• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللہ کے نام کی خیرات

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
السلام علیکم
اگر کوئی آدمی چاہے وہ شیعہ ہو یا بریلوی ہو یا دیوبندی ہو یا اہلحدیث ہو۔یہ کہہ کر کوئی کھانے کی چیز دے جائے کہ یہ ہم نے اللہ کے نام پر خیرات کی ہے تو کیا کھا لینا جائز ہے یا اس کی نیت پر شک کیا جا سکتا ہے؟
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
نیت پر شک قرائن کی بدولت ہوتا ہے اور اگر قرائن نہ ہوں تو شک کی کوئی وجہ نہیں ہے مثلا ٢٢ رجب کو کوئی شیعہ پڑوسی آپ کے ہاں کچھ کھانے کو بھیجتا ہے یا چاند کی گیارہویں تاریخ کو آپ کے بریلوی ہمسائے باقاعدگی سے آپ کے ہاں کچھ بھیجتے ہیں وغیرہ ذلک۔
لہذا جب تک قرینہ نہ ہو تو ظاہر کا اعتبار کرنا چاہیے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کی دعوتیں بھی قبول کی ہیں لہذا اللہ کے نام پر دی ہوئی چیز میں سے کچھ لینا جائز ہے جبکہ وہ نفلی صدقات یا ہدایا وغیرہ میں سے ہو اور اگر فرضی صدقات یعنی زکوۃ وغیرہ ہے تو صرف مستحقین کے لینا جائز ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
 
Top