ وہ دوسری حدیث ہے جو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اس باب میں لائےہیں "باب لا يقول فلان شهيد " ۔مذکورہ بالا اس روایت میں موجود واقعہ اس بات کی خبر دیتا ہے کہ امام بخاری ؒ اس حدیث میں موجود واقعہ کی لڑائی پہ کنفرم نہیں ہیںکہ یہ لڑائی احد کی تھی یا خیبر کی اور نہ ہی راوی صحابی نے اس کی وضاحت فرمائی ،اس لئے ترجمہ کرنے والے مولانا داوود رازاور دیگر محدثین نے بریکٹ میں لکھا کہ اللہ کے رسول ﷺ (اپنے اصحاب کے ہمراہ احد یا خیبر کی لڑائی میں) شریک تھے،کہ ایک شخص تھا، لڑائی لڑنے میں اس کا یہ حال تھا کہ مشرکین کا کوئی آدمی بھی اگر کسی طرف نظر پڑ جاتا تو اس کا پیچھا کر کے وہ شخص اپنی تلوار سے اسے قتل کر دیتا۔
اب یہ شخص کون تھا اس کی وضاحت ہمیں کہیں نہیں ملتی بلکہ روایت ہی کے سیاق و سباق سے دیکھنا پڑیگا کہ وہ شخص کیسا تھا اور اس کا ایمان کیا تھا؟وہ صحابہ کی جماعت سے تھا یا منافق؟ایمان دار تھا یا ابھی ایمان نہیں لایا تھا؟یا وہ شخص مسلمانوں کے لشکر کے ساتھ حلیف بن کر آیا تھاجبکہ ابھی وہ حالت کفر میں ہی تھاکیونکہ غزوہ احد میں مدینہ کے ارد گرد بسنے والے بہت سے مسلمانوں کے حلیف قبائل جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے لیکن مسلمانوں ہی کی طرف سے شریک ہوئے اور بے جگری سے لڑے۔آئیے اسی حدیث کے راوی کے الفاظ پہ ہی غور کرتے ہیں کہ صحابی کیا فرماتے ہیں؟
پہلی دلیل۔سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے متعلق کہا کہ آج جتنی سرگرمی کے ساتھ فلاں شخص لڑا ہے، ہم میں سےکوئی بھی اس طرح نہ لڑ سکا۔الفاظ پہ غور کیجئےکہ حضرت سہل فرما رہے ہیں کہ ہم نے اس شخص کے متعلق کہا کہ جتنی سرگرمی کے ساتھ فلاں شخص لڑا ،ہم میں سے کوئی بھی اس کی طرح نہیں لڑ سکا،یعنی وہ صحابہ کرام کی جماعت سے نہیں تھا، ثابت ہوا کہ وہ مسلمان نہیں ہوا تھا بلکہ وہ کسی حلیف قبیلے سے تعلق رکھنے والا فرد تھاجو لڑتے ہوئے زخمی ہوا اور اس نے خود کو مارلیا۔
دوسری دلیل ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ لیکن وہ شخص دوزخی ہے۔اور حدیث کے آخری الفاظ ہیں، اس وقت آپ ﷺنے فرمایا کہ ایک آدمی زندگی بھر بظاہر اہل جنت کے سے کام کرتا ہے حالانکہ وہ اہل دوزخ میں سے ہوتا ہے اور ایک آدمی بظاہر اہل دوزخ کے کام کرتا ہے حالانکہ وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے۔اللہ کے رسول ﷺ کے ان الفاظ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ شخص قطعی مسلمان نہیں تھا بلکہ مسلمانوں کے ساتھ کفار کے مقابل لڑنے کیلئے ہی آیا تھا اس لئے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ اس کا یہ عمل بیکار ہے۔جس طرح کافر جو حالت کفر میں اچھے اعمال کرتا ہے لیکن وہ اس کے باوجود جنت میں نہیں جائیگا مختلف احادیث میں اس بات کی شہادت ملتی ہے کہ جنت میں جانے کیلئے سب سے پہلی شرط ایمان کا کامل ہونا ضروری ہے۔اسی طرح ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ سے ایک بار حاتم طائی کے متعلق پوچھا گیا جو کہ مشہور صحابی حضرت عدی رضی اللہ عنہ کے والد بھی تھےکہ وہ شخص بے حدسخی تھا، لوگ اس کی سخاوت اور نیکی کی مثالیں دیا کرتے تھےسوال کیا گیا یا رسول اللہﷺ اس کے بارے فرمائیےاللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جنت ایمان کے ساتھ مشروط ہے انسان حالت کفر میں جتنے بھی اچھے اعمال کر لے اس کے لئے کسی قسم کی نجات کا سبب نہیں بنیں گے جب تک اللہ اور اس کے رسول پہ ایمان نہ لے آئے۔تو اس حدیث سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس شخص کے ایمان کی کوئی گواہی نہیں ہے کیونکہ صحابی اسے اپنی جماعت سے نہیں مان رہے اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایاکہ ایک آدمی زندگی بھر بظاہر اہل جنت کے سے کام کرتا ہے حالانکہ وہ اہل دوزخ میں سے ہوتا ہے اور ایک آدمی بظاہر اہل دوزخ کے کام کرتا ہے حالانکہ وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے۔یعنی حالت کفر میں ایک شخص زندگی بھر نیک اعمال کرتا ہے لیکن وہ تمام اعمال اس کے کسی کام کے نہیں ہوتے جبکہ ایک شخص حالت کفر میں تمام عمر اللہ کی نافرمانیاں ہی کرتا ہے لیکن موت سے پہلے اللہ اس کو ہدایت دے دیتا ہے اور وہ جنت میں چلا جاتا ہے۔
تیسری دلیل۔روایت میں ہےسہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے متعلق کہا کہ آج جتنی سرگرمی کے ساتھ فلاں شخص لڑا ہے، ہم میں سےکوئی بھی اس طرح نہ لڑ سکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ لیکن وہ شخص دوزخی ہے۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے (اپنے دل میں کہا اچھا میں اس کو پیچھا کروں گا (دیکھوں) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوزخی کیوں فرمایا ہے) بیان کیا کہ وہ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے دن لڑائی میں موجود رہا، جب وہ کھڑا ہوتا تو یہ بھی کھڑا ہو جاتا اور جب وہ تیز چلتا، تو یہ بھی اس کے ساتھ تیز چلتا۔ بیان کیا کہ آخر وہ شخص زخمی ہوگیا اور زخم بڑا گہرا تھا۔ اس لئے اس نے چاہا کہ موت جلدی آجائے اور اپنی تلوار کا پھل زمیں پر رکھ کر اس کی دھار کو سینے کے مقابلے میں کر لیا اور تلوار پر گِر کراپنی جان دے دی۔
اس سے کچھ سوال پیدا ہوتے ہیں کہ اگر وہ مسلمان تھا تو کیا اللہ کے رسول ﷺنے اپنے صحابی کے بارے فرمایا کہ وہ دوزخی ہے؟یا اگر وہ صحابی تھا تو اللہ کے رسول ﷺ کو پہلے ہی وحی کے ذریعے خبر کر دی گئی تھی کہ وہ جہنمی ہے پھر بھی آپ ﷺ نے اسے نہیں بتایا کہ وہ اپنا عمل بہتر کر لیتا؟جو بات اللہ کے رسول ﷺ نے فرمائی باقی سب صحابہ کو معلوم پڑ گئی صرف اسی کو کیوں نہ معلوم ہوئی؟یہ تمام سوالات کا جواب ایک ہی ہے کہ وہ شخص مسلمان تھا ہی نہیں اور مسلمانوں کے ساتھ صرف حلیف بن کر آنیوالے قبیلوں میں سے کوئی فرد تھا۔اب آخری بات جو رہ جاتی ہے وہ یہ ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ ایساشخص جو میدان قتال میں ہو اور ایمان والا بھی ہو اور اللہ کے رسول ﷺ کا صحابی بھی ہو شہادت کا جذبہ لیکر میدان میں بھی آیاہولیکن زخمی ہو جانے کےبعد خود کو یوں مار لے اور اپنا ایمان ضائع کر لے؟ اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ اب تو یقیناََوہ شخص ہرگز مسلمانوں کی جماعت سے نہیں تھا اسی لئے اس نے اپنے زخم کی تکلیف سے نجات پانے کیلئے خود سوزی کر لی،جبکہ احادیث کے مطابق شہید کو شہادت کے وقت اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی انسان کو کانٹاچبھنے کی۔
ان تمام دلائل کو مد نظر رکھتے ہوئے جو سمجھ آتی ہے وہ یہ ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ جو اپنی صحیح میں باب لائے ہیں باب لا يقول فلان شهيد قال أبو هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم الله أعلم بمن يجاهد في سبيله والله أعلم بمنيكلم في سبيله ۔
باب قطعی طور پر یہ نہ کہا جائے کہ فلاں شخص شہید ہے (کیونکہ نیت اور خاتمہ کا حال معلوم نہیں ہے) اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے میں جہاد کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے میں زخمی ہوتا ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ کسی بھی ہر ایرےغیرے شخص کو یونہی شہید نہی کہا جاسکتااگرچہ وہ میدان جنگ میں ہی قتل کیو ں نہ ہوا ہوجب تک اس کے ایمان کی تصدیق نہ ہو جائے۔کیونکہ تب منافقین بھی اپنے آپ کو ایمان والے ثابت کرنے کیلئے میدان میں چلے جایا کرتے تھے اور لڑتے نہ تھے اسی طرح جو حلیف بن کر چلے جاتےوہ لڑتے تو تھے لیکن ان کا ایمان ثابت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں شہید نہ کہنے کا رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا۔اب اس سے یہ مسئلہ لیا جائے کہ کسی مسلمان موحد کو بھی اللہ کی راہ میں بے غرض لڑ کر مرنے کے باوجود شہید نہیں کہہ سکتے تو یہ عقیدہ ہی باطل ہے ایسا نہ تو اللہ کے رسول ﷺ سے ثابت ہے اور نہ اللہ تعالی نے ہی حکم فرمایا ہے۔اسی طرح مولانا داوود راز نے بھی اس حدیث کی تشریح میں فرمایاحضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی طرف اشارہ کیا جس کو حضرت امام احمد نے نکالا کہ تم اپنی جنگوں میں کہتے ہو کہ فلاں شہید ہوا ایسا نہ کہو۔ یوں کہو جو خدا کی راہ میں مرے وہ شہید ہے۔ یعنی میدان جنگ میں جس کا ایمان ہی ثابت نہ ہو اسے شہید نہ کہواور جس کا ایمان بظاہر مکمل ہو اور وہ بےغرض اللہ کے دین کو سر بلند کرنے کی خاطر لڑتے ہوئے قتل کر دیا جائے تووہ شہید ہے،باقی اس کا ہر معاملہ اللہ کی ذات کے ساتھ ہے جبکہ ہمارے لئے اللہ کا بھی واضح حکم یہ ہے کہ ایسے شخص کو مردہ نہ کہا جائے بلکہ اس کے بارے ایسا گمان بھی نہ رکھا جائے۔
اسی طرح ایک سوال باقی ہےجو بار باردہرایا جاتا ہے کہ جو شخص کسی کو شہید کہتا ہے وہ گویااپنی طرف سے گارنٹی یا خبر دیتا ہے کہ شہیدہونے والا سیدھا جنت میں ہی جائے گااس لئے قطعی طور پر شہید کہنا حرام ہے بلکہ ایسا کہنے والا غیب کی خبر دیتا ہے اور اللہ سے بغاوت و شرک کرتا ہے سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایسا کہنے والا غیب کی خبر دیتا ہے اور اپنی طرف سے شہید کو جنت کی ضمانت دیتا ہے اور کیا واقعی ہر شہید جنتی ہے؟
ایسا عقیدہ رکھنا ہی غلط ہے پہلی بات کہ جنت، رحمت کے ساتھ ہے کیونکہ رحمت کے بنا کوئی عمل قابل قبول نہیں اور یہ شرط انبیا کیلئے بھی ہے اس لئے اس کا یہاں ذکر کرنا غلط ہے، بات ہو رہی ہے شہید کی کہ کیا شہید بھی انبیا ہی کی طرح سیدھا جنت میں چلا جائیگا؟ہم خود سے کچھ کہیں گے تو ممکن ہے کوئی فتویآجائے آئیے دیکھتے ہیں اللہ کے رسول ﷺ بھی اس چیز کی ضمانت دیتے ہیں کہ شہید سیدھا جنت میں ہی جائیگا اور ایسا کہنے والا منکر یا مشرک ہے یا غیب کی خبر دینے والا؟
حدثنا زکريا بن يحيی بن صالح المصري حدثنا المفضل يعني ابن فضالة عن عياش وهو ابن عباس القتباني عن عبد الله بن يزيد أبي عبد الرحمن الحبلي عن عبد الله بن عمرو بن العاص أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال يغفر للشهيد کل ذنب إلا الدين۔متفق علیہ ۔صحیح مسلم:جلد سوم :امارت اور خلافت کا بیان :
زکریا بن یحیی بن صالح مصری، ابن فضالہ، ابن عباس قتبانی، عبداللہ بن یزید، ابی عبدالرحمن حبلی، حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ارشاد فرمایا شہید سے سوائے قرض کے سب گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔
یعنی شخص شہید تو ہو گیا اللہ نے شہادت بھی قبول فرما لی لیکن اللہ قرض معاف نہیں فرماتے،اب اگر اس کے لواحقین شہید کی طرف سے قرض ادا کر دیں تو ممکن ہے اللہ اسے معاف فرما دے لیکن اگر اس کے پچھلے اس کا قرض نہ چکائیں تو اللہ کی مرضی ہے اس شہید کے ساتھ کیا معاملہ کرے عذاب دے یا معاف فرمائے یا اس کے درجات میں کمی کرے۔لیکن اس سب کے باوجود جو بات دیکھنے کی ہے کہ ابھی شہید جنت میں بھی نہیں جارہا یعنی اس کا گناہ ابھی اس کے سر ہے سزاءو جزا کافیصلہ نہیں ہوا لیکن اللہ کے رسولﷺ اسے شہید ہی فرما رہے ہیں اور یہ بات قیامت تک آنیوالے انسانوں کیلئے بھی ویسے ہی ہے جیسے رسول اکرم ﷺ کے دور مبارک میں تھی۔اگر کوئی ایسا سمجھے کہ شہید کہنا گویا سیدھا جنت کا ٹکٹ دینے کے ہی مترادف ہے تو وہ اس حدیث کی روشنی میں اپنی اصلاح کرے کہ اللہ کے رسول ﷺ ایسے شخص کو شہید ہی فرما رہے ہیں جس کے بارے ابھی فیصلہ ہی نہیں ہوا اور ابھی تک وہ قرض جیسے گناہ میں معتوب ہے۔
فقط قرآن و سنت کی اس مدلل اور قابل توجہ بحث سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ میدان قتال میں آپکی طرف اگر ایسے لوگ شریک ہیں جن کے ایمان کا ہی معلوم نہیں یا وہ عقیدے کے لحاظ سے مشرک ہیں اور عملی طور پر بھی مکمل نہیں ہیں تو ایسے لوگوں کو شہید کہنے سے گریز کرنا چاہئے اور ان شاءاللہ کے لفظ کے ساتھ شہید کہا جاسکتا ہے کہ اللہ چاہے تو اس کی شہادت کو قبول فرما لےاسیطرح ایسے لوگ جو شہید ہونے کی دوسی بتائی گئی عالمات کے مطابق وفات پا جائیں جو اللہ کے رسول ﷺ نے میدان جہاد کے علاوہ وفات شدگان کے متعلق فرمائی ہیں توایسے لوگوں کے متعلق بھی گمان رکھنا چاہئے کہ اللہ ان کو شہید کا درجہ دے اور شہید ان شاءاللہ بھی کہا جاسکتا ہے لیکن اس کے برعکساگر کوئی شخص واقعی صحیح العقیدہ ہو اور قرآن و سنت پہ عمل پیرا ہو او روہ میدان جہاد میں کسی بھی طرح مارا جائے یا قتل کردیا جائے یا اسے طبعی موت آجائے تو اسے ہم قطعی شہید ہی کہیں گے اس کی شہادت کے بارے تذبذب کا شکار ہونا گویا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرامین کا انکار کرنے کے مترادف ہے۔ممکن
ہے علماء کرام میرے اس مئوقف کے بارے شدید تنقید کریں اور سابقہ علماءمحدثین کے اقوال نقل کریں لیکن ہمارا عقیدہ ہے کہ جہا ں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات آجائے وہاں تمام دنیا کے علمائو مفتیاں کے اقول و فتوی جات باطل ہوجاتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسولﷺ کا حکم ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔وما توفیقی الا باللہ